admin نے Wednesday، 16 December 2009 کو شائع کیا.
چاک کی خواہش ، اگر وحشت بہ عُریانی کرے صبح کے مانند ، زخمِ دل گریبانی کرے جلوے کا تیرے وہ عالم ہے کہ ، گر کیجے خیال دیدۂ دل کو زیارت گاہِ حیرانی کرے ہے شکستن سے بھی دل نومید ، یارب ! کب تلک آبگینہ کوہ پر عرضِ گِرانجانی کرے میکدہ گر چشمِ [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
admin نے Wednesday، 16 December 2009 کو شائع کیا.
نکتہ چیں ہے ، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنے کیا بنے بات ، جہاں بات بنائے نہ بنے میں بُلاتا تو ہوں اُس کو ، مگر اے جذبۂ دل اُس پہ بن جائے کُچھ ایسی کہ بِن آئے نہ بنے کھیل سمجھا ہے ، کہیں چھوڑ نہ دے ، بھول نہ جائے کاش [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
admin نے Wednesday، 16 December 2009 کو شائع کیا.
ہر قدم دورئِ منزل ہے نمایاں مجھ سے میری رفتار سے بھاگے ہے ، بیاباں مجھ سے درسِ عنوانِ تماشا ، بہ تغافلِ خُوشتر ہے نگہ رشتۂ شیرازۂ مژگاں مجھ سے وحشتِ آتشِ دل سے ، شبِ تنہائی میں صورتِ دُود ، رہا سایہ گُریزاں مجھ سے غمِ عشاق نہ ہو ، سادگی آموزِ بُتاں [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
admin نے Wednesday، 16 December 2009 کو شائع کیا.
چاہیے اچھّوں کو ، جتنا چاہیے یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے صُحبتِ رنداں سے واجب ہے حَذر جاۓ مے ، اپنے کو کھینچا چاہیے چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل ؟ بارے اب اِس سے بھی سمجھا چاہیے ! چاک مت کر جیب ، بے ایامِ گُل کُچھ ادھر کا بھی اشارہ [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
admin نے Wednesday، 16 December 2009 کو شائع کیا.
ہے وصل ہجر عالمِ تمکین و ضبط میں معشوقِ شوخ و عاشقِ دیوانہ چاہۓ اُس لب سے مل ہی جاۓ گا بوسہ کبھی تو، ہاں! شوقِ فضول و جرأتِ رندانہ چاہۓ
مکمل تحریر پڑھیے »
admin نے Wednesday، 16 December 2009 کو شائع کیا.
یوں بعدِ ضبطِ اشک پھروں گرد یار کے پانی پیے کسو پہ کوئی جیسے وار کے سیماب پشت گرمیِ آئینہ دے ہے ہم حیراں کیے ہوئے ہیں دلِ بے قرار کے بعد از وداعِ یار بہ خوں در طپیدہ ہیں نقشِ قدم ہیں ہم کفِ پاۓ نگار کے ظاہر ہے ہم سے کلفتِ بختِ سیاہ [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
admin نے Wednesday، 16 December 2009 کو شائع کیا.
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی اچّھا ہے سر انگشتِ حنائی کا تصوّر دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی کیوں ڈرتے ہو عشّاق کی بے حوصلگی سے یاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی اے بے خبراں! میرے [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
admin نے Wednesday، 16 December 2009 کو شائع کیا.
گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہے ہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے واں کُنگرِ استغنا ہر دم ہے بلندی پر یاں نالے کو اُور الٹا دعواۓ رسائی ہے از بسکہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے جو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
admin نے Wednesday، 16 December 2009 کو شائع کیا.
نقشِ نازِ بتِ طنّاز بہ آغوشِ رقیب پاۓ طاؤس پئے خامۂ مانی مانگے تو وہ بد خو کہ تحیّر کو تماشا جانے غم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے وہ تبِ عشق تمنّا ہے کہ پھر صورتِ شمع شعلہ تا نبضِ جگر ریشہ دوانی مانگے
مکمل تحریر پڑھیے »
admin نے Wednesday، 16 December 2009 کو شائع کیا.
کب وہ سنتا ہے کہانی میری اور پھر وہ بھی زبانی میری خلشِ غمزۂ خوں ریز نہ پوچھ دیکھ خوں نابہ فشانی میری کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یار مگر آشفتہ بیانی میری ہوں ز خود رفتۂ بیداۓ خیال بھول جانا ہے نشانی میری متقابل ہے مقابل میرا رک گیا دیکھ روانی میری [...]
مکمل تحریر پڑھیے »