شاعری — م م مغل

عہدِ جنوں میں چاک گریباں کئے بغیر
admin نے Saturday، 27 June 2009 کو شائع کیا.

عہدِ جنوں میں چاک گریباں کئے بغیر گزری بہار ، جشنِ بہاراں کئے بغیر کرتے رہے ہیں یاد ، انہیں بے بسی سے ہم اشکوں کو زیب و زینتِ مژگاں کئے بغیر ممکن نہیں ہے کوئی مداوائے غم کرے شمعِ وصالِ یار فروزاں کئے بغیر گزرا ہے کون جادہءِ ہستی سے آج تک خود کو […]

مکمل تحریر پڑھیے »

یہ قحطِ سماعت ہے کہ بے وقت صدا ہوں
admin نے Saturday، 27 June 2009 کو شائع کیا.

یہ قحطِ سماعت ہے کہ بے وقت صدا ہوں یا میں کسی مجذوب کی چوکھٹ پہ کھڑا ہوں اک شورِ ملامت ہے کہ لکھّا نہیں جاتا اک سوزِ دروں ہے کہ مٹانے پہ تلا ہوں رونے کوئی آتا نہیں، ملتی نہیں فرصت مدّت سے میں اس عہد کے لاشے پہ کھڑا ہوں آ ! تُو […]

مکمل تحریر پڑھیے »

’’ خوا ب سفر‘‘
admin نے Saturday، 27 June 2009 کو شائع کیا.

’’ خوا ب سفر‘‘ میں کسی گود میں محوِ خوابیدگی جانے کب تک رہا دفعتاً اک صدا العطش العطش، الاماں الاماں میری نیندوں کے خیمے اڑا لے گئی و ہ صدا جیسے نقّارے کی چوب تھی میں نے آنکھیں ملیں دھند چھٹنے لگی چار جانب سفر ، ابتدا، ابتلا گردنوں کو جھکائے کھڑے با ادب […]

مکمل تحریر پڑھیے »

ہزار نطقِ سخن ہوں نثارِ آزادی
admin نے Saturday، 27 June 2009 کو شائع کیا.

ہزار نطقِ سخن ہوں نثارِ آزادی دل و نظر میں ہے اب تک خمارِ آزادی یہی متاعِ محبت، یہی مآلِ وفا نگارِ غازۂ محنت، عذارِ آزادی جناح و جوہر و اقبال اور سرسید یہی محرّک و دار و مدارِ آزادی وطن سے جائیے باہر تو ساتھ رہتے ہیں اک عطر بیز سی خوشبو، حصارِ آزادی […]

مکمل تحریر پڑھیے »

انحصار کرنے کو تھی بہار کی وحشت
admin نے Saturday، 27 June 2009 کو شائع کیا.

انحصار کرنے کو تھی بہار کی وحشت میں نے اور وحشت سے استوار کی وحشت چاپ جب سلگتی ہو ، آہٹیں سسکتی ہوں آنکھ میں اترتی ہے ، اشکبار کی وحشت خامشی کے سرمائے دشتِ جاں میں چھوڑ آئے اب نئے سفر پر ہے ، کاروبار کی وحشت بے کلی فغاں کرنے میرے دل تک […]

مکمل تحریر پڑھیے »

سورج کہاں اٹھانے لگا، روشنی کا دکھ ؟
admin نے Saturday، 27 June 2009 کو شائع کیا.

سورج کہاں اٹھانے لگا، روشنی کا دکھ ؟ شاید چراغ بانٹ لے اس تیرگی کا دکھ سنبھلے نہیں سنبھلتا ہے بے مائیگی کا دکھ کہیے تو کس سے جاکے بھلا زندگی کا دکھ اندر ہی کوئی شور ، نہ باہر کوئی صدا دیوار ہی سے بانٹیے ہمسائیگی کا دکھ بہتر ہے اس سے موت ہی […]

مکمل تحریر پڑھیے »

خون ہی خون ہے برسات کے آئینے میں
admin نے Saturday، 27 June 2009 کو شائع کیا.

خون ہی خون ہے برسات کے آئینے میں کوئی صورت نہیں حالات کے آئینے میں میری تصویر سے ملتی نہیں میری صورت میں نے دیکھا ہے مکافات کے آئینے میں ایک ہاں ہے مرے انکار کے لہجے میں نہاں ایک انکار ہے اثبات کے آئینے میں عمرِ رفتہ ہُوئی آزاد، مگر کیا کیجئے روح محصور […]

مکمل تحریر پڑھیے »

’’ ہجو ‘‘
admin نے Saturday، 27 June 2009 کو شائع کیا.

’’ ہجو ‘‘ خاک در خاک تری ہجرت و ایثار پہ خاک خاک در خاک ترے سب درو دیوار پہ خاک بستیاں خوں میں نہاتی ہیں چمن جلتے ہیں خاک در خاک تری گرمی ء گفتار پہ خاک اس سے بہتر تھا کہ اقرار ہی کرلیتا تو ! خاک در خاک تری جراءت ِ انکار […]

مکمل تحریر پڑھیے »


جملہ حقوق بحق "نوائے ادب" محفوظ ہیں.
ورڈ پریس "نوائے ادب تھیم" منجانب م بلال م