شاعری

لوگ کہتے ہیں بہت غم خوار رہتے تھے یہاں
admin نے Tuesday، 21 June 2011 کو شائع کیا.

لوگ کہتے ہیں بہت غم خوار رہتے تھے یہاں میں یہ کہتا ہوں مرے اغیار رہتے تھے یہاں چاند سورج رات دن بارش زمیں بادل فلک اِن سے بڑھ کر بھی بہت کردار رہتے تھے یہاں اب جہاں دیکھوں نظر آتے ہیں میخانے وہاں شہر میں بس عشق کے بیمار رہتے تھے یہاں۔۔۔ کچھ تو [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

ڈوب کر غم میں ترے ہم نثار ہو جائیں۔ از صبیح الحسن
admin نے Thursday، 16 June 2011 کو شائع کیا.

ڈوب کر غم میں ترے ہم نثار ہو جائیں بھول کر تشنگی پیہم خمار ہو جائیں ہر نئی چوٹ بھی چہرے پہ ہنسی لے آئے دیں مزہ غم بھی اگر بے شمار ہو جائیں تیرے ہی در سے جڑے ربط نے قائم رکھا راندہِ در جو ہوں شاید غبار ہو جائیں چارہ گر! مجھ کو [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر
admin نے Wednesday، 28 July 2010 کو شائع کیا.

مکمل تحریر پڑھیے »

ایک بزرگ دوست کے لئے
admin نے Tuesday، 13 April 2010 کو شائع کیا.

ایک بزرگ دوست کے لئے مجھے معلوم تھا میری باتیں تمھیں سن رسیدہ لگیں گی مجھ پہ اکثر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ میں کم سنی میں، بڑی عمر کی گفتگو کر رہا ہوں اور کئی لوگ تو اس کو شہرت کمانے پہ محمول کرتے رہے ہیں انہیں کیا خبر؟ میں نے ان چند [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

اندیشے مجھے نگل رہے ہیں
admin نے Tuesday، 13 April 2010 کو شائع کیا.

اندیشے مجھے نگل رہے ہیں کیوں درد ہی پھول پھل رہے ہیں دیکھو مری آنکھ بجھ رہی ہے دیکھو مرے خواب جل رہے ہیں اک آگ ہماری منتظر ہے اک آگ سے ہم نکل رہے ہیں جسموں سے نکل رہے ہیں سائے اور روشنی کو نگل رہے ہیں یہ بات بھی لکھ لے اے مورخ [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

بتائیں کیا کہ کہاں پر مکان ہوتے تھے
admin نے Tuesday، 13 April 2010 کو شائع کیا.

بتائیں کیا کہ کہاں پر مکان ہوتے تھے وہاں نہیں ہیں جہاں پر مکان ہوتے تھے سنا گیا ہے یہاں شہر بس رہا تھا کوئی کہا گیا ہے یہاں پر مکان ہوتے تھے وہ جس جگہ سے ابھی اٹھ رہا ہے گرد و غبار کبھی ہمارے وہاں پر مکان ہوتے تھے ہر ایک سمت نظر [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

دل و نگاہ پہ طاری رہے فسوں اس کا
admin نے Tuesday، 13 April 2010 کو شائع کیا.

دل و نگاہ پہ طاری رہے فسوں اس کا تمہارا ہو کے بھی ممکن ہے میں رہوں اس کا زمیں کی خاک تو کب کی اڑا چکے ہیں ہم ہماری زد میں ہے اب چرخِ نیلگوں اس کا تجھے خبر نہیں اس بات کی ابھی شاید کہ تیرا ہو تو گیا ہوں مگر میں ہوں [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

فراتِ چشم میں اک آگ سی لگاتا ہوا
admin نے Tuesday، 13 April 2010 کو شائع کیا.

فراتِ چشم میں اک آگ سی لگاتا ہوا نکل رہا ہے کوئی اشک مسکراتا ہوا پس گمان کئی واہمے جھپٹتے ہوئے سرِ یقین کوئی خواب لہلہاتا ہوا گزر رہا ہوں کسی جنتِ جمال سے میں گناہ کرتا ہوا نیکیاں کماتاہوا بہ سُوئے دشتِ گماں دے رہا ہے اذنِ سفر کنارِ خواب ستارہ سا جھلملاتا ہوا

مکمل تحریر پڑھیے »

ہمارے جسم اگر روشنی میں ڈھل جائیں
admin نے Tuesday، 13 April 2010 کو شائع کیا.

ہمارے جسم اگر روشنی میں ڈھل جائیں تصوراتِ زمان و مکاں بدل جائیں ہمارے بیچ ہمیں ڈھونڈتے پھریں یہ لوگ ہم اپنے آپ سے آگے کہیں نکل جائیں یہ کیا بعید کسی آنے والے لمحےمیں ہمارے لفظ بھی تصویر میں بدل جائیں ہم آئے روز نیا خواب دیکھتے ہیں مگر یہ لوگ وہ نہیں جو [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

خبر نہیں تھی کسی کو کہاں کہاں کوئی ہے
admin نے Tuesday، 13 April 2010 کو شائع کیا.

خبر نہیں تھی کسی کو کہاں کہاں کوئی ہے ہر اک طرف سے صدا آرہی تھی یاں کوئی ہے یہیں کہیں پہ کوئی شہر بس رہا تھا ابھی تلاش کیجئے اس کا اگر نشاں کوئی ہے جوارِ قریہ گریہ سے آرہی تھی صدا مجھے یہاں سے نکالے اگر یہاں کوئی ہے تلاش کر رہے ہیں [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


جملہ حقوق بحق "نوائے ادب" محفوظ ہیں.
ورڈ پریس "نوائے ادب تھیم" منجانب م بلال م