شاعری — غالب
دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیے
دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیے ہوا رقیب ، تو ہو ، نامہ بر ہے ، کیا کہیے یہ ضد کہ آج نہ آوے ، اور آئے بِن نہ رہے قضا سے شکوہ ہمیں کِس قدر ہے ، کیا کہیے! رہے ہے یوں گِہ و بے گہِ ، کہ [...]
کیوں نہ ہو چشمِ بُتاں محوِ تغافل ، کیوں نہ ہو؟
کیوں نہ ہو چشمِ بُتاں محوِ تغافل ، کیوں نہ ہو؟ یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے مرتے مرتے ، دیکھنے کی آرزُو رہ جائے گی وائے ناکامی ! کہ اُس کافر کا خنجر تیز ہے عارضِ گُل دیکھ ، رُوئے یار یاد آیا ، اسدؔ! جوششِ فصلِ بہاری اشتیاق انگیز ہے
شفق بدعوئِ عاشق گواہِ رنگیں ہے
شفق بدعوئِ عاشق گواہِ رنگیں ہے کہ ماہ دزدِ حناۓ کفِ نگاریں ہے کرے ہے بادہ ، ترے لب سے ، کسبِ رنگِ فروغ خطِ پیالہ ، سراسر نگاہِ گلچیں ہے کبھی تو اِس سرِ شوریدہ کی بھی داد ملے! کہ ایک عُمر سے حسرت پرستِ بالیں ہے بجا ہے ، گر نہ سُنے ، [...]
ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے مرتے ہیں ، ولے ، اُن کی تمنا نہیں کرتے در پردہ اُنھیں غیر سے ہے ربطِ نہانی ظاہر کا یہ پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے یہ باعثِ نومیدیِ اربابِ ہوس ہے غالبؔ کو بُرا کہتے ہو ، اچھا نہیں کرتے
نہ پُوچھ نسخۂ مرہم جراحتِ دل کا
نہ پُوچھ نسخۂ مرہم جراحتِ دل کا کہ اِس میں ریزۂ الماس جزوِ اعظم ہے بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی وہ اِک نگہ کہ ، بظاہر نگاہ سے کم ہے
فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے
فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے نالہ پابندِ نَے نہیں ہے کیوں بوتے ہیں باغباں تونبے؟ گر باغ گدائے مَے نہیں ہے ہر چند ہر ایک شے میں تُو ہے پَر تُجھ سی کوئی شے نہیں ہے ہاں ، کھائیو مت فریبِ ہستی! ہر چند کہیں کہ “ہے” ، نہیں ہے شادی سے گُذر کہ [...]
خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائے
خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائے غرورِ دوستی آفت ہے ، تُو دُشمن نہ ہو جائے بہ پاسِ شوخئِ مژگاں سرِ ہر خار سوزن ہے تبسّم برگِ گل کو بخیۂ دامن نہ ہو جاۓ جراحت دوزئِ عاشق ہے جاۓ رحم ترساں ہوں کہ رشتہ تارِ اشکِ دیدۂ سوزن نہ ہو جاۓ غضب [...]
تپِش سے میری ، وقفِ کش مکش ، ہر تارِ بستر ہے
تپِش سے میری ، وقفِ کش مکش ، ہر تارِ بستر ہے مِرا سر رنجِ بالیں ہے ، مِرا تَن بارِ بستر ہے عیادت بسکہ تجھ سے گرمیِ بازارِ بستر ہے فروغِ شمعِ بالیں طالعِ بیدارِ بستر ہے بہ ذوقِ شوخئِ اعضاء تکلّف بارِ بستر ہے معافِ پیچ تابِ کشمکش ہر تارِ بستر ہے معمّاۓ [...]
وہ آ کے ، خواب میں ، تسکینِ اضطراب تو دے
وہ آ کے ، خواب میں ، تسکینِ اضطراب تو دے ولے مجھے تپشِ دل ، مجالِ خواب تو دے کرے ہے قتل ، لگاوٹ میں تیرا رو دینا تری طرح کوئی تیغِ نگہ کو آب تو دے دِکھا کے جنبشِ لب ہی ، تمام کر ہم کو نہ دے جو بوسہ ، تو منہ [...]




