”ساڈا چڑیاں دا چمبا وے بابل اساں اڈ جانا“

لڑکیوں کی شادی میں تاخیر ذمہ دار والدین یا معاشرہ؟؟

”ساڈا چڑیاں دا چمبا وے بابل اساں اڈ جانا“اس گیت کے بول ایک بیٹی کے والدین اسکی پیدائش کے وقت ہی سننے لگتے ہیں اور ان کا دل مٹھی میں سما جاتا ہے اور دل میں اپنی بیٹی کےلئے پیار اور محبت بڑھ جاتی ہے جب ایک خاندان میں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو خاندان میں کوشی کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے پورا خاندان اسکی نگہداشت کرتا ہے اسکی چھوٹی سی چھوٹی خواہش کو پوار کیا جاتا ہے اسے چلنا سکھایا جاتا ہے جب وہ پہلی بار بولنا شروع کرتی ہےتو سارا خاندان اسکی میٹھی میٹھی باتوں پر صدقے واری ہوجاتا ہے تھوڑا بڑا ہونے پر اسے تعلیم دلوائی جاتی ہے
زندگی کی اونچ نیچ کو سمجھنے کے قابل ہوتی ہیں اسکے بعد زندگی کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے یہاں اسے اپنے پیاروں کو چھوڑ کر اپنی نئی زندگی کا آغاز کرنا ہوتا ہے اور یہی وقت ہوتا ہے جس کا اندازہ بیٹی کے ماں باپ کو اسکی پیدائش کے وقت ہو جاتا ہے
موجودہ دور میں ایک لڑکی کے ماں باپ کےلئے سب سے بڑا مسلئہ اسکی شادی کا ہوتا ہے سب والدین چاہتے ہیں کہ انکی بیٹی اس گھر میں جائے جہاں اسے زندگی کی تمام خوشیاں میسر ہوں اور وہ ایک مکمل خوشگوار زندگی بسر کرے لیکن بہت سے والدین اہنے فرض کو جلد از جلد پورا نہیں کر پاتے اسکی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ جہیز ہے جب لڑکے والے کسی لڑکی کا رشتہ لے کر جاتے ہیں تو وہ لڑکی کے ساتھ ساتھ اس کے جہیز میں آنے والی اشیاء کو بھی مد نظر رکھتے ہیں اور پھر لڑکے کے انتخاب کا فیصلہ کرتے ہیں
موجودو دور میں جبکہ مہنگائی کے جن نے ایک عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے اس لئے بیٹی کے جہیز میں ڈھیروں سامان دینا ممکن ہی نہیں رہا بہت سے والدین اپنی بیٹی کو خوشی اور اچھی ازدواجی زندگی کےلئے اسے ڈھیروں سامان دیتے ہین لیکن بہت سے ایسے بے بس والدین بھی موجود ہیں جو خواہش کے باوجود ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ سامان نقدی سے‌آتا ہے خواہش سے نہیں

پاکستان میں موجود لڑکے اپنے لئے ایسی شریک حیات چاہتے ہیں جو کہ انہیں ”گرین کارڈ“ جیسے تمغے سے نوازتے ہیں وہ کسی نہ کسی طرح مغربی ممالک جانا چاہتے ہیں اور اپنی زندگی وہیں بسر کرنا چاہتے ہیں
بہت سے نوجوان بیروزگاری کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں جبکہ بہے سے مغرب کی چکا چوند سے متاثر ہو کر ایسا کرتے ہیں پاکستان میں لڑکوں کی نسبت لرکیوں کی شرح خواندگی میں دن بدن اجافہ ہوتا جا رہا ہے اور کواتین کی شادیوں میں ایک بڑی رکاوٹ بھی نظر آتہ ہے بہت سی ٌرکیاں جو زیادہ پڑھی لکھی ہیں وہ اپنے لئے اپنے معیار کے مطابق رشتہ چاہتی ہیں
ان کی آدھی سے زیادہ عمر پرھائی اور پھر اچھے رشتے کے انتظار میں گزر جاتی ہیں بہت سی خواتین اپنے ماں باپ کی دہلیز پر بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہوجاتی ہیں
پاکستان میں دوسرے بے شمار سماجی مسائل کے ساتھ ساتھ خواتین کی شادیوں کا مسلئہ بھی ایک بڑا مسلئئہ بنتا جا رہا ہے اس مسلئے کی وجوہات بھی ہماری خود ساختہ ہیں یہ مسلئہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور ماں باپ کےلئے پریشانی کا موجب ہے کیونکہ وہ اپنی زندگی مین اپنے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں
کہیں لڑکے والوں کو مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں تو کہیں لڑکی کے اچھے رشتے کی تلاش میں ان کے بالوں میں چاندی اتر رہی ہے اور پھر آخر میں ان کے نصیبوں کو الزام دیا جاتا ہے جبکہ قصور انسان کا ہوتا ہے انسان چاہے تو دعا کے‌ذریعے اپنے نصیبوں کو بدل سکتا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ لڑکے کے والدین ایک بیٹی کے والدین بن کر سوچیں اور اپنی بیٹی کو سامنے رکھ کر فیصل کریں کیونکہ ایک نہ ایک دن انہیں بھی بیٹی کے والدین بننا پڑے گا بس خدا سے دعا ہے کہ وہ سب بیٹیوں کے اچھے نصیب کرے آج کے والدین کی زندگی میں حائل ان پریشانیوں کا کوئی سدباب بھی کرے
اللہ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے‌آمین ثم آمین

Leave a Reply