<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>نوائے ادب &#187; افسانے &#8212; علی حسن سمند طور</title>
	<atom:link href="http://nawaiadab.com/category/afsanay/afsanay-ali-hassan/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://nawaiadab.com</link>
	<description>Just another WordPress site</description>
	<lastBuildDate>Tue, 21 Jun 2011 22:27:29 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.3</generator>
		<item>
		<title>آزاد بلوچستان</title>
		<link>http://nawaiadab.com/%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86/</link>
		<comments>http://nawaiadab.com/%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 15 Nov 2009 00:05:59 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[افسانے]]></category>
		<category><![CDATA[افسانے --- علی حسن سمند طور]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://nawaiadab.com/?p=1042</guid>
		<description><![CDATA[آزاد بلوچستان علی حسن سمندطور موسم اچانک تبدیل ہوا تھا۔ کل تک تو ہوا اپنے اندر گرمائش لیے ہوئی تھی مگر آج یہ عالم تھا کہ درجہ حرارت بارہ سینٹی گریڈ سے اوپر جانے کے لیے تیار نہ تھا۔ جسٹس ملک کے لیے کوئٹہ کے بدلتے موسم کی یہ ادائیں نئی ہرگز نہ تھیں۔ ان [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آزاد بلوچستان </p>
<p>علی حسن سمندطور  </p>
<p>موسم اچانک تبدیل ہوا تھا۔ کل تک تو ہوا اپنے اندر گرمائش لیے ہوئی تھی مگر آج یہ عالم تھا کہ درجہ حرارت بارہ سینٹی گریڈ سے اوپر جانے کے لیے تیار نہ تھا۔ جسٹس ملک کے لیے کوئٹہ کے بدلتے موسم کی یہ ادائیں نئی ہرگز نہ تھیں۔ ان کی زندگی یہاں گزری تھی۔  اس وقت جسٹس ملک اس بیٹھک کا جائزہ لے رہے تھے جہاں کچھ ہی دیر میں چند اہم مہمانوں کو آنا تھا۔ اس کمرے کو ٹھنڈا جان کر انہوں نے ایک نوکر کو وہاں کا ہیٹر چلانے کو کہا۔ پھر انہوں نے باورچی خانے میں جا کر مہمانوں کی تواضع کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ اور یہ تمام معائنہ کرنے کے بعد وہ گھریلو بیٹھک میں آگئے جہاں ان کی بیوی ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔ جسٹس ملک کو یہ بنگلہ سرکار کی طرف سے ملا ہوا تھا جہاں وہ اپنی بیوی اور ایک لڑکے، بہو اور دو پوتوں کے ساتھ رہتے تھے۔ جسٹس ملک کا بڑا لڑکا عرفان یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا جب کہ منجھلی لڑکی کی شادی ہو گئی تھی اور چھوٹا لڑکا نوکری کے سلسلے میں عرب امارات چلا گیا تھا۔</p>
<p>جسٹس ملک کو ٹی وی دیکھتے زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ باہر گیٹ کی گھنٹی بجی۔ مہمان آ چکے تھے۔ جسٹس ملک لپک کر اپنی نشست سے اٹھے اور گیٹ کی طرف دوڑے۔ دروازہ کھلا ہوا تھا اور جسٹس ملک کو آتا دیکھ کر چوکیدار ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ جسٹس ملک نے باہر نکل کر آنے والے مہمانوں کا استقبال کیا۔ ان مہمانوں میں جسٹس مری اور جسٹس گل جان سرفہرست تھے۔ باقی لوگ جن کی تعداد بارہ پندرہ کے قریب تھی، ان دو مہمانوں کے ساتھ آئے تھے۔</p>
<p>جسٹس ملک ان لوگوں کو ساتھ لے کر بیٹھک میں آگئے جو ہیٹر چلنے کی وجہ سے اب تک گرم ہو چکی تھی۔ وہاں پہنچ کر لوگوں نے نشستیں سنبھال لیں۔ جسٹس مری کے ساتھ آئے ہوئے لوگ ان کے گرد جھمگٹا لگا کر بیٹھ گئے، جب کہ جسٹس گل جان کے آس پاس ان کے ساتھ آئے ہوئے لوگ بیٹھ گئے۔ جسٹس ملک نے غور کیا کہ جسٹس مری سے کچھ ہی فاصلے پہ چند لوگ ایک گھنی داڑھی والے شخص کے پاس بھی ادب سے بیٹھ گئے تھے۔ اس تیسرے گروہ میں شامل لوگوں نے مخصوص سفید بلوچی پگڑیاں باندھی ہوئی تھیں۔ جسٹس ملک اس گھنی داڑھی والے شخص کو نہ جانتے تھے مگر انہیں خیال ہوا کہ وہ یقینا جسٹس مری کے ساتھ ہوگا۔ </p>
<p>جسٹس ملک نے نوکر کو چائے لانے کو کہا۔ نوکر کے جانے کے بعد بیٹھک میں خاموشی چھا گئی۔ سب لوگ غور سے جسٹس ملک کی طرف دیکھ رہے تھے۔ وہ میزبان تھے اور اپنے ساتھی ججوں کے مقابلے میں عمر میں بھی بڑے تھے۔ بات انہیں شروع کرنی تھی۔</p>
<p>لوگوں کو ہمہ تن گوش پا کر جسٹس ملک بولنا شروع ہوئے:</p>
<p>&#8220;جیسا کہ میں فون پہ جسٹس مری اور جسٹس گل جان سے بات کر چکا ہوں، ہماری آج کی ملاقات کا مقصد بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے بات کرنا ہے۔&#8221;</p>
<p>یہ بات سن کر وہاں موجود لوگوں کے چہرے پہ ایک گہری سنجیدگی چھا گئی۔</p>
<p>جسٹس ملک بولتے رہے:</p>
<p>&#8220;انسانیت سے محبت کرنے والا ہر شخص اس صورتحال پہ غمگین ہے۔ ہم اس قتل و غارت گری کے خلاف ہیں جو ہمارے آس پاس برپا ہے، جس میں معصوم شہری مارے جا رہے ہیں۔ ہم لوگوں کو مرتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہمیں اس جگہ سے، بلوچستان سے محبت ہے۔ اور بلوچستان سے اپنی اسی محبت کی وجہ سے آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ فیصلہ کریں کہ ہم امن قائم کرنے کے سلسلے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مل جل کر فیصلہ کریں کہ ہم اپنی آواز بلند کر کے خون خرابے کو کیسے روک سکتے ہیں، معصوم شہریوں کو موت کے منہ میں جانے سے کیسے بچا سکتے ہیں۔</p>
<p>تو سب سے پہلے میں اپنے معزز مہمان جسٹس مری کو دعوت دوں گا کہ وہ اپنی رائے دیں کہ ہم ججوں کو اور دوسرے سوچنے والے لوگوں کو موجودہ صورتحال میں اپنا کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔&#8221;</p>
<p>جسٹس ملک نے اپنی بات اس جملے پہ ختم کی تو سب کی نظریں جسٹس مری کی طرف اٹھ گئیں۔</p>
<p>جسٹس مری بولنا شروع ہوئے:</p>
<p>&#8220;صورتحال اچھی ہرگزنہیں ہے۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اب سے پانچ سال پہلے بلوچی اگر پاکستان کے بہت زیادہ حق میں نہیں تھے تو پاکستان کے اس قدر خلاف بھی نہیں تھے۔ مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ بلوچ قیادت کے کئی سرکردہ لوگوں کے قتل کے بعد لوگوں کا اعتبار پاکستان کے اوپر سے اٹھ گیا ہے۔ اور اس کے ساتھ بلوچ قوم پرستوں نے اپنی قوم کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ بلوچوں کو بتایا جا رہا ہے کہ کس طرح بلوچستان کی تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے۔ تو پھر اتنی پرانی تاریخ رکھنے والی ایک قوم جمعہ جمعہ آٹھ دن پہلے وجود میں آنے والے ملک کی شناخت میں اپنی شناخت کیوں کھو دے۔ پھر یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انیس سو سینتالیس میں پاکستان نے بلوچستان کو زبردستی اپنے ساتھ ملایا تھا۔ میرا اپنا خیال یہ ہے کہ اب اتنے سارے لوگوں کے ذہن میں بلوچستان کی آزادی کی بات آگئی ہے تو واپسی محال ہے۔ یہ سمجھنا کہ اتنے سارے لوگ یہ ساری باتیں بھول کر دوبارہ پاکستان کے ساتھ رہنے کے لیے تیار ہو جائیں گے، انتہائی حماقت ہوگی۔&#8221;</p>
<p>جسٹس مری نے اپنی بات ختم کی تو جسٹس گل جان نے اپنا گلا صاف کیا۔ لوگ جسٹس گل جان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ جسٹس گل جان نے بولنا شروع کیا۔</p>
<p>&#8220;میں جسٹس مری کی بات سمجھ رہا ہوں مگر میں ساتھ ہی جسٹس ملک سے بھی متفق ہوں۔</p>
<p>یہ بات صحیح ہے کہ اب بلوچوں کی اکثریت پاکستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی مگر سوال یہ ہے کہ ہم اپنا کیا کردار ادا کریں کہ جو کچھ ہونا ہے بغیر تشدد کے، بغیر قتل و غارت گری کے ہو جائے۔&#8221;</p>
<p>جسٹس گل جان کی گفتگو میں توقف آیا تو جسٹس ملک پھر بولنا شروع ہوئے۔</p>
<p>&#8220;بات بالکل یہی ہے جو جسٹس گل جان نے کہی ہے۔ اگر بلوچستان کو پاکستان سے الگ ہونا ہے تو بے شک ایسا ہو جائے۔ سوال صرف یہ ہے کہ ایسا بغیر قتل و غارت گری کے کیسے ہو۔ مثلا ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلے دو سالوں میں یہاں پے درپے ایک نہیں بیس کے قریب اساتذہ کا قتل ہوا ہے۔ اور ان اساتذہ کا قصور کیا تھا؟ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ پنجابی تھے۔ آپ سوچیں کہ اتنے سارے گھرانے یوں ذرا سی دیر میں تباہ ہو گئے۔</p>
<p>اور ایک استاد کا قتل تو بہت ہی قابل مذمت ہے۔ اگر ماں کے بعد کوئی ہستی قابل عزت ہے تو وہ استاد کی ہے۔ </p>
<p>وہ کسی رنگ کا ہو، کسی نسل کا ہو، کوئی زبان بولنے والا ہو، وہ آپ کا استاد ہے۔ وہ آپ کو پڑھا رہا ہے۔ وہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو علم کے راستے پہ لے جا رہا ہے۔ اور آپ ایک استاد کو صرف اس لیے مار دیں کہ وہ پنجابی ہے۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے۔ اساتذہ کے قتل کی بنیاد پہ رکھی جانے والی آزادی کی ایسی تحریک آگے چل کر کیا رنگ لائے گی؟&#8221;</p>
<p>اس موقع پہ گھنی داڑھی والا وہ شخص بولنا شروع ہوا جو چار لوگوں کے حلقے میں جسٹس مری کے دائیں طرف بیٹھا تھا۔</p>
<p>&#8220;آپ میں سے جو لوگ نہ جانتے ہوں وہ جان لیں کہ میں نوراللہ گچکی ہوں۔&#8221;</p>
<p>سفید پگڑی والے شخص کی یہ بات سن کر وہاں موجود بہت سے لوگ سکتے میں آگئے۔ان کے لیے نوراللہ گچکی کا نام ہرگز اجنبی نہ تھا۔ سرکاری ایجینسیاں ایک عرصے سے اس کی گرفتاری کی کوشش میں لگی ہوئی تھیں۔ نوراللہ گچکی پہ الزام تھا کہ اس نے بلوچستان میں مقیم پنجابی آبادکاروں کے خلاف قتل و غارت گری شروع کی ہوئی تھی۔</p>
<p>نوراللہ پھر بولنا شروع ہوا۔</p>
<p>&#8220;سب سے پہلے تو میں ایک بات اپنے دفاع میں کہنا چاہوں گا۔ حکومت کے ادارے مجھے بدنام کرنے پہ تلے ہوئے ہیں؛ ان کا کہنا ہے کہ میں پنجابی آبادکاروں کے خلاف ہوں۔ میں ہرگز کسی کے خلاف نہیں ہوں۔ ہم تو بس پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں۔</p>
<p>مگر یہ بات صحیح ہے کہ ہمارے ساتھ شامل ایسے لوگ ہیں جو ان آبادکاروں کو ہلاک کررہے ہیں۔ اور میں آپ کو ان کے غم و غصے کی وجہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔</p>
<p>کولھو پہ بم باری ہوتی ہے۔ اوپر سے جہاز آتے ہیں اور بم برسا کر چلے جاتے ہیں۔ ہمارے گھر تباہ ہوتے ہیں۔ ہمارے لوگ مارے جاتے ہیں۔ اور ہم بے بسی سے ان جہازوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔ تو اس وقت تو ہماری حمایت میں کوئی نہیں اٹھتا۔ کوئی آنسو ہمارے لوگوں کے لیے نہیں بہتا۔</p>
<p>پھر ہم مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی طریقہ نہیں ہے احتجاج کرنے کا۔ کوئی طریقہ نہیں ہے اپنے دشمن کو دبانے کا۔ سوائے اس طریقے کہ وہ لوگ جو ہمارے دشمن سے ذرہ برابر بھی ہمدردی رکھتے ہوں، ہم ان کو مار کر اپنا غم و غصہ نکالیں۔ تو یہ ہورہا ہے ان اساتذہ کے ساتھ کہ جن کا تذکرہ آپ نے کیا ہے۔&#8221; </p>
<p>جسٹس ملک نے نوجوان کے لہجے میں تلخی محسوس کی تھی۔ انہیں خیال ہوا کہ جیسے انہیں اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہیے۔</p>
<p>&#8220;نوراللہ، آپ نہ جانے کن لوگوں کی بات کر رہے ہیں جو بلوچوں کی ہلاکت پہ آواز نہیں اٹھاتے۔ ہم بلوچستان میں رہنے والوں نے تو ہمیشہ بلوچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی پہ آواز بلند کی ہے۔ </p>
<p>مگر یہ بات تشویشناک ہے کہ بلوچستان میں رہنے والے غیر بلوچیوں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ قوم پرست بلوچوں میں پاکستان کا مطلب پنجاب لیا جاتا ہے۔ اس منطق سے پاکستانی فوج جو کچھ کر ہی ہے وہ پنجابیوں کا کیا دھرا ہے۔ چنانچہ ہر پنجابی حکومت پاکستان کے ہر عمل کا ذمہ دار ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟  کہنے کو تو میں بھی پنجابی ہوں۔ یہ بات میرے نام سے واضح ہے۔ مگر کوئٹہ میں رہنے والے پنجابیوں کا پنجاب سے ایسا ہی تعلق ہے جیسا پنجاب میں بسنے والے بلوچیوں کا بلوچستان سے۔ </p>
<p>میں آپ کو اپنی تاریخ بتاتا ہوں۔ میرے والد یہاں جج مقرر ہو کر آئے تھے۔ میں نے اپنا بچپن یہاں گزارا ہے ۔ میرے بچے ادھر ہی پیدا ہوئے ہیں۔ ان کی شادیاں ادھر ہوئی ہیں۔بلوچستان ہمارا وطن ہے۔ ہمیں اس جگہ سے محبت ہے۔ اگر بلوچستان پاکستان سے الگ ہوتا ہے تو ہم لوگ بھاگ کر پنجاب نہیں چلے جائیں گے، ہم ادھر ہی رہتے رہیں گے۔&#8221;</p>
<p>جسٹس ملک کی اس جذباتی تقریر کے بعد کمرے میں خاموشی چھا گئی۔</p>
<p>اتنے لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے بیٹھک میں گرمی بڑھ گئی تھی۔ نوکر تھوڑی دیر پہلے چائے اور لوازمات لایا تھا اور اب لوگوں کو چائے بنا کر دینے میں مشغول تھا۔ جسٹس ملک نے نوکر سے کہا کہ وہ ہیٹر بند کر دے۔ تمام مہمانوں کو چائے تھمانے کے بعد نوکر نے ہیٹر بند کر دیا۔ اس کے جانے کے بعد جسٹس ملک پھر بولنا شروع ہوئے۔</p>
<p>&#8220;ہم بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ اگر بلوچستان کے لوگ واقعی پاکستان سے الگ ہونا چاہتے ہیں تو ان کو ایسا کرنے دیا جائے۔ مگر ساتھ ہی ہم پاکستانی حکومت کا یہ موقف بھی پڑھتے ہیں کہ بلوچستان میں مشکل سے دس فی صد لوگ ایسے ہیں جو گڑبڑ مچا رہے ہیں، بلوچستان کے زیادہ تر لوگ پاکستان کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں۔&#8221;</p>
<p>جسٹس ملک کی اس بات پہ نوراللہ گچکی سے خاموش نہ رہا گیا۔</p>
<p>&#8220;پاکستانی حکومت جھوٹ بولتی ہے۔ یہ بلوچیوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کی سازش ہے۔ بلوچ متحد ہیں اور متحد ہو کر پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں۔&#8221; نوراللہ نےغصے سے کہا۔</p>
<p>جسٹس ملک براہ راست نوراللہ گچکی سے مخاطب ہو گئے۔</p>
<p>&#8220;نوراللہ، میرے بھائی، آپ غصہ نہ کھائیں۔ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آزادی کتنی دل کش شے ہے۔ آپ سوچیں کہ انیس سو سینتالیس میں ہم کیسا محسوس کرتے اگر انگریز جنوبی ایشیا چھوڑتے ہوئے پاکستان نہیں قائم کرتا۔ جس طرح ہم انگریز سے آزادی چاہتے تھے اور ہندوستان سے ہٹ کر ایک الگ ملک دیکھنا چاہتے تھے، شاید بالکل اسی طرح آج بلوچستان کے لوگ پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں۔&#8221;</p>
<p>اس موقع پہ جسٹس ملک تھوڑی دیر کے لیے رکے اور چائے کا ایک گھونٹ پینے کے بعد بولنا شروع ہوئے۔</p>
<p>&#8221; ہر دفعہ جب اس خطے میں ایک نیا ملک بنتا ہے تو خوب قتل و غارت گری ہوتی ہے۔ ہم نے پاکستان کے بننے پہ انیس سو سینتالیس میں ایسا دیکھا، پھر بنگلہ دیش کے بننے پہ انیس سو اکہتر میں یہی دیکھا۔ ہماری خواہش ہے کہ اب کی بار ایسا نہ ہو۔ اب کی بار ہم تمیز کا مظاہرہ کریں اور جو کرنا ہے بغیر مار پیٹ کے کر جائیں۔</p>
<p>پھر سوال یہ بھی ہے کہ لوگ آزادی کا نعرہ کب بلند کرتے ہیں۔ دراصل یہ سب لوگ ایک نااہل حکومت سے نالاں رہے ہیں۔ اور ہر دفعہ ہم نے ایک نئے ملک کا تجربہ کر کے دیکھا کہ ہمیں نااہل حکومت ہی میسر رہی ہے۔ لوگوں نے ایک ملک کی نااہل حکومت سے جان چھڑائی تو انہیں نئے ملک کی نئی نااہل حکومت میسر آگئی۔ تو سوال یہ ہے کہ اب کی بار آزادی کا یہ تجربہ کیسے مختلف ہوگا؟&#8221;</p>
<p>اس سوال کا جواب جسٹس مری کے پاس تھا۔ انہوں نے جسٹس ملک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:</p>
<p>&#8220;جسٹس ملک، کسی دوسرے کی نااہل حکومت اور اپنی نااہل حکومت میں یہی فرق ہوتا ہے۔ لوگ اپنے لوگوں کی نااہل حکومت پہ پھر بھی صبر و شکر کر لیتے ہیں۔ ممکن ہے کہ بلوچستان کی آزادی کے بعد بلوچوں  کےسر پہ ایک اپنی ہی نااہل حکومت سوار ہو جائے مگر اس وقت کی اس وقت دیکھی جائے گی۔ ابھی تو یہ لوگ پاکستان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ صورتحال کا واحد حل یہ ہے کہ پاکستان فوج بلوچستان فوری طور پہ چھوڑ دے۔&#8221;</p>
<p>جسٹس ملک کے گھر میں ہونے والی یہ ملاقت دو گھنٹے سے اوپر جاری رہی۔ اس ملاقات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ وہاں موجود سب لوگوں کو ایک دوسرے کے دلی جذبات جاننے کا موقع ملا۔ طے پایا کہ اگلی بار تینوں جج صاحبان صرف ایک ایک اسسٹنٹ کے ساتھ ملیں گے اور یہ حکمت عملی تیار کریں گے بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کس طور سے بغیر تشدد کے انجام پا سکتی ہے۔ </p>
<p>اگلی ملاقات سے پہلے جسٹس ملک نے ماضی قریب میں آزادی حاصل کرنے والے ممالک کے اوپر تحقیق کی۔ اور جسٹس مری اور جسٹس گل جان سے ملاقات میں انہوں نے بات اسی موضوع سے شروع کی۔</p>
<p>&#8220;بلوچستان سے پاکستان کی آزادی کے سلسلے میں ہمیں ان مثالوں کو دیکھنا چاہیے جہاں نوزائیدہ ممالک نے بلا یا با تشدد آزادی حاصل کی۔ مثلا دس سال پہلے مشرقی تمور اقوام متحدہ کی فوج کی نگرانی میں ہونے والے ریفرینڈم کی مدد سے انڈونیشیا سے الگ ہوا۔ اس سے پہلا وہاں انڈونیشیا کی فوج قتل و غارت گری کر چکی تھی مگر کم از کم ریفرینڈم شفاف ہو پایا۔</p>
<p>اس سے پہلے ہم نے چیکوسلاواکیہ کو بغیر کسی تشدد کے چیک ریپبلک اور سلاواکیہ نامی ممالک میں تقسیم ہوتے دیکھا۔</p>
<p>پھر ہم نے دیکھا کہ کینیڈا میں کیوبیک کا صوبہ باقی ملک سے الگ ہونا چاہتا تھا۔ مگر لوگوں کی رائے لینے کے سلسلے میں انہوں نے بیرونی مدد حاصل نہیں کی۔ ان کو اپنے انتخابی اداروں پہ اعتماد تھا۔ ریفرینڈم ہوا اور فیصلہ ہو گیا کہ کیوبیک سے تعلق رکھنے والے بیشتر لوگ کینیڈا کے ساتھ ہی رہنا چاہتے تھے۔</p>
<p>پھر ہم نے مونٹینیگرو کی سربیا سے آزادی کو دیکھا۔ جب یوگوسلاویہ کے اوپر سے اشتراکیت کا بندھن ٹوٹا تو سب سے پہلے سلوانیا باقی ملک سے الگ ہوا۔ پھر کروایشیا الگ ہوا۔ پھر بوسنیا اور مقدونیہ الگ ہوئے۔ سربیا اور مونٹے نیگرو کچھ عرصہ ساتھ رہے مگر پھر الگ الگ ملک بن گئے۔&#8221;</p>
<p>اس موقع پہ جسٹس مری نے جسٹس ملک کی بات کاٹی۔</p>
<p>&#8220;جسٹس ملک، آپ اتنی دور مت جائیں۔ آپ اس خطے میں آزاد ہونے والا وہ ملک دیکھیں جس کو ساتھ رکھنے کی پوری کوشش پاکستانی فوج نے کی۔ آپ نے دیکھا کہ اس کم ظرف فوج نے کیسے کیسے ہتھکنڈے نہیں آزمائے۔ آپ اس فوج پہ اعتماد نہیں کر سکتے۔&#8221;</p>
<p>جسٹس مری کی بات میں وزن تھا۔</p>
<p>&#8220;میں آپ کی بات سے متفق ہوں، جسٹس مری۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ ریفرینڈم ایک شفاف طریقہ ہے یہ فیصلہ کرنے کا کہ لوگوں کا ایک گروہ دوسرے لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔ ایک منصف ریفرینڈم کا نتیجہ وہ اخلاقی فتح ہے جس کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور میرا خیال ہے کہ بلوچستان کے سلسلے میں بھی ہمیں ایسے ہی ایک ریفرینڈم پہ کام کرنا ہوگا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;مگر یہ ریفرینڈم کون کرائے گا؟ بلوچ قوم پرست ایسے کسی ریفرینڈم کو نہیں مانیں گے جو پاکستانی فوج یا پاکستانی حکومت کے زیر اثر کرایا جائے۔&#8221; جسٹس گل جان نے اپنی رائے پیش کی۔ </p>
<p>اور اس ملاقات کے بعد تین ملاقاتیں اور ہوئیں اور پھر ایک امن معاہدے کے خد و خال واضح ہوتے گئے۔ بلوچستان کے لوگوں کو یہ حق رائے دہی دینا کہ آیا وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں جسٹس ملک فارمولا کہلایا جانے لگا۔ مختصر الفاظ میں جسٹس ملک فارمولا یہ تھا کہ پاکستانی فوج بلوچستان چھوڑ دے اور صوبے کا انتظام اقوام متحدہ کی فوج کے حوالے کیا جائے جو یہ ریفرینڈم کروائے کہ آیا بلوچستان کے لوگ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں۔ اس حمت عملی کو کاغذ پہ لکھنے اور اس کی جزئیات پہ اچھی طرح غور کرنے کے بعد ان تینوں جج حضرات نے میڈیا کے ذریعے جسٹس ملک فارمولے کو لوگوں تک پہنچانا شروع کیا۔ اب ہر طرف جسٹس ملک فارمولے کا چرچا ہو گیا۔ مختلف ٹی وی اسٹیشن تینوں جج حضرات کو حالات حاضرہ کے پروگراموں میں باقاعدگی سے بلانے لگے۔ </p>
<p>اور ایسا ہی ایک موقع تھا جب جسٹس ملک ایک ٹی وی پروگرام میں دوسرے شرکا سے بحث میں مشغول تھے کہ آئی ایس آئی کے ایک دفتر میں گفتگو ہو رہی تھی۔</p>
<p>&#8220;اس جسٹس ملک کو آخر کیا تکلیف ہے؟ یہ کیوں اس قسم کی احمقانہ باتیں کر رہا ہے؟ ہم ان دہشت گردوں سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں جن کی مدد ہندوستان کر رہا ہے۔&#8221;</p>
<p>دوسرے شخص نے پہلے کی ہاں میں ہاں ملائی۔</p>
<p>&#8220;بات آپ کی بالکل ٹھیک ہے۔ پاکستانی فوج کو کیا ضرورت ہے بلوچستان چھوڑنے کی؟ بلوچستان مشرقی پاکستان نہیں ہے، یہ پاکستان سے جڑا ہوا ہے۔ یہ پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔&#8221;</p>
<p>پہلے شخص نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔</p>
<p>&#8220;بات یہی سمجھ میں آتی ہے کہ ہمیں اس بے وقوف جج کو راستے سے ہٹانا ہوگا۔&#8221; </p>
<p>اور اسی طرح کی ایک گفتگو بلوچستان میں ایک خفیہ مقام پہ ہو رہی تھی۔ وہاں بلوچستان کے کئی قوم پرست لیڈر جمع تھے۔</p>
<p>&#8220;ہمیں جسٹس ملک پہ اعتبار نہیں ہے۔ یہ چاہے کتنے عرصے سے یہاں رہ رہا ہو، یہ آخر کار پنجابی ہے۔&#8221; </p>
<p>ایک دوسرے شخص نے اس بات کی تائید کی۔</p>
<p>&#8220;دنیا ہماری بات سن رہی ہے۔ اور ہم اپنی مسلح جدوجہد سے پاکستانی فوج کو یہاں سے باہر نکالنے کی سکت رکھتے ہیں۔ ہمیں پاکستانی حکومت سے کسی فارمولے وغیرہ پہ سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔&#8221;</p>
<p>کمرے میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔ پھر ایک شخص نے کہا۔</p>
<p>&#8220;ہمیں اس جسٹس ملک کو راستے سے ہٹانا ہوگا۔ بلوچستان کی آزادی کی راہ میں یہ بھی ایک پتھر ہے۔&#8221; </p>
<p>اور ہفتے بھر کے اندر ہی جسٹس ملک کی زندگی کا آخری دن آن پہنچا۔ جسٹس ملک ڈرائیور کے ساتھ گھر واپس جا رہے تھے کہ اچانک سامنے سے آنے والی ایک گاڑی نے جسٹس ملک کی گاڑی کا راستہ روک لیا۔ پھر جسٹس ملک کی گاڑی پہ اندھا دھند فائرنگ شروع ہو گئی۔ یہ فائرنگ منٹ بھر جاری رہی۔ جب حملہ آوروں کو یقین ہو گیا کہ ان کی شدید فائرنگ کے بعد گاڑی میں موجود کوئی شخص زندہ نہ بچا ہوگا تو وہ اطمینان سے وہاں سے فرار ہو گئے۔  </p>
<p>تھوڑی ہی دیر میں جسٹس ملک کے قتل کی خبر آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی۔ جسٹس ملک کی لاش  کو اگلے دن تدفین تک کے لیے اسپتال کے مردہ خانے میں جمع کروانے کے بعد جب جسٹس ملک کا لڑکا عرفان اپنے گھر پہنچا تو وہاں ٹی وی اور اخبارات کے رپورٹروں کا ایک جھمگٹا لگا ہوا تھا۔</p>
<p> ایک رپورٹر نے ہمت کر کے عرفان سے پوچھ ہی لیا کہ اس کا کیا خیال تھا کہ اس کے والد کو کس نے ہلاک کیا تھا۔</p>
<p>عرفان پھٹ پڑا۔</p>
<p>&#8220;مجھے کیا پتہ کہ ابو کو کس نے مارا ہے؟ یہاں سب کی دلچسپی صرف اور صرف لوگوں کو مارنے میں ہے۔&#8221;</p>
<p>عرفان ایک لمحے کے لیے رکا اور پھر زور زور سے چیخنے لگا۔</p>
<p>&#8220;ظالموں یہ تم نے کیا کیا؟ میرے معصوم باپ کو مار دیا۔ مادر &#8212; وہ تمھارا دوست تھا۔ وہ سب کا دوست تھا۔ اس کو سب سے محبت تھی۔ یہ تم نے کیا ظلم کیا؟ وہ تم سب سے محبت کرتا تھا، مادر۔۔۔، وہ سب سے پیار کرتا تھا، بہن ۔۔۔ تم لوگ لڑتے رہو اسی طرح۔ اسی طرح ایک دوسرے کے گلے کاٹتے رہو، بہن ۔۔۔&#8221;</p>
<p>عرفان ہذیانی چیخیں مارتا ہوا صوفے پہ بیٹھ گیا تھا اور اب دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامے زار و قطار رو رہا تھا۔ عرفان کی یہ حالت دیکھ کر ٹی وی اور اخبارات کے رپورٹر رفتہ رفتہ کر کے وہاں سے روانہ ہونے لگے۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://nawaiadab.com/%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی</title>
		<link>http://nawaiadab.com/%d8%b3%d9%86%db%81%d8%b1%db%8c-%d9%b9%d9%88%d9%be%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%aa%db%8c%d9%86-%d8%a7%d8%ac%d9%86%d8%a8%db%8c/</link>
		<comments>http://nawaiadab.com/%d8%b3%d9%86%db%81%d8%b1%db%8c-%d9%b9%d9%88%d9%be%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%aa%db%8c%d9%86-%d8%a7%d8%ac%d9%86%d8%a8%db%8c/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2009 23:46:35 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[افسانے]]></category>
		<category><![CDATA[افسانے --- علی حسن سمند طور]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://nawaiadab.com/?p=1015</guid>
		<description><![CDATA[سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی علی حسن سمندطور کل ایک عجیب واقعہ ہوا۔ میں اپنے دفتر میں بیٹھا انہماک سے کام کررہا تھا کہ اچانک تین آدمی وہاں آئے۔ وہ تینوں ایک جیسی سنہرے رنگ کی ٹوپیاں لگائے ہوئے تھے۔ وہ ایسی ٹوپیاں تھیں جو لوگ عموماً بچوں کی سالگرہ پہ پہنتے ہیں، اس ہئیت [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی </p>
<p>علی حسن سمندطور  </p>
<p>کل ایک عجیب واقعہ ہوا۔ میں اپنے دفتر میں بیٹھا انہماک سے کام کررہا تھا کہ اچانک تین آدمی وہاں آئے۔ وہ تینوں ایک جیسی سنہرے رنگ کی ٹوپیاں لگائے ہوئے تھے۔ وہ ایسی ٹوپیاں تھیں جو لوگ عموماً بچوں کی سالگرہ پہ پہنتے ہیں، اس ہئیت کی کہ جیسے آپ نے ایک لمبی کون کو الٹا کر کے پہن لیا ہو۔ پہلی نظر میں مجھے یہ بات کچھ عجیب معلوم دی کہ وہ تینوں، نسبتا بڑی عمر کے آدمی، اس طرح کی بچکانہ ٹوپیاں پہنے ہوئے تھے۔ مگر میں نے ان کی طرف غور سے دیکھا تو وہ تینوں بالکل سنجیدہ تھے۔ ان کے چہروں پہ مسکراہٹ کا کوئی نشان نہیں تھا۔ الٹا ان کی بھنویں سکڑی ہوئی تھیں۔ میں نے ان تینوں کی طرف استفسار کی نظر سے دیکھا۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ وہ میرے دفتر میں کیوں آئے تھے۔ وہ تینوں ایک صف میں کھڑے تھے اور مجھے بہت غور سے دیکھ رہے تھے۔ پھر دونوں سروں پہ کھڑے آدمیوں نے میکانیکی انداز میں اپنی گردنیں گھما کر بیچ والے شخص کی طرف دیکھنا شروع کیا۔ یہ ان دونوں کا اشارہ تھا کہ بیچ والا شخص اپنی بات شروع کر سکتا تھا۔</p>
<p>&#8220;کیا تم آنند بھاٹیا کو جانتے ہو؟&#8221; بیچ میں کھڑے شخص نے پرسکون لہجے میں مجھ سے پوچھا۔ </p>
<p>ٹھیک اسی وقت میرے فون کی گھنٹی بج گئی۔ فون میرے دائیں ہاتھ پہ رکھا تھا۔ میں نے تینوں ملاقاتیوں سے معذرت کا جملہ کہتے ہوئے اپنی کرسی کو گھمایا اور فون کا سامنا کرتے ہوئے فون اٹھا لیا۔ وہ ایک اہم کاروباری سلسلے کا فون تھا۔ مگر فون کی اہمیت کے باوجود میں دوسری طرف کی بات سنتے ہوئے ذہن پہ زور ڈال رہا تھا کہ آخر میں نے آنند بھاٹیا کا نام کہاں سنا ہے۔ اور میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا تھا کہ نہ صرف یہ کہ میں نے آنند بھاٹیا کا نام سنا ہے بلکہ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پہ میں آنند بھاٹیا کو اچھی طرح جانتا رہا ہوں۔ </p>
<p>فون پہ گفتگو کے دوران کسی موقع پہ دوسری طرف سے مجھ سے ایک سوال کیا گیا اور مجھے کچھ سوچ کر اس سوال کا جواب دینا پڑا مگر اس مختصر فکری انحراف کے بعد میرا ذہن پھر سے آنند بھاٹیا کو یاد کرنے کی طرف متوجہ ہو گیا۔ میں نے اپنے ذہن پہ بہت زور دیا مگر آنند بھاٹیا کا چہرہ کسی طرح میری یاد داشت کے کسی کونے سے نکل کر سامنے نہ آیا۔ اس کے باوجود اچھی بات یہ ہوئی کہ ذہن پہ اس قدر زور دینے کے بعد آنند بھاٹیا کی زندگی کے بہت سے گوشے سوالات بن کر میرے ذہن میں ابھرنا شروع ہوئے۔ </p>
<p>میں سوچنے لگا کہ کیا آنند بھاٹیا ایک عام آدمی تھا؟ دنیا کے کارخانے کے ایک چھوٹے سے گوشے میں سر جھکا کر کام کرنے والا عام آدمی؟ اپنے بزرگ ماضی اور متوقع بے کراں مستقبل سے مکمل طور پہ کنارہ کش ایک عام آدمی؟ اپنی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں میں جوجھنے والا عام آدمی؟ ایک ایسا عام آدمی جس کی زندگی کا آج اس کے کل سے صرف اس طرح مختلف ہوتا ہے کہ اس کے کلینڈر پہ ایک نئی تاریخ چڑھ جاتی ہے؟ کہ آنند بھاٹیا صرف اس لیے دنیا میں آیا تھا کہ وہ دنیا کی شماریات کا ایک حصہ بن سکے؟ کہ اس کا نام آنند بھاٹیا نہ ہوتا تو محمد اسلم ہوتا، یا راج سنگھ، یا جان اسمتھ؟ کہ آنند بھاٹیا جیسے لوگوں کی تلاش تو ہر مذہبی رہنما، ہر سیاسی نیتا کو ہوتی ہے۔ ایسے لوگ جو مندر، مسجد، گرجا، اور سیاسی جلسے بھرا کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جو ایک دن کسی بم دھماکے، کسی بڑے حادثے، کسی جنگ میں مر جاتے ہیں، اور اخبار میں صرف یہ خبر ہوتی ہے کہ بم دھماکے، یا حادثے، یا جنگی معرکے میں اتنے افراد ہلاک ہو گئے۔ کم ہی لوگ یہ زحمت کرتے ہیں کہ ایک ساتھ اتنے سارے مرنے والوں میں سے ہر ایک کے بارے میں الگ الگ جستجو کریں۔ کہ وہ مرنے والوں کے ڈھیر میں سے ہر آنند بھاٹیا کو الگ الگ نکالیں اور ہر موت پہ الگ الگ آنسو بہائیں۔ </p>
<p>میں فون پہ دوسری طرف کی باتیں سن کر ہوں ہوں کرتا رہا اور ساتھ یہ سوچتا رہا کہ آیا آنند بھاٹیا کو زندگی میں کبھی اتنی فرصت ملی کہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں سوچ سکے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آنند بھاٹیا نے واقعی کبھی سوچنا شروع کیا ہو اور اس کو یہ بات سمجھ میں آگئی ہو کہ زندگی محض اتفاقات کے ایک طویل مجموعے کا نام ہے۔ اور شاید یہ جان کر آنند بھاٹیا اپنے وجود پہ حیران ہوا ہو اور پھر زندگی میں آنے والے ہر اتفاق کی حقیقت کو پہچاننے لگا ہو۔ اور پھر اس کے اندر اس حیرت کا شعور مستقل موجود رہتا ہو۔ اور پھر کبھی کبھار یہ شعور اتفاقات کی آندھی سے بلند ہو کر دنیا کے گورکھ دھندے میں منطق تلاش کرتا ہو۔ اور شاید ذہنی ہیجان کے کسی ایسے ہی بہائو میں آنند بھاٹیا کو کسی موقع پہ یہ خوف آیا ہو کہ وہ اپنے وجود میں کس قدر تنہا ہے، کہ اگر کبھی وہ خود اپنا آپ نہ رہا مگر اسے یہ شعور رہا کہ وہ پہلے کیا تھا تو اسے اپنے آپ سے بچھڑ جانے کا کس قدر افسوس ہوگا۔ </p>
<p>اور یہ بھی ممکن ہے کہ عمر کے سینتیس سال گزارنے پہ آنند بھاٹیا نے خوشی منائی ہو کہ وہ طوالت العمری میں وینسینٹ فین غوغ کو شکست دے گیا تھا۔ یہ جشن منایا ہو کہ وہ اپنے آپ سے بچ گیا تھا۔ کیونکہ اس بات کا بھی تو امکان تھا کہ خوف اور مایوسی کے کسی لمحے میں وہ اپنے آپ کو گولی مار لیتا۔ </p>
<p>جب آنند بھاٹیا سے متعلق میری سوچ اس مقام تک پہنچی تو مجھے دفعتا اچھی طرح یاد آگیا کہ میں آنند بھاٹیا کو کیسے جانتا ہوں۔ میں فون پہ ہونے والی کاروباری گفتگو کو کاٹ کر سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبیوں کو یہ بتانے کے لیے پلٹا کہ میں ہی آنند بھاٹیا ہوں مگر اس وقت تک وہ تینوں وہاں سے روانہ ہو چکے تھے۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://nawaiadab.com/%d8%b3%d9%86%db%81%d8%b1%db%8c-%d9%b9%d9%88%d9%be%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%aa%db%8c%d9%86-%d8%a7%d8%ac%d9%86%d8%a8%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>طالبان</title>
		<link>http://nawaiadab.com/%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d9%86/</link>
		<comments>http://nawaiadab.com/%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d9%86/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2009 20:37:04 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[افسانے]]></category>
		<category><![CDATA[افسانے --- علی حسن سمند طور]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://nawaiadab.com/?p=859</guid>
		<description><![CDATA[طالبان علی حسن سمندطور یوں تو دفتر میں یہ خبر کئی ہفتوں سے گردش میں تھی کہ کامران سمیت سینکڑوں لوگوں کی نوکریاں خطرے میں ہیں مگر جس روز کامران کو برخاستگی کا پروانہ ملا اس دن کامران کو بہت زمانے بعد ایک گہرا صدمہ ہوا۔ اسے یوں لگا کہ جیسے وہ اس دنیا کی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>طالبان </p>
<p>علی حسن سمندطور </p>
<p>یوں تو دفتر میں یہ خبر کئی ہفتوں سے گردش میں تھی کہ کامران سمیت سینکڑوں لوگوں کی نوکریاں خطرے میں ہیں مگر جس روز کامران کو برخاستگی کا پروانہ ملا اس دن کامران کو بہت زمانے بعد ایک گہرا صدمہ ہوا۔ اسے یوں لگا کہ جیسے وہ اس دنیا کی سب سے ناکارہ شے ہو۔ برطرفی کا نوٹس ہاتھ میں پکڑانے کے ساتھ اسے محافظوں کی نگرانی میں عمارت کے باہر پہنچا دیا گیا۔ کامران کو اچھی طرح پتہ تھا کہ یہ احتیاط اس لیے کی جاتی ہے کیونکہ ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں جس میں برخاست کیے جانے والے ملازم نے اپنے کمپیوٹر کے ذریعے پوری کمپنی میں وائرس دوڑا دیا یا کسی اور طور سے اپنے اوپر کی جانے والی زیادتی کا انتقام لیا۔ یہ علم رکھنے کے باوجود کامران نے یوں عمارت سے بے دخل کیے جانے پہ اپنی ہزیمت محسوس کی۔</p>
<p>کامران کے اگلے دو دن اس تذبذب میں گزرے کہ وہ کیا کرے۔ کامران نے سوچا کہ نوکری لگی رہے تو کس قدر آسان ہوتا ہے زندگی کی دوڑ میں جتے رہنا۔ روز کا ایک معمول بنا ہوتا ہے اور انسان ان خرافات سے کہ زندگی کا کیا مقصد ہے، ہم کہاں سے آئے ہیں، کہاں جا رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے۔</p>
<p>کامران سوچتا رہا کہ ساٹھ سال کی اس عمر میں نوکری چھٹنے پہ کیا کیا جائے۔ گھر ادا شدہ تھا۔ بچے کالج میں تھے۔ اور اس خانگی فراغت کے ساتھ کامران کی نوکری یوں اچھے طور پہ چھٹی تھی کہ برخاسگتی کے پروانے کے ساتھ اسے ایک موٹا تازہ چیک پکڑایا گیا تھا۔ اب واحد مسئلہ یہ تھا کہ وقت کیسے کاٹا جائے۔ اور وقت کاٹنے کے لیے گھر سے باہر کی مصروفیت ضروری تھی کیونکہ نوکری چھٹنے کے تیسرے روز شازیہ بیگم نے کامران کو صاف صاف بتا دیا تھا کہ انہیں شازیہ کے کاموں میں کامران کی دخل اندازی بالکل زہر لگتی تھی اور اگر کامران نے کوئی کام تلاش نہ کیا تو شازیہ گھر سنبھالنے کی ذمہ داری کامران کو دے کر خود کوئی نوکری کر لیں گی۔</p>
<p>کامران کے دوستوں نے مشورہ دیا کہ کامران کوئی کاروبار کرلے۔ کسی دوسرے کے کاروبار میں ملازم لگنے سے زیادہ اچھا ہے کہ انسان خود کاروبار کرے اور دوسروں کو ملازم رکھے۔ بات کامران کے دل کو لگی مگر پھر سوال یہ پیدا ہوا کہ کس قسم کا کاروبار کیا جائے۔  </p>
<p>بہت سوچنے پہ کامران کو یہ بات سمجھ میں آئی کہ وہ ایسا کاروبار کرنا چاہتا تھا جس میں لوگوں سے خوب ملنا جلنا ہو۔ ساتھ کھانا پینا بھی ہو تو اور بھی اچھا ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ پرچون کی دکان کھولی جائے یا ریستوراں۔ پھر رفتہ رفتہ کامران کا ذہن بنتا گیا کہ وہ ایک ریستوراں کھولے گا۔ </p>
<p>جب کامران نے ریستوراں کھولنے کی خواہش دوستوں کے سامنے ظاہر کی تو ہر شخص نے اپنی رائے بڑھ چڑھ کر بیان کی۔ ۔ کسی نے کہا، ریستوراں نہ کھولنا، بہت نقصان کا سودا ہے، پچھتائو گے، جمع جوڑی ساری رقم ہاتھ سے نکل جائے گی۔ کسی اور نے سمجھایا، ہاں ریستوراں ضرور کھولو۔ مگر کوئی نئی چیز سامنے لائو گے تو ریستوراں بہت چلے گا۔</p>
<p>غرض کہ جتنے منہہ اتنی باتیں۔ </p>
<p>پھر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ کامران کی ملاقات شفیق سے ہو گئی۔ شفیق کی ساری عمر ریستوراں کے کاروبار میں گزری تھی۔ وہ ابھی بھی ایک ریستوراں کا مینیجر تھا  اور ایک عرصے سے خود اپنا ریستوراں کھولنے کی خواہش دل میں رکھتا  تھا۔ مگر شفیق کے پاس اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جیب میں رقم نہ تھی۔ کامران کی ملاقات شفیق سے یوں ہوئی کہ جیسے پھکڑ تجربہ، غیر تجربہ کار سرمائے سے مل جائے۔ اب کامران اور شفیق باقاعدگی سے ملنے لگے۔ وہ دیر تک ریستوراں کھولنے کی جزئیات پہ غور کرتے۔ اور پھر رفتہ رفتہ ان کی گفتگو میں ریستوراں کے خد و خال واضح ہونا شروع ہو گئے۔  ریستوراں میں کس قسم کے کھانے ہوں گے؟ ریستوراں میں دیسی صحت بخش کھانے ہوں گے۔ کیا دیسی صحت بخش کھانے کی ترکیب اندرونی تضاد رکھتی ہے؟ نہیں، دیسی کھانا صحت بخش ہوسکتا ہے اگر کم چکنائی سے تیار کیا جائے۔  کیا ریستوراں تینوں وقت کھانے کے لیے کھلے گا؟ نہیں ریستوراں صرف ظہرانے اور عشائیے کے لیے کھلے گا اور اوقات کار محدود ہوں گے۔ باورچی کا انتظام کیسے کیا جائے گا؟ شفیق کئی باورچیوں کو جانتا ہے وہ انتظام کر لے گا۔ ریستوراں میں کتنے ملازم ہوں گے؟ ابتدا میں باورچی کے علاوہ دو اور ملازم ہوں گے۔ ساتھ کامران اور شفیق بھی لگے رہیں گے۔ شروع شروع میں کامران شفیق کے ساتھ ساتھ ہوگا لیکن ساری باتیں سمجھ جانے پہ ایک وقت کے کھانے پہ کامران مینیجری کرے گا اور دوسرے وقت شفیق۔</p>
<p>یہاں تک تو ساری باتیں افہام و تفہیم سے طے پا گئیں۔  مگر ریستوراں کے نام کا سوال اٹھا تو کسی نام پہ اتفاق نہ ہو پایا۔</p>
<p>گھسے پٹے ناموں یعنی تاج محل، پیکاک، مینار، دریا سے لے کر چونکا دینے والے نام مثلا لالو کھیت، املی، ملاقات وغیرہ پہ خوب بحث ہوئی مگر کسی ایک پہ کامران اور شفیق متفق نہ ہو پائے۔</p>
<p>پھر ایک ایسے روز جب گلابی جاڑوں کے دن بارش ہونے کے ساتھ سخت سردی میں تبدیل ہو رہے تھے اور باہر کی ٹھنڈک سے کھڑکیوں پہ بھاپ جم چکی تھی کامران کو یہ بات سمجھ میں آئی کہ اگر ریستوراں کا چونکا دینے والا نام ایسا ہو جو در نوک زباں ہو تو عوام الناس میں اس کی قبولیت آسان ہو گی۔ تو پھر ریستوراں کا نام طالبان کیسا رہے گا۔ صحت مند دیسی کھانوں کا شاندار مرکز، طالبان ریستوراں، مائونٹین ویو۔</p>
<p>پہلے تو کامران کو ریستوراں کے اس نام پہ بہت ہنسی آئی مگر پھر اس نام کے فائدے سوچ سوچ کر یہ ارادہ اس کے ذہن میں پختہ ہونا شروع ہو گیا کہ ریستوراں کا نام طالبان ہی ہونا چاہیے۔ اس نے جھٹ شفیق کو فون ملا دیا۔ شفیق نے اس تجویز کو ایک مذاق کے طور پہ لیا۔ مگر کامران بالکل سنجیدہ تھا۔ کامران نے شفیق کو ایک دن کا موقع دیا کہ وہ اس تجویز پہ سنجیدگی سے غور کرے۔ یا تو شفیق اس ٹکر کا دوسرا نام لائے ورنہ ہار مان جائے اور طالبان ریستوراں کو خدمت کا موقع دے۔  </p>
<p>یہ نام شفیق کو تو بالکل نہ بھایا تھا مگر جب شفیق نے اس کا تذکرہ اپنی بیوی سے کیا تو بیگم صاحبہ نے نام کو بہت پسند کیا۔ اور یوں جولائی ۴ کے روز مائونٹین ویو کی ایک سڑک پہ طالبان ریستوراں کھل گیا۔ نام اچھوتا تھا اس لیے ذرا سی دیر میں ریستوراں کا چرچا ہو گیا۔ لوگ تجسس میں وہاں آتے اور پھر احمد شاہ نامی باورچی کے کمال کھانے کھا کر ریستوراں کے باقاعدہ گاہک بن جاتے۔ مگر ہر نیا آنے والا شخص کامران اور شفیق سے یہ سوال ضرور کرتا کہ انہوں نے اپنے ریستوراں کے لیے یہ نام کیوں چنا تھا۔ </p>
<p>اور صرف ریستوراں کا نام ہی اچھوتا نہ تھا بلکہ  یہاں کھانے بھی عجیب و غریب ناموں والے تھے۔ اسامہ قورمہ، ملا عمر نہاری، الزواہری پلائو، تورا بورا لیمونیڈ، وغیرہ وغیرہ۔  نان کی دو قسمیں تھیں، امر بالمعروف سادہ نان اور نہی عن المنکر روغنی۔ طالبان ریستورں میں اس قسم کی آوازیں سنائی دیتیں کہ ایک اسامہ، دو پلیٹیں زواہری، دو امربالمعروف اور دو نہی عن المنکر، اور تورا بورا کے دو گلاس مگر برف کم۔ </p>
<p>پھر جب شہر کے سب سے بڑے اخبار میں طالبان ریستوراں پہ تبصرہ چھپا تو ریستوراں کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ اب دیسیوں کے علاوہ بڑی تعداد میں گورے، کالے، اور چینی بھی نظر آنے لگے۔ اب جو سوال پوچھے جاتے وہ اور بھی تیکھے ہوتے۔</p>
<p>کیا تم لوگ طالبان سے کسی قسم کی ہمدردی رکھتے ہو؟</p>
<p>ورلڈ ٹریڈ سینٹر پہ حملے کے متعلق تمھارا کیا خیال ہے؟</p>
<p>کیا تمھیں معلوم ہے کہ اسامہ بن لادن کہاں چھپا ہوا ہے؟</p>
<p>کامران اور شفیق وضاحتیں کرتے نہ تھکتے کہ انہوں نے ریستوراں کا نام یونہی روز کی خبروں سے متعلق ہو کر رکھ لیا تھا۔ نہ انہیں طالبان میں کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی سیاست میں۔</p>
<p>مگر کامران اور شفیق کی وضاحتیں دیر تک کارگر نہ رہیں اور ایک دن کامران کو اپنی گاڑی پہ وائپر کے نیچے ایک رقعہ ملا جس پہ انگریزی جلی حروف میں لکھا تھا کہ &#8216;امریکہ میں طالبان ک ٹھکانہ بند کرو، ورنہ۔۔۔۔۔&#8217;</p>
<p>کامران رقعہ لے کر پولیس اسٹیشن پہنچ گیا۔ پولیس نے کاغذ کا بطور معائنہ کیا مگر کسی نتیجے پہ نہ پہنچ پائی۔ دو دن کے بعد پولیس کا ایک افسر ریستوراں پہنچ گیا۔</p>
<p>اس افسر نے پوری سنجیدگی سے شفیق سے پوچھا کہ آخر کس عقلمند نے ان حالات میں انہیں ریستوراں کا یہ نام رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔</p>
<p>یہ تو ایسا ہے کہ جیسے دوسری جنگ عظیم کے دوران کوئی شخص نیویارک میں ناٹزی نامی ایک ریستوراں کھول لیتا۔</p>
<p>شفیق کے پاس افسر کی اس بات کا کوئی مدلل جواب نہ تھا۔ واحد جواب ریستوراں کے بہی کھاتوں میں تھا کہ ریستوراں خوب چل رہا تھا اور شاید اپنے نام کی وجہ ہی سے اس قدر نفع بخش تھا۔</p>
<p>کامران نے دھمکی کے اس نوٹ کو کئی گنا بڑا کیا اور ایک فریم میں جڑ کر اسے ریستوراں کی ایک دیوار پہ لگا دیا۔</p>
<p>طالبان ریستوراں کے روز کے گاہک اس دھمکی بردار رقعے کو دیکھ کر اور بھی محظوظ ہوئے۔ انہوں نے کامران اور شفیق سے ہمدردی کا اظہار کیا اور اپنی پوری معاونت کا یقین دلایا۔</p>
<p>بات آئی گئی ہو گئی۔ طالبان ریستوراں کا کاروبار بڑھتا رہا۔ شفیق اور کامران نے برابر والی دکان بھی کرائے پر لے لی اور ریستوراں کا رقبہ دگنا کر دیا۔ اب ملازمین کی تعداد بھی تین سے بڑھ کر دس ہو چکی تھی۔</p>
<p>ریستوراں کی منفعت کے ساتھ چندہ جمع کرنے والے بھی شفیق اور کامران کے گرد منڈلانے لگے۔ یہ دونوں بھی دریا دلی سے کام لیتے اور خیر کے کسی کام میں ہاتھ پیچھے نہ رکھتے تھے۔</p>
<p>پھر ایک روز پاکستان سے فون آیا کہ کامران کے والد کو دل کا دورہ پڑا تھا اور ڈاکٹروں نے ہدایت کی تھی کہ وہ بائی پاس جراحی کرالیں۔ اس روز ریستوراں بند کرنے کے بعد کامران اور شفیق دیر تک باتیں کرتے رہے۔ کامران مہینے بھر کے لیے پاکستان جانا چاہتا تھا۔ شفیق نے اسے یقین دلایا کہ کامران کی غیر موجودگی میں وہ ایک مینیجر کی مدد سے ریستوراں کا انتظام سنبھال سکتا تھا۔ وہ دونوں تمام کاروباری معاملات سوچ سمجھ کر کرنے کے عادی تھے چنانچہ وہ دیر تک اس نئے انتظام سے متعلق بحث کرتے رہے۔ غرض کہ کاروباری معاملات نمٹاتے کامران کو ہفتہ بھر لگا۔ پھر وہ پاکستان روانہ ہو گیا۔</p>
<p>پاکستان میں کامران کے والد کی جراحی تو کامیاب ہو گئی مگر جراحی کے بعد وہ ہوش میں نہ آ پائے اور کوما میں چلے گئے۔ انہیں مصنوعی معاون نظام پہ رکھ دیا گیا۔ اور اسی بھاگ دوڑ میں کامران کی چھٹیوں کا پورا مہینہ گزر گیا۔ ڈاکٹر ہر روز کامران کو یہی دلاسہ دیتے کہ وہ امید رکھے اور اللہ کی رحمت کا انتظار کرے۔  کامران نے شفیق کو فون کیا اور بتایا کہ وہ بتائے گئے وقت پہ واپس نہ آ پائے گا۔ کامران نے کہا کہ وہ مزید ایک ماہ کی مہلت چاہتا تھا۔ شفیق کے پاس آمادگی ظاہر کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔</p>
<p>ہفتہ بھر اور گزرا اور کامران کے والد کو ہوش نہ آیا تو رشتہ دار اور احباب مایوس ہونے لگے۔ وہ چہ مہ گوئیاں کرتے کہ آیا اب مصنوعی معاون نظام کو ہٹا دینے کا وقت آ گیا تھا۔ فیصلہ کامران کو کرنا تھا۔ اور کامران کے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل کام تھا۔ یہ فیصلہ کہ وہ اپنے والد کو آہستگی سے موت کے منہ میں جانے دے۔ کہ جب کامران بچہ تھا تو وہ شخص کامران کی زندگی میں سب سے طاقتور آدمی تھا جو کامران کی انگلی پکڑ کر چلتا تو کامران کو تحفظ کا احساس ہوتا۔ پھر سال گزرتے گئے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس آدمی کے جسم سے اس کی طاقت نکلتی گئی یوں جیسے کسی غبارے سے ہوا نکلتی جائے۔ اور اب یہ وقت تھا کہ ماضی کا وہ طاقتور شخص بستر پہ لاچار پڑا تھا اور ایک مصنوعی معاون نظام کے سہارے زندہ تھا۔ اور اب یہ فیصلہ کامران کو کرنا تھا کہ آیا اب یہ امید چھٹ چکی ہے کہ وہ شخص پھر سے زندگی کے واضح دائرے میں آ سکے گا، اور اس وجہ سے اس کا مصنوعی معاون نظام ہٹا کر اسے موت کے آغوش میں جانے دیا جائے؟ کامران کی رات کی نیندیں اڑ گئیں۔ اتفاق سے اسپتال میں کامران کو عبدالحمید نامی ایک ڈاکٹر ملا جو اس طرح کے کئی فیصلے دیکھ چکا تھا۔ ڈاکٹر عبدالحمید نے کامران کو سمجھایا کہ فیصلہ مشکل ہے مگر کامران انسان کی طبعی زندگی کی معیاد پہ غور کرے اور پھر اپنے والد کی عمر پہ۔ اگر کسی طرح سے کامران کے والد ہوش میں آ بھی گئے تو اس بات کا کتنا امکان تھا کہ وہ اپنے ہاتھوں پائوں پہ کھڑے ہو پائیں گے۔ اور پھر ایک ایسے دن جب اسپتال کے باہر کی فضا جمعے کے اذانوں سے بھری ہوئی تھی کامران کے والد کا مصنوعی معاون نظام ہٹا دیا گیا۔ انہوں بے ہوشی کی حالت میں سانس کھینچنے کی آخری کوشش کی اور پھر ان کی سانس اکھڑ گئی۔</p>
<p>سوئم کے اگلے روز کامران واپس امریکہ روانہ ہو گیا۔ </p>
<p>جہاز میں کامران کا وقت سوتے جاگتے گزرا۔  سان فرانسسکو پہنچنے پہ امیگریشن کے کائونٹر پہ موجود افسر نے کسی قدر بے دلی سے کامران سے پوچھا کہ وہ امریکہ سے باہر کہاں گیا تھا۔</p>
<p>پاکستان، کامران نے جواب دیا۔</p>
<p>اب افسر کی دلچسپی کامران میں بڑھ گئی تھی۔</p>
<p>تم کتنا عرصہ پاکستان میں رہے، افسر نے کامران کے پاسپورٹ کے صفحات الٹتے ہوئے اس سے پوچھا۔</p>
<p>دو ماہ، کامران نے مختصر جواب دیا۔ </p>
<p>افسر نے کامران کے پاسپورٹ میں آمد کی مہر لگائی اور پھر اس سے کہا کہ وہ آگے بائیں طرف ایک کمرے میں اپنا اندراج کروائے۔ کامران کسی قدر تذبذب میں تفتیش کے کمرے میں پہنچ گیا۔</p>
<p>وہاں نئے سرے سے  کامران سے پوچھ گچھ شروع ہوئی اور جب تفتیش کرنے والے افسر کو معلوم ہوا کہ کامران پشاور میں دو ماہ گزار کر آیا تھا تو تفتیش کا دائرہ کار اور بھی بڑھ گیا۔ </p>
<p>دو گھنٹے تک کامران سے مستقل پوچھ گچھ ہوتی رہی۔</p>
<p>کامران نے تعلیم کہاں سے حاصل کی تھی؟ وہ امریکہ کب آیا تھا؟ کہاں کہاں رہا تھا؟ کامران نے کہاں کہاں ملازمت کی تھی؟ وہ پاکستان کس باقاعدگی سے جاتا رہا تھا؟ اپنے حالیہ سفر میں وہ پاکستان کے کن شہروں میں گیا تھا؟ وہ وہاں کس کس سے ملا تھا؟  </p>
<p>دو گھنٹے کی تفتیش کے بعد ایک وقفہ آیا۔ کامران کو پانی پینے کی مہلت دی گئی۔ مگر پھر تفتیش کا اگلا مرحلہ فورا ہی شروع ہو گیا۔</p>
<p>اب کی بار تفتیش کرنے والے دو افسر اپنے ہاتھ میں کئی کاغذات لیے کھڑے تھے اور ان کاغذات کو دیکھ کر کامران سے سوالات کر رہے تھے۔</p>
<p>تم صالح کو کیسے جانتے ہو؟</p>
<p>کون صالح؟</p>
<p>یاد کرو کہ کیا تم کسی صالح کو جانتے ہو؟ تفتیش کرنے والے افسر نے کسی قدر طنز سے کہا اور ایک لمحے کے وقفے کے بعد ٹہر ٹہر کر پوچھے جانے والے شخص کا پورا نام لیا۔ صالح العمودی۔</p>
<p>اچھا صالح العمودی۔ کامران کو یاد آگیا۔ یہ تو بڑی پرانی بات ہے۔ وہ دو سال پہلے مجھے مسجد میں ملا تھا۔ اس سے میری بات چیت رہتی تھی۔ مگر اس سوال کا کیا مطلب ہے کہ میں صالح العمودی کو کیسے جانتا ہوں؟ کوئی کسی سے کیسے ملتا ہے؟ لوگ ایک دوسرے سے دوستی کیسے کرتے ہیں؟</p>
<p>زیادہ باتیں نہ بنائو۔ تمھیں اچھی طرح پتہ ہے کہ صالح العمودی امریکہ سے جانے کے بعد یمن میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ افسر نے کامران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔</p>
<p>تم لوگ کس قسم کی باتیں کر رہے ہو؟ مجھے کیا معلوم کہ صالح العمودی امریکہ سے جانے کے بعد کیا کرتا رہا ہے؟ اور میں تمھاری بات کا کیسے اعتبار کروں کہ صالح یہاں سے جانے کے بعد دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔</p>
<p>افسر کامران کی آنکھوں میں جھانک کر اس کے ذہن کو ٹٹولنے کی کوشش کرتا رہا۔</p>
<p>پھر جب ایک دوسرے افسر نے اپنی کرسی کامران کی کرسی کی طرف بڑھائی تو پہلا افسر پیچھے ہٹ گیا۔</p>
<p>کامران، دوسرے افسر نے کامران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، تم پچھلے کئی سالوں سے ایسی تنظیموں کو چندے دے رہے ہو جو بین الاقوامی دہشت گردی کی کاروائیوں میں شریک ہیں۔</p>
<p>یہ قطعی بے بنیاد الزام ہے، کامران نے کسی قدر غصے سے کہا، میں نے کبھی کسی ایسے ادارے کو چندہ نہیں دیا جو دہشت گردی کی کاروائیوں میں شریک رہا ہو۔</p>
<p>ٹہرو، میں تمھیں بتاتا ہوں، افسر نے اطمینان سے کہا اور میز سے کاغذات کا ایک پلندہ اٹھا لیا۔ کاغذات پلٹتے ہوئے وہ ایک کاغذ پہ ٹہر گیا۔ پھر اس نے کامران کو گنانا شروع کیا۔</p>
<p>تنظیم اسلامی۔ ایک ہزار ڈالر۔</p>
<p>اسلامک ایسوسی ایشن فار پیلیسٹائن۔ پانچ سو ڈالر۔</p>
<p>اقدار اسلام فائونڈیشن۔ ایک ہزار ڈالر۔</p>
<p>نشاہ ثانیہ فائونڈیشن۔ پانچ سو ڈالر۔</p>
<p>ہولی لینڈ فائونڈیشن۔ دو ہزار ڈالر۔</p>
<p>یہاں پہنچ کر افسر ٹہر گیا اور اس نے سر اٹھا کر کامران کی طرف اس کے رد عمل کے لیے دیکھا۔</p>
<p>ان میں سے کوئی گروہ دہشت گردی میں شریک نہیں ہے۔ کامران نے جواب دیا۔ یہ ساری تنظمیں بے گھر لوگوں کی فلاح کے لیے، بچوں کی تعلیم کے لیے کام کر رہی ہیں۔</p>
<p>کامران، تم مستقل اپنے آپ سے جھوٹ بولنے کی کوشش کرتے ہو۔ تمھیں اچھی طرح پتہ ہے کہ ان تنظیموں کے رابطے دہشت گردوں سے ہیں اور ان میں سے اکثر کو حکومت کی طرف سے کالعدم قراد دیا جا چکا ہے۔</p>
<p>کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ </p>
<p>اچھا یہ بتائو کہ تمھارے ریستوراں کے مستقل گاہک کون لوگ ہیں؟  پہلے افسر نے کامران سے پوچھا۔</p>
<p>کامران چڑ گیا۔</p>
<p>یہ کس قسم کا سوال ہے؟ میں حساب نہیں رکھتا کہ کون لوگ باقاعدگی سے ریستوراں میں آ رہے ہیں۔ ریستوراں کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ جس کا دل کرے وہ آ جائے۔</p>
<p>دوسرے افسر نے اپنی بھنویں سکیڑتے ہوئے کامران سے کہا۔</p>
<p>کامران، تم اتنے بھولے بننے کی کوشش نہ کرو۔ تمھارے ریستوراں میں ایسے کئی لوگ کھانا کھاتے ہیں جو ہماری نظروں میں مشکوک ہیں۔ بیرون ملک ان لوگوں کے رابطے دہشت گرد تنظیموں سے ہیں۔</p>
<p>کامران نے اس حماقت کی بات کا جواب دینا مناسب خیال نہیں کیا۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور غیر یقینی میں اپنا سر ہلانے لگا۔ </p>
<p>کچھ دیر کی خاموشی کے بعد سوالات کا سلسلہ پھر شروع ہوا۔</p>
<p>تم ہر سال دس ہزار ڈالر پاکستان بھیجتے ہو اور پچھلے سال جون میں تم نے پچیس ہزار ڈالر پاکستان بھیجے۔ آخر کیوں؟ کامران سے پوچھا گیا۔</p>
<p>اگر تمھیں اتنا کچھ پتہ ہے تو پھر تمھیں یہ بھی پتہ ہوگا کہ میں یہ رقم اپنے والدین کو بھجواتا ہوں، کامران نے جھنجھلاہٹ سے کہا۔</p>
<p>تم جھوٹ بول رہے ہو۔ یہ رقوم جس بینک اکائونٹ میں منتقل کی جاتی رہی ہیں وہ اکائونٹ غیر قانونی دھندوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ </p>
<p>کامران غصے میں کھڑا ہو گیا۔ تم لوگ جھوٹ بول رہے ہو۔ تم لوگوں نے مجھے یہاں غیر قانونی طور پہ رکھا ہوا ہے۔ آخر پچھلے چار گھنٹوں سے تم یہ تفتیش کس بنیاد پہ کر رہے ہو؟ تم لوگ مجھ سے کس بات کا اعتراف کروانا چاہتے ہو؟ یہ اعتراف کہ میں دہشت گرد ہوں، یہ اعتراف کہ میں ہر سال جو رقم پاکستان بھجواتا ہوں اس رقم سے دہشت گردی کے کیمپوں میں نوجوانوں کو تربیت دی جاتی ہے؟ تو کان کھول کر سن لو کہ ایسا ہی ہے۔ ہاں میں دہشت گرد ہوں۔ ہاں میرا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا دہشت گردوں کے ساتھ ہے۔ ہاں میں رقم دہشت گرد تنظیموں کو بھجواتا رہا ہوں۔ </p>
<p>اگلے دن اخبارات کامران کی گرفتاری کی خبر سے بھرے ہوئے تھے۔ ٹی وی پہ بھی مستقل یہ خبر آ رہی تھی۔ ایف بی آئی نے طالبان کا سلیپر سیل مائونٹین ویو میں دریافت کر لیا تھا۔ لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے یہ لوگ طالبان نامی ریستوراں کے سائے میں کام کر رہے تھے۔ کامران اسلامی دہشت گرد تنظیموں کو رقوم بھجواتا رہا تھا۔ وہ ماضی میں ایسے لوگوں سے ملتا رہا تھا جن کا تعلق مشکوک اسلامی گروہوں سے تھا۔ ساتھ کامران کا یہ اعتراف قوسین میں درج تھا کہ ہاں وہ واقعی دہشت گرد تھا۔ اور اس اعتراف کی ویڈیو ٹی وی پہ بھی بار بار دکھائی جارہی تھی۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://nawaiadab.com/%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ختم</title>
		<link>http://nawaiadab.com/%d8%ae%d8%aa%d9%85/</link>
		<comments>http://nawaiadab.com/%d8%ae%d8%aa%d9%85/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2009 21:15:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[افسانے]]></category>
		<category><![CDATA[افسانے --- علی حسن سمند طور]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://nawaiadab.com/?p=857</guid>
		<description><![CDATA[ختم علی حسن سمندطور وہ جمعے کا روز تھا جب اچانک خبر آئی کہ حیرت انگیز طور پہ دنیا بھر میں موجود تیل کے تمام کنووں میں اچانک کوئی خرابی ہو گئی ہے اور کسی کنویں سے تیل کا ایک قطرہ بھی نہیں نکل پا رہا۔ وہ تیل کہ جس سے دنیا کا کاروبار چل [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ختم </p>
<p>علی حسن سمندطور </p>
<p>وہ جمعے کا روز تھا جب اچانک خبر آئی کہ حیرت انگیز طور پہ دنیا بھر میں موجود تیل کے تمام کنووں میں اچانک کوئی خرابی ہو گئی ہے اور کسی کنویں سے تیل کا ایک قطرہ بھی نہیں نکل پا رہا۔ وہ تیل کہ جس سے دنیا کا کاروبار چل رہا تھا، لاکھوں سال پہلے گزر جانے والے جانوروں اور درختوں سے بننے والا تیل، بس اچانک ہی بند ہو گیا تھا۔ تعجب کی بات یہ تھی کہ تیل نکالنے کے عمل میں یہ خرابی دنیا بھر میں بیک وقت واقع ہوئی تھی۔ سعودی عرب میں، کویت میں، ایران میں، وینزویلا میں، سائبیریا میں، اور دیگر مقامات پہ جہاں جہاں تیل کے کنویں تھے وہاں ہر طرح کے جتن کیے گئے کہ تیل نکالنے کا عمل پھر شروع ہو سکے مگر کامیابی نہ ہوئی۔ ہر جگہ ایک جیسی ترکیبیں استعمال کی گئیں۔ پمپ بدلے گئے، پائپ کو صاف کرنے کا کام ہوا مگر ہر تدبیر ناکام رہی اور تیل نکالنے کا کام دوبارہ شروع نہ ہو پایا۔ یہ خبر جب ذرائع ابلاغ کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچی تو کھلبلی مچ گئی۔ کیا تیل کے ہر کنویں میں تیل موجود تھا، اور بس نکل نہیں پا رہا تھا یا تیل کے ذخائر کے متعلق اندازے بالکل غلط ثابت ہوئے تھے اور سارے کنویں اچانک خشک ہو گئے تھے؟  لوگوں میں بلا کی بے چینی تھی۔ عوام الناس کے اضطراب کو رفع کرنے کے لیے سربراہان ممالک نے بیانات جاری کرنے شروع کیے۔ شروعات روس کے صدر نے کی۔ انہوں نے ٹیلی وڎن سے نشر کیے جانے والے ایک خطاب میں روسیوں کو یقین دلایا کہ تیل نکالنے کے عمل میں واقع ہونے والا خلل محض وقتی تھا۔ کہ تیل کے کنووں پہ کام کرنے والے تمام انجینئیر اور تکنیکی عملہ رات دن کام میں مصروف تھے۔اور یہ کہ امید تھی کہ پیر تک یہ مسئلہ حل ہو جائے گا اور کاروبار دنیا کی رگوں میں ایک بار پھر تیل دوڑنا شروع ہو جائے گا۔ پھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی اسی نوعیت کا بیان دیا۔ مختلف ممالک کے سربراہان نے بھی اپنے اپنے ملک کی رعایا کو یقین دلایا کہ تیل کے کنووں میں ابھی بہت تیل باقی تھا اور خرابی تیل کشی کے عمل میں تھی۔ کہ مصیبت عارضی تھی اور مسئلہ پیر تک حل ہو جائے گا۔</p>
<p>اس بحران کا فوری اثر تو یہ ہوا کہ تیل کے دام اچانک چڑھ گئے۔ پیٹرول بہت مہنگا ہو گیا۔ جن لوگوں کے پاس تیل موجود تھا، گاڑیوں کی ٹنکیوں میں یا دوسرے طریقوں سے، وہ پیر کا انتظار کرنے لگے۔ انہوں نے خود کو اطمینان دلایا کہ پریشانی کی کوئی بات نہ تھی۔ کہ وہ لوگ بے وقوف تھے جو مہنگے داموں تیل خرید رہے تھے۔ پیر تک گتھی سلجھی تو تیل کی قیمتیں بھی خود بخود نیچے آ جائیں گی۔ </p>
<p>سنیچر گزرا، اتوار گزرا، اور پھر پیر کا روز آگیا۔ مگر وہ خوش خبری نہ آئی کہ جس کا سب کو انتظار تھا۔ یہ خبر آئی کہ بہت کوشش کے باوجود کسی بھی جگہ تیل نکالنے کے عمل میں خرابی رفع نہ کی جاسکی تھی۔ اب تو لوگوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ تیل کی قیمت ہوش ربا ہو گئی۔ امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ ان ممالک میں جہاں قانون کی حکمرانی کمزور تھی چھینا جھپٹی شروع ہوگئی۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے ریفائنریوں پہ دھاوا بول دیا۔ دنیا کی معیشت ذرا سی دیر میں بیٹھ گئی۔ اشیائے خورد و نوش سمیت ہر چیز کے دام آسمان چھونے لگے۔ کرنسی نوٹ قریبا بے معنی ہو گئے۔ لوگ اپنی اپنی ضرورت کے حساب سے آپس میں چیزوں کا تبادلہ کرنے لگے۔ </p>
<p>آپ یقینا یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں آپ کے سامنے یہ تاریخ کیوں دہرا رہا ہوں، کہ آخر آپ نے بھی تو یہ تمام حالات دیکھے ہیں۔ تو بات یہ ہے کہ گو تیل کے اچانک اختتام سے متعلق ہر شخص کی کہانی بالکل جدا اور بے حد دلچسپ ہے، میں دنیا کے ان چند لوگوں میں شامل ہوں جنہوں نے تیل سے اڑنے والے ہوائی جہاز کی آخری آخری سواری کی ہے۔ اس بات کو نیل گائے کے ناپید ہونے کے عمل سے واضح کرنا چاہوں گا۔ جب نیل گائے ہمارے علاقے میں ناپید ہوئی تو ایک مقامی شخص تھا جس نے آخری بار نیل گائے کا گوشت کھایا تھا۔ بس اسی طرح ہمارے علاقے میں مجھے یہ امتیاز حاصل ہے کہ میں ان آخری لوگوں میں شامل ہوں جنہوں نے ناپید ہونے والے تیل سے اڑنے والے ہوائی جہاز کی سواری کی تھی۔ </p>
<p>جس روز یہ خبر آئی کہ دنیا بھر کے تیل کے کنووں سے تیل نکلنا اچانک بند ہو گیا تھا اس روز میں سان فرانسسکو ميں ٹیکسی چلا رہا تھا۔ نہ جانے کیسے مجھے یہ احساس ہوا کہ معاملہ کچھ سنگین ہے اور آسانی سے حل نہ ہو پائے گا۔ اپنی چھٹی حس سے پانے والے اشارے کو قبول کرتے ہوئے میں نے  ایک جاننے والے ٹریول ایجنٹ کو فون ملا دیا۔</p>
<p>&#8220;سلیم بھائی، مجھے فوری طور پہ پاکستان جانا ہے؟ مجھے جلد از جلد کب کا ٹکٹ مل سکتا ہے؟&#8221; میں نے فون کر کے پوچھا۔ سوہنی دھرتی ٹریول ایجنسی کے مالک سلیم بھائی سے میری پرانی جان پہچان تھی۔ </p>
<p>سلیم نے میری آواز میں موجود گھبراہٹ کو بھانپتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔</p>
<p>&#8220;کیوں شہزادے، سب خیر تو ہے؟ پاکستان میں سب لوگ خیریت سے ہیں نا؟&#8221;</p>
<p>سلیم کا یہ سوال بہت مناسب تھا کیونکہ مجھ جیسے نوکری پیشہ لوگ پاکستان اچانک اسی وقت بھاگتے ہیں جب ان کا کوئی چاہنے والا یا تو قریب المرگ ہوتا ہے یا اچانک گزر گیا ہوتا ہے۔</p>
<p>میں نے سلیم بھائی کو یقین دلایا کہ پاکستان میں سب خیریت ہے۔</p>
<p>تو پھر میں اچانک پاکستان کیوں جانا چاہتا تھا۔ سلیم بھائی نے مجھ سے پوچھا۔</p>
<p>اس نوعیت کا سوال ایک ٹریول ایجنٹ کے منہ سے کچھ اچھا نہیں لگتا۔ ٹریول ایجنٹ کو تو بس ٹکٹ بیچنے سے مطلب ہونا چاہیے۔ لوگ جتنی جلدی جلدی ادھر ادھر جائیں اتنا ہی ٹریول ایجنسی کے لیے اچھا ہے۔ مگر سلیم بھائی سے دیرینہ شناسائی کی وجہ سے ان کو مجھ سے اس قسم کا سوال پوچھنے کا حق تھا۔ </p>
<p>&#8220;میں فوری طور پہ پاکستان اس لیےجانا چاہتا ہوں کیونکہ میں یہاں اٹک نہیں جانا چاہتا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اس بات کا کیا مطلب ہے، شہزادے؟&#8221; سلیم بھائی نے بہت اطمینان سے پوچھا۔</p>
<p>&#8220;اس بات کا یہ مطلب ہے کہ مجھے فورا پاکستان پہنچا دو اس سے پہلے کہ جو جہاں ہے وہیں جم کر رہ جائے۔&#8221; میں نے بھی اطمینان سے جواب دیا۔</p>
<p>&#8220;یار، تم کن پہیلیوں میں باتیں کر رہے ہو؟ صاف صاف بتائو کیا کہنا چاہتے ہو۔&#8221; اب سلیم جھنجھلا گیا تھا۔</p>
<p>میں نے سلیم بھائی کو یقین دلایا کہ اگر وہ مجھے فوری طور پہ پاکستان کا ایک ٹکٹ دلا دیں تو میں ان کے دفتر آ کر انہیں پوری بات سمجھا دوں گا۔</p>
<p>اور یوں مجھے اتوار کی رات سان فرانسسکو سے روانہ ہونے کا ٹکٹ مل گیا۔ ہونے والی بکنگ کے حساب سے میں منگل کی صبح کراچی پہنچ رہا تھا۔ میں نے بہت دم لگایا کہ مجھے ایسی پرواز مل جائے کہ میں پیر کے روز ہی کراچی پہنچ جائوں مگر سلیم بھائی یہ کرشمہ نہ دکھا پائے۔ وہی &#8220;تمام فلائٹیں بالکل بک چل رہی ہیں&#8221; والی بات سننے کو ملی۔</p>
<p>جس وقت میں سان فرانسسکو سے دبئی کے لیے روانہ ہوا اس وقت تک یہی خبر تھی کہ دنیا بھر کے تیل نکالنے والے ادارے پیر کی صبح لوگوں کو خوش خبری دیں گے، اور &#8220;پیر کی صبح&#8221; کا وہ وقت ابھی کہیں نہ آیا تھا۔ </p>
<p>جب جہاز دبئی میں اترا تو میں نے سکھ کا سانس لیا۔ مجھے اطمینان ہوا کہ اب اگر تیل کا آخری قطرہ بھی ختم ہو گیا اور دنیا بھر میں بچ جانے والے تیل کے ذخائر پہ ہر جگہ کی فوج نے قبضہ بھی کر لیا اور اس صورتحال میں شہری ہوا بازی اچانک ختم بھی ہو گئی تو میں کسی نہ کسی طرح دبئی سے کراچی پہنچ سکتا تھا۔ ہوائی جہازوں کی مکمل چھٹی ہوجانے کی صورت میں یا تو کوئی بادبانی کشتی مجھے دبئی سے کراچی پہنچا دے گی یا پھر میں خلیج فارس سے عراق اور پھر ایران سے گدھے یا گھوڑے پہ سواری کرتا ہوا واپس کراچی پہنچ جائوں گا۔  </p>
<p>اپنی کہانی یہاں تک لکھنے کے بعد مجھے پورا یقین ہے کہ آپ بقیہ بات کو آگے تک مکمل کر سکتے ہیں۔ کہ کس طرح تیل کے بچ جانے والے ذخائر &#8220;دفاعی ضروریات&#8221; کی مد میں استعمال کرنے کے فیصلے دنیا بھر میں کیے گئے تھے۔ کس طرح ہوائی جہاز، بسوں، اور ٹرینوں کی آمد ورفت میں خلل واقع ہوا تھا۔ میری دبئی سے کراچی والی پرواز منسوخ ہو گئی تھی۔ دبئی کے ہوائے اڈے پہ دو دن گزارنے کے بعد مجھے اسلام آباد کی ایک پرواز میں چڑھایا گیا۔ پھر میں اسلام آباد سے کراچی سائیکل سے پہنچا تھا۔ اور میں نے اس پوری مدت میں انسانی درندگی اور ایثار کے ایسے ایسے نمونے دیکھے کہ جنہیں لکھنے کے لیے بہت وقت چاہیے۔ میں کراچی پہنچا تو وہاں افراتفری کا عالم تھا۔ مجھے اندازہ  ہوا کہ شہروں میں خوراک عنقا ہونے والی تھی۔ اور اسی لیے میں اپنے ماں باپ اور دو چھوٹی بہنوں کے ساتھ کراچی سے باہر نکل گیا۔ ہمارے پاس دو سائیکلیں تھیں۔ میں نے کچھ اور سامان کا انتظام کر لیا تھا کہ اپنے لیے ایک چھوٹی سی پون چکی بنا سکوں۔ ہم لوگ اپنے دور پرے کے ایک ایسے رشتہ دار کے پاس پہنچ گئے جن کے پاس پانچ ایکڑ کا ایک فارم تھا۔ اسی جگہ ہم نے اپنا کھانا اگا کر، اپنے لیے پانی صاف کر کے، تھوڑی بہت بجلی بنا کر اپنا گزارا کیا ہے۔ اور اب اس بات کو سال بھر ہونے کو آیا ہے۔ اب جا کر دنیا توانائی کے اس اچانک بحران سے باہر نکل رہی ہے۔ متبادل توانائی ذرائع پہ تیزی سے کام ہوا ہے۔ مواصلات کا نظام پوری طرح بحال ہو گیا ہے، جہاز بھی اڑنا شروع ہو گئے ہیں، لوگوں کو کھانا بھی مل رہا ہے، مگر ہر شے گراں ہے اور سب سے خوش حال شخص وہ خیال کیا جاتا ہے جو خوراک اور توانائی کی اپنی ضروریات خود پوری کر سکے۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://nawaiadab.com/%d8%ae%d8%aa%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>فرار</title>
		<link>http://nawaiadab.com/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b1/</link>
		<comments>http://nawaiadab.com/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b1/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 09 Oct 2009 21:41:16 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[افسانے]]></category>
		<category><![CDATA[افسانے --- علی حسن سمند طور]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://nawaiadab.com/?p=785</guid>
		<description><![CDATA[فرار علی حسن سمندطور &#8220;عید میں صرف دو ہفتے رہ گئے ہیں اور تم نے اب تک بچوں کو کپڑے، جوتے نہیں دلائے،&#8221; عزیز بیگ کی بیوی نے چلا کر عزیز سے کہا۔ عزیز اس وقت گھر سے باہر نکل رہا تھا۔ اس نے اپنی بیوی کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ عزیز کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>فرار </p>
<p>علی حسن سمندطور </p>
<p>&#8220;عید میں صرف دو ہفتے رہ گئے ہیں اور تم نے اب تک بچوں کو کپڑے، جوتے نہیں دلائے،&#8221; عزیز بیگ کی بیوی نے چلا کر عزیز سے کہا۔ عزیز اس وقت گھر سے باہر نکل رہا تھا۔ اس نے اپنی بیوی کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ عزیز کے پاس اس سوال کا کوئی جواب تھا بھی تو نہیں۔</p>
<p>سڑک پہ موجود گندے پانی کے ایک چھوٹے سے جوہڑ کو ایک جست میں پار کرتے ہوئے عزیز نے سوچا کہ اس کی زندگی اس قدر کٹھن کیوں ہو گئی تھی۔ اسے ہر وقت پیسوں کی اس قدر تنگی کیوں رہتی تھی؟ گھر پہ اس کا بیشتر وقت اپنی بیوی سے تو تو میں میں میں کیوں گزرتا تھا؟</p>
<p>بس کے پورے سفر میں بھی عزیز کا دماغ اسی طرف چلتا رہا۔ اپنے اسٹاپ پہ اتر کر وہ تیز قدموں سے چلتا ہوا اس شوروم تک پہنچا جہاں وہ ری کنڈیشنڈ اور پرانی گاڑیوں کا سیلزمین تھا۔ دفتر میں بیٹھ کر اس نے ایک پیالی چائے پی اور پھر باہر نکل آیا۔ وہاں ایک گاڑی کا بمپر بدلا جا رہا تھا۔ اس نے کام میں مصروف کاریگروں کو چند ہدایات دیں اور آگے بڑھ گیا۔ ایک گاڑی جو بندرگاہ سے کچھ ہی پہلے آئی تھی روغن اور مٹی میں اٹی کھڑی تھی۔ عزیز نے ایک آدمی کو روانہ کیا کہ وہ اس گاڑی کو دھلوا لائے۔ اسی طرح کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں دن گزرتا گیا۔ مگر مصروفیت کے باوجود تمام دن یہ سوال وقفے وقفے سے عزیز کے ذہن میں دوڑتا رہا کہ وہ اپنی مشکل زندگی کو سہل کیسے بنا سکتا تھا۔ سردست تو بچوں کے عید کے کپڑوں کا مسئلہ تھا مگر عزیز کو اچھی طرح معلوم تھا کہ جب عزیز یہ مسئلہ حل کرچکے گا تو کوئی دوسرا مسئلہ اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو جائے گا۔</p>
<p>سارے دن تنگ کرتی ان سوچوں کے درمیان عزیز نے دو گاہکوں سے معاملہ بھی کیا۔ ان میں سے ایک تو محض وقت گزاری کر رہا تھا جب کہ دوسرے کے متعلق عزیز کا خیال تھا کہ اگر عزیز گاڑی کی تمام تعریفیں کرنے کے بعد دیانت عیاں چہرے سے گاہک کو گاڑی کی مناسب قیمت بتا دے تو وہ گاہک پلٹ کر آئے گا اور گاڑی خرید لے گا۔</p>
<p>&#8220;دیکھیں جناب، ہمارا یہ شوروم آج یہاں نہیں کھلا ہے۔ یہ پچھلے پندرہ سالوں سے یہاں قائم ہے اور آئندہ بھی ہمیں یہیں کام کرنا ہے۔ ہم آپ کو غلط گاڑی بیچ کر اپنی ساکھ مجروح نہیں کریں گے،&#8221; عزیز نے پراعتماد لہجے میں گاہک کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ عزیز سے چند اور سوالات کرنے بعد وہ گاہک یہ کہہ کر روانہ ہو گیا کہ وہ بازار میں قیمتوں کا جائزہ لینے کے بعد واپس عزیز کے پاس آئے گا۔</p>
<p>اگلے گاہک کے انتظار میں اسٹول پہ بیٹھے ہوئے، ایک ملازم لڑکے کو گاڑی چمکاتے دیکھتے، عزیز نے سوچا کہ اگر اس نے ایک گاڑی اس روز بیچ بھی دی تو اسے اس فروخت کا کمیشن فورا نہیں ملے گا۔ مگر گاڑی بکنے کی صورت میں عزیز کو مالک سے ادھار ضرور مل سکتا تھا۔ ادھار سے کیا ہوگا؟ بچوں کے جوتے، کپڑے کے مسائل حل ہو جائیں گے، پھر آگے دیکھنا ہوگا۔ کچھ دن گزریں گے تو معلوم ہوگا کہ پانی نہیں آرہا ہے۔ پھر پانی کا ٹینکر ڈلوانے کے لیے درخواست دینی ہوگی۔ پھر کسی روز بجلی کا لمبا چوڑا بل آجائے گا۔ بجلی کا بل صحیح کروانے کے لیے عزیز کو مختلف دفاتر کے چکر کاٹنے ہوں گے۔ پھر جب اس نے یہ مسئلہ حل کر لیا تو گھر والے بیمار پڑ جائیں گے۔ عزیز نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنی زندگی کو آگے کئی سالوں تک دیکھا اور ان تمام سالوں میں اس کو اپنی زندگی مسائل سے گھری ہوئی ہی نظر آئی۔</p>
<p>پھر اسی وقت چار لوگ وہاں آگئے۔ ان چاروں میں صرف ایک خریدار تھا، باقی تین اس کے مشیر تھے۔ عزیز ان چاروں کو مختلف گاڑیاں دکھانے لگا۔ </p>
<p>دوپہر کے کھانے کے دوران بھی عزیز اپنی پریشانیوں کے بارے میں سوچتا رہا۔ انہیں سوچوں میں اسے ایک خیال یہ آیا کہ مسائل سے نمٹنے کا نام ہی تو زندگی ہے۔ عزیز کافی دیر تک اپنے آپ کو اس خیال سے بہلاتا رہا۔ پھر ایک اور خیال یہ آیا کہ مسائل حل کرتے زندگی گزارنا اس وقت اچھا ہے جب ایسا کرنے میں مزا آرہا ہو۔ پھر عزیز کی نگاہ سامنے ٹیلی فون کے تار پہ بیٹھے کوے پہ پڑی جو کچھ دیر پہلے وہاں آکر بیٹھا تھا اور ہوا سے ہلتے ہوئے تار پہ توازن قائم رکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ ہاں یہ ہے، اصل زندگی؛ بس تھوڑی بہت خوراک کی تلاش، باقی وقت اپنی مادہ سے پیار و محبت۔ عزیز کا دل چاہا کہ وہ دیکھتے دیکھتے ایک کوا بن جائے اور اڑ کر ٹیلی فون کے تار پہ جا بیٹھے۔ کھانا کھانے کے دوران آنے والے اس عجیب و غریب خیال سے عزیز کے چہرے پہ ایک خفیف مسکراہٹ آگئی۔</p>
<p>دوپہر نسبتا سستی سے گزری۔ اس دوران ایک اور خیال نے عزیز کے دماغ میں سر ابھارا۔ اگر عزیز اس وقت کسی بس کے نیچے آکر مر جائے تو کیا ہو؟ کیا دنیا ختم ہو جائے گی؟ کیا اس کی بیوی بچے بھوکے مر جائیں گے؟ نہیں، ایسا تو کچھ نہ ہوگا۔ نہ دنیا کی رفتار میں کمی آئے گی اور نہ ہی اس کی بیوی بچے بھوکے مریں گے۔ تو پھر کیوں نہ وہ مرجائے، اور تمام پریشانیوں سے نجات حاصل کر لے؟ عزیز نے خودکشی کی کئی رائج تراکیب پہ غور کیا۔ چھت کے پنکھے سے رسی لٹکا کر اپنے آپ کو پھانسی دینا اسے خودکشی کی ایک معقول ترکیب معلوم دی۔</p>
<p>اگلے تین دن عزیز اپنی خودکشی کی جزئیات پہ غور کرتا رہا۔ خودکشی کے لیے سب سے موزوں وقت کونسا رہے گا؟ جب اس کی پھانسی لگی لاش اس کی بیوی بچوں کو ملے گی تو ان کے کیا احساسات ہوں گے؟ انہیں عزیز کو بھلانے میں کتنے دن لگیں گے؟ کیا وہ خودکشی کے لیے رسی خرید کر لائے یا کسی چادر سے کام چلا لے؟</p>
<p>پھر چوتھے دن عزیز کے دماغ میں ایک نئی سوچ سمائی۔ سچ مچ مرنا آخر کیوں ضروری ہے؟ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ صرف فکری طور پہ مر جائے۔ وہ اپنے آپ کو سمجھا سکتا ہے کہ عزیز بیگ نامی شخص مر چکا ہے اور وہ ایک دوسرا آدمی ہے جو رحم کھا کر مرحوم عزیز بیگ کے بیوی بچوں کی کفالت کر رہا ہے۔ یہ خیال عزیز بیگ کو بہت بھایا۔ اس نے اپنا نیا نام بھی سوچ لیا، نسیم شاہ۔</p>
<p>&#8220;ہاں نسیم شاہ بالکل مناسب نام رہے گا۔ نسیم شاہ عزیز بیگ سے بالکل جدا نظر آتا ہے۔&#8221; عزیز نے سوچا۔ اس خیال سے اسے تقویت ملی۔ اب وہ عزیز بیگ کی پریشانیوں والی زندگی سے نکل کر نسیم شاہ کی احسان و مہربانی والی زندگی میں داخل ہو چکا تھا۔ نسیم شاہ اب جو کچھ عزیز بیگ کے بیوی بچوں کے لیے کر رہا تھا وہ اس پہ فرض نہ تھا بلکہ نسیم شاہ کا احسان تھا، ایک بیوہ اور چند یتیموں پہ۔</p>
<p>اس اچھوتے خیال کے ساتھ اب نسیم شاہ ایک نسبتا بہتر زندگی گزار رہا تھا۔ قباحت یہ تھی کہ اس کو نسیم شاہ کہنے والا اس کے علاوہ کوئی دوسرا نہ تھا۔ سب اسے عزیز بیگ کے نام ہی سے پکارتے تھے۔ ان دنوں اسے یوں لگتا کہ جیسے رسہ کشی کا ایک مقابلہ ہو رہا ہو جس میں اس کے آس پاس کے تمام لوگ اسے اس کے پرانے نام سے پکار کر اسے عزیز بیگ کی پریشانیوں والی زندگی میں گھسیٹنا چاہتے ہوں، جب کہ وہ تن تنہا اپنے آپ کو کھینچ کر نسیم شاہ کی آسودہ زندگی میں لے جانا چاہتا ہو۔ رسہ کشی کے اس مقابلے میں اس نے جیتنے کی یہ ترکیب نکالی کہ ہر دفعہ جب کوئی اسے عزیز بیگ کے نام سے بلاتا تو وہ زیر لب اپنے آپ کو نسیم شاہ پکارتا۔ اور یوں رسی کے دونوں طرف زور برابر رہتا۔ مگر یہ سلسلہ زیادہ عرصے نہ چل پایا۔ سب لوگوں نے مل کر زور لگایا اور نسیم شاہ گھسٹتا گھسٹتا ایک بار پھر عزیز بیگ کی زندگی میں داخل ہو گیا۔ عزیز بیگ کی زندگی میں سب کچھ پرانے وقتوں جیسا تھا۔ پھر وہی صبح و شام کی مصیبتیں، وہی چک چک، وہی جھگڑے۔</p>
<p>ایک صبح جب عزیز کام کے لیے روانہ ہو رہا تھا تو اس کی بیوی نے اسے سختی سے تاکید کی کہ وہ وقت نکال کر آوارہ کتوں کی بہتات کی شکایت کرنے بلدیہ کے دفتر ضرور جائے۔ محلے کے آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے بچوں کا گھر سے باہر کھیلنا مشکل ہو گیا تھا۔ وہ کتے ہر دوسرے روز محلے کے کسی نہ کسی بچے کو کاٹ لیتے تھے۔ عزیز بیگ کی بیوی نے یہ فرمائش بھی کہ عزیز دفتر سے واپسی پہ کہیں سے ڈھونڈ کر کلونجی ضرور لائے۔ نہ جانے کیا ہوا تھا کہ آس پاس کی کسی بھی دکان میں کلونجی دستیاب نہ تھی۔</p>
<p>شوروم کے قریب بس سے اتر کر سڑک پار کرتے ہوئے عزیز نے آسمان میں موجود طیارے کی گڑگڑاہٹ سنی۔ وہ جہاز آسمان میں اتنا بلند تھا کہ نظر نہیں آرہا تھا۔ عزیز نے جہاز میں بیٹھے لوگوں کے بارے میں سوچا۔ کیا جہاز میں سوار لوگ اتنی بلندی سے ان تمام لوگوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو یہاں نیچے موجود ہیں اور اپنی اپنی پریشان زندگیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں؟ دور سے اوروں کی پریشانیوں کا نظر آنا یقینا مشکل ہوتا ہوگا۔</p>
<p>وہ مہینے کی پہلی تاریخ تھی۔ عزیز کو تنخواہ ملنے کی خوشی تھی۔ پچھلے مہینے اس نے دوگاڑیاں بیچی تھیں۔  تنخواہ کے ساتھ اسے ان دو گاڑیوں کا کمیشن بھی ملنا تھا۔ ٹھیک بارہ بجے عزیز کو سات ہزار تین سو چالیس روپے کا ایک چیک پکڑایا گیا۔ بلدیہ سے آوارہ کتوں کی بہتات کی شکایت کا کام عزیز نے اگلے روز پہ ٹالا اور چیک کو بھنوانے کے لیے تیزی سے بینک کی طرف بھاگا۔ چیک بھنوانے کے بعد عزیز کو اپنی پھولی ہوئی جیب کے ساتھ  دوپہر کا کھانا کھانا بہت اچھا لگا۔ مگر کھانے کے بعد شوروم میں کئی طوفان آئے۔ پہلے بندرگاہ سے ایک گاڑی آئی جس کے دونوں اگلے دروازوں میں ڈینٹ پڑے تھے۔ وہ نقص دو دن کے اندر ہر حال میں نکلوانا تھا کیونکہ ایک گاہک سے وعدہ تھا کہ اسے گاڑی فورا پہنچائی جائے گی۔ پھر پچھلے ماہ بکنے والی ایک گاڑی واپس آگئی تھی۔ اس گاڑی کے اے سے نے اچانک کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اے سی بنوانا تو کوئی بڑا کام نہ تھا مگر مسئلہ یہ تھا کہ اے سی کا کاریگر دو دن سے بیمار پڑا تھا اور کام پہ نہیں آرہا تھا۔ اب عزیز کو یہ گاڑی لے کر کسی دوسرے اے سی والے کے پاس جانا تھا اور گاڑی کی مرمت کروا کر شام سے پہلے واپس لانا تھا۔ عزیز اے سی کے کئی کاریگروں کے پاس گیا مگر وہ سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھے اور ہاتھ کے کام کو چھوڑ کر اس گاڑی پہ کام کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان میں سے ایک نے یہ احسان کیا کہ عزیز سے وعدہ کیا کہ اگر عزیز وہ گاڑی صبح ہی صبح اس کے پاس لے آئے تو وہ اے سی بنا دے گا۔ عزیز گاڑی کو واپس شو روم لے گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ملک کو صورتحال سمجھائی۔ اب شام ہو چلی تھی۔ مالک نے دو چار موٹی موٹی گالیاں بیمار اے سی کاریگر کو دیں اور پھر عزیز سے بالکل سویرے آنے کا وعدہ لیا۔ </p>
<p>عزیز گھر جانے کے لیے نکلا تو اسے کلونجی کا خیال آیا۔ وہ کلونجی کی تلاش میں نکلا۔ کافی دور پیدل چلنے کے بعد اسے ایک دکان سے کلونجی مل گئی۔ دکان دار نے کلونجی کی نایابی کا رونا رویا اور ایک سو پچیس گرام کلونجی ایک اخبار کے پھٹے ہوئے ٹکڑے میں لپیٹ کر عزیز کو پکڑا دی۔ عزیز کلونجی لینے کے بعد سوای کی تلاش میں نکلا۔ اس دوران وہ آنے والے کل کی مصروفیت کے بارے میں سوچتا رہا۔ جیب میں سات ہزار سے زائد رقم کے ساتھ عزیز نے بس میں سفر کرنا مناسب خیال نہ کیا۔ وہ کچھ ہی دور پیدل چلا تھا کہ اسے ایک رکشہ نظر آیا۔ رکشے والا ایک کھمبے کی روشنی میں رکشے کی مرمت کر رہا تھا۔</p>
<p>&#8220;رنچھوڑ لائن جائو گے؟&#8221; عزیز نے رکشے والے سے پوچھا۔</p>
<p>&#8220;ہاں، یہ پلگ صاف ہو جائے،&#8221; رکشے والے نے ایک نظر عزیز کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ عزیز رکشے میں بیٹھ گیا  اور بے مقصد کلونجی کی پڑیا والے اخبار کو پڑھنے لگا۔ اخبار کے اس ٹکڑے پہ ریلوے کا جدول چھپا ہوا تھا۔ اس ٹائم ٹیبل کے حساب سے خیبر میل کو کینٹ اسٹیشن سے ساڑھے آٹھ بجے روانہ ہونا تھا۔ اس وقت آٹھ بجے تھے۔ عزیز نے ایک بار پھر آنے والے کل کی مصروفیت کے بارے میں سوچا اور اس سے اگلے دن کی مصروفیت کے بارے میں، اور اس سے بھی الگے دن کی مصروفیت کے بارے میں۔ اتنی دیر میں رکشے والا پلگ صاف کر چکا تھا۔ اس نے ڈنڈا اٹھا کر رکشہ اسٹارٹ کیا۔ رکشہ اسٹارٹ ہونے پہ رکشے والے نے انجن کو ریس دے کر رواں کیا۔ رکشے کا سفید دھواں رکشے کے پیچھے پھیلتا چلا گیا۔ رکشے والے نے اپنی نشست انجن پہ گرانے سے پہلے عزیز بیگ کی طرف دیکھ کر سوال کیا۔</p>
<p>&#8220;رنچھوڑ لائن؟&#8221;</p>
<p>&#8220;نہیں، اب رنچھوڑ لائن نہیں جانا ہے۔ کینٹ اسٹیشن لے چلو، اور فورا۔&#8221; عزیز نے جواب دیا۔</p>
<p>رکشے والے نے کسی قدر تعجب سے عزیز کو دیکھا اور پھر رکشہ کینٹ اسٹیشن کی طرف دوڑنا شروع ہو گیا۔</p>
<p>اپریل ۱۹۹۷ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://nawaiadab.com/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
