جب تک غمِ جہاں کے حوالے ہوئے نہیں ہم زندگی کے جاننے والے ہوئے نہیں کہتا ہے آفتاب ذرا دیکھنا کہ ہم ڈوبے تھے گہری رات میں، کالے ہوئے نہیں چلتے ہو سینہ تان کے دھرتی پہ کس لیے تم آسماں تو سر پہ سنبھالے ہوئے نہیں انمول وہ گہر ہیں جہاں کی نگاہ میں […]

مکمل تحریر پڑھیے »