June 16th, 2009
حضرت قائد اعظم محمد علی جناح وہ واحد پاکستانی شخصیت ہیں جن پر نہ صرف پاکستان میں سب سے زیادہ ٹکٹ شائع ہوئے بلکہ بیرون ملک میں بھی ان پر ڈاکے ٹکٹ شائع کئے گئے آپ پر پہلے جاری ہونے والے پاکستانی ڈاک ٹکٹ وہ تھے جو انکی پہلی برسی پر 11ستمبر 1949ء کو جاری کئے گئے
یہ تین ڈاک ٹکٹوں پر مشتمل ایک سیٹ تھا جسے محمڈلطیف نے ڈیزائن کیا جو ان دنوں وزارت اطلاعات و نشریات کے فلم اینڈ ڈیپارٹمنٹ سٹوڈیو سے بطور لے آئوٹ منسلک تھے ان پر قائد کی تصویر کی بجائے خوش نما پھولوں کا ڈیزائن تھا جس کی قیمت ڈیڑھ آنے اور تین آنے تھی اسکا رنگ خاکی اور سبز تھا اردو میں قائد اعظم محمد علی جناح کا پورا نام تحریر کیا گیا تھا جبکہ اردو زبان والے دونوں ٹکٹ فقط قائداعظم لکھا جانا ہی مناسب سمجھا گیا یہ سیٹ ڈاکٹکٹ جمع کرنے والوں کی اصلاح میں قائد اعظم میموریل شٹیمپ کہلاتے تھے میسرز تھامس ڈی لارے اینڈ کمپنی انگلینڈ میں طبع ہوئے تھے یہ ٹکٹیں یکم اپریل 1950ء تک استعمال ہوتی رہیں آپ پر شائع ہونے والی ٹکٹوں کا دوسرا سیٹ16ویں برسی پر11ستمبر1964ء کو جاری کیا گیا چونکہ اس وقت ملک میں کرنسی کا اعشاری نظام رائج ہو چکا تھا اس لئے ڈاک ٹکٹوں کی قیمت اعشاری نطام کے تحت رکھی گئی پندرہ پیسے اور پچاس پیسے مالیت کے سبز اور گرے رنگ کی ان ٹکٹوں پر قائد اعظم محمد علی جناح کے زیر تعمیر مزار کی بھی تصویر دی گئی
ان ٹکٹوں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے دروازوں کا ڈئزائن بعد میں تعمیر ہونے والے ڈیزائن سے مختلف تھا یہ دونوں ٹکٹیں اشفاق غنی نے ڈیزائن کیں اور یہ پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس میں طبع ہوئیں 15پیسے والا ڈاک ٹکٹ 15 لاکھ کی تعداد میں اور پچاس پیسے والا سات لاکھ کی تعداد میں طبع ہوا تھا
قائد اعظم کے یوم پیدائش کےحوالے سے ٹکٹوں کا جاری ہوانے والا پہلا سیٹ آپ کے یوم پیدائش یعنی پچیس دسمبر 1966ء کو جاری ہوا
یہ دو ڈاک ٹکٹوں پر مبنی سیٹ تھا جن کی مالیت پندرہ اور پچاس پیسے تھی یہ پہلے ٹکٹ تھے جن پر بابائے قوم کی تصویر شائع کی گئی تھی ان میں پندرہ پیسے والا تخت دس لاکھ کی تعداد میں شائع ہوا
11 ستمبر 1964ء اور 25ستمبر1966ء کو جاری ہوانے والے ان دو ٹکٹوں کے سیٹ کے ساتھ فسٹ ڈے کور جاری ہوئے تھے جن پر محمد علی جناح میں لفظ ”محمد“ کے حجے Mahomed لکھے گئے تھے
محکمہ ڈاکت کے مطابق یہ اس لئے لکھے گئے تھے کیونکہ قائد اعظم بھی اپنے نام کے یہی حجے لکھتے تھے
اگر محکمہ ڈاک کی یہ وضاحت مان لی جائے تو پھر انہوں نے 11ستمبر1949ء کو جاری ہونے والے دس آنے مالیت کی ٹکٹ میں ”محمد“ کے درست حجے کیوں تحریر کئےتھے
قائد اعظم کی تصویر والا اگلا ڈاک ٹکٹ قائد اعظم کی برسی یا سالگرہ کے موقع پر نہیں بلکہ قیام پاکستان کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر 14 اگست 1972ء کو جاری کیا گیا اور اسکی مالیت دس پیسے تھی
جس پر پاکستان اور قائد اعظم کی تصویر طبع ہوئی
11 سمبتر 1973ء کو قائد اعظم کی 25ویں برسی کے موقع پر محکمہ ڈاک نے خوبصورت ٹکٹ جاری کیا جس کی مالیت بیس پیسے تھی
یہ پانچ لاکھ کی تعداد میں پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس سے شائع ہوا یہ پہلی تصویر تھی جس میں قائد اعظم کو شیروانی میں ملبوس دکھایا گیا تھا
1976ء میں قائد اعظم کی ولادت کا صد سالہ جشن تھا اس موقع پر پاکستان کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالکنے بھی ٹکٹ جاری کئے اس سلسلسے کا پہلا سیٹ 21جولائی1976ء کو Rcdکی 12ویں سالگرہ کے موقع پر جاری ہوا اس دن پاکستان ،ایران ،ترکی نے بیک وقت تین تین ڈاک ٹکٹوں کے ایسے سیٹ جاری کئے جن پر قائد اعظم ،رضا شاہ خان کبیر،اور کمال اتاترک کی تصاویر تھیں
یہ پہلا موقع تھا کہ جب پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک نے قائد اعظم کی تصویر والے ٹکٹ جاری کئے تھے
چونکہ 1976ء قائد اعظم کی صد سالہ سالگرہ کا سال تھا چنانچہ محکمہڈاک نے اس موقع پر کئی ٹکٹ چھاپے
14اگست کے دن آٹھ ٹکٹوں پر مشتمل خوبصورت بلاک Setenant سیٹ جاری کیا گیا جسے قائد اعظم پر شائع پونے والا سب سے خوبصورت ٹکٹ قرار دیا جا سکتا ہے
ان میں چار ٹکٹ تقریبآ مربع شکل کے تھے جن پر ”صد سالہ تقریبات پیدائش قائداعظم“ کھا گیا تھا اور چار عمودی اور بڑے ٹکٹوں پر قائد اعظم کا معروف پوسٹڑ چھاپا گیا تھا جبکہ اسکے پس منظر میں قائد اعظم کی جائے پیدائش سندھ مدرستہ اسلام،مینار پاکستان،مزار قائد دکھائے گئے اسی سال20 نومبر کو قائد اعظم صد سالہ سکائوٹس جمہوری کے موقع پر ایک ٹکٹ جاری ہوا جس کی قیمت بیس پیسے تھی
اس موقع پر قائداعظم کو سلیوٹ کرتے دکھایا گیا تھا
اسی برس پچیس دسمبر کو آپ کی سالگرہ کے موقع پر محکمہڈاک نے 24کیرٹ گولڈ کے ساتھ 10 روپے مالیت کا ایک خوبصورت ڈاک ٹکت جاری کیا جو سونے کے پائوڈر سے چھاپا گیا تھا
یہ ٹکٹ فرانس کے ادارے ڈی کارٹرایس اے میں طبع ہوا تھا
ایران نے اسی برس قائد کی یاد میں10 ریال مالیت کا ٹکٹ جاری کیا جس پر قائداعظم کی تصویر جناح کیپ والی تھی 1976ء میں ہی سوڈان نے بھی تین ڈاک ٹکٹوں کا سیٹ جاری کیا جس میں قائداعظم کی تصویر اور سوڈان کا پرچم تھا
1976ء افریقی ملک ٹوگو نے بھی قائداعظم کے پورٹریٹ کے علاوہ پاکستان اور ٹوگو کے پرچم والا ٹکٹ جاری کیا
متحدہ عرب امارات نے بھی 50اور80فلس مالیت کا 2 ٹکٹوں کا مجموعہ جاری کیا قائداعظم کی تصویر خوبصورت جیومیٹریکل فریم میںدی گئی تھی
قائداعظم کے صد سالہ جشن سالگرہ کے سلسلے میں دوست ممالک کے ٹکٹوں کا اجرا1978ء میں جاری رہا اور جن ممالک نے ٹکٹ جاری کئے ان میں اردن،مراکش،سیرالیوں اور ماریطانیہ بھی شامل تھے
مراکش نے1977ء میں قائداعظم کے تصویر کے ساتھ پاکستان کے نقشے والا ٹکٹ جاری کیا
اردن کے دو ڈاک ٹکٹوں پر پاکستان اور اردن کے پرچم بھی بنے ہوئے تھے جن کی مالیت25اور75فلس تھی
ماریطانیہ نے بھی اپنے اور پاکستان کے پرچم پر مشتمل ٹکٹ جاری کیا اسی طرح سیرالیون کے ٹکٹ پر انکا اور پاکستان کا پرچم دکایا گیا جس میں دونوں ممالک کے پرچم شامل تھے
1978ء میں افریقی ملک لائبریا نے ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس میں دونوں ممالک کے پرچم شامل تھے
1988ء تک کسی ملک نے قائداعظم کی تصویر والا ٹکٹ جاری نہیں کیا1988ء میں افریقی ملک برکینا فاسو نے آزادی کے مجاہد کے عنوان سے چار ٹکٹوں کا سیٹ جاری کیا جس میں قائداعظم،مدرٹریسا،گاندھی، اور مارٹن لوتھر کنگ کی تصاویر شائع ہوئیں تھیں اس تصویر میں قائداعظم نے ہیٹ پہنا ہواتھا اسکی قیمت 80فرانک تھی
ریاست بہاولپور نے3اکتوبر1948ء کو پاکستان میں ریاست بہاولپور کے انظمام کی پہلی سالگری کے موقع پر قائداعظم اور ریاست بہاولپور کے امیر کی تصویر لے ساتھ ساتھ دونوں پرچم بھی شائع کئے گئے
14اگست1985ء کو محکمہڈاک نے ایک سیٹ جاری کیا جس میں ٹکٹوں کے ساتھ لگی ہوئی شیٹ Sheet letsپر قائداعظم کے فرمودات اردو زبان میں تحریر کئے گئے تھے
قائداعظم کی تصویر سے مزین ایک اور ڈاک ٹکٹ 14اگست1987ء کو جاری ہائے جن کی مالیت تین روپے تھی اس میں قائداعظم کی تقریر کے علاوہ پاکستان کا پرچم اور قومی نشام شائع کیا گیا تھا
14اگست 1989ء کو محکمہ ڈاکے نے پہلی بار عام استعمال کےلئے چھ ڈاکٹکٹون پر مشتمل ایک مجموعہ جاری کیا جو یادگاری ٹکٹ نہیں بنے تھے یہ پہلا موقع تھا جب پاکستان نے عام ٹکٹ پر ظ کی تصویر شائع کی ان ٹکٹوں کی مالیت ایک روپیہ،ڈیڑھ روپیہ،تین روپے، چار روپے، پانچ روپے تھی
ایک خوبصورت ٹکٹ 14 اگست 1990ء کو جاری کیا گیا جس میں قائداعظم کی بہن فاطمہ جناح کی تصویر تھی یہ پہلا موقع تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح اور مادر ملت کی یاد میں جاری ہونے والے ڈاک ٹکٹ ایک ہی دن شائع کئے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
مذکورہ تحریر میرے استاد محترم کی لکھی ہوئی ہے جس کو میں ان کی اجازت سے لکھ رہا ہوں اور اسکے لئے میں ان کا شکرگزار ہوں
Posted in Uncategorized | 4 Comments »
June 16th, 2009
پردے کے متعلق پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ہم پر کتنے مہربان ہیں یہ اسی کا کرم ہے کہ اس نے صاف صفائی کے متعلق قرآن پاک میں ذکر فرما کر ہمیں زندگی کا درست طریقہ بتایا اسین فرمان کو ہمارے بزرگوں نے سمجھا اور تفصیل سے ہمیں بتایا کہ اللہ تبارک و تعالی کتنا مہربان و کریم ہے!
موضوقع ہے پردہ کہا گیا تو بات ہو رہی تھی پردے کی تو ہما رے دین اسلام نے پردے کے متعلق سختی سے کہا ہے کہ عورت کسی غیر محرم کہ نہ دیکھے اور اس حد تک پردہ کرے کہ سر کے بال اور پائوں کے ناخن تک نظر نہ آئیں لیکن افسوس صد افسوس دور حاضر کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ ہمارہ خواتین اس بات سے کتنی غافل ہیں اور بے پردگی کے ساتھ کھلے عام سڑکوں پر گھومتی ہیںیہاں تک کہ کالج جانے والی لڑکیاں تو مغربی لباس میں کالج جاتی ہوئی نظر آتیہیں اور یہ سمجھتی ہیں کہ یہی تعلیم یافتہ ہونے کی نشانی ہے
میں یہ نہیں کہتا کہ عورتیں تعلیم حاصٌ نہ کریں بلکہ یہ تو مسرت کا بات ہے کہ پرانے زمانے کی نسبت موجودہ دور میں تعلیم نسواں کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور ہمارے دین اسلام نے بھی عورتوں کو تعلیم حاصٌ کرنے کی اجازت دی ہے لیکن اسکا غلط فائدہ نہ اٹھائیں آج کے ماں باپ بھی خوشی سے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ ہماری بیٹی فلاں کالج یا یونیورسٹی میں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہورہی ہے اور پردے کا اہتمام کئے بغیر اپنی لڑکیوں کو گھر سے باہر نکلنے کین آزادی دے دیتے ہیں آج مسلم معاشرے کی عورتیں اگر کسی آفس وغیرہ میں کام کرتی ہیں تو ان کے نخرے قابل دید ہوتے ہیں ،بغل میں بیگ ،میچنگ چپل ولپ اسٹک،ہاتھ میں موبائل لئے ہوئے بڑی شان سے چلتی ہیں اگر ان سے پوچھا جائے تو اکثر خواتین کہتی ہیں کہ کیا کروں مجبوری ہے گھریلو حالات ٹھیک نہیں وغیرہ وغیرہ میرا ایسی خواتین سے سوال ہے کہ کیا
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہ کو مجبوریاں نہ تھیں
کیا ان کے گھریلوحالات خستہ نہ تھے ؟
کنویں سے پانی نکال کر لانے سے ہاتھ وکمر درد کے مارے پھٹے جاتے تھے لیکن انہوں نے کبھی بھی موجودہ دور کی مسلم خواتین کی طرح بے پردگی اختیار نہیں کی
میری استدعا ہے مسلم خواتین سے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہ کے اس قول کو سن کر درس حاصل کریں کہ آپ دم رخصت وصیت فرماتی ہیں کہ
’’میرے جنازے کے اوپر ایک سیاہ کپڑا ڈال دینا اور میرے جنازے کو رات کے وقت نکالنا کہ مبادہ کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑ جائے‘‘
اب لوگ کہیں گے کہ وہ رسول خدا کی صاحبزادی تھیں تو کیا ہم ان کے امتی نہیں ہیں ؟
کیا ہم رسول خدا کو نہیں مانتے (نعوز باللہ)
ہم سب کچھ کرتے ہیں روزے رکھتے ہیں ،عبادات کرتے ہیں تو کیا ہم پر یہ فرض نہیں کہ ہم بحکم ربی پردہ کریں
میری استدعا ہے خواتین سے بہنوں سے کہ وہ اپنے اسلاف کو زندگی کو نمونے کے طور پر سامنے رکھیں اور اپنے آپ کو اس میں ڈھالنے کی کوشش کریں لیکن صد افسوس اسکے برعکس آج مسلم سماج سے متعلقہ لڑکیاں تو اپنےآپ کو ’’کشش‘‘ کے روپ میں ڈھالنے کی کوشش کرتی ہیں اور ہر ماں یہی چاہتی ہے کہ میری بہو’’تلسی ویرانی ‘‘جیسی ہو کتنے شرم کی بات ہے کہ ایک مسلم مذیب سے تعلق رکھتے ہوئے بھی ہم غیروں کی صبحت اختیار کرنے پر ذرا بھی کترا نہیں رہے
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کیا غیر مسلم بھی ہمارا (مسلمانوں) کا طریقہ کار اپناتے ہیں کیا کبھی وہ بھی ہماری طرح نقاب کا اہتمام کرتی ہیںلیکن ایک مسلمان ہے جو مغربی تہذیب اہناتے ہیں اور فخر محسوس کرتا ہے پردہ نہ کرنے کے متعلق بہت سے عذاب بھی مقرر کئے گئے ہیں اگر ہم اس پر پوری طرح عمل پیرا ہوتے ہیں تو ہماری دنیا و آخرت سنور جائے گی اور ہر جگہ ہمیں کامیابی سے ہمکنار کیا جائے گا اللہ تبارک وتعالی ہم سب کا حامہ و ناصر ہو آًمین
Posted in Uncategorized | 1 Comment »
June 16th, 2009
آج کل نفسہ نفسی کا دور ہے ہمارے معاشرے میں لاتعداد مسائل نے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے ان مسائل میں ایم اہم اور بڑا مسئلہ جہیز بھی ہے جو موجودہ دور میں وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے
عام طور پر سلیقہ مند ،پڑھی لکھی ،خوب رو اور خوب سیرت لڑکیاں بھی قیمتی جہیز نہ ہونے کے باعث آنکھوں میں دلہن بننے کے خواب بسائے ساری زندگی اپنے ماں باپ کے گھر گزار دیتی ہیں اور پھر ایک خاص عمر کے بعد تو یہ سہانا خواب بھی دیکھنا چھوڑ دیتی ہیں اور اپنی تقدیر سے سمجھوتہ کر کے بقایا زندگی اک جبر مسلسل کی طرح کاٹنے پر مجبور ہو جاتی ہیں دلہن بننا ہر لڑکی کا خواب ہی نہیں اسکا حق بھی ہے لیکن افسوس اسے اس حق سے مخص غربت کے باعث محروم کر دیا جاتا ہے سرمایہ داروں کے اس دور میںلڑکیوں کو بھی سرمایہ سمجھا جاتا ہےاور اس سرمایہ کاری کے بدلے انکے گھر والے خصوصا مائیں بہنیں اور زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کےلئے سرگرداں رہتی ہیں وہ لڑکی کا رشتہ لینے جاتی ہیں یا یوں کہیں اپنے بیٹے ،بھائی کا کاروبار کرنے نکلتی ہیں لڑکی سے زیادہ اسکی امارات دیکھتی ہیں لڑکی والوں کے ہاں جا کر انکا زہنی کیلکولیٹر بڑی تیزی سے حساب کتاب مکمل کر لیتا ہتا ور وہاںسے کچھ ملنے یا نہ ملنے کے بارے میں وہ پوری طرح سے آگاہ ہوجاتی ہیں گاڑی،کوٹھی اور دیگر قیمتی سازوسامان تو ان کی فہرست میںلازمی مضامین کی طرح شامل ہوتے ہیں ان کے بعد کہیں جا کر لڑکی کی باقی خوبیوں (جن میں اسکا خوششکل ہونا بھی شامل ہے) کو پرکھا جاتا ہے چنانچہ جس خوش قسمت لرکی کے پاس دینے کو قیمتی اورڈھیر سارا جہیز ہو نیز خوبصورت بھی ہو وہ تو بیاہی جاتی ہے اور جن بدقسمت لڑکیوں کے پاس یہ سب کچھ موجود نہیں ہوتا وہ سوائے اپنی تقدیر سے گلہ کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتی
ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو دیکھنے میں انتہائی بہ اخلاق و مذہبی ہیں اور اٹھتے بیٹھتے آیات قرآنی اوراحادیث نبوی بیان کرتے نہیں تھکتے لیکن معاملہ اپنے بیٹے کی شادی کا ہو تو ساری آیتیں ،حدیثیں بھلا کر اس کے دام وصول کرنے لگتے ہیں
میرے ایک دوست شکستہ دلی کے ساتھ بتا رہے تھے کہ ان کی خوش شکل و نیک سیرت بیٹی(جو فائنل ائیر کی طالبہ ہے کو دیکھنے لڑکے کے ماں باپ اور انکی شادی شدہ بیٹی اپنے شوہر سمیت ان کے گھر گئے لڑکے کے ماں باپ پانچ وقت کے نمازی ہیں اور دوران گفتگو زیادہ تر اسلام ہی کے حوالے سے باتیں کرتے رہتے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اور ان کی شادہ شدہ بیٹی گھر کے درودیوار اور ہر چیز کا بغور جائزہ بھی لیتے رہے خوب خاطر تواضع کروا کر بغیر کوئی جواب دیئے واپس چلے گئے
بعد ازاں انہوںنے کسی کے ذریعے کہلوا بھیجا کہ انہیں لڑخی اور ٌرکی کے گھر والے تو بے حد پسند آئے لیکن لرکی پڑھی لکھی زیادہ ہے اس لئے وہ رشتہ نہٰں کر رہےحالانکہ انکے بقول انکا بیٹا ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے
پھر خود وہ یعنی لڑکے کے ماں باپ بھی علمی ذوق رکھتے تھے
سوچنے کی بات ہے کہ لڑکی اگر ان پڑھ مہذب ہوتی ہے تو اس قسم کی پڑھی لکھی فیملی کا اسے اپنی بہو بنانے سے انکار کی ایک معقول وجہ ہوسکتی تھی لیکن اسکا تعلیم یافتہ ہونا ہی ایک عیب کیوں بن کر رہ گیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
بات دراصل یہ ہے کہ میرے وہ شریف النفس دوست کے پاس انہیں دینے کےلئے وہ مال و جواہر نہیں ہیں جن کا عکس انہوں نے لڑکے کے نیک والدین کی آنکھوں میں حرصبن کر چمکتے ہوئے دیکھا اور محسوس کیا تھا
گویا پیسے کی کمی اسکی خوبصورت،سلیقہ شعار ،تعلیم یافتہ بیٹی کا رشتہ نہ ہونے کا باعث بن گئی
ہم بطور مسلمان اٹھتے بیٹھتے” اسلام یہ کہتا ہے اسلام وہ کہتا ہے“
دہراتے نہیں تھکتے ہر معاملے میں اسلام کے بارے میں زبانی جمع خرچ ہماری عادت بن چکی ہے لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو کچھ نہیں کرتے ہم صرف اپنے مفادات اور پسند نہ پسند ہی کو عزیز جانتے ہیں لیکن اسلامی ملک میں اور بحثیت مسلمان جب ہم جہیز کی لمبی چوڑی فہرست تیار کر کے لڑکی کا رشتہ دیکھنے جاتے ہیں تو ہمارا ضمیر کہاں سویا ہوتا ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ دیگر کئی معاملات کی طرح جہیز لینے کے معاملے میں بھی ہم بے ضمیر ہوچکے ہٰں اور شریف لٹیرے بن کے ٌرکی بھی اپنے گھر میں لے آتے ہیںاور اسکے ساتھ جہیز کے نام پر سازوسامان بھی اور اگر ہماری منشاء کے مطابق لڑکی جہیز نہ لائے تو اس کا جینا دوبھر کر دیتے ہیں بلکہ اسے زندہ آگ میں جلا ڈالتے ہیںاس جرم اس گناہ پر نہ تو ہماری بدنامہ ہوتی ہے اور نہ ہی ہمیں قانون و معاشرہ کوئی سزا دیتا ہ
ہم بیٹوں کا کاروبار کررہے ہیں اور دھڑلے سے کر رہے ہیں کوئی ہمیں پوچھنے والا نہیںاور ان بے بس لڑکیوں کےلئے جو جہیز نہ ہونے کے باعث ادھوری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں رحم و ہمدردی کا ضفیف سا جذبہ بھی ہمارے دلوں میں موجزن نہیں ہے
مال و زر کی ہوس نے تو لوگوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت بنا ڈالے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جہیز کی لعنت ختم کرنے کےلئے باقاعدہ سیمینار منعقد کروائے جائیں نیز میڈیا بھی جہیز کےخلاف منظم مہم
منعقد کروائے تا کہ نوجوان لڑکوں میں بالخصوص اور معاشرے میںاجتماعی طور پر جہیز کے خلاف ردعمل بیدار ہو جہیز کی لعنت سمیت تمام ایسی رسومات جو غریبوں کےلئے باعث عذاب کا باعث ہیں سے ترک تعلق ہم پر فرض بھی ہے اور معاشرے کی ضرورت بھی،،،،،،،،،،،،،،،
Posted in Uncategorized | 1 Comment »
June 16th, 2009
شعبہ صحافت قومی زندگی کا ایسا آئنیہ دار ہے جس میں ملک کےخدوخال اپنی تمام تر رنگینیوں ،دلچسپی اورکامیوں کے ساتھ روشن نظر آتے ہیں صحافی اسی معاشرے کا ایک حصہ ہے وہ ہر اچھی یا بری بات سے اسی طرح متاثر ہوتے ہیں جس طرح کے باقی افراد متاثر ہوتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ عام آدمی متاثر ہوتا ہے اور صحافی اپنے تاثرات کو ایک تصویر کیصورت پیش کرتا ہے دراصل صحافی باقی افراد کی نسبت زیادہ حساس ہوتا ہےاس لئے اسکے اظہار میں اسکا تاثرنکھر کر سامنے آتا ہے معاشرے میں جو کچھ شب وروز ہوتا ہے صحافی وہ نہ صرف دیکھتا ہے بلکہ اس سے نتائج بھی اخذ کرتا ہے اور اسکے اسباب پر بھی غور کرتا ہے یہی غود وفکر اسک رپورٹنگ یا اسکے کالم کی جان ہوتا ہے ورنہ مخص یہ بتا دینا کہ کیا واقعہ ظہور پذیر ہوا خبر نگاری تو ہو سکتی ہے صحافت نہیں
میرے نزدیک صحافت اس چیز کا نام ہے کہ معاشرے کے ایک ذمہ دارکی حثیت سے صحافی صرف خبر ہی نہ پہنچائے بلکہ اپنی ذہانت اور تربیت سے کام لے کر یہ فرض بھی ادا کرے کہ بحثیت قوم افراد ملت کو کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیئے صحافی غیر محسوس طریقے پر بڑی خو بی کے ساتھ قوم کی فکر ،سوچ اور عمل کی راہ کا تعین کر سکتا ہے اگر وہ صحافی قومنی صحافت کے قومی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا تو وہ ہر گز قومی صحافی کہلوانے کا مستحق نہیں ہے
یہ تو ہو سکتا ہے کہ کسیصحافی کی دلچسپی کسی مخصوصگروہ،مخصوص جماعت یا مخصوص نکتہ نظر کے ساتھ ہو لیکن سچا ط وہ ہے ذاتی دلچسپی اور گروہ دلچسپیوں پر قومی اور ملکی مداف کو فوقیت دے اور ذاتی مفادات کو ملی ملی مفادات پر قربان کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے یہی وہ خصوصیت ہے جس سے قومی صحافت وجود میں آتی ہے ورنہ مخص گروہی خبر نامے وجود میں آتے ہیں یا اخبار نہیں
صحافت کا اولین فرض ہے کہ وہ ملی یکجہتی کو کسی طور پر نقصان نہ پہچنے دے ایک روشن ضمیر صحافی کا مقصد حیات ،اتحاد ملک و ملت ہوتا ہے وہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے مضامین اداریوں اور کالم کے ذریعے افراد اور قوم میں ملکی مفاد پر ایک مرکز پر جمع کونے کی صلاحیت پیدا کرے
وہ صحافی جنکے اخبارات چھوٹی سے آبادی سے لے کر مرکزی شہروں تک یکساں دلچسپی کے ساتھ پڑے جاتے ہیں ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ علاقائیت کی فضا رکھتے ہوئے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں وہ علاقائیت اخبارات کہلاتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پورے ملک میں پڑھے جانے والے اخبارات کی نسبت علاقائی اخبارات اپنے علاقے کی عوام کے قلب و ذہن پر زیادہ مضبوط گرفت رکھتے ہیں اس لئے وہ چھوٹے علاقے کے تمام مسائل سے پوری طرح واقفیت رکھتے ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ کسی معاملے میں عوامی سوچ کیا رخ اختیار کر سکتی ہے اور کون سی بات انہیں کس انداز میں متاثر کر سکتی ہے گویا وہ اپنے حلقی اثر کی نفسیات سے پوری طرح آگاہن ہوتے ہیں اسلئے ان کے اوپر یہ نازک ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے علاقے کی حد تک اپنے اداریوں ،خبروں اور کالمز کےذریعے اپنے حلقہ اثر کو ایسی ذہنی تربیر دیں کہ انکی سوچ قومی رخ اختیار کرے اور وہ اس بات پر آمادہ ہوں کہ اگر قومی اور ملکی مفاد کےلئے اپنا سب کچھ نقصان بھی کرنا پڑے تو ایک جذبے اور خوش دلی کے ساتھ یہ کام کر گزریں یہ تربیت علاقائی صحافت بڑی سہولت کے ساتھ فراہم کر سکتی ہے اور اس طرح پورے ملک میں ملی یکجہتی کے چراغ روشن ہو سکتے ہیں اختلافی مسائل پر اختلافات کو مزید ہوا دینا ہو تو ایک شخص ہوا دینے کا کام کر سکتا ہے لیکن قابل تعظیم وہی صحافی ہے جو اس مرحلہ میں لوگوں کو نفرت تعصب اور برائی کی دلدل سے نکال کر ایسی شاہراہ پر لانے کا کارنامہ سرانجام دے جو قومی یکجہتی کی روشن راہ ہے وہی صحافی کہلانے کی مستحق ہیں جو کسی خبر میں مخص سنسنی پیھلا کر اخبار بیچنے کی بجائے ایسا انداز اختیار کریں کہ دیانت دار اور صداقت کے ساتھ خبر بھی لوگوں تک پہنچے اور انکی فکر کا رخ بھی مثبت ہو ایسا صحافی خواہ قومی صحافی ہو یا علاقائی صحافی کی انجمنیں ایسے لوگوں کا احتساب کریں جو درحقیقت صحافینہیں ہیں
مخص خیز خبریں گھڑ کے پیسے کمانے کےلئے صحافت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں اور شریف شہریوں کی پگڑیاں اچھالنا شروع کر دیتے ہیں اور ان صحافیوں کو خبر بھی لکھنا نہیں آتی کسی دوست وکیل وغیرہ کا سہارہ لیتے ہیں ایسے لوگوں سے صحافت کو پاک کیا جانا ہے ورنہ ہم جانتے ہیں کہ اچھائی کی تبلیغ دیر میں رنگ لاتی ہے لیکن برائی اور سنسنی خیزی فوری اثر کرتی ہے اور اسقسم کی زرد صحافت وہ گل کھلاتی ہے جو قوم کےلئے باعث شرم ہوتا ہے
علاقائی صحافی کا کام بہت نازک ہوتا ہے اس لئے کہ اسے حقائق کا اظہار بھی کرنا ہوتا ہے اور برائی کو برائی اور اچھائی کو اچھا کہنا ہوتا ہے اس کا ایک محدود حلقہ ہوتا ہے جہاں تمام لوگوں سے اس کے ذاتی رابطے اور تعلقات ہوتے ہیں انتظامیہ سے برارست اسکا رابطہ ہوتا ہے اسلئے خامیوں اور کوتاہیوں اور برائیوں کی نشاندہی اسکےلئے بہت مشکل کام ہوتا ہے اسکی حق گوئی و بے باکی کو خریدنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے اسکی تذلیل کا بندوبست بھی کیا جاتا ہے اور خوفزدہ کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہےت لیکن ان سب طوفانوں سے علاقائی صحافی جرات ہمت کے ساتھ نبرد آزما ہوتا ہے اسلئے اسے محفلوں اجلاسوں اور سرکاری تقریبات میں یا تو باوقار مقام نہیں دیا جاتا یا پھر اس سے تیسرے درجے کے شہری کا سلوک کیا جاتا ہے بعض اوقات اسکی حق گوئی و بے باکی کی سزا کا بھی بندوبست کیا جاتا ہے اسکے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کئے جاتے ہیں خریدے ہوئے گواہ پیش کئے جاتے ہیں بعض اوقات صحافی اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ایسے ہی کسی صحافی کے بارے میں قتیل شفائی لکھتے ہیں
ہو نہ ہو یہ کوئی سچھ بولنے والا ہے قتیل
جس کے ہاتھ میں قلم اور پائوں میں زنجیریں ہیں
حالانکہ سرکاری سطح پر ایسے حق گو اور بے باک صحافی کو باوقار مقام بھی ملنا چاہئے اور اس کا ہر طرح کا تحفظ بھی کیا جانا چاہیئے جو اپنے تمام فائدوں کو چھوڑ کر معاشرے سے رشوت ،کرپشن ،بے ایمانی،۔جعل سازی فریب ،مکاری ،چور بازی ،ذخیرہ اندوزی ،اقربا پروری اور اس قسم کی بے شمار برائیوں کے خلاف بند قائم کرنے میںمصروف رہتا ہے
Posted in Uncategorized | 1 Comment »
June 15th, 2009
جب فضائیں گھٹن ذدہ ہوجائیں
جب دہشت بھری ہوائیں ہر طرف رقص شروع کر دیں
جب مایوسی پھیلاتی کہانیاں ہر طرف گنگنانا شروع ہوجائیں
جب فسانے حقیقت اور حقیقت جھوٹ میں بدل جائے
جب غریب کے منہ سے نوالے کا حق چھن لیا جائے
جب مفلسوں کے سروں کو سیڑھیاں بنا کر ان سے اقتدار کے محل چڑھنے شروع ہو جائیں
جب غریبوں اور ناداروں کا خون ٹیکسوں کے سیلاب میں بہا دیا جائے
جب مسکراتے ہوئے ہونٹوں سے انکی رعنائی چھین کر انہیں ناامیدی کی لکیروں کےحوالے کر دیا جائے
جب ظالم کے ہاتھ ظلم کے عادی ہوجائیں اور جب ہر طرف مظلوموں کی چیخ و پکار ہو اور انکی بدعائیں عرش کے سینے کو چیرکے رکھ دیں
تب!
جی ہاں تب فطرت اپنے ازلی قانون کی کتاب کھول دیتی ہے
ازلی قانون!وہ قانون ہے جو ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے اور قیامت تک تابناک ہی رہے گا
انصاف!خدائی کا انصاف
جی ہاں وہی خدائی انصاف کا قانون جو فرعون کو اپنی پوری کبرائی سمیت دریائے نیل میں بہا لے گیا اور اسے ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ذلیل کر گیا
وہی انصاف جو روم کے ہرقلوں کو اپنے ” کلوزیمر“ سمیت برباد کر گیا
جو یزید کو اپنی پوری جاہ حشمت سمیت رسوا کر گیا اورحسین علیہ اسلام کو تابناک سورج کی مانند تاریخ کے آسمان پر بلند کر گیا بہت ہی بلند
ہاں وہی انصاف جو چنگیز خان کو قیامت تک کےلئے خونخواردرندے کا خطاب عطا کر گیا
جو شاہ ایران کو مٹا گیا
اور
جو ذارا روس کو اپنی طاقت سمیت کھا گیا
پر یہ کتاب کھلنے سے پہلے ایک اور اصول کی پیروی کرتا ہے اس لئے اس کے کھلنے سے زرا دیر سی لگتی ہے
ایک اور اصول!
وہ یہ کہ کائنات کا پرودگار اور ازلی قانون کو اسکتاب کا خالق اپنے عاجزبندوں کےصبر کا امتحان لیتا ہے
انکی برداشت دیکھتا ہےانکا حوصلہ آزمانا چاہتا ہے
جی ہاں!
وہ یہ دیکھنا چاہتاہے کہ اس کے بندوں کا بندگی کا جنون کتنا ہے؟
اپنے پروردگار پر انکا یمان کتنا مضبوط ہے انکے دلوں کی روشن شمعیں کتنی دیر تک جل سکتی ہیں؟
وہ ظلم کے آگے کتنی دیر تک ڈٹےرہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
وہ سچائی کی راہ میں کتنی دور تک نکل سکتے ہیں؟
دنیا کے اس بازار میں کہیں وہ اپنے عقیدے کا سودہ تو نہیں کر بیٹھے؟
کہیں خوف!
یہ ختم ہونے والا خوف تو نہیں خرید بیٹھے؟
خدا صرف یہی دیکھتا ہے صرف یہی
اور پھر جب
وہ اپنے بندوں کو استقامت کی راہ پر دیکھتا ہے
جب وہ ان کو حق پر چٹان کی طرح ڈٹے پاتا ہے
تب!
جی ہاں!
تب وہ اپنے اس ازلی قانون کی کتاب کے پھریرے لہراتا ہے اور ظالموں کے چیھننے کے سارے ٹھکانے چھین لیتا ہے
انکے سروں سے سارے کے سارے آسرے اڑا لیتا ہے
انکی کبریائی کا بھسم کر دیتا ہے
پھر ظلم کا حساب ہوتا ہت ناانصافی تولی جاتی ہے
پھر زہر آٌود قہقوں کا استفسار ہوتا ہے
مظلوم کی ہر چیخ کا احساس ہوتا ہےہر چیخ کا!
کیونکہ یہ اس سچے پروردگار کا انصاف ہوتا ہے جس کی بادشاہت ہر ذرے پر قائم ہے اور جسکی طاقت کے ڈنکے ساری کائنات میں بجتے ہیں
سارے کے سارے کائنات میں!
ہر خطے اور ہر دور میں ایسا ہی ہوتا ہےا ور ہوتا رہے گا
پروردگارکا یہ قانون ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا
کوئی ظالم اسے روک نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی باطل اسے بدل سکتا ہے یہ انصاف اس مملکت خداداد میں بھی یہی ہو گا یہاں ظلم کا حساب ہو گا
مظلوم کے آنسو یہاں بھی رنگ لائیں گے
اس قانون کے تازیانے یہاں بھی برسیں گے جابروں پر وحشیوں پر
یہاں بھی آسمان نظارہ کرے گا ٹوٹتے بکھرتے جاہ حشمت کا
تباہ ہوتی ان جاگیروں کا جہاں ظلم کی کاشت ہوتی ہے
سماجی انصاف کی ہوائیں یہاں بھی چلیں گی
یہاں بھی غریبوں کو دو وقت کی روٹی ملے گی اور بےگھروں کو آشیانہ
شاعر کے آنسو یہاں بھی مقدس ترین کہلائیں گے اور وہاں بھی نگری نگری قریہ قریہ انقلابیوں کی تقریریں گوجننے لگے گی
یہاں بھی حق پرستوں کی ٹولیاں ہر طرف سے اٹھیں گی اور اٹھتی ہی چلی جائیں گی
لیڈر یہں بھی پیدا ہوں گے نہ جھکنے ولاے ،نہ بکنے والے لیڈر،سیاسی تاجر نہیں مخلص اور بہادر لیڈر
عظمتوں کے مینار صلاحیتوں اور قابلیتوں پر تقسیم ہوںگے نہ کہ خاندانی جاہحشمت پر
منافقت کے بازاروں کو ایک دن کوڑھ ضرور لگیں گے
آسمان سے رحمتوں کی رم جھم ضرور ہو گی
بس ہم اس امتحان میں سرخرو ہوں گے
ناامیدئ کا کمبل ہم اپنے اوپر نہ اوڑھنے دیں
ظلم ہمارےولولوں کو ختم نہ کرے
خون کے چھینٹے ہمیں جھکا نہ دیں
باطل ہمیں جھکا نہ دے اور ہم حق کی صدائیں لگاتے ہی چلے جائیں
شاعر کی اذانیں یہاں ختم نہ ہوجائیں اور انقلابیوں کت نعروں کی گونج بس تھمنے نہ پائے
پھر دیکھنا یہ آسمان ضرور نظارہ کرے گا سماجی انصاف کا
اور
مظلوم کی چیخوں کے حساب کا نظارہ
کیونکہ یہی اس کتاب کا خلاصہ ہے جی ہاں خدائی قانون کی کتاب کا خلاصہ
Posted in Uncategorized | 1 Comment »
June 13th, 2009
مشترکہ خاندانی نظام۔ ۔ ۔ ایک دم توڑتی روایت
ایک زمانہ تھا جب گھر کے تمام افراد ایک ہی چھت کے نیچے رہتے تھےایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا باعث مسرت سمجھتے تھے
ہمارے معاشرے میں خاندانی نظام کی روایت بہت پرانی یے خاص طور پر گھر کے بڑے بزرگوں کی خواہش ہوتی تھی کہ انکے خاندان کے تمام افراد ایک ساتھ ہی رہیں اور باقی سب لوگ اپنے بزرگوں کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اس روایت کو قائم رکھنے کی کوشش کرتے تھے یوں تو مشترکہ خاندانی نظام میں رہنے والے افراد کی زندگی عام دکھائی دیتی ہے لیکن مشترکہ خاندانی نظام میں رہنے کے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں
مثلا اگر خاندان کے تمام افراد ایک ساتھ رہ رہے ہوں تو سب لوگوں کو گھر چلانے کےلئے اپنا حصہ دیے کر اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے کیوں کہ مشترکہ کاندانی نظام میں رہنے کا یہ اصول ہے کہ گھر کے خرچ کا بوجھ تمام افراد مل جل کر اٹھائیں چاہے آپ کی آمدنی کم ہو یا زیادہ تمام افراد کو مساویانہ طور پر رقم ادا کرنی پڑتی ہے جس زمانے میں مشترکہ خاندانی نظام کی روایت قائم کی گئی تھی اس وقت نہ تو اخراجات اتنے زیادہ تھے اور نہ مسائل موجودہ دور کے مطابق تھے
گھر کے تمام افراد روکھی سوکھی کھا کر بھی ہنسی خوشی ایک چھت کے نیچے اپنا وقت گزار دیتے تھے
یہ روایت چلتے چلتے آج بھی اسی طرح جاری ہے گو کہ یہ روایت آج بھی بہت سارے کاندانوں کی زندگی کا لازمی جز ہے لیکن اس کے باوجود آج کل کے زمانے میں بہت سے افراد اپنے آبائو اجداد کی اس روایت سے بغاوت کرتے نظر آتے ہیں خاص طور پر نوجوان نسل تو اس روایت کے باکل خلاف ہے زیادہ تر نئی شادی شدہ نوجوان نسل اپنے ہسند کے مطابق زندگی گزارنے کو ترجیح دیتی ہے وہ خود کو ایسی روایات کا پابند نہیں بنانا چاہتی بہت سے ایسے افراد جو کہ مشترکہ خاندانی نظام میں رہ رہے ہیں ان کا خیال ہے کہ وہ محض بڑوں کی روایت کو برقرار رکھنے کےلئے ایسا کرنے پر مجبور ہیں وہ لوگ جلد از جلد اس نظام سے چھٹکارا پانے کے خواہش مند بھی ہیں
یہخوبصورت روایت کیوں اور کیسے ختم ہوئی اور اسکے خلاف افراد کے خیالات کے پیچھے کون سے اسباب کار فرما ہیں ؟
ان سوالات کا جواب وہ تمام لوگ جاننے کےلئے بے چین ہیں جو اپنی روایت کو دل و جان سے قائم رکھنا چاہتے ہیں
لیکن بہت کم ایسے افراد ہیں جو ان وجوہات کو جاننے کے بعد انہیں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں
اس روایت کے مخالفین کا خیال ہے کہ بے جا مداخلت کے خوف سے وہ اپنے خاندان میں رہنا پسند نہیں کرتے ان کے بقول مشترکہ کاندانی نظام میں رہنے والے افراد کو خواہشات اور رجا مندی پر انحصار کرنا پڑتا ہے اس طرح آپ کا اپنی زندگی پر کوئی اختیار نہیں رہتا آپ کی ہر خوشی دوسرون کے تابع ہو جاتی ہے آپ چاہتے ہوئے بھی اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر نہیں کر سکتے
آئیے اس سلسلے میں مشترکہ خاندانی نظام میں زندگی بسر کرنے کے اصول و ضوابط پر ایک نظر دالتے ہیں آپ جب تک ان اصولوں کے مطابق زندگی بسر نہیں کرتے اس وقت تک آپ مشترکہ خاندان کا حصہ شمار نہیں ہو سکتے
گھریلو اخراجات میں برابری کا کردار نبھانا ہوتا ہے
کھانا مجبوری کے سوا تمام افراد کو اکٹھا ہی کھانا پرتا ہے اگر آپ کا من پسند کھانا نہ پکا ہو تو آپسب کے ساتھ وہی کھانا پڑتا ہے
مجبوری کے باوجود بھی آپ کو اپنے حصے کا کام مکمل کرنا پڑتا ہے بعض اوقاتایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی وجہ سے ایک فرد کے حصے میں زیادہ کام آجاتا ہے ایسی صورت میں مزید مشکلات کھڑی ہوجاتی ہیں ایسا زیادہ تر خواتین کے ستاھ ہوتا ہے اسکے علاوہ اگر آپ کے معاشی حالات دیگر خاندان کے افراد سے اچھے ہیں تو آپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے بہن بھائیوں کا ساتھ دینا ہوگا ایسے افراد کو کسی کاروبار سے منسلک ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنے کاروبار کو شراکت کے بجائے ایکلے ہی چلائیں تا کہ کم وقت میں زیادہ منافع ہو تو بھی ایسا نہیں کر پاتے کیونکہ ایسا کرنے سے پورا خاندان بھی متاثر ہو سکتا ہے پھر چاہے آپ زیادہ محنت کر رہے ہوں یا کم آپ کو معاوضہ تمام افراد کے برابر ہی ملے گا اس پر گھریلو اخراجات کی ذمہ داری میں بھی آپ کو عائد ہوتی ہے
بعض مرد حضرات کا خیال ہوتا ہے کہ انہیں مشترکہ خاندانی نطام میں رہتے ہوئے کوئی شکایت نہیں ہوتی دراصل مسائل اس وقت کھڑے ہوتے ہیں جب گھریلو خواتین کا آپس میں اتفاق سے رہنا مشکل ہو جاتا ہے ان کے خیال کے خاتین میں حسد کی زیادتی اور صبر کی کمی انہیں خاندانی روایت کو توڑنے پر مجئبور کرتی ہیں جبکہخواتین کا خیال ہے کہ ایسا بالکل نہین ہوتا بلکہ یہ مرد حضرات کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ علیحدہ اپنی مرضی کی زندگی بسر کریں خواہش چاہے مرد کی ہو یا خواتین کی لیکن دونوں پہلوئوں سے بات کا ایک ہی مطلب نکلتا ہے
اکرم صاحب جو کہ مشترکہ خاندانی نطام کا حصہ ہیں ان کا خیال ہے کہ آج کل اس روایت کو قائم رکھنا بہت مشکل ہو گیا ہے حسد آپسی رقابتوب اور تیز رفتار زندگی نے اس روایت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں اب اس بات سے اندازہ لگائیں کہ اگر میں اپنے بچوں کے لئے پھل لانا چاہتا ہوں یا کوئی اور چیز تو مجھے نہ صرف اپنے بچوں کےلئے بلکہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کا بھی خیال رکھنا ہو گا لیکن آپ سوچیں اس مہنگائی کے دور میں ایسا ممکن نہیں ہو سکتا
ایسےھالات میں مجھے بعض اوقات چھپا کر صرف اپنو بچوں کےلئے چیز بھی لانی پڑتی ہے
حالانکہ یہ ایک برا فعل ہے لیکن وقت اور ھالات نے ہمیں اتنا بے بس کر دیا ہے کہ ہم ایسا کرنے میں کوئی عار محسوس نہین کرتے اسی طرح ہمارے سب سے چھوٹے بہن بھائی کی خواہش ہے کہ وہ اپنا الگ کاروبار شروع کرے لیکن وہ اپنےخاندانی کاروابار کو چھوڑ نہیں سکتے
ہمارے والدین ابھی حیات ہیں اس لئے یہ روایت بھی ابھی تک قائم ہے’
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس رویات کے مخالفین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے آج یہاں تک بہت سے لوگ اس روایت کو وبال جان سمجھتے ہیں وہاں بہت سے لوگ اب بھی اسے باعث رحمت و برکت تصور کرتے ہیں
ہم ان رسموں و روایات کو منان باعث فخر سمجھتے ہیں جو سرے سے ہماری ہیں ہی نہیں لیکن ہم ان روایات کو بھولتے جا رہے ہیں جو ہمارے مذہب اور حقیقی زندگی کا عکاس ہیں لیکن اگر ہم چاہیں تو پیار محبت کی فضا قائم کر کے ایک بار پھر سے مشترکہ خاندانی نطام کی روایات کو بحال کر سکتے ہیں
Posted in Uncategorized | 2 Comments »
June 13th, 2009
Welcome to WordPress. This is your first post. Edit or delete it, then start blogging!
Posted in Uncategorized | 1 Comment »