نوائے ادب نے Monday، 5 April 2010 کو شائع کیا.
دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیے
ہوا رقیب ، تو ہو ، نامہ بر ہے ، کیا کہیے
یہ ضد کہ آج نہ آوے ، اور آئے بِن نہ رہے
قضا سے شکوہ ہمیں کِس قدر ہے ، کیا کہیے!
رہے ہے یوں گِہ و بے گہِ ، کہ کُوئے دوست کو [...]
Share on Facebook
مکمل تحریر پڑھیے »
نوائے ادب نے Monday، 1 February 2010 کو شائع کیا.
کیوں نہ ہو چشمِ بُتاں محوِ تغافل ، کیوں نہ ہو؟
یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
مرتے مرتے ، دیکھنے کی آرزُو رہ جائے گی
وائے ناکامی ! کہ اُس کافر کا خنجر تیز ہے
عارضِ گُل دیکھ ، رُوئے یار یاد آیا ، اسدؔ!
جوششِ فصلِ بہاری اشتیاق انگیز ہے
Share on Facebook
Share on Facebook
مکمل تحریر پڑھیے »
نوائے ادب نے Monday، 1 February 2010 کو شائع کیا.
شفق بدعوئِ عاشق گواہِ رنگیں ہے
کہ ماہ دزدِ حناۓ کفِ نگاریں ہے
کرے ہے بادہ ، ترے لب سے ، کسبِ رنگِ فروغ
خطِ پیالہ ، سراسر نگاہِ گلچیں ہے
کبھی تو اِس سرِ شوریدہ کی بھی داد ملے!
کہ ایک عُمر سے حسرت پرستِ بالیں ہے
بجا ہے ، گر نہ سُنے ، نالہ ہائے بُلبلِ زار
کہ گوشِ [...]
Share on Facebook
مکمل تحریر پڑھیے »
نوائے ادب نے Monday، 1 February 2010 کو شائع کیا.
ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
مرتے ہیں ، ولے ، اُن کی تمنا نہیں کرتے
در پردہ اُنھیں غیر سے ہے ربطِ نہانی
ظاہر کا یہ پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے
یہ باعثِ نومیدیِ اربابِ ہوس ہے
غالبؔ کو بُرا کہتے ہو ، اچھا نہیں کرتے
Share on Facebook
Share on Facebook
مکمل تحریر پڑھیے »
نوائے ادب نے Monday، 1 February 2010 کو شائع کیا.
نہ پُوچھ نسخۂ مرہم جراحتِ دل کا
کہ اِس میں ریزۂ الماس جزوِ اعظم ہے
بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
وہ اِک نگہ کہ ، بظاہر نگاہ سے کم ہے
Share on Facebook
Share on Facebook
مکمل تحریر پڑھیے »
نوائے ادب نے Monday، 1 February 2010 کو شائع کیا.
فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے
نالہ پابندِ نَے نہیں ہے
کیوں بوتے ہیں باغباں تونبے؟
گر باغ گدائے مَے نہیں ہے
ہر چند ہر ایک شے میں تُو ہے
پَر تُجھ سی کوئی شے نہیں ہے
ہاں ، کھائیو مت فریبِ ہستی!
ہر چند کہیں کہ “ہے” ، نہیں ہے
شادی سے گُذر کہ ، غم نہ ہووے
اُردی جو نہ ہو [...]
Share on Facebook
مکمل تحریر پڑھیے »
نوائے ادب نے Monday، 1 February 2010 کو شائع کیا.
خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائے
غرورِ دوستی آفت ہے ، تُو دُشمن نہ ہو جائے
بہ پاسِ شوخئِ مژگاں سرِ ہر خار سوزن ہے
تبسّم برگِ گل کو بخیۂ دامن نہ ہو جاۓ
جراحت دوزئِ عاشق ہے جاۓ رحم ترساں ہوں
کہ رشتہ تارِ اشکِ دیدۂ سوزن نہ ہو جاۓ
غضب شرم آفریں ہے رنگ ریزی [...]
Share on Facebook
مکمل تحریر پڑھیے »
نوائے ادب نے Monday، 1 February 2010 کو شائع کیا.
تپِش سے میری ، وقفِ کش مکش ، ہر تارِ بستر ہے
مِرا سر رنجِ بالیں ہے ، مِرا تَن بارِ بستر ہے
عیادت بسکہ تجھ سے گرمیِ بازارِ بستر ہے
فروغِ شمعِ بالیں طالعِ بیدارِ بستر ہے
بہ ذوقِ شوخئِ اعضاء تکلّف بارِ بستر ہے
معافِ پیچ تابِ کشمکش ہر تارِ بستر ہے
معمّاۓ تکلّف سر بمہرِ چشم پوشیدن
گدازِ شمعِ [...]
Share on Facebook
مکمل تحریر پڑھیے »
نوائے ادب نے Wednesday، 16 December 2009 کو شائع کیا.
وہ آ کے ، خواب میں ، تسکینِ اضطراب تو دے
ولے مجھے تپشِ دل ، مجالِ خواب تو دے
کرے ہے قتل ، لگاوٹ میں تیرا رو دینا
تری طرح کوئی تیغِ نگہ کو آب تو دے
دِکھا کے جنبشِ لب ہی ، تمام کر ہم کو
نہ دے جو بوسہ ، تو منہ سے کہیں جواب تو دے
پلا [...]
Share on Facebook
مکمل تحریر پڑھیے »
نوائے ادب نے Wednesday، 16 December 2009 کو شائع کیا.
چاک کی خواہش ، اگر وحشت بہ عُریانی کرے
صبح کے مانند ، زخمِ دل گریبانی کرے
جلوے کا تیرے وہ عالم ہے کہ ، گر کیجے خیال
دیدۂ دل کو زیارت گاہِ حیرانی کرے
ہے شکستن سے بھی دل نومید ، یارب ! کب تلک
آبگینہ کوہ پر عرضِ گِرانجانی کرے
میکدہ گر چشمِ مستِ ناز سے پاوے شکست
مُوۓ شیشہ [...]
Share on Facebook
مکمل تحریر پڑھیے »