شاعری --- نوید صادق

ایک جگنو مری وحشت کا سبب ہوتا تھا
نوائے ادب نے Friday، 5 February 2010 کو شائع کیا.

ایک جگنو مری وحشت کا سبب ہوتا تھا
شام کے وقت مرا حال عجب ہوتا تھا
اک ستارہ تھا کہ روشن تھا رہِ امکاں میں
اک سمندر، مرے ادراک میں جب ہوتا تھا
میری وحشت مرے ہونے کے حوالے سے نہ تھی
میرا ہونا میری وحشت کا سبب ہوتا تھا
ایک خوشبو تھی کہ آغوش کشا تھی ہر وقت
ایک لہجہ تھا [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

خود اپنی گواہی کا بھروسہ بھی نہیں کچھ
نوائے ادب نے Friday، 5 February 2010 کو شائع کیا.

خود اپنی گواہی کا بھروسہ بھی نہیں کچھ
اور اپنے حریفوں سے تقاضا بھی نہیں کچھ
خود توڑ دئے اپنی انا کے در و دیوار
سایہ تو کجا سائے کا جھگڑا بھی نہیں کچھ
صحرا میں بھلی گزری، اکیلا تھا تو کیا تھا
لوگوں میں کسی بات کا چرچا بھی نہیں کچھ
اب آ کے کھلا، کوئی نہیں، کچھ بھی نہیں [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

خراب و خوار مثالِ درختِ صحرا ہوں
نوائے ادب نے Friday، 5 February 2010 کو شائع کیا.

نذر اقبال
خراب و خوار مثالِ درختِ صحرا ہوں
میں پائمالِ سرِ راہِ سختِ صحرا ہوں
مجھے بھی اپنی طرف کھینچتے ہیں آئینے
مگر میں سب سے گریزاں کہ بختِ صحرا ہوں
تو کیا یہ لوگ مجھے بھول جائیں گے یکسر
تو کیا میں صرف بگولہ ہوں، لختِ صحرا ہوں
تو میرے ساتھ کہاں چل سکے گا عہدِ نَو
کہ تو نقیبِ تغیر، [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

کچھ دن سے جو گھر میں آ پڑا ہوں
نوائے ادب نے Friday، 5 February 2010 کو شائع کیا.

کچھ دن سے جو گھر میں آ پڑا ہوں
میں اپنے قریب آ گیا ہوں
دنیا سے غرض بھی ہو تو کیوں ہوں
آپ اپنی ہنسی اُڑا رہا ہوں
میں نام کمانا چاہتا تھا
پہچان گنواتا جا رہا ہوں
جس موڑ پہ ہم بچھڑ گئے تھے
میں برسوں وہیں کھڑا رہا ہوں
کچھ ہو تو جواز دیکھنے کا
میں تیرا جہان دیکھتا ہوں!!
میں یعنی [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

خود سے بہت خفا ہوں میں، خود سے بہت جدا تھا میں
نوائے ادب نے Friday، 5 February 2010 کو شائع کیا.

خود سے بہت خفا ہوں میں، خود سے بہت جدا تھا میں
دیکھا نہیں کہ کیا ہوں میں، سوچا نہیں کہ کیا تھا میں
ٹوٹ گیا، بکھر گیا، اپنے لئے تو مر گیا
تیری طرف تھا گامزن، خود سے کٹا ہوا تھا میں
کیجے ملاحظہ ذرا، دفترِ ماہ و سالِ دل
میرا اسیر تھا یہ دل، اس میں پڑا ہوا [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

ہر نفس مضطرب گزرتی ہے
نوائے ادب نے Friday، 5 February 2010 کو شائع کیا.

ہر نفس مضطرب گزرتی ہے
زندگی کس کے بین کرتی ہے
دھیرے دھیرے، نفس نفس، شب بھر
ایک آہٹ مجھے کترتی ہے
زندگی! دیکھ میں بھی زندہ ہوں
تیرے قبضے میں کتنی دھرتی ہے؟
ایک خوشبو کہ پرکشش بھی ہے
دشتِ بے خواب میں اترتی ہے
میں ہوں اپنی طلب میں گم تو وہاں
بے خودی غم پہ نام دھرتی ہے
دوستو! بھائیو! خداحافظ!
نبض امّید، [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

کون آسیب آ بسا دل میں
نوائے ادب نے Friday، 5 February 2010 کو شائع کیا.

کون آسیب آ بسا دل میں
کر لیا ڈر نے راستہ دل میں
اے مرے کم نصیب دل!کچھ سوچ
ہے کوئی تیرا آشنا دل میں
کم ہے جس درجہ کیجئے وحشت
گونجتا ہے دماغ سا دل میں
عکس بن بن کے مٹتے جاتے ہیں
رکھ دیا کس نے آئنہ دل میں
میں ہوں، ماضی ہے اور مستقبل
کم ہے فی الحال حوصلہ دل میں
آخر [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

پھر وہی ضد کہ ہر اک بات بتانے لگ جائیں
نوائے ادب نے Thursday، 18 June 2009 کو شائع کیا.

پھر وہی ضد کہ ہر اک بات بتانے لگ جائیں
اب تو آنسو بھی نہیں ہیں کہ بہانے لگ جائیں

تیری تکریم بھی لازم ہے شبِ اوجِ وصال
پر یہ ڈر ہے کہ یہ لمحے نہ ٹھکانے لگ جائیں

کچھ نمو کے بھی تقاضے ہیں سرِ کشتِ خیال
ورنہ ہم لوگ تو بس خاک اُڑانے لگ جائیں

ایک لمحے کی ملاقات [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


جملہ حقوق بحق "نوائے ادب" محفوظ ہیں.
ورڈ پریس "نوائے ادب تھیم" منجانب ایم بلال