شاعری

وہ خواب دریچہ تو کسی پر نہیں کھلتا
admin نے Friday، 8 August 2014 کو شائع کیا.

وہ خواب دریچہ تو کسی پر نہیں کھلتا کھل جائے جو بالفرض تو منظر نہیں کھلتا ہر آنکھ نہیں ہوتی سزاوارِ تماشا ہر آئنے پر حسن کا جوہر نہیں کھلتا محسوس تو کرتا ہوں ترے لمس کو لیکن کیا چیز ہے اس لمس کے اندر، نہیں کھلتا کھل جاتے ہیں اَسرارِ ازل بھی مرے آگے […]

مکمل تحریر پڑھیے »

میری تنہائی میں مجھ سے گفتگو کرتا ہے کون
admin نے Tuesday، 23 October 2012 کو شائع کیا.

میری تنہائی میں مجھ سے گفتگو کرتا ہے کون تُو نہیں ہوتا تو میری جستجو کرتا ہے کون کس کا خنجر ہے جو کر دیتا ہے سینے کو دو نیم پھر پشیمانی میں زخمِ دل رفو کرتا ہے کون اِس خرابے میں بگولہ سی پھر ے ہے کس کی یاد اِس دیارِ رفتگاں میں ہاؤ ہو کرتا ہے کون […]

مکمل تحریر پڑھیے »

مرزا غالب
admin نے Wednesday، 17 October 2012 کو شائع کیا.

فکرِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا ہے پر مرغِ تخیل کی رسائی تا کجا تھا سراپا روح تُو ، بزمِ سخن پیکر ترا زیبِ محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا دید تیری آنکھ کو اُس حسن کی منظور ہے بن کے سوزِ زندگی ہر شے میں جو مستور ہے محفل […]

مکمل تحریر پڑھیے »

لوگ کہتے ہیں بہت غم خوار رہتے تھے یہاں
admin نے Tuesday، 21 June 2011 کو شائع کیا.

لوگ کہتے ہیں بہت غم خوار رہتے تھے یہاں میں یہ کہتا ہوں مرے اغیار رہتے تھے یہاں چاند سورج رات دن بارش زمیں بادل فلک اِن سے بڑھ کر بھی بہت کردار رہتے تھے یہاں اب جہاں دیکھوں نظر آتے ہیں میخانے وہاں شہر میں بس عشق کے بیمار رہتے تھے یہاں۔۔۔ کچھ تو […]

مکمل تحریر پڑھیے »

ڈوب کر غم میں ترے ہم نثار ہو جائیں۔ از صبیح الحسن
admin نے Thursday، 16 June 2011 کو شائع کیا.

ڈوب کر غم میں ترے ہم نثار ہو جائیں بھول کر تشنگی پیہم خمار ہو جائیں ہر نئی چوٹ بھی چہرے پہ ہنسی لے آئے دیں مزہ غم بھی اگر بے شمار ہو جائیں تیرے ہی در سے جڑے ربط نے قائم رکھا راندہِ در جو ہوں شاید غبار ہو جائیں چارہ گر! مجھ کو […]

مکمل تحریر پڑھیے »

کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر
admin نے Wednesday، 28 July 2010 کو شائع کیا.

مکمل تحریر پڑھیے »

ایک بزرگ دوست کے لئے
admin نے Tuesday، 13 April 2010 کو شائع کیا.

ایک بزرگ دوست کے لئے مجھے معلوم تھا میری باتیں تمھیں سن رسیدہ لگیں گی مجھ پہ اکثر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ میں کم سنی میں، بڑی عمر کی گفتگو کر رہا ہوں اور کئی لوگ تو اس کو شہرت کمانے پہ محمول کرتے رہے ہیں انہیں کیا خبر؟ میں نے ان چند […]

مکمل تحریر پڑھیے »

اندیشے مجھے نگل رہے ہیں
admin نے Tuesday، 13 April 2010 کو شائع کیا.

اندیشے مجھے نگل رہے ہیں کیوں درد ہی پھول پھل رہے ہیں دیکھو مری آنکھ بجھ رہی ہے دیکھو مرے خواب جل رہے ہیں اک آگ ہماری منتظر ہے اک آگ سے ہم نکل رہے ہیں جسموں سے نکل رہے ہیں سائے اور روشنی کو نگل رہے ہیں یہ بات بھی لکھ لے اے مورخ […]

مکمل تحریر پڑھیے »

بتائیں کیا کہ کہاں پر مکان ہوتے تھے
admin نے Tuesday، 13 April 2010 کو شائع کیا.

بتائیں کیا کہ کہاں پر مکان ہوتے تھے وہاں نہیں ہیں جہاں پر مکان ہوتے تھے سنا گیا ہے یہاں شہر بس رہا تھا کوئی کہا گیا ہے یہاں پر مکان ہوتے تھے وہ جس جگہ سے ابھی اٹھ رہا ہے گرد و غبار کبھی ہمارے وہاں پر مکان ہوتے تھے ہر ایک سمت نظر […]

مکمل تحریر پڑھیے »

دل و نگاہ پہ طاری رہے فسوں اس کا
admin نے Tuesday، 13 April 2010 کو شائع کیا.

دل و نگاہ پہ طاری رہے فسوں اس کا تمہارا ہو کے بھی ممکن ہے میں رہوں اس کا زمیں کی خاک تو کب کی اڑا چکے ہیں ہم ہماری زد میں ہے اب چرخِ نیلگوں اس کا تجھے خبر نہیں اس بات کی ابھی شاید کہ تیرا ہو تو گیا ہوں مگر میں ہوں […]

مکمل تحریر پڑھیے »


جملہ حقوق بحق "نوائے ادب" محفوظ ہیں.
ورڈ پریس "نوائے ادب تھیم" منجانب م بلال م