مضمون

شفیق سلیمی ۔۔۔۔۔ایک مطالعہ ۔۔۔۔نوید صادق
admin نے Monday، 11 April 2011 کو شائع کیا.

”تمازت“ شفیق سلیمی کا پہلا اور تاحال آخری مجموعہ کلام ہے۔تمازت سے ہمارا پہلا تعارف1993ءمیں ہوا۔ اُن دنوں ہم لوگ غریب الوطنی کے پہلے تجربہ سے گزر رہے تھے۔بغرضِ تعلیم ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے۔اُن کے اشعار دل میں اترتے چلے گئے کہ حسبِ حال معلوم ہوئے۔ اور ان کا یہ شعر بے نام دیاروں […]

مکمل تحریر پڑھیے »

خدا کے دن از نوید صادق
admin نے Monday، 11 April 2011 کو شائع کیا.

پیکٹ کھلا اور شاہین عباس کا مجموعہ کلام ”خدا کے دن“ ہمارے سامنے تھا۔ یہ کیا نام ہوا؟ اس کے پیچھے کیا بات ہے؟ عام بات، عام کام۔۔۔ وہ تو خیر ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ شاہین کی فطرت میں نہیں۔ لیکن یہ نام ؟؟ میرے خدا! ”خدا کے دن“ اس نام کی تعبیر […]

مکمل تحریر پڑھیے »

وشوامتر – ناصر علی (مضمون از محمد وارث)
admin نے Monday، 11 April 2011 کو شائع کیا.

یہ مضمون کچھ دن قبل فیس بُک پر ایک ادبی گروپ میں منعقدہ جناب ناصر علی کی کتاب “اور” کی تقریبِ رونمائی کیلیے لکھا گیا تھا، یہاں بھی دوستوں کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ —— بات کو ایک وضاحت سے شروع کرنے کے سوا میرے پاس کوئی چارہ نہیں ہے اور وہ یہ کہ […]

مکمل تحریر پڑھیے »

زاہد مسعود کی غزل ۔۔۔ نوید صادق
admin نے Monday، 11 April 2011 کو شائع کیا.

ایک آشنا پر لکھنا بیک وقتِ آسان بھی ہوتا ہے اور دشوار بھی۔ آسان اس لیے کہ آپ اس کے نظریات، اس کے رہن سہن سے آگاہ ہوتے ہیں، جو چیزیں آپ کو پہلے سے معلوم ہوتی ہیں ، آپ بآسانی اس کی شاعری سے نکال کر سامنے رکھ دیتے ہیں۔دشوار اس لیے کہ بعض […]

مکمل تحریر پڑھیے »

کرتہ!!!!!1947 از رانا راشد ادریس
admin نے Sunday، 3 April 2011 کو شائع کیا.

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ابھی پاکستان بھارت آزاد نہیں ہوئے تھے۔ بلکہ شاید یہ اس سے بھی پہلے کی بات تھی۔ میرے والد صاحب ان دنوں پڑھنے کے لیئے گاوں سے دہلی شہر گئے ہوئے تھے، تب ابھی تک آزادی اور علیحدگی کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا، باتیں ہی […]

مکمل تحریر پڑھیے »

جہالت اور برَبریت از رانا راشید
admin نے Friday، 11 February 2011 کو شائع کیا.

جہالت اور برَبریت جہالت اور برَبریت میں صرف وہ لوگ شامل نہیں جنہوں نے کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا، بلکہ بہت پڑھا لکھا طبقہ بھی اس میں پوری طرح شامل ہے، صرف فرق ہے طریقہ کار کا، پڑھےلکھے لوگوں نے اس کو ایک فیشن بنا لیا ہے، ایک رسم کے طور پر جرم ، […]

مکمل تحریر پڑھیے »

علمِ عروض اور ہجّے
admin نے Monday، 28 September 2009 کو شائع کیا.

علمِ عروض اور ہجّے پچھلے دنوں اپنے بیٹے کو اردو الفاظ کے ہجّے یاد کرنے کی مشقت کرتے ہوئے دیکھ کر اپنے بھولے بسرے تیس سالہ پرانے دن یاد آ گئے جب میں اسی کی عمر کا تھا اور اسی طرح اردو ہجّوں کے ساتھ پنجابی میں ‘کُشتی’ کیا کرتا تھا، الف زیر سین اِس، […]

مکمل تحریر پڑھیے »

علمِ عروض – کچھ اصول اور شاعرانہ صوابدید
admin نے Monday، 28 September 2009 کو شائع کیا.

اس موضوع پر یہ دوسری تحریر ہے، آپ نے اگر پہلی تحریر نہیں پڑھی تو آپ سے استدعا ہے کہ اس تحریر کو بہتر سمجھنے کیلیے پہلی تحریر پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ ہجّے دو طرح کے ہوتے ہیں، ہجائے بلند یا دوحرفی ہجا اور ہجائے کوتاہ یا یک حرفی ہجا اور ان کو […]

مکمل تحریر پڑھیے »

علمِ عروض، ہجے بنانا یا وزن پورا کرنا
admin نے Monday، 28 September 2009 کو شائع کیا.

کافی غیر شاعرانہ سا عنوان اور کام ہے ‘ہجے بنانا یا وزن پورا کرنا’، لیکن یقین مانیے دنیا میں کسی شاعر کا کام اسکے بغیر نہیں چلتا، ہر شاعر اپنی مرضی کے ہجے بناتا ہے اور ان سے وزن پورا کرتا ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے کہ ہجے دو طرح کے ہوتے ہیں دو […]

مکمل تحریر پڑھیے »

علم عروض اور تلفُّظ
admin نے Monday، 28 September 2009 کو شائع کیا.

تلفظ کی غلطی کوئی بھی کرے، اچھی نہیں لگتی لیکن عموماً اُدَبا و شعراء سے لوگ توقع رکھتے ہیں کہ یہ غلطیاں نہیں کریں گے اور کسی حد تک یہ بات ٹھیک ہے، کیونکہ کوئی بھی زبان ادیبوں اور شاعروں کے ہاتھوں ہی پروان چڑھتی ہے اور وہ ہی اسکے نگبہان بھی ہوتے ہیں۔ ادیبوں […]

مکمل تحریر پڑھیے »


جملہ حقوق بحق "نوائے ادب" محفوظ ہیں.
ورڈ پریس "نوائے ادب تھیم" منجانب م بلال م