وزیر اعلی پنجاب کی اعلی کارکردگی کا کس کو اعتراف نہیں غریبوں کو تو جیسے عید ہو گئی
دو روپے کی روٹی،کاغذ سے موٹی،
گتے سے پتلی جس سے تتلی کا تو پیٹ بھر سکتا ہے مگر غریب کا پیٹ نہیں بھرتا
بغیر بوٹی کے روٹی دو کی بجائے دس کھانی پڑتی ہیں تب جا کر جان میں جان آتی ہے
امارات کا مرغ مسلم پھر بھی مسلمان ہے اپنا وزن و ایمان رکھتا ہے
غریبوں کی دال بھی مہنگی ہوگئی ہے دن بھر مشقت کرنی پڑتی ہے
گتے سے پتلی روٹی بہت جلد ہضم ہو جاتی ہے ،
قبض کا نسخہ بھی آزما کر دیکھا ہے صبر کا پھل بھی کھا کر دیکھا ہے
پھر بھی کسی کروٹ آرام نہیں روٹی نوع انسان کی مجبوری ہے
حلوے کا حلوہ،غریب کےحصہ نصیب میں ہے اس پر ستم تو یہ ہے کہ محنت مزدوری ڈبل کرنی پڑتی ہے جو ملتا ہے وہ بجلی کے بل میں چلا جاتا ہے یہ دل ہلانے والے بل قصاب کی طرح چمڑی تک اتار لیتے ہیں
مٹی کا تیل بھی مہنگا بیچ کر بتی جلانی پڑتی ہے
اہل ثروت اتنے بے مروت ہیں پھر بھی غریب سے نفرت کرتے ہیں غریب تڑپتا رہتا ہے اور وہ منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں
بجلی نہ ہو تو پھر دل جلانا پرتا ہے مرتا کیا نہیں کرتا کچھ تو کرنا ہی پڑتا ہے یہ محل یہ پلازے غریبوں کی محنت و مشقت کے مرہون منت ہیں دولت کے خمار ہیں
اہل ثروت زکوۃ بھی غریبوں کو دھتکار کر دیتے ہیں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا ہوا غریب ایڑھیاں رگر رگڑ کر مر جاتا ہے مگر اسے اس طرح نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ جیسے وہ انسان نہیں
ملا کی جھولی نوٹوں سے بھر جاتی ہے چار آدمی مل کر شمار کرتے ہیں غریب ہل چلا کر رزق کا سامان کرتا ہے اور فرعون جاگیردار اٹھا کر لے جاتا ہے
کوئی عدل و انصاف نہیں
غرور تکبر کے مردے ،زندوں کو قبروں تک پہنچانے کا ثواب دارین حاصل کرتے ہیں
غریب نہ ہوں گے تو تھانیدار کا غصہ کس پر نکلے گا غصہ نہ نکلے تو تھانیدار بیمار ہوجاتا ہے
فرقہ واردیت کے بازار میں خود غرض پجاری جذبات کی پوجا کرتے ہیں
چونکہ ہم پیدائشی مسلمان ہیں اس لئے ہمیں دین اسلام سے کچھ غرض نہیں جس چیز سے اللہ نے منع کیا ہے اس سے گریز کی راہ اختیار کئے ہوئے ہیں
نشہ شراب،شباب و کباب بے حساب میسر ہے پھر کون ہے وہ کافر جو انکار کرے تہزیب فرنگی ہے
اور زبان پر لا الہ الا اللہ ہے اگر لا الہ کہہ بھی دیا تو کیا حاصل قلب و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
فنکار منافق کی یہی پہچان ہوتی ہے
کافر اور منافق کےلئے یہی دنیا ہے وہ آخرت کے منکر نکیر سے تو ڈرتا ہے مگر رب تعالیٰ کے قانون سے نہیں ڈرتا
مکافات عمل ہر ایک کے پیچھے دم کی طرح لگا ہوا ہے جو اپنی کتاب میں ذرے ذرے کا حساب رکھتا ہے اور جب سوئی حدف تک پہنچ جاتی ہے تو بم دھماکہ ہو جاتا ہے
اے پیر حرم کچھ تو فکر داد کوئی سوچ غربت کی غریبی کا یہ قلید و تقلید کا طریقہ شرعیت و تصوف کی ایجاد ہے نوع انسانیت روٹی کو ترس رہی ہے اور تم عشرت کے ساتھ عیش و عیاشی کی بدقماشی میں مصروف عمل ہو
کچھ تو کرم کیجئے سرکار ریاست ،ملا و پیر ،جاگیردار سیاست جمہوریت کے نظام میں زمرد خان کا اعلان ہے کہ جو طالبان کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں ان کے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی اب بچوں کی تعلیم کی خاطر ماں باپ کو شہید ہونا پڑے گا اس سلسلہ میں طالبان کو دعوت دینی پڑے گی
بشکریہ روزنامہ اوصاف لاہور
مذکورہ تحریر روزنامہ اوصاف لاہور کے ایڈیٹوریل صفحات پر شائع ہوئی ہے محترم ایم اسلم کریلوی صاحب کا پوائینٹ آف ویو ہے
میں وہاں سے پڑھ کر آپ کےلئے پیش کر رہا ہوں