<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>نوائے ادب</title>
	<atom:link href="http://nawaiadab.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://nawaiadab.com</link>
	<description>Just another WordPress site</description>
	<lastBuildDate>Tue, 21 Jun 2011 22:27:29 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.3</generator>
		<item>
		<title>لوگ کہتے ہیں بہت غم خوار رہتے تھے یہاں</title>
		<link>http://nawaiadab.com/%da%a9%da%86%da%be-%d9%85%d8%b1%db%92-%d8%ac%db%8c%d8%b3%db%92-%d8%a8%db%81%d8%aa-%d8%a8%db%92-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b1%db%81%d8%aa%db%92-%d8%aa%da%be%db%92-%db%8c%db%81%d8%a7%da%ba/</link>
		<comments>http://nawaiadab.com/%da%a9%da%86%da%be-%d9%85%d8%b1%db%92-%d8%ac%db%8c%d8%b3%db%92-%d8%a8%db%81%d8%aa-%d8%a8%db%92-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b1%db%81%d8%aa%db%92-%d8%aa%da%be%db%92-%db%8c%db%81%d8%a7%da%ba/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 21 Jun 2011 22:27:09 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[شاعری --- خرم شہزاد خرم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://nawaiadab.com/?p=1752</guid>
		<description><![CDATA[لوگ کہتے ہیں بہت غم خوار رہتے تھے یہاں میں یہ کہتا ہوں مرے اغیار رہتے تھے یہاں چاند سورج رات دن بارش زمیں بادل فلک اِن سے بڑھ کر بھی بہت کردار رہتے تھے یہاں اب جہاں دیکھوں نظر آتے ہیں میخانے وہاں شہر میں بس عشق کے بیمار رہتے تھے یہاں۔۔۔ کچھ تو [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: center;">لوگ کہتے ہیں بہت غم خوار رہتے تھے یہاں</p>
<p style="text-align: center;">میں یہ کہتا ہوں مرے اغیار رہتے تھے یہاں</p>
<p style="text-align: center;">چاند سورج رات دن بارش زمیں بادل فلک</p>
<p style="text-align: center;">اِن سے بڑھ کر بھی بہت کردار رہتے تھے یہاں</p>
<p style="text-align: center;">اب جہاں دیکھوں نظر آتے ہیں میخانے وہاں</p>
<p style="text-align: center;">شہر میں بس عشق کے بیمار رہتے تھے یہاں۔۔۔</p>
<p style="text-align: center;">کچھ تو ایسے جن کی کوئی مثل بھی ملتی نہ تھی</p>
<p style="text-align: center;">کچھ مرے جیسے بہت بے کار رہتے تھے یہاں</p>
<p style="text-align: center;">کس گلی میں اب ہیں جانے ان کی جلوہ ریزیاں</p>
<p style="text-align: center;">میں کہاں تھا جب مرے سرکار رہتے تھے یہاں</p>
<p style="text-align: center;">کاغزی کشتی سمندر کے کنارے دیکھ کر</p>
<p style="text-align: center;">یوں لگا خرم کہ میرے یار رہتے تھے یہاں</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://nawaiadab.com/%da%a9%da%86%da%be-%d9%85%d8%b1%db%92-%d8%ac%db%8c%d8%b3%db%92-%d8%a8%db%81%d8%aa-%d8%a8%db%92-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b1%db%81%d8%aa%db%92-%d8%aa%da%be%db%92-%db%8c%db%81%d8%a7%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ڈوب کر غم میں ترے ہم نثار ہو جائیں۔ از صبیح الحسن</title>
		<link>http://nawaiadab.com/%da%88%d9%88%d8%a8-%da%a9%d8%b1-%d8%ba%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%b1%db%92-%db%81%d9%85-%d9%86%d8%ab%d8%a7%d8%b1-%db%81%d9%88-%d8%ac%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba%db%94-%d8%a7%d8%b2-%d8%b5%d8%a8/</link>
		<comments>http://nawaiadab.com/%da%88%d9%88%d8%a8-%da%a9%d8%b1-%d8%ba%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%b1%db%92-%db%81%d9%85-%d9%86%d8%ab%d8%a7%d8%b1-%db%81%d9%88-%d8%ac%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba%db%94-%d8%a7%d8%b2-%d8%b5%d8%a8/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 16 Jun 2011 06:01:00 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://nawaiadab.com/?p=1745</guid>
		<description><![CDATA[ڈوب کر غم میں ترے ہم نثار ہو جائیں بھول کر تشنگی پیہم خمار ہو جائیں ہر نئی چوٹ بھی چہرے پہ ہنسی لے آئے دیں مزہ غم بھی اگر بے شمار ہو جائیں تیرے ہی در سے جڑے ربط نے قائم رکھا راندہِ در جو ہوں شاید غبار ہو جائیں چارہ گر! مجھ کو [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: center;">ڈوب کر غم میں ترے ہم نثار ہو جائیں<br />
بھول کر تشنگی پیہم خمار ہو جائیں</p>
<p style="text-align: center;">ہر نئی چوٹ بھی چہرے پہ ہنسی لے آئے<br />
دیں مزہ غم بھی اگر بے شمار ہو جائیں</p>
<p style="text-align: center;">تیرے ہی در سے جڑے ربط نے قائم رکھا<br />
راندہِ در جو ہوں شاید غبار ہو جائیں</p>
<p style="text-align: center;">چارہ گر! مجھ کو دوا دے کوئی ایسی جس سے<br />
دل میں چبھتے ہوئے کانٹے بہار ہو جائیں</p>
<p style="text-align: center;">لفظ تو لفظ ہیں پابند ہوں کیسے فارس<br />
توڑ کر بندشیں پھر بے مہار ہو جائیں</p>
<p style="text-align: center;">
<p style="text-align: center;">از صبیح الحسن</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://nawaiadab.com/%da%88%d9%88%d8%a8-%da%a9%d8%b1-%d8%ba%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%b1%db%92-%db%81%d9%85-%d9%86%d8%ab%d8%a7%d8%b1-%db%81%d9%88-%d8%ac%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba%db%94-%d8%a7%d8%b2-%d8%b5%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ڈاکٹر ہو تو ایسا۔ از صبیح الحسن</title>
		<link>http://nawaiadab.com/%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%db%81%d9%88-%d8%aa%d9%88-%d8%a7%db%8c%d8%b3%d8%a7%db%94/</link>
		<comments>http://nawaiadab.com/%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%db%81%d9%88-%d8%aa%d9%88-%d8%a7%db%8c%d8%b3%d8%a7%db%94/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 16 Jun 2011 05:58:28 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[طنز و مزاح]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://nawaiadab.com/?p=1743</guid>
		<description><![CDATA[ڈاکٹر ہو تو ایسا۔ ۔ ۔ سرکاری ہسپتال میں مریضوں کی کثرت تھی ۔ ۔ ۔ جبکہ ڈاکٹروں کی فصل خشک سالی کا شکار نظر آتی تھی۔ آج ایک ہی ڈاکٹر صاحب ڈیوٹی پر تھے اور شاید نئے نئے یہاں آئے تھے جو اتنے حیران پریشان دکھائی دے رہے تھے۔مریضوں کی بہتات کے باعث بدحواس [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div dir="ltr">
<div style="text-align: right;"><span style="text-decoration: underline;">ڈاکٹر ہو تو ایسا۔ ۔ ۔</span></div>
<div style="text-align: right;">سرکاری ہسپتال میں مریضوں کی کثرت تھی ۔ ۔ ۔ جبکہ ڈاکٹروں کی فصل خشک سالی کا شکار نظر آتی تھی۔ آج ایک ہی ڈاکٹر صاحب ڈیوٹی پر تھے اور شاید نئے نئے یہاں آئے تھے جو اتنے حیران پریشان دکھائی دے رہے تھے۔مریضوں کی بہتات کے باعث بدحواس سے تھے اور بیک وقت کئی مریضوں کو چیک کرنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔۔ ۔ ۔</div>
<p>ایک مریضہ کی نبض تھامے اس کے دل کا حال جاننے کی تگ و دو میں تھے اور یہ قطعاً بھول چکے تھے کہ وہ پچھلا مریض جسے پانچ منٹ قبل منہ کھولنے کا کہا تھا ابھی تک منہ پھاڑے ان کو گھور رہا ہے۔<br />
جب اس پر نظر پڑی تو ہڑبڑا کر اس کے منہ کے غار میں تھرمامیٹر ٹھونسا اور منہ بند کر دیا۔۔ ۔ ۔ چند منٹ بعد تھرما میٹر نکالا اور عینک درست کرتے ہوئے درجہ حرارت پڑھنے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ تھرمامیٹر کچھ مختلف سا محسوس ہوا۔ ۔ ۔ غور کیا تو سر پیٹ لینے کو دل چاہا ۔ ۔ ۔ یہ تو ان کی بال پوائنٹ تھی۔ ڈرتے ڈرتے مریض کی جانب دیکھا جو انتہائی شوق سے بولا۔</p>
<p>’’سر جی ایہہ تھرمامیٹر وچ پنسل ضرور چائنہ آلیاں لائی ہونی اے۔ ۔ ۔ بڑے ای تیز بندے نیں جی۔ ۔ فیر کِنا بخار اے جی؟؟‘‘<br />
(سر جی یہ تھرمامیٹر میں پنسل ضرور چائنہ والوں نے لگائی ہوگی، بہت تیز بندے ہیں جی۔ پھر کتنا بخار ہے مجھے؟)</p>
<p>ڈاکٹر صاحب نے بھی جلدی سے اپنی غلطی پر پردہ ڈالا اور بولے۔<br />
’’ہاں ہاں ۔ ۔ ۔ نوے ڈگری کا بخار ہے۔ ۔ ۔اچھا کیا جلدی آ گئے ورنہ بچنا مشکل ہو جاتا۔‘‘</p>
<p>ڈاکٹر صاحب نے چند گولیاں نکالیں اور بولے۔ ۔<br />
’’یہ گولیاں کھا لینا ۔ ۔ ۔ اللہ نے چاہا تو شفا بھی ہو ہی جائے گی۔‘‘<br />
مریض نے ایک نگاہ گولیوں پر ڈالی اور بولا۔</p>
<p>’’ڈاکٹر جی یہ ساری گولیاں میں نے ہی کھانی ہیں؟‘‘<br />
ڈاکٹر صاحب جھنجھلا کر بولے۔ ۔ ۔<br />
’’گھر میں کتنے بندے ہیں؟‘‘<br />
’’نو جی‘‘<br />
وہ انگلیوں پر گن کر بولا۔<br />
’’یہ لو پانچ گولیاں اور۔ ۔ ۔ سب کو ایک ایک دے دینا۔‘‘<br />
مریض نے یوں خوش ہو کر سر ہلایا جیسے ڈاکٹر صاحب سے اسی رعائت کی امید تھی اور اٹھ کر چلا گیا۔</p>
<p>ڈاکٹر صاحب نے سکون کا سانس لیا اور اگلی مریضہ کی جانب متوجہ ہوئے۔۔ ۔ ۔<br />
’’جی بہن ! آپ کا سینے کا ایکسرے ہو گیا۔ ۔ ۔ ۔ دکھائیے ادھر۔‘‘<br />
ڈاکٹر صاحب نے ایکسرے تھاما اور ایک سرسری نگاہ ڈالی۔ ۔<br />
اچانک چونک پڑے اور اور عینک درست کرتے ہوئے دوبارہ ایکسرے سامنے کیا۔<br />
تھوڑی دیر غور فرماتے رہے پھر بولے۔</p>
<p>’’وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔ ۔ ۔ ایک تو پتہ نہیں آپ لوگ اتنی لاپروائی کیوں کرتے ہیں۔‘‘<br />
’’کیسی لاپروائی ڈاکٹر صاحب؟؟‘‘ مریضہ کے ساتھ والی خاتون نے پوچھا۔</p>
<p>’’بھئی یہ میرے خیال سے پچھلے چند دن میں بیسواں کیس ہے جس کا ٹی بی کی وجہ سے پھیپھڑا ہی غائب ہو چکا ہے۔ آپ لوگ پہلے چیک ہی نہیں کرواتے۔ ۔ ۔‘‘<br />
’’ٹی بی۔ ۔ ۔ ۔ پھیپھڑا غائب۔ ۔ ۔ کیا کہہ رہے ہیں ڈاکٹر صاحب۔ ۔ ۔؟؟‘‘<br />
مریضہ کو غش سا آیا۔</p>
<p>’’لو جی ۔ ۔ ۔ آپ خود ہی دیکھ لیں۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے ایکسرے مریضہ کے سامنے کیا اور ایک بالکل کالی جگہ اشارہ کیا۔<br />
’’یہاں کبھی آپ کا پھیپھڑا ہوا کرتا تھا۔۔ ۔ ۔‘‘<br />
’’اب کہاں ہے؟‘‘<br />
’’ٹی بی کھا گئی۔ ۔ ۔‘‘<br />
اور ساتھ ہی مریضہ نے بھاں بھاں کر کے رونا شروع کر دیا۔</p>
<p>’’اب کیا ہو گا جی؟؟‘‘<br />
’’ہو گا کیا ۔ ۔ ۔ نو ماہ لگاتار علاج ہو گا۔‘‘<br />
نو ماہ کا سن کر مریضہ کی آہ و بکا میں اضافہ ہو گیا۔<br />
’’لوگ پروا ہی نہیں کرتے کل ایک آیا اس کا بایاں گردہ غائب تھا۔‘‘<br />
ڈاکٹر صاحب نے مریضہ کو دوا کی پرچی بنا کر دی اور تسلی دے کر فارغ کیا۔۔ ۔ ۔</p>
<p>ایک اور مریض مسمی سی صورت بنائے کھڑا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اس کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ ۔ ۔<br />
’’کیوں بھئی تمہارا بھی پھیپھڑ ا غائب ہے کیا؟‘‘<br />
وہ رونی آواز میں بولا۔ ۔ ۔<br />
’’ڈاکٹر جی ۔ ۔ ۔ جء گل پھیپھڑے دی ہوندی تے رولا ای کوئی نائی ۔ ۔ ۔ پر میڈا تے کھبا ادھا دل ای گواچ گیا اے۔‘‘<br />
(ڈاکٹر صاحب ۔ ۔ ۔ اگر بات پھپھڑے کی ہوتی تو مسئلہ ہی کوئی نہیں تھا پر میرا تو بایاں آدھا دل ہی غائب ہے۔)<br />
ڈاکٹر صاحب کو لگا کہ شاید انہیں سننے میں مشکل ہوئی ہے لیکن جب دوبارہ یہی جواب ملا تو گڑبڑا گئے۔ ایکسرے دیکھا تو واقعی آدھا دل نہیں تھا۔<br />
ان کے ذہن میں کچھ چبھ سا رہا تھا۔ اسی دوران نگاہ اس ٹی بی والی مریضہ کے ایکسرے پر پڑی جو وہ وہیں چھوڑ گئی تھی۔<br />
اس کو اٹھا یا اور اس پر دوبارہ نگاہ دوڑائی۔ ۔ ۔<br />
اچانک ذہن میں جھماکا سا ہوا۔ ۔ ۔ پھیپھڑا تو ٹی بی کھا گئی پر یہ بائیں جانب کی پسلیاں کون کھا گیا۔<br />
تبھی ان کے ذہن میں جواب ایک جھماکے کی طرح آیا ان کی ایکسرے مشین کی ایک سائیڈ ہی بلینک ہو چکی تھی۔۔ ۔ ۔<br />
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ ۔ ۔</p>
<p>بمشکل گمشدہ دل والے مریض کو یقین دلایا کہ اس کا دل اس کے سینے میں ہی ہے۔ اس کو یقین نہیں آتا تھا اور وہ یہی سمجھتا تھا کہ ضرور ڈاکٹر کوئی چکر چلا رہا ہے۔وہ بار بار کہتا۔ ۔ ۔<br />
’’سر جی پر مینوں کھبے پاسے دل محسوس نہیں ہوندا۔‘‘<br />
(سرجی پر مجھے بائیں طرف دل محسوس نہیں ہو رہا۔)<br />
پر ڈاکٹر صاحب نے زبردستی اسے رخصت کیا ۔ ۔ ۔ ان کے ذہن میں وہ بیس کے قریب مریض گھوم رہے تھے جن کا وہ پچھلے دو ہفتے سے ٹی بی کا علاج کر رہے تھے۔</p></div>
<p style="text-align: right;">
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://nawaiadab.com/%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%db%81%d9%88-%d8%aa%d9%88-%d8%a7%db%8c%d8%b3%d8%a7%db%94/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>شفیق سلیمی ۔۔۔۔۔ایک مطالعہ ۔۔۔۔نوید صادق</title>
		<link>http://nawaiadab.com/%d8%b4%d9%81%db%8c%d9%82-%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c-%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%85%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%b9%db%81-%db%94%db%94%db%94%db%94%d9%86%d9%88%db%8c%d8%af-%d8%b5/</link>
		<comments>http://nawaiadab.com/%d8%b4%d9%81%db%8c%d9%82-%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c-%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%85%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%b9%db%81-%db%94%db%94%db%94%db%94%d9%86%d9%88%db%8c%d8%af-%d8%b5/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 11 Apr 2011 07:52:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضمون]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://nawaiadab.com/?p=1740</guid>
		<description><![CDATA[”تمازت“ شفیق سلیمی کا پہلا اور تاحال آخری مجموعہ کلام ہے۔تمازت سے ہمارا پہلا تعارف1993ءمیں ہوا۔ اُن دنوں ہم لوگ غریب الوطنی کے پہلے تجربہ سے گزر رہے تھے۔بغرضِ تعلیم ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے۔اُن کے اشعار دل میں اترتے چلے گئے کہ حسبِ حال معلوم ہوئے۔ اور ان کا یہ شعر بے نام دیاروں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">”تمازت“ شفیق سلیمی کا پہلا اور تاحال آخری مجموعہ کلام ہے۔تمازت سے ہمارا پہلا تعارف1993ءمیں ہوا۔ اُن دنوں ہم لوگ غریب الوطنی کے پہلے تجربہ سے گزر رہے تھے۔بغرضِ تعلیم ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے۔اُن کے اشعار دل میں اترتے چلے گئے کہ حسبِ حال معلوم ہوئے۔ اور ان کا یہ شعر
</p>
<p style="text-align: center;"><span style="color: blue;">بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے<br />
اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے</span></p>
<p style="text-align: right;">اکثر ہماری زبان سے نکل جایا کرتا تھا۔بعد ازاں مختلف ادبی جرائد میں ان کا” تمازت“ کے بعد کاکلام نظر سے گزرتا رہا۔پھر جب 2003ءمیں بسلسلہ روزگار دیارِ غیر جانا پڑا تو ان کے اشعار میں پنہاں کرب ہم پر کھلتا چلا گیا۔اور محسوس ہوا کہ شفیق سلیمی نے تو ہوبہو ہماری داستانِ سفر رقم کر ڈالی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">
سفر وسیلہ ظفر بھی ہے، گیان کا راستہ بھی اور مصائب کا کوہِ گراں بھی۔ غریب الوطنی وہ آفاقی موضوع ہے کہ کم و بیش تمام دنیا کے اہلِ قلم اسے اپنا موضوع بناتے آئے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سفر اور غریب الوطنی کے موضوع میں شفیق سلیمی کو ایسا کیا دکھائی دیا اور انہوں نے اس سارے تجربہ میں ایساکیا کھویا، کیا پایاکہ تمازت کے کم و بیش نوے فیصدی اشعار اسی موضوع سے متعلق ہیں۔<br />
قدیم زمانہ میں سفر علم کے حصول کا ایک راستہ تھا ۔ لیکن فی زمانہ آسودگی، معاشی مسائل سفر کی ایک بنیادی وجہ بن کر سامنے آتے ہیں۔ شفیق سلیمی کے ہاں اس سفر کی بنیادی وجہ معاشیات سے متعلق ہی معلوم پڑتی ہے کہ علم کا حصول کہیں بھی منشاءبن کر سامنے نہیں آ پایا۔ لیکن شفیق سلیمی کا کمال ہے کہ انہوں نے معاشی مسائل کو اپنے اشعار میں نمایاں نہیں ہونے دیا۔گو کہ کہیں کہیں اس کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیںلیکن یہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔قصہ مختصر شفیق سلیمی کے اشعار ان کے ذوقِ آوارگی پر دال ہیں۔ سفر میں رہنا ان کی سرشت ہے۔کیا ہو گا؟ کیا نہیں ہو گا؟اس سے انہیں آغازِ سفر میں کچھ غرض نہیں ۔وہ سفر جو اُن کے اشعار میں بغیر کسی مقصد کے آغاز ہوتا ہے ، اس کے انجام پر وہ اپنا احتساب کرتے نظر آتے ہیں۔انہوں نے کہیں بھی سفر کے محرکات پر کھل کر بات نہیں کی لیکن سفر اور غریب الوطنی کے متعلقات کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ ان پر کیا گزری؟ انہوں نے کیا پایا؟ انہوں نے کیا کھویا؟ یہ وہ موضوعات ہیں جن پر شفیق سلیمی نے کھل کر بات کی ہے۔</p>
<p>اپنا تو کام ہے ہر حال میں چلتے رہنا<br />
ہم تمیزِ رہ و منزل میں نہیں پڑتے ہیں</p>
<p>ریگِ روں پہ نقشِ کفِ پا تراشنا<br />
اک منظرِ سراب سے دریا تراشنا</p>
<p>کون سا سودا ہے سر میں، کس کے قابو میں ہے دل<br />
ہر قدم صحراؤں میں ہے، ہر گھڑی وحشت میں ہوں</p>
<p>جانے کس ڈگر میں ہیں، بے جہت سفر میں ہیں<br />
شہرِ کم نظر ہم بھی کب تری نظر میں ہیں</p>
<p>یہ سفر کسی تلاش و جستجو کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔</p>
<p>میں تھک گیا ہوں صدائیں نگر نگر دے کر<br />
کہاں گیا وہ مرے پاؤں میں سفر دے کر</p>
<p>ننگی شاخیں گھور رہی تھیں ہم آوارہ سایوں کو<br />
سبز رتوں کے بستر میں کچھ گونگے پتے بوئے تھے</p>
<p>ہر راہ پہ چلتا ہوں، رکھتا ہوں کھلی آنکھیں<br />
شاید کہ نظر آئے جو دھیان میں بستا ہے</p>
<p>لیکن اس تمام ریاضتِ سفر کاا نجام شاعر کے حسبِ منشاءنہیں ہوتا اور اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ سفر لایعنی تھا اور کچھ پانے کی جگہ وہ بہت کچھ ہار آیا ہے۔ پہچان چھن چکی ہے،منظر سراسر بدل چکا ہے۔</p>
<p>گھروں کی رونقیں وہی جو تھیں کبھی<br />
مگر بھلا دئے گئے، گئے ہوئے</p>
<p>تمام عمر اڑانوں میں کاٹ دی ہم نے<br />
تمام رنگ پروں کا پروں سے جاتا رہا</p>
<p>بے نام دیاروں سے ہم لوگ بھی ہو آئے<br />
کچھ درد تھے چن لائے، کچھ اشک تھے رو آئے</p>
<p>توہینِ انا بھی کی، تحسینِ ریا بھی کی<br />
یہ بوجھ بھی ڈھونا تھا یہ بوجھ بھی ڈھو آئے</p>
<p>پہچان کا ہر منظر انجان ہوا آخر<br />
لگتا ہے کئی صدیاں اک غار میں سو آئے</p>
<p>سفر سے لوٹ آئے تھے مگر کیا دیکھتے ہیں<br />
فضا بدلی ہوئی ہے، سب کا سب الٹا پڑا ہے</p>
<p>حکمائے قدیم کے نزدیک زندگی کی بابت ایک عام نظریہ یہ تھا کہ زندگی ایک قید خانہ ہے جس سے انسان اپنی مرضی سے فرارنہیں ہو سکتا۔ہمارے ہاں تصوف میں بھی زیادہ تر یہی ”نظریہ جبر“ کارفرما رہا ہے۔لیکن شفیق سلیمی کے ہاں اس قید خانے سے بھاگ نکلنے کی خواہش اور کوشش موجود ہے۔ یہ مروجہ رسوم اور طریقہ ہائے زندگی سے بیزاری کا رویہ بھی گردانا جا سکتا ہے۔پنجرا توڑ کر بھاگ نکلنا اپنی ایک اہمیت رکھتا ہے لیکن پنجرا توڑ کر صیاد کی بے بسی کا تماشا دیکھنے کا ایک اپنا لطف ہو گا جس سے شفیق سلیمی بخوبی آگاہ لگتے ہیں۔عدم نے کہا تھا</p>
<p>کس طرح ٹوٹتی ہیں زنجیریں<br />
یہ بھی اک دن تجھے دکھاؤں گا<br />
اے قفس کے محافظِ ناداں<br />
میں اڑا تو نظر نہ آؤں گا<br />
(عبدالحمید عدم)</p>
<p>اس قطعہ میں عدم کے ہاں پنجرا توڑ کر بھاگ نکلنے کا رویہ ہے، محافظِ قفس اس کی آزادی پر کس قسم کا ردِعمل دیتا ہے، کس بے بسی کے عالم میں ہے، اس سے اسے قطعاً غرض نہیں۔ لیکن شفیق سلیمی تو تماشا بینی کے شوقین ہیں۔</p>
<p>پنچھی توڑ اڑان کو نکلے، بے پر کے پنچھی<br />
مار اُڈاری چھت پر جا بیٹھے گھر کے پنچھی</p>
<p>غالب نے کہا تھا</p>
<p>گو ہاتھ کو جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے<br />
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے<br />
(غالب)</p>
<p>شفیق سلیمی کم و بیش اسی نظریہ حیات کے پیرو نظر آتے ہیں۔ اُن کے ہاںزندگی سے مسرت کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کی خواہش اتنی شدید ہے کہ انتہائی تھکن اور دل شکستگی کے باوجود سفر کہ ان کی سرشت میں داخل ہے، کی خواہش نہیں جاتی۔</p>
<p>خواب تک نہیں باقی اب گرفتِ خواہش میں<br />
ذائقے اڑانوں کے پھر بھی بال و پر میں ہیں</p>
<p>شاعر کے لاشعور کے کسی گوشہ میں یہ خوف بھی موجود ہے کہ اس کے بعد اس کی آئندہ نسل پر بھی یہ سفر واجب ہونے والا ہے۔لیکن یہاں قدرے مجبوری کا عنصر سامنے لایا جا رہا ہے۔</p>
<p>میرے آنگن کے شجر کو بھی سزا دی جائے گی<br />
شاخ پر بیٹھی ہوئی چڑیا اڑا دی جائے گی</p>
<p>شفیق سلیمی کے ہاں تمام مصیبتیں جھیل لینے کے بعد ایک شادمانی کا احساس نظر آتا ہے۔ اور انہیں خیال گزرتا ہے کہ جو ہوا جیسا ہوا، اچھا نہ تھا تو اتنا برا بھی نہ تھا۔اس تلخیوں بھرے دور نے جہاں بہت کچھ چھین لیا وہاں کچھ دیا بھی۔یہ اور بات کہ اہلِ ظاہر کے نزدیک اس حاصل کی کوئی اہمیت نہیں</p>
<p>اپنی مٹی سے دوری کے احساس نے قربتیں بخش دیں<br />
ایسا پانسا پڑا درد وہ مل گیا ہے جو نایاب تھا</p>
<p>مٹی سے دوری کے احساس سے جو قربتیں میسر آتی ہیں وہ اہلِ ظاہر پر نہیں کھل سکتیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تخلیق کار اپنے اندر کی دنیاو¿ں کی سیاحت پر چل نکلتا ہے۔یہ نایاب درد کہ ایک ایسے کرب کی دین ہے جو ظاہری دنیا کے جو ر و ستم کا نتیجہ ہے ، ہر ایک کا مقدر نہیں ہوتا۔داخل کی دنیا کا سفر فلسفہ اور تصوف کے لئے راستے ہموار کرتا ہے۔<br />
سفر کے حوالہ سے یہ احساسات شفیق سلیمی کے تجربات و عمیق مشاہدہ کی دین ہیں۔شفیق سلیمی کا احساس سراسر ایک منفرد طرز کا احساس ہے۔ ہو سکتا ہے یہاں آپ لوگ ناصر کاظمی کا نام لیں لیکن ناصر کاظمی کی ہجرت کی نوعیت قطعاً مختلف ہے۔مزید یہ کہ ناصر کاظمی اپنے شعری سفر کے آغاز میں ہی اندر کی دنیاو¿ں کی فتح میں لگ جاتے ہیں جبکہ شفیق سلیمی کا سفر خارج سے باطن کی جانب ہے۔یہ راستہ طویل سہی لیکن زیادہ نتیجہ خیز ہے۔<br />
روزِ اول سے حکماء، دانشور اور شعراءاپنے معاشرے، اپنی ریاست کے سیاسی و معاشی مسائل پر غور و فکر کرتے آئے ہیں۔حکیم اپنے عہد کے مسائل پر غور و خوض کے بعد ان کا حل تجویز کرتا ہے۔شاعر اپنے معاشرے کو درپیش مسائل کی طرف اشارہ دیتا ہے۔اردو شاعری میں بھی شروع سے یہ سلسلہ موجود رہا ہے۔ شفیق سلیمی اپنی روایت سے مضبوطی سے جڑے ہوئے انسان ہیں۔ وہ اپنے عہد کے معاشی و معاشرتی و سیاسی معاملات کی بد نظمی پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔حکماءاس بات پر متفق ہیں کہ فرد سے زیادہ معاشرہ کی اصلاح ضروری ہے۔ جھوٹی انا، ناپائدار دولت و ثروت، جھوٹی شان و شوکت، زندگی کا مصنوعی پن سب کچھ ہمارے شاعر کو کَھل رہا ہے۔ہم انسانی تاریخ کے انتہائی تلخ و تاریک دور سے گزر رہے ہیں۔</p>
<p>سنگ و سگ و صدا سبھی پیچھے پڑے ہوئے<br />
اک دوڑ سی ہے ہم میں برابر لگی ہوئی</p>
<p>پیکٹوں میں بند ہو کر اب بکے گی روشنی<br />
بوتلوں میں شہر کو تازہ ہوا دی جائے گی</p>
<p>کوئی نکلے جواب کی صورت<br />
چہرہ چہرہ سوال ہو گیا ہے</p>
<p>خار بڑھتے جا رہے ہیں، برگ و گل ناپید ہیں<br />
کس نمو کا زہر پھیلا ہے شجر میں، دیکھنا</p>
<p>زندگی ہوتی رہی ہے بس اسی ڈھب سے شفیق<br />
ہر یقیں مجھ کو نیا اک واہمہ دیتا رہا</p>
<p>پاکستان برِ صغیر پا ک و ہند کے مسلمانوں کے خوابوں کی تعبیر ہے۔اس عظیم مسلم سلطنت کا خواب دیکھنے والے ، اس خواب کی تعبیر کے لیے جد و جہد کرنے والے اور پھر اس خواب کو عملی جامہ پہنانے والے کیا عظیم لوگ تھے۔ ان لوگوں نے کیا کیا نہ سوچا تھا اس مملکت کی تعمیر و ترقی کے لیے ۔پاکستان کو اسلام کا قلعہ بننا تھا لیکن ہم لوگوں نے کیا کیا؟ ادھر اس کے بانی نے آنکھیں موندھیں اور ادھر ہم اس کی ترقی کی بجائے اس کی تخریب میں سرگرم ہو گئے۔افسوس صد افسوس کہ ہم بحیثیت ایک قوم کوئی بھی ایسا کارنامہ سرانجام نہ دے پائے جو ہمارے آباءکی ارواح کے لیے باعثِ تسکین ہوتا۔شفیق سلیمی کو اس بات کا شدید قلق ہے ۔</p>
<p>سر میں ایک سودا تھا ، بام و در بنانے کا<br />
آج تک نہیں سوچا ہم نے گھر بنانے کا</p>
<p>لیکن کیوں؟ اس کا جواب ہم سب جانتے ہیں۔معاشرتی تنظیم کی عدم موجودگی، بنیادی اخلاقی اقدار سے روگردانی،منزل کے حصول کے جنون کا فقدان، نااہل اور بے بصیرت لوگوں کی پوجا۔ہم لوگ غلط صحیح کی پہچان کھو بیٹھے ہیں۔</p>
<p>جھوٹ کے سامنے اب جھوٹ ہی استادہ ہے<br />
معرکے اب حق و باطل میں نہیں ہوتے ہیں</p>
<p>کسی دیوار میں در کس طرح ہو<br />
کوئی آشفتہ سر باقی نہیں ہے</p>
<p>ایک شوق ایسا بھی ہم نے پال رکھا ہے<br />
بے وقار لوگوں کو معتبر بنانے کا</p>
<p>ہاتھوں میں بجھا ہوا چراغ لے کر<br />
اندھا ہمیں راستہ دکھا رہا ہے</p>
<p>ایسے میں جب عام آدمی حواس گم کر بیٹھتا ہے، شاعر فوری ردِ عمل کے طور پر طفل تسلیوں کا سہارا لیتا ہے۔ جو ہے، جیسا ہے۔۔۔ٹھیک ہے۔</p>
<p>لاکھ کوشش پر بھی گھر کو گھر نہ کر پائے شفیق<br />
اور پھر ہم نے مکاں کو بس مکاں رہنے دیا</p>
<p>لیکن انجام کار</p>
<p>لہر لہر بپھری ہے، قہر قہر دریا میں<br />
بے جواز لگتا ہے، سعی رائگاں رکھنا</p>
<p>زمیں تو خیر زمیں تھی کہ تنگ ہم پہ ہوئی<br />
اک آسماں تھا سو وہ بھی سروں سے جاتا رہا</p>
<p>شاعر کے اندر کا دانشور بیدار ہوتا ہے۔ وہ خرابی کی اصل جڑ سے آشنا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اصلاح کی کوششیں صحیح سمت میں نہیں ہیں۔فرد اور معاشرہ ۔۔دراصل دونوں کی اصلاح درکار ہے۔ دوا کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت کے حضور دعا کی بھی ضرورت ہے۔یہاں شاعر کے اندر کا انسان چیخ اٹھتا ہے کہ مذہب اس مسئلے کا سب سے بہتر حل ہے۔</p>
<p>مسئلہ سارے کا سارا اور ہے<br />
درد ہے کچھ اور چارا اور ہے</p>
<p>برسرِعام یہ کہتے ہیں کہ ہم جھوٹے ہیں<br />
اس بھرے شہر میں زندہ ہے صداقت ہم سے</p>
<p>جو بھی ہم سے بن پڑا کرتے رہے<br />
رت بدلنے کی دعا کرتے رہے</p>
<p>عافیتِ جاں ڈھونڈتا ہوں کنجِ دعا میں<br />
جب وقت مرے واسطے موزوں نہیں ہوتا</p>
<p>شاعر بھی کیا خوش گمان ہوتا ہے۔ اک ذرا ہوا بدلی نہیں کہ اس کے اچھے وقت کے تخمینے شروع ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>پھر وہی رُت ہے، پھر نمو کا عمل<br />
ٹہنی ٹہنی، شجر شجر ٹھہرا</p>
<p>زندگی ایک بھول بھلیاں سے کم نہیں۔روزِ اول سے فلاسفر، دانشور، حکماءزندگی اور کائنات کی گتھیاں سلجھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ان سربستہ رازوں کا پاجانا اتنا آسان نہیں۔شفیق سلیمی کے ہاں اس حوالہ سے خوبصورت اشعار ملتے ہیں۔</p>
<p>جنگل کا پار کرنا کچھ آسان تو نہیں<br />
رستوں کے درمیان سے رستہ تراشنا</p>
<p>کون ناپے گا سمندر کی طلسمی وسعتیں<br />
کشتیاں تو چل رہی ہیں ساحلوں کے ساتھ ساتھ</p>
<p>ہم نے سب کے سب مجلے پڑھ لیے<br />
زندگی! تیرا شمارا اور ہے</p>
<p>تو کس شمار میں آئے گا، کس خمار میں ہے<br />
زمین دھند میں لپٹی، فلک غبار میں ہے</p>
<p>شفیق سلیمی کی شاعری کا غالب حصہ معاشی و معاشرتی و سیاسی آگہی اور مضامینِ ہجرت پر مبنی ہے۔ لیکن ایسا نہیں کہ ان کے ہاں بس یہی کچھ ہے۔ اپنے پیشروؤں اور معاصر شعراءکے مانند ان کے ہاں مضامین کا تنوع ہے اور محبت کہ کسی عہد میں غزل کا اصل موضوع ٹھہری تھی، ان کے ہاں بھی بدرجہ¿ اتم موجود ہے۔ایک جیتا جاگتا محبوب ہے۔سپردگی کی خواہش ہے۔واضح رہے کہ سپردگی کی خواہش ہے، سپردگی نہیں۔ہلکے پھلکے معاملاتِ عشق کہ کسی دور میں معاملا بندی کہلائے ،بھی دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>تو اک بھرپور غزل ہے<br />
تجھے مصرعہ مصرعہ گاؤں</p>
<p>ساری تعبیریں ہیں اس کی، سارے خواب اس کے لیے<br />
ہر سوال اس کے لیے ہے، ہر جواب اس کے لیے</p>
<p>ہونٹوں پہ لرزتی ہوئی خاموش صدا کا<br />
آنکھوں کے دریچوں سے گزر کیسا لگا ہے</p>
<p>لیکن</p>
<p>اُس سنگ صفت کے لیے جاں دے کے بھی دیکھا<br />
وہ موم تو ہو جاتا ہے، ممنوں نہیں ہوتا</p>
<p>وہ کہیں میری ہتھیلی پر نہیں<br />
کیا شفیق اُس کا ستارہ اور ہے</p>
<p>یہ کیفیت بلکہ یوں کہیے کہ حال زیادہ طویل دکھائی نہیں دیتا۔ اور دیروز بن جاتا ہے۔اور یادوں کی شکل میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔کہیں ہلکی اور کہیں شدید کسک بن جاتا ہے۔</p>
<p>یہ کیا ہوا کہ کوئی بھی نظر میں جچتا نہیں<br />
وہ کون تھا جو مرے منظروں سے جاتا رہا</p>
<p>جو میرے ساتھ پہنچا منزلوں تک کون ہے یہ<br />
جسے میں چھوڑ آیا راستوں میں کون تھا وہ</p>
<p>وہ تیرا غم تھا، میرا عکس تھا یا واہمہ<br />
جو میرے روبرو تھا آئنوں میں کون تھا وہ</p>
<p>چاند ہی تنہا نہیں ہے بام پر<br />
اک شبِ ہجراں کا مارا اور ہے</p>
<p>بچا تھا ایک جو وہ رابطہ بھی ٹوٹ گیا<br />
خفا جو خود سے ہوئے آئنہ بھی ٹوٹ گیا</p>
<p>کہہ رہے ہیں مجھ سے خوشبو، پھول،پھل اور ذائقے<br />
تم بھی اپنا رنگ بدلو، موسموں کے ساتھ ساتھ</p>
<p>ہمارا شاعر آگے چل کر کیاکارہائے نمایاں سرانجام دیتا ہے۔ قرطاسِ وقت پر اپنے نشان ثبت کر پاتا ہے کہ نہیں،اس کی پیشین گوئی تو کی جا سکتی ہے لیکن فیصلہ قدرے مشکل ہے کہ بقولِ شفیق سلیمی</p>
<p>ابھی سے کیسے تعین ہو راستوں کا شفیق<br />
سفر پہ نکلا ہوں ان دیکھی منزلوں کے لیے</p>
<p>یہی ان دیکھی منزلیں جن کی کھوج میں شفیق سلیمی ہیں، آنے والے عہد میں ان کے ادبی قد و قامت کی ضامن ہیں۔<br />
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br />
(نوید صادق)<br />
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br />
شکریہ: ماہنامہ بیاض، لاہور</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://nawaiadab.com/%d8%b4%d9%81%db%8c%d9%82-%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c-%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%85%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%b9%db%81-%db%94%db%94%db%94%db%94%d9%86%d9%88%db%8c%d8%af-%d8%b5/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>خدا کے دن از نوید صادق</title>
		<link>http://nawaiadab.com/%d8%ae%d8%af%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%86-%d8%a7%d8%b2-%d9%86%d9%88%db%8c%d8%af-%d8%b5%d8%a7%d8%af%d9%82/</link>
		<comments>http://nawaiadab.com/%d8%ae%d8%af%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%86-%d8%a7%d8%b2-%d9%86%d9%88%db%8c%d8%af-%d8%b5%d8%a7%d8%af%d9%82/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 11 Apr 2011 07:44:11 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضمون]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://nawaiadab.com/?p=1736</guid>
		<description><![CDATA[پیکٹ کھلا اور شاہین عباس کا مجموعہ کلام ”خدا کے دن“ ہمارے سامنے تھا۔ یہ کیا نام ہوا؟ اس کے پیچھے کیا بات ہے؟ عام بات، عام کام۔۔۔ وہ تو خیر ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ شاہین کی فطرت میں نہیں۔ لیکن یہ نام ؟؟ میرے خدا! ”خدا کے دن“ اس نام کی تعبیر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">پیکٹ کھلا اور شاہین عباس کا مجموعہ کلام ”خدا کے دن“ ہمارے سامنے تھا۔ یہ کیا نام ہوا؟ اس کے پیچھے کیا بات ہے؟ عام بات، عام کام۔۔۔ وہ تو خیر ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ شاہین کی فطرت میں نہیں۔ لیکن یہ نام ؟؟ میرے خدا! ”خدا کے دن“ اس نام کی تعبیر میں کتنے دن گزر گئے۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اور وہ شعر جس سے یہ نام اخذ کیا گیا ،کیا بھلا شعر ہے لیکن یہ بھی ایک عجیب بات ہے، شاید اسی لئے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شاہین کی شاعری سر کے اوپر سے گزر جاتی ہے۔اس میں قصور سر کا ہی گنا جائے گا، شاہین کی شاعری کا نہیں کہ وہ شریف انسان تو شاعری میں پلا بڑھا ہے۔ شاعری اس کا اوڑھنا بچھونا ہے۔یہ دعویٰ تو خیر ہمارے عہد میں کتنے ہی لوگوں کو ہے لیکن تھوڑا برائے نام اور تھوڑا بناوٹی۔ بال بڑھا لئے، حلیہ اوٹ پٹانگ کر لیا، شاعری اور اساتذہء شعر پر ایک دو اعتراضات داغ دیے اور سمجھے کہ شاعری ان کا اوڑھنا بچھونا ہو لی۔ یہ دعوے، یہ اوٹ پٹانگ دعوے اخباروں میں پڑھتے، مجلسوں میں سنتے لطف بھی آتا ہے کہ ہم سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے جو ہوئے۔ اُدھر کسی کی پگڑی اچھلی اور اِدھر یار لوگوں کی باچھیں پھٹنے کو آ گئیں۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یہ اوٹ پٹانگ باتیں ہمارا موضوع نہیں لیکن کیا کیا جائے کہ بات سے بات نکل آتی ہے اور ضبط لازم ہوتے ہوئے بھی ہو نہیں پاتا۔شاہین عباس ایک شاعر ہے، اچھا شاعر ہے، منفرد شاعر ہے،ایک عرصے سے یہ باتیں ہو رہی ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ہے ، ہم یہ دعوے کیوں کر رہے ہیں؟؟ اس پر کبھی ہم نے شاید غور کرنے کی زحمت نہیں کی۔نفسا نفسی کا عالم ہے۔جی !یہ میرا آپ کا کام بھی نہیں۔ یہ تو نقادوں کا کام ہے کہ اس کے کلام کی ابعاد دریافت کریں ۔ وہ جو سب کو اچھا لگتا ہے، اس کا اچھا پن بیان کیا جائے، اس کی خامیاں سامنے لائی جائیں۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ نقاد بوڑھے ہو لیے، اب وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے جو کہنا تھا، جو کرنا تھا وہ کر چکے۔ اب نیا شاعر اپنا نقاد اپنے ساتھ لے کر آئے۔ بات جچتی ہے لیکن نیا نقاد کہاں سے آئے گا۔میں آپ سب نقاد ہیں۔ لیکن ضرورت حوصلے کی ہے اور نیا نقاد یعنی میں اور آپ ابھی اپنے اندر اتنا حوصلہ پیدا ہی نہیں کر پائے کہ شاہین عباس جیسے توانا شاعر پر کُھل کر بات کر سکیں۔ سب سے بڑا مسئلہ تو شاہین خود ہے کہ بحیثیت انسان وہ جتنا سادہ اور عام روشا ہے،بطور شاعر اتنا ہی گنجلک۔ اب اس کتاب کے نام کو ہی لے لیجئے ”خدا کے دن“۔ ایک منٹ ذرا اس شعر کو بھی تو دیکھ لیں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">[COLOR="Blue"][CENTER]ایک لکیر شام کی، کہتی تھی درمیاں کی بات</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">خلقِ خدا کا ایک دن، باقی ہیں سب خدا کے دن[/CENTER][/COLOR]</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">بات کدھر سے کدھر جا نکلی۔تو بھائی بات یہ ہے کہ یہ سیدھا سادا،دھان پان سا انسان اپنے اندر جس شاعر کو لیے پھرتا ہے وہ عام قاری کا شاعر نہیں ہے۔اس کو نہ صرف اپنا نقاد خود پیدا کرنا ہو گا، بلکہ اپنی سطح کے قاری بھی دریافت کرنا ہوں گے۔لیکن میرے اس دعوے کو کوئی غلط رُخ نہ دیا جائے۔ مرزا نوشہ نے کہا تھا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">نہ سہی گر مرے اشعار میں معنی نہ سہی</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یہ مرزا غالب کا مسئلہ ہی نہیں تھا۔ لوگ لاکھ اعتراض جڑتے رہیں ادھر پروا کس کو ہے۔ آخر کو کیا ہوا؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ آج غالب فہمی اپنے عروج پر ہے اور اُس وقت کے” معانی نہ ڈھونڈ پانے والوں “جیسے آج ”ماہرِ غالبیات“ کہانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں اس کے شاعر، ادیب چونکا دینے والی فضا کی تخلیق میں لگے رہتے ہیں۔کوئی انوکھی بات، کوئی ایسا تجربہ کہ سننے والے ایک دم عش عش کر اٹھیں۔لیکن مطمحِ نظر چوں کہ محض قاری کو ہکا بکا کر دینا ہوتا ہے، شاعر کے ہاں ایک سطحی پن در آتا ہے۔ اور یہی سطحی پن لمحوں، دنوں یا زیادہ سے زیادہ مہینوں میں اس کی تخلیق کی عمر کا تعین کر دیتا ہے۔ اور یوں ہم چند مشاعروں، کچھ ادبی جریدوں، اور ایک آدھ مجموعہ کلام کے بعد ان شعرا کے ناموں سے بھی نامانوس ہو جاتے ہیں۔تخلیقی گہرائی کا فقدان ان حضرات کو لے ڈوبتا ہے۔واہ واہ تو ذوق کے کلام پر ہوئی لیکن ابدی حیات غالب کے حصے آئی۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">شاہین عباس کے چار شعری مجموعے منصہ شہود پر آ چکے ہیں۔ایک سے بڑھ کر ایک،”اسلوب سے مفہوم تک“ آگے کا سفر شاہین عباس کا وتیرہ رہا۔”خواب میرا لباس“ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ سرسری نظر بیچ کے دو مجموعوں پر ڈالیے اور ”خدا کے دن“، یہاں تک آتے آتے شاعر کن دشوار گھاٹیوں سے ہو آیا ہے اس کا اندازہ کوئی تخلیق کار ذہن ہی لگا سکتا ہے۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ذاتی واردات، خالص ذاتی مشاہدہ، اپنا تجربہ اور گہرا غور وخوض شاہین عباس کی غزل کے بنیادی عناصر ہیں۔ اس کے ہاں ہمیں سنی سنائی باتیں نہیں ملتیں۔سطحی پن نہیں ہے۔ہر چیز ایک خاص ترتیب، خاص سلیقے سے پیش کی گئی ہے کہ اس کے پیچھے ایک جاں کاہ ریاضت ہے۔ ہر چیز کو اپنی تجربہ گاہ سے گزارا گیا ہے۔جہاں اس کا مشاہدہ ،تجربہ اور فکر اس کی عمل انگیز طبیعت کی کٹھالی میں پک کر ایک آمیزے کا روپ دھارتے ہیں۔اور جب یہ آمیزہ ہمارے دل و دماغ پر دستک دیتا ہے تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ کچھ ہے جو بالکل نیا ہے، خالصتاً شاہین کا ہے۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">[COLOR="blue"][CENTER]پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">پھر کہیں اپنی پریشانی کا اندازہ ہوا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">عمر بھر ہم نے فنا کے تجربے خو د پر کئے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">عمر بھر میں عالمِ فانی کا اندازہ ہوا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">تیرے ہاتھوں جل اُٹھے ہم، تیرے ہاتھوں جل بجھے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ہوتے ہوتے آگ اور پانی کا اندازہ ہو ا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اپنی آوازوں کو چپ رہ کر سنا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">تب کہیں جا کر یہ ز یر و بم بنے [/CENTER][/COLOR]</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">شاہین اپنی تاریخ، اپنے ادب اور اپنی مٹی سے جڑا ہوا انسان ہے۔ اس نے غزل کی روایت کے جملہ التزامات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اِسے جدید حسیت سے آشکارا کیا ہے۔ اس کے ہاں معاملات محبت کے ساتھ ساتھ، معاشی، معاشرتی اور سماجی سچائیوں اور درپیش صورتِ حال پر گہری نظر ملتی ہے۔معاشرے میں جاری و ساری ناانصافی، زوال، اور اقدار کی برہمی پر اس کے ہاں شدید لیکن قدرے سنبھلا ہوا رویہ ملتا ہے۔ جھنجھلاہٹ کہیں بھی اس کی راہ کی رکاوٹ نہیں بن پائی۔محبت اورمعاشرتی معاملات پر قلم اٹھاتے ہوئے اکثر تخلیق کار جلد بازی اور سطحی پن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ فوری ردِعمل ان کی تخلیق کا حسن چھین لے جاتا ہے۔ لیکن شاہین کو کوئی جلدی نہیں ۔ وہ تو معاملات کی تہہ تک جانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ اور خوبی، خرابی کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کی جڑ تک پہنچ کر اصل حقائق سے روشناس کراتا ہے۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">[CENTER][COLOR="blue"]میری آنکھوں کا تسلسل تری آنکھیں ہی نہ ہوں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">تیری آنکھوں میں بھی روتا نظر آیا ہے کو ئی</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">خاک پر خاک اُڑا ئی ہے ، محبت کی ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">شہر کو شہر کی تعمیر سے پہچانا ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یوں جو دروازے بج رہے ہیں یہاں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">گھر سے اُٹھّاہے بے گھری کا شور</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">تم نے کیا بات کاٹ دی تھی مری</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">گھر میں آتا رہا گلی کا شور</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">سننے والوں میں اِتنا پردہ ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">کوئی سنتا نہیں کسی کا شور</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">رات کے ٹوٹتے تاروں میں ہمیں رکھا گیا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ہمیں پرکھا گیا گرتے ہوئے معیاروں پر</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">داستاں میں جہاں اک دائمی دن ہو تا تھا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اب وہاں شام اُتر آتی ہے کرداروں پر</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">خواب کو خوش نما بناتے ہوئے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">رات گزری دِیا بناتے ہوئے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">شہر کے شہر کر دئے مسمار</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اپنا خلوت کدہ بناتے ہوئے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">بازا ر میں اجنبی ہوں یعنی</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">پھولوں کی دکان دیکھتا ہو ں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">بھرتے بھرتے بھرے گا وقت کے ساتھ</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">دامنِ داستان ہے سائیں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">گھر کہیں بھی نہیں ، کوئی بھی نہیں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">سب گلی کا گمان ہے سائیں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">آخر در و دیوار کے آنسو نکل آئے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ہم کو نظر آ تی ہی نہ تھی گھر کی اداسی[/COLOR][/CENTER]</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">”اصل“ کی تلاش ہر دور میں انسانی فطرت کا خاصہ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی سرشت میں تفتیش کا مادہ رکھ چھوڑا ہے۔حقیقتِ حال تک رسائی کے لیے ہر دور میں شعرا، ادیب، دانشور، فلاسفہ اپنے اپنے مسلک اور طریقہ کار کے مطابق مصروف کار رہے ہیں۔اس سلسے میں دو مکتبہ ہائے فکر ہمیشہ معروف و مقبول رہے ہیں۔ ایک تصوف یا وجدان اور دوسرا عقلیت یا معقولیت۔ وجدانی کہتے ہیں کہ حقیقت مادی تصورات اور علم کے ذریعے ہماری آگاہی میں نہیں آ سکتی۔ اور عقلیت پرست طبقہ دوسرے سرے پر کھڑا نظر آتا ہے۔ شاہین نے کمال یہ کر دکھایا ہے کہ وجدان اور عقلیت دونوں کو شانہ بہ شانہ لے کر چلا ہے۔ اور جہاں جیسے جو ممکن ہوا، کر دکھایا۔وہ سوال اٹھاتا ہے، وہی صدیوں پرانے سوالات، لیکن پیرایہ اظہار اور اندازبیان اسے دوسروں سے کوسوں دور رکھتے ہیں۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">[CENTER][COLOR="blue"]کبھی حیراں، کبھی ویراں ، تو کبھی شاد آباد</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">میں خلل ڈالتا آیا ہوں جہاں میں ایسا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">حاشیے کے دونوں جانب نام ہیں ، اور صرف نام</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یہ جو خالی ہے جگہ ، یہ بھی کسی کا نام ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">میں سیڑھیاں چڑھتا چلا جاتا ہوں کہ جالوں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اوپر کی وہ تنہائی ، وہ اوپر کی اداسی</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">شہر میں داخلے کی شرط ، جسم نہیں تھا ، روح تھی</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">جسم کا جسم رکھ دیا ،سر سے کہیں اتار کر</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">رات اک دہلیز ایسی آ گئی تھی خواب میں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">رات کچھ کچھ اپنی پیشانی کا اندازہ ہوا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">کوئی تو بات ہے کہ دن آج بھی ختم ہو گیا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یوں ہی یہ رات ہے رواں ، پھر بھی رواں یونہی نہیں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">سمتوں کا اِس قدر خیال ؟ سمتوں کا اِس قدر ملال؟</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">چاروں کے بیچ بیٹھ کر ، چاروں کا غم کیا گیا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ہمیں توآتے جاتے ہی ملا ہے جب بھی دیکھا ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یہ روزانہ کا جھونکا کیا پتہ کتنا پرانا ہے[/COLOR][/CENTER]</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">شاہین کا اصل مسئلہ” خدا“ نہیں” انسان“ ہے ۔ اسے انسان سے دل چسپی ہے۔ اپنے جیسے جیتے جاگتے انسان سے۔ اس انسان کے معمولات سے، اس کے شب و روز سے، اس انسان کی خوشیاں، اس کے دکھ سکھ اس کی شاعری کا موضوع ہیں۔ عہدِ حاضر کا انسان جن نفسیاتی مسائل سے دوچار ہے، شاہین کے ہاں ان کا انتہائی مخلصانہ تجزیہ ملتا ہے۔ اس انسان کی حقیقت کیا ہے، اور حیثیت کیا؟ یہی وہ چیزیں ہیں جو اس کے شب و روز کا وظیفہ ہیں۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">[COLOR="blue"][CENTER]ایک شکن وصال کی ، ایک شکن فراق کی</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">سِلوٹیں پڑ گئیں ہیں دو ، جامہ ءدستیاب میں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اب جو گھر اِن پہ گرا ہے تو کُھلے ہیں ، ورنہ</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یہ مکیں ، لگتا نہیں تھا ، کہ مکاں والے ہیں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">مٹی کو عذاب ہو رہا ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">تعمیر مری تمام کیجئے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">پتھر ہے، کلام جانتا ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اس شخص کو ہم کلام کیجئے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">لوگ ہم جیسے بھی کچھ دیر گوارا کیے جائیں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ایک نام ایک ندا پر جو گزارا کیے جائیں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">شہر کا ماجرا نہ پوچھ، شہر تو یوں ہوا کہ بس!</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">گھر میں کوئی گلی ہوئی، جیسے گلی میں گھر ہوا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">گم شدہ شخص تھا سو میں پایا گیا وہیں کہیں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">خواب کی لو جہاں پڑی، خاک کا رخ جدھر ہوا[/CENTER][/COLOR]</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">yeats	 نے ایک جگہ لکھا ہے کہ وقت کے علاوہ اس کا کوئی دشمن نہیں ہے۔ وقت، خصوصاً گزرتا وقت شاہین عباس کا مسئلہ بھی ہے لیکن شاہین عباس نے وقت کو دشمن کی شکل میں پیش کرنے کی بجائے ایک منصف اور جاری و ساری قوت کے طور پر ابھارا ہے۔انسان اپنے معاملات میں اس قدر الجھ کر رہ جاتا ہے کہ وہ گزرتے وقت سے قطعی بے خبر ہو کر رہ جاتا ہے۔ رواں دواں وقت کے تقاضے اس کے دھیان کی قرطاس پر اپنی جگہ نہیں بنا پاتے اور جس وقت اسے اپنی اس کوتاہی کا احساس ہوتاہے، منظر بدل چکا ہوتا ہے۔ بہت کچھ پیچھے رہ جاتا ہے۔اور انسان پچھتاوے اور مایوسی کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔بعدازاں یہی پچھتاوا اور مایوسی اس کے مسائل کے بنیادی مآخذٹھہرتے ہیں۔ماضی اسکے دھیان میں گونجے لگتا ہے۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">[CENTER][COLOR="blue"]پانی یہاں سے چل دیا ، تجھ کو پکارتا ہوا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">بیٹھا اب اپنے حوض پر ، پانی کا انتظار کر</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ایک گھیرا وقت کا ہے دوسرا نا وقت کا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">خود نگر ! کچھ اپنی نگرانی کا اندازہ ہو ا؟</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">آج گئے دنوں کے ساتھ ، اپنی گلی میں کیا گئے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">بند تھا در ، خفا ہوا ، خالی تھا گھر ، برس پڑا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">انگلیا ں خاک میں اب پھیر رہے ہیں افسوس</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">بات نمٹا نہ سکے لوح و قلم ہوتے ہوئے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">گلی کی ساری تصویروں میں جیسے جان پڑ جاتی</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یہ آوازہ ، بُرا کیا تھا ، اگر آواز ہو سکتا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یہ دن اور رات جس جانب اُڑے جاتے ہیں صدیوں سے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">کہیں رُکتے ، تو میں بھی شاملِ پرواز ہو سکتا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">چلتے پانی کا کیا کیا جائے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اِس کہانی کا کیا  کیا جائے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">پانی پہ مذاق بن  گئے ہم</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">کشتی میں نہ تھی جگہ ہماری</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یہ وقت کا آخری  ورق ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اور یہ بھی کہیں اُلٹ نہ جائے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ہم تھے کہ رات دن کے داغ ، جیسے صدی صدی کے باغ</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یعنی گزرتے وقت کا ، ہم پہ بہت اثر ہوا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">عجب کیا وقت کا یہ آخری پھیرا ہو یاں پر</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">گلی کوچے اب اِس رہ گیر سے تنگ آ گئے ہیں[/COLOR][/CENTER]</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ظفر اقبال نے ”وابستہ کے دیباچے میں شاہین عباس کو کرافٹ کا آدمی قرار دیا ہے۔ ہم اس بات سے کلیتاً اتفاق کرتے ہیں لیکن اس میں اس قدر اضافہ کرنا چاہیں گے کہ شاہین محض کرافٹ نہیں، بلکہ فکر اور گہرا شعور رکھنے والا انسان بھی ہے۔ اس کے خیالات ، احساسات،اس کے موضوعات کا تنوع اسے اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتے ہیں۔اس پر یہ کہ اس کی ہاں اپنے موضوعات کی پیش کش کا جو انداز سامنے آتا ہے وہ انتہائی دلکش اور انوکھا ہے۔وہ اپنی سحرکار پیکر تراشی اور نادرہ کار استعارہ سازی، نئے تلازموں، نئے اظہاری سانچوں اور خوش آہنگ تراکیب کے ذریعے مفاہیم اور اسلوب کے نئے جہان دریافت کرتا چلا جا رہا ہے۔شاہین عباس کی شاعری ہر لحاظ سے ایک نئے عہد میں ایک نئے انسان کی شاعری ہے جس کے مسائل اگلوں سے مختلف ہیں۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">شاہین عباس کا تخلیقی سفر جاری ہے۔”خدا کے دن“ میں درج تجربات اس بات کی گواہی کو بہت ہیں کہ ایک جہانِ معنی اس کے سامنے ہے، جس پر اس کی گرفت دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">[CENTER][COLOR="blue"]کچھ اضافہ کیا ہے کچھ ترمیم</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">خود کو اک واقعہ بنا دیا ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یہ جو ہم کچھ کہتے کہتے کچھ بھی کہ پاتے نہیں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">زندگی شاید اِسی پیغمبری کا نام ہے[/COLOR][/CENTER]</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">[LEFT][COLOR="Red"](نوید صادق)[/COLOR][/LEFT]</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یہ مضمون شاہین عباس کی کتاب ’’خدا کے دن ‘‘ کی تقریب میں پڑھا گیا۔ بعدازاں ماہنامہ &#8220;بیاض ‘‘ میں شائع بھی ہوا۔</div>
<p style="text-align: right;">پیکٹ کھلا اور شاہین عباس کا مجموعہ کلام ”خدا کے دن“ ہمارے سامنے تھا۔ یہ کیا نام ہوا؟ اس کے پیچھے کیا بات ہے؟ عام بات، عام کام۔۔۔ وہ تو خیر ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ شاہین کی فطرت میں نہیں۔ لیکن یہ نام ؟؟ میرے خدا! ”خدا کے دن“ اس نام کی تعبیر میں کتنے دن گزر گئے۔	اور وہ شعر جس سے یہ نام اخذ کیا گیا ،کیا بھلا شعر ہے لیکن یہ بھی ایک عجیب بات ہے، شاید اسی لئے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شاہین کی شاعری سر کے اوپر سے گزر جاتی ہے۔اس میں قصور سر کا ہی گنا جائے گا، شاہین کی شاعری کا نہیں کہ وہ شریف انسان تو شاعری میں پلا بڑھا ہے۔ شاعری اس کا اوڑھنا بچھونا ہے۔یہ دعویٰ تو خیر ہمارے عہد میں کتنے ہی لوگوں کو ہے لیکن تھوڑا برائے نام اور تھوڑا بناوٹی۔ بال بڑھا لئے، حلیہ اوٹ پٹانگ کر لیا، شاعری اور اساتذہء شعر پر ایک دو اعتراضات داغ دیے اور سمجھے کہ شاعری ان کا اوڑھنا بچھونا ہو لی۔ یہ دعوے، یہ اوٹ پٹانگ دعوے اخباروں میں پڑھتے، مجلسوں میں سنتے لطف بھی آتا ہے کہ ہم سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے جو ہوئے۔ اُدھر کسی کی پگڑی اچھلی اور اِدھر یار لوگوں کی باچھیں پھٹنے کو آ گئیں۔ 	یہ اوٹ پٹانگ باتیں ہمارا موضوع نہیں لیکن کیا کیا جائے کہ بات سے بات نکل آتی ہے اور ضبط لازم ہوتے ہوئے بھی ہو نہیں پاتا۔شاہین عباس ایک شاعر ہے، اچھا شاعر ہے، منفرد شاعر ہے،ایک عرصے سے یہ باتیں ہو رہی ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ہے ، ہم یہ دعوے کیوں کر رہے ہیں؟؟ اس پر کبھی ہم نے شاید غور کرنے کی زحمت نہیں کی۔نفسا نفسی کا عالم ہے۔جی !یہ میرا آپ کا کام بھی نہیں۔ یہ تو نقادوں کا کام ہے کہ اس کے کلام کی ابعاد دریافت کریں ۔ وہ جو سب کو اچھا لگتا ہے، اس کا اچھا پن بیان کیا جائے، اس کی خامیاں سامنے لائی جائیں۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ نقاد بوڑھے ہو لیے، اب وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے جو کہنا تھا، جو کرنا تھا وہ کر چکے۔ اب نیا شاعر اپنا نقاد اپنے ساتھ لے کر آئے۔ بات جچتی ہے لیکن نیا نقاد کہاں سے آئے گا۔میں آپ سب نقاد ہیں۔ لیکن ضرورت حوصلے کی ہے اور نیا نقاد یعنی میں اور آپ ابھی اپنے اندر اتنا حوصلہ پیدا ہی نہیں کر پائے کہ شاہین عباس جیسے توانا شاعر پر کُھل کر بات کر سکیں۔ سب سے بڑا مسئلہ تو شاہین خود ہے کہ بحیثیت انسان وہ جتنا سادہ اور عام روشا ہے،بطور شاعر اتنا ہی گنجلک۔ اب اس کتاب کے نام کو ہی لے لیجئے ”خدا کے دن“۔ ایک منٹ ذرا اس شعر کو بھی تو دیکھ لیں<br />
[COLOR="Blue"][CENTER]ایک لکیر شام کی، کہتی تھی درمیاں کی باتخلقِ خدا کا ایک دن، باقی ہیں سب خدا کے دن[/CENTER][/COLOR]  	بات کدھر سے کدھر جا نکلی۔تو بھائی بات یہ ہے کہ یہ سیدھا سادا،دھان پان سا انسان اپنے اندر جس شاعر کو لیے پھرتا ہے وہ عام قاری کا شاعر نہیں ہے۔اس کو نہ صرف اپنا نقاد خود پیدا کرنا ہو گا، بلکہ اپنی سطح کے قاری بھی دریافت کرنا ہوں گے۔لیکن میرے اس دعوے کو کوئی غلط رُخ نہ دیا جائے۔ مرزا نوشہ نے کہا تھا نہ سہی گر مرے اشعار میں معنی نہ سہی	یہ مرزا غالب کا مسئلہ ہی نہیں تھا۔ لوگ لاکھ اعتراض جڑتے رہیں ادھر پروا کس کو ہے۔ آخر کو کیا ہوا؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ آج غالب فہمی اپنے عروج پر ہے اور اُس وقت کے” معانی نہ ڈھونڈ پانے والوں “جیسے آج ”ماہرِ غالبیات“ کہانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔	ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں اس کے شاعر، ادیب چونکا دینے والی فضا کی تخلیق میں لگے رہتے ہیں۔کوئی انوکھی بات، کوئی ایسا تجربہ کہ سننے والے ایک دم عش عش کر اٹھیں۔لیکن مطمحِ نظر چوں کہ محض قاری کو ہکا بکا کر دینا ہوتا ہے، شاعر کے ہاں ایک سطحی پن در آتا ہے۔ اور یہی سطحی پن لمحوں، دنوں یا زیادہ سے زیادہ مہینوں میں اس کی تخلیق کی عمر کا تعین کر دیتا ہے۔ اور یوں ہم چند مشاعروں، کچھ ادبی جریدوں، اور ایک آدھ مجموعہ کلام کے بعد ان شعرا کے ناموں سے بھی نامانوس ہو جاتے ہیں۔تخلیقی گہرائی کا فقدان ان حضرات کو لے ڈوبتا ہے۔واہ واہ تو ذوق کے کلام پر ہوئی لیکن ابدی حیات غالب کے حصے آئی۔	شاہین عباس کے چار شعری مجموعے منصہ شہود پر آ چکے ہیں۔ایک سے بڑھ کر ایک،”اسلوب سے مفہوم تک“ آگے کا سفر شاہین عباس کا وتیرہ رہا۔”خواب میرا لباس“ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ سرسری نظر بیچ کے دو مجموعوں پر ڈالیے اور ”خدا کے دن“، یہاں تک آتے آتے شاعر کن دشوار گھاٹیوں سے ہو آیا ہے اس کا اندازہ کوئی تخلیق کار ذہن ہی لگا سکتا ہے۔	ذاتی واردات، خالص ذاتی مشاہدہ، اپنا تجربہ اور گہرا غور وخوض شاہین عباس کی غزل کے بنیادی عناصر ہیں۔ اس کے ہاں ہمیں سنی سنائی باتیں نہیں ملتیں۔سطحی پن نہیں ہے۔ہر چیز ایک خاص ترتیب، خاص سلیقے سے پیش کی گئی ہے کہ اس کے پیچھے ایک جاں کاہ ریاضت ہے۔ ہر چیز کو اپنی تجربہ گاہ سے گزارا گیا ہے۔جہاں اس کا مشاہدہ ،تجربہ اور فکر اس کی عمل انگیز طبیعت کی کٹھالی میں پک کر ایک آمیزے کا روپ دھارتے ہیں۔اور جب یہ آمیزہ ہمارے دل و دماغ پر دستک دیتا ہے تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ کچھ ہے جو بالکل نیا ہے، خالصتاً شاہین کا ہے۔<br />
[COLOR="blue"][CENTER]پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا پھر کہیں اپنی پریشانی کا اندازہ ہواعمر بھر ہم نے فنا کے تجربے خو د پر کئے	 عمر بھر میں عالمِ فانی کا اندازہ ہواتیرے ہاتھوں جل اُٹھے ہم، تیرے ہاتھوں جل بجھے ہوتے ہوتے آگ اور پانی کا اندازہ ہو ا</p>
<p>اپنی آوازوں کو چپ رہ کر سنا تب کہیں جا کر یہ ز یر و بم بنے [/CENTER][/COLOR]<br />
شاہین اپنی تاریخ، اپنے ادب اور اپنی مٹی سے جڑا ہوا انسان ہے۔ اس نے غزل کی روایت کے جملہ التزامات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اِسے جدید حسیت سے آشکارا کیا ہے۔ اس کے ہاں معاملات محبت کے ساتھ ساتھ، معاشی، معاشرتی اور سماجی سچائیوں اور درپیش صورتِ حال پر گہری نظر ملتی ہے۔معاشرے میں جاری و ساری ناانصافی، زوال، اور اقدار کی برہمی پر اس کے ہاں شدید لیکن قدرے سنبھلا ہوا رویہ ملتا ہے۔ جھنجھلاہٹ کہیں بھی اس کی راہ کی رکاوٹ نہیں بن پائی۔محبت اورمعاشرتی معاملات پر قلم اٹھاتے ہوئے اکثر تخلیق کار جلد بازی اور سطحی پن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ فوری ردِعمل ان کی تخلیق کا حسن چھین لے جاتا ہے۔ لیکن شاہین کو کوئی جلدی نہیں ۔ وہ تو معاملات کی تہہ تک جانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ اور خوبی، خرابی کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کی جڑ تک پہنچ کر اصل حقائق سے روشناس کراتا ہے۔<br />
[CENTER][COLOR="blue"]میری آنکھوں کا تسلسل تری آنکھیں ہی نہ ہوں تیری آنکھوں میں بھی روتا نظر آیا ہے کو ئی<br />
خاک پر خاک اُڑا ئی ہے ، محبت کی ہےشہر کو شہر کی تعمیر سے پہچانا ہے</p>
<p>یوں جو دروازے بج رہے ہیں یہاں	گھر سے اُٹھّاہے بے گھری کا شور			تم نے کیا بات کاٹ دی تھی مریگھر میں آتا رہا گلی کا شور<br />
سننے والوں میں اِتنا پردہ ہے	کوئی سنتا نہیں کسی کا شور<br />
رات کے ٹوٹتے تاروں میں ہمیں رکھا گیاہمیں پرکھا گیا گرتے ہوئے معیاروں پرداستاں میں جہاں اک دائمی دن ہو تا تھااب وہاں شام اُتر آتی ہے کرداروں پر<br />
خواب کو خوش نما بناتے ہوئے  رات گزری دِیا بناتے ہوئے شہر کے شہر کر دئے مسماراپنا خلوت کدہ بناتے ہوئے<br />
بازا ر میں اجنبی ہوں یعنی پھولوں کی دکان دیکھتا ہو ں<br />
بھرتے بھرتے بھرے گا وقت کے ساتھدامنِ داستان ہے سائیںگھر کہیں بھی نہیں ، کوئی بھی نہیںسب گلی کا گمان ہے سائیں<br />
آخر در و دیوار کے آنسو نکل آئے ہم کو نظر آ تی ہی نہ تھی گھر کی اداسی[/COLOR][/CENTER]<br />
”اصل“ کی تلاش ہر دور میں انسانی فطرت کا خاصہ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی سرشت میں تفتیش کا مادہ رکھ چھوڑا ہے۔حقیقتِ حال تک رسائی کے لیے ہر دور میں شعرا، ادیب، دانشور، فلاسفہ اپنے اپنے مسلک اور طریقہ کار کے مطابق مصروف کار رہے ہیں۔اس سلسے میں دو مکتبہ ہائے فکر ہمیشہ معروف و مقبول رہے ہیں۔ ایک تصوف یا وجدان اور دوسرا عقلیت یا معقولیت۔ وجدانی کہتے ہیں کہ حقیقت مادی تصورات اور علم کے ذریعے ہماری آگاہی میں نہیں آ سکتی۔ اور عقلیت پرست طبقہ دوسرے سرے پر کھڑا نظر آتا ہے۔ شاہین نے کمال یہ کر دکھایا ہے کہ وجدان اور عقلیت دونوں کو شانہ بہ شانہ لے کر چلا ہے۔ اور جہاں جیسے جو ممکن ہوا، کر دکھایا۔وہ سوال اٹھاتا ہے، وہی صدیوں پرانے سوالات، لیکن پیرایہ اظہار اور اندازبیان اسے دوسروں سے کوسوں دور رکھتے ہیں۔<br />
[CENTER][COLOR="blue"]کبھی حیراں، کبھی ویراں ، تو کبھی شاد آبادمیں خلل ڈالتا آیا ہوں جہاں میں ایسا<br />
حاشیے کے دونوں جانب نام ہیں ، اور صرف نامیہ جو خالی ہے جگہ ، یہ بھی کسی کا نام ہے<br />
میں سیڑھیاں چڑھتا چلا جاتا ہوں کہ جالوں اوپر کی وہ تنہائی ، وہ اوپر کی اداسی<br />
شہر میں داخلے کی شرط ، جسم نہیں تھا ، روح تھی  جسم کا جسم رکھ دیا ،سر سے کہیں اتار کر<br />
رات اک دہلیز ایسی آ گئی تھی خواب میں رات کچھ کچھ اپنی پیشانی کا اندازہ ہوا<br />
کوئی تو بات ہے کہ دن آج بھی ختم ہو گیایوں ہی یہ رات ہے رواں ، پھر بھی رواں یونہی نہیں<br />
سمتوں کا اِس قدر خیال ؟ سمتوں کا اِس قدر ملال؟چاروں کے بیچ بیٹھ کر ، چاروں کا غم کیا گیا<br />
ہمیں توآتے جاتے ہی ملا ہے جب بھی دیکھا ہےیہ روزانہ کا جھونکا کیا پتہ کتنا پرانا ہے[/COLOR][/CENTER]<br />
شاہین کا اصل مسئلہ” خدا“ نہیں” انسان“ ہے ۔ اسے انسان سے دل چسپی ہے۔ اپنے جیسے جیتے جاگتے انسان سے۔ اس انسان کے معمولات سے، اس کے شب و روز سے، اس انسان کی خوشیاں، اس کے دکھ سکھ اس کی شاعری کا موضوع ہیں۔ عہدِ حاضر کا انسان جن نفسیاتی مسائل سے دوچار ہے، شاہین کے ہاں ان کا انتہائی مخلصانہ تجزیہ ملتا ہے۔ اس انسان کی حقیقت کیا ہے، اور حیثیت کیا؟ یہی وہ چیزیں ہیں جو اس کے شب و روز کا وظیفہ ہیں۔<br />
[COLOR="blue"][CENTER]ایک شکن وصال کی ، ایک شکن فراق کی سِلوٹیں پڑ گئیں ہیں دو ، جامہ ءدستیاب میں		 اب جو گھر اِن پہ گرا ہے تو کُھلے ہیں ، ورنہ	 یہ مکیں ، لگتا نہیں تھا ، کہ مکاں والے ہیں	 	مٹی کو عذاب ہو رہا ہےتعمیر مری تمام کیجئےپتھر ہے، کلام جانتا ہےاس شخص کو ہم کلام کیجئے	لوگ ہم جیسے بھی کچھ دیر گوارا کیے جائیںایک نام ایک ندا پر جو گزارا کیے جائیں			شہر کا ماجرا نہ پوچھ، شہر تو یوں ہوا کہ بس!گھر میں کوئی گلی ہوئی، جیسے گلی میں گھر ہواگم شدہ شخص تھا سو میں پایا گیا وہیں کہیںخواب کی لو جہاں پڑی، خاک کا رخ جدھر ہوا[/CENTER][/COLOR]		yeats	 نے ایک جگہ لکھا ہے کہ وقت کے علاوہ اس کا کوئی دشمن نہیں ہے۔ وقت، خصوصاً گزرتا وقت شاہین عباس کا مسئلہ بھی ہے لیکن شاہین عباس نے وقت کو دشمن کی شکل میں پیش کرنے کی بجائے ایک منصف اور جاری و ساری قوت کے طور پر ابھارا ہے۔انسان اپنے معاملات میں اس قدر الجھ کر رہ جاتا ہے کہ وہ گزرتے وقت سے قطعی بے خبر ہو کر رہ جاتا ہے۔ رواں دواں وقت کے تقاضے اس کے دھیان کی قرطاس پر اپنی جگہ نہیں بنا پاتے اور جس وقت اسے اپنی اس کوتاہی کا احساس ہوتاہے، منظر بدل چکا ہوتا ہے۔ بہت کچھ پیچھے رہ جاتا ہے۔اور انسان پچھتاوے اور مایوسی کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔بعدازاں یہی پچھتاوا اور مایوسی اس کے مسائل کے بنیادی مآخذٹھہرتے ہیں۔ماضی اسکے دھیان میں گونجے لگتا ہے۔<br />
[CENTER][COLOR="blue"]پانی یہاں سے چل دیا ، تجھ کو پکارتا ہوا 	بیٹھا اب اپنے حوض پر ، پانی کا انتظار کر<br />
ایک گھیرا وقت کا ہے دوسرا نا وقت کا	 خود نگر ! کچھ اپنی نگرانی کا اندازہ ہو ا؟<br />
آج گئے دنوں کے ساتھ ، اپنی گلی میں کیا گئے  بند تھا در ، خفا ہوا ، خالی تھا گھر ، برس پڑا<br />
انگلیا ں خاک میں اب پھیر رہے ہیں افسوسبات نمٹا نہ سکے لوح و قلم ہوتے ہوئے<br />
گلی کی ساری تصویروں میں جیسے جان پڑ جاتی	 یہ آوازہ ، بُرا کیا تھا ، اگر آواز ہو سکتایہ دن اور رات جس جانب اُڑے جاتے ہیں صدیوں سےکہیں رُکتے ، تو میں بھی شاملِ پرواز ہو سکتا چلتے پانی کا کیا کیا جائے  اِس کہانی کا کیا  کیا جائے	پانی پہ مذاق بن  گئے ہم	 کشتی میں نہ تھی جگہ ہماری<br />
یہ وقت کا آخری  ورق ہے	 اور یہ بھی کہیں اُلٹ نہ جائے<br />
ہم تھے کہ رات دن کے داغ ، جیسے صدی صدی کے باغ	 یعنی گزرتے وقت کا ، ہم پہ بہت اثر ہوا	عجب کیا وقت کا یہ آخری پھیرا ہو یاں پر	گلی کوچے اب اِس رہ گیر سے تنگ آ گئے ہیں[/COLOR][/CENTER]<br />
ظفر اقبال نے ”وابستہ کے دیباچے میں شاہین عباس کو کرافٹ کا آدمی قرار دیا ہے۔ ہم اس بات سے کلیتاً اتفاق کرتے ہیں لیکن اس میں اس قدر اضافہ کرنا چاہیں گے کہ شاہین محض کرافٹ نہیں، بلکہ فکر اور گہرا شعور رکھنے والا انسان بھی ہے۔ اس کے خیالات ، احساسات،اس کے موضوعات کا تنوع اسے اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتے ہیں۔اس پر یہ کہ اس کی ہاں اپنے موضوعات کی پیش کش کا جو انداز سامنے آتا ہے وہ انتہائی دلکش اور انوکھا ہے۔وہ اپنی سحرکار پیکر تراشی اور نادرہ کار استعارہ سازی، نئے تلازموں، نئے اظہاری سانچوں اور خوش آہنگ تراکیب کے ذریعے مفاہیم اور اسلوب کے نئے جہان دریافت کرتا چلا جا رہا ہے۔شاہین عباس کی شاعری ہر لحاظ سے ایک نئے عہد میں ایک نئے انسان کی شاعری ہے جس کے مسائل اگلوں سے مختلف ہیں۔ 	شاہین عباس کا تخلیقی سفر جاری ہے۔”خدا کے دن“ میں درج تجربات اس بات کی گواہی کو بہت ہیں کہ ایک جہانِ معنی اس کے سامنے ہے، جس پر اس کی گرفت دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔<br />
[CENTER][COLOR="blue"]کچھ اضافہ کیا ہے کچھ ترمیمخود کو اک واقعہ بنا دیا ہے<br />
یہ جو ہم کچھ کہتے کہتے کچھ بھی کہ پاتے نہیں زندگی شاید اِسی پیغمبری کا نام ہے[/COLOR][/CENTER] ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔[LEFT][COLOR="Red"](نوید صادق)[/COLOR][/LEFT]</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ مضمون شاہین عباس کی کتاب ’’خدا کے دن ‘‘ کی تقریب میں پڑھا گیا۔ بعدازاں ماہنامہ &#8220;بیاض ‘‘ میں شائع بھی ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://nawaiadab.com/%d8%ae%d8%af%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%86-%d8%a7%d8%b2-%d9%86%d9%88%db%8c%d8%af-%d8%b5%d8%a7%d8%af%d9%82/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>وشوامتر &#8211; ناصر علی (مضمون از محمد وارث)</title>
		<link>http://nawaiadab.com/%d9%88%d8%b4%d9%88%d8%a7%d9%85%d8%aa%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%b5%d8%b1-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%b6%d9%85%d9%88%d9%86-%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%88%d8%a7%d8%b1%d8%ab/</link>
		<comments>http://nawaiadab.com/%d9%88%d8%b4%d9%88%d8%a7%d9%85%d8%aa%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%b5%d8%b1-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%b6%d9%85%d9%88%d9%86-%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%88%d8%a7%d8%b1%d8%ab/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 11 Apr 2011 07:40:35 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضمون]]></category>
		<category><![CDATA[مضمون --- محمد وارث]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://nawaiadab.com/?p=1733</guid>
		<description><![CDATA[یہ مضمون کچھ دن قبل فیس بُک پر ایک ادبی گروپ میں منعقدہ جناب ناصر علی کی کتاب &#8220;اور&#8221; کی تقریبِ رونمائی کیلیے لکھا گیا تھا، یہاں بھی دوستوں کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ &#8212;&#8212; بات کو ایک وضاحت سے شروع کرنے کے سوا میرے پاس کوئی چارہ نہیں ہے اور وہ یہ کہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یہ مضمون کچھ دن قبل فیس بُک پر ایک ادبی گروپ میں منعقدہ جناب ناصر علی کی کتاب &#8220;اور&#8221; کی تقریبِ رونمائی کیلیے لکھا گیا تھا، یہاں بھی دوستوں کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">&#8212;&#8212;</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">بات کو ایک وضاحت سے شروع کرنے کے سوا میرے پاس کوئی چارہ نہیں ہے اور وہ یہ کہ خاکسار نہ تو کوئی نقاد ہے اور نہ ہی اس کا کتابوں پر مضمون لکھنے کا کوئی تجربہ ہے بلکہ کسی بھی کتاب پر مضمون لکھنے کا یہ پہلا تجربہ ہے۔، بلکہ پہلا تجربہ کیا مجھے تو کوئی کتاب بھی اس طرح زندگی میں پہلی بار ملی ہے، اس سے پہلے ایک دو ادبی جریدے ملے تھے لیکن کتاب کا ملنا ایک بالکل ہی نیا تجربہ تھا اور اس پر مستزاد مضمون لکھنا سو اس مضمون میں روایتی اور سکہ بند ادبی مضمونوں والی یقیناً کوئی بات نہیں ہوگی بلکہ کتاب پڑھ کر جو بھی میں نے محسوس کیا صاف صاف اور سیدھے سیدھے لفظوں میں لکھ دیا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے ناصر علی صاحب کی کتاب کو تختۂ مشق بنایا ہے، اور اس کا آپ کو پورا حق ہے، لیکن یہ بات کہنے کا مجھے بھی حق ہے کہ ناصر علی صاحب نے خود اپنی کتاب کو میرے ہاتھوں سے تختۂ مشق بنوایا ہے سو اس مضمون کے پردے سے جو کچھ بھی نکلے گا اس کی ساری ذمہ داری ناصر علی صاحب پر ہے۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">کوئی دو ہفتے ادھر کی بات ہے، شام کو تھکا ہارا اپنے کمرے میں بیٹھا تھا، حسبِ معمول سوچ رہا تھا کہ کیا پڑھوں، آزاد کی دربارِ اکبری شروع کر رکھی تھی لیکن اس کو پڑھنے کو دل نہیں کر رہا تھا، آزاد کی انشا پردازی اپنی جگہ لیکن کچھ معرکوں کو اتنی طوالت دی ہے کہ جی اوب جاتا ہے اور میں کتاب کے کسی ایسے ہی مقام پر تھا، ابھی انہی سوچوں میں تھا کہ آج کی رات کس کے ساتھ بسر کی جائے کہ فون کی گھنٹی بجی فون کسی اجنبی نمبر سے تھا، خیر سنا، آواز آئی۔ &#8220;ایک لاوارث، محمد وارث کو ڈھونڈ رہا ہے۔&#8221; یقین مانیے یہ شگفتہ جملہ سن کر ساری تھکاوٹ اور کلفت ہوا ہو گئی اور کچھ دیر تک خوب مزے کی گپ شپ ہوئی اور اگلی گفتگو کیلیے یہ بات تمہید ہو گئی۔ یہ تھا میرا ناصر علی صاحب سے تعارف، گو فیس بُک پر ان سے &#8220;آشنائی&#8221; تھی لیکن فیس بُک کی آشنائی کسی کالج یا یونیورسٹی کے مختلف جماعتوں کے طالب علموں کی آپس میں آشنائی جیسی ہی ہوتی ہے۔ اس پہلی گفگتو میں ناصر علی صاحب نے مجھے دو کتابیں بھیجنے کا مژدہ سنایا، ایک رفیع رضا صاحب کی اور ایک انکی اپنی &#8220;اور&#8221; جس کی تقریب کے سلسلے میں ہم سب موجود ہیں۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">خیر، ایک دو دن بعد دونوں کتابیں ملیں، اور جیسا کہ بہت سے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ ایک دم ہی سے کتاب ابتدا سے شروع نہیں کرتے، میں نے بھی کتاب کی ورق گردانی شروع کی جیسے جیسے اشعار نظر سے گزرتے گئے، میں سرشار ہوتا گیا اور غالب کا مصرع &#8220;میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے&#8221; بار بار دماغ میں تازہ ہوتا رہا۔ ناصر صاحب سے پھر بات ہوئی نے ان کا حکم تھا کہ اس پر کچھ لکھوں بھی۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">لکھنے کا ذہن میں آیا تو سب سے پہلے جو لفظ میرے ذہن میں آیا وہ &#8220;وشوامتر&#8221; تھا، یہ ہزاروں سال قبل کے ایک رشی کا نام، ہے جس کا لفظی فارسی ترجمہ علامہ اقبال نے &#8220;جاوید نامہ&#8221; میں &#8220;جہان دوست&#8221; کے نام سے کیا ہے۔ اور ناصر علی کی ذات اور کتاب پر مضمون کیلیے مجھے یہ نام انتہائی موزوں لگا کیونکہ ناصر علی جہان دوست ہیں۔ کچھ عرض کر دوں۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">علم دوست ایک اصطلاح ہے جو بہت مشہور ہے اور بہت فخر کے ساتھ استعمال کی جاتی ہے لیکن یہ علم دوست اصطلاح بہت گمراہ کن ہے، خالی خولی علم دوستی کسی کام کی نہیں ہے، کیونکہ صرف علم سے محبت ضروری نہیں کہ آدمی کو انسان بنا دے، علم آدمی کو وحشی درندہ بھی بنا سکتا ہے اور اس نے بنایا ہے، تاریخِ عالم اس بات پر گواہ ہے اور اسی لیے مولانا رُومی نے کہا تھا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">علم را بر تن زنی مارے بُوَد</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">علم را بر دل زنی یارے بُوَد</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">علم دوستی کے ساتھ اگر انسان دوستی نہیں ہوگی تو وہ علم سانپ ہی بنے گا، اور اگر علم دوستی کے ساتھ انسان دوستی بھی شامل ہو جائے تو وہ جہان دوستی ہو جائے گی اور مجھے کہنے دیجیئے کہ ناصر علی کہ شاعری میں علم دوستی کے ساتھ انسان دوستی ہے اور وہ خود جہان دوست ہیں یعنی کہ وشوامتر۔ اور جو جہان دوست ہے وہ سب سے پیار کرے گا، اس جہان سے بھی جو &#8220;فتنہ و فساد&#8221; کی آماجگاہ ہے، دیکھیے گا کیا کہتے ہیں ناصر علی</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">جہانِ خوبصورت میں ہوا خوش</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">میں اس مٹی کی مورت میں ہوا خوش</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">میں لامکاں کے لیے کیوں مکاں کو رد کر دوں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">زمیں اماں ہے میں کیسے اماں کو رد کر دوں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ایسا انسان دل کا صاف ہوگا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ناصر علی میں نے دلِ زندہ میں بہت کچھ</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">رکھا ہے مگر میل ملا کر نہیں رکھا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ایسا انسان دینِ محبت کا ماننے والا اور کیشِ انسانیت پر چلنے والا ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ہمارا دین تو ناصر علی محبت ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اسی طرح کے مسلمان میں خدا ملے گا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">سامنے اس کے کھڑے ہو کے کھڑے کیا ہونگے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یار ہم لوگ محبت سے بڑے کیا ہونگے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">زباں پہ لفظ، بدن میں لہو محبت ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">تجھے خبر ہی نہیں ہے کہ تو محبت ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">آدم زادو، سب کا اس میں فائدہ ہوگا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">انسانیت تو سب کے مطلب کا حق ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ایسا انسان وسیع المشرب صوفی ہوگا، جو پکار پکار کر کہے گا کہ اے خدا کے بندو اگر کسی منزل کی تلاش ہی میں ہو تو اپنی نظر منزل پر رکھو، راہ اور راستے کے جھگڑوں میں کیوں پڑتے ہو، پیار محبت کے ساتھ بھی تو یہ راستے کاٹے جا سکتے ہیں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اس دنیا کے خالق کے گھر جانے والے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">جتنے ہم ہیں اتنے رستے ہو سکتے ہیں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">بجھاؤ پیاس مگر پیار کی سبیل کے ساتھ</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">بٹھاؤ لکشمی دیوی کو میکَئیل کے ساتھ</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">کچھ ایسا نقشۂ انسانیت بناؤ تم</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">کہ دیوتاؤں کا جھگڑا نہ ہو خلیل کے ساتھ</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ایسا انسان دلوں کی خلیج کو پاٹے گا نہ کے رشتۂ الفت کو کاٹے گا، کہتے ہیں کسی نے بابا فرید کی خدمت میں ایک قینچی پیش کی، آپ نے کہا مجھے قینچی مت دو جو کاٹتی ہے بلکہ سوئی دو جو سیتی ہے، میں نے ناصر علی کو صوفی کہا تو غلط نہیں کہا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">لگے جو ہاتھ قلندر ترا سوئی تاگا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">دلوں کے بیچ پروتا رہوں دھمالوں کو</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">جہان دوست اور انسان دوست، حضرتِ انسان کی عظمت کے گن گائے گا، اس کا دل انسان کے لیے دھڑکے گا اور اس کا دماغ انسان کی فلاح اور امن کیلیے ہی سوچے گا، فقط انسان کیلیے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">نہ خوف کھاؤ کہ اسلام کا ہے یہ قلعہ</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">بناؤ اپنا کلیسا اسی فصیل کے ساتھ</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">خدا کرے کہ مرے گیت ہوں فلسطینی</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">خدا کرے کہ انہیں گاؤں اسرَئیل کے ساتھ</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ہمارے چشمۂ زم زم کو بھی خوشی ہوگی</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اگر تجھے ترے اشنان میں خدا ملے گا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اور یہ بھی بتائے گا کہ اپنی اور انسان کی معرفت ہی خدا کی معرفت ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اسی تڑپ، اسی میلان میں خدا ملے گا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">قریب آ، تجھے انسان میں خدا ملے گا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">پکار حضرتِ انسان کے لیے لبیک</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">تجھے اسی رہِ آسان میں خد املے گا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اٹھائے پھرتا ہوں تسبیح بھی صلیب کے ساتھ</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">مجھے اسی سر و سامان میں خدا ملے گا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اور ایسا انسان اپنی ذاتی زندگی اور روزمرہ کی زندگی میں بھی انہی رویوں کا مالک ہوگا۔ اردو شاعری میں ماں کی عظمت اور ماں کی محبت پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، باپ کی عظمت پر شاید ہی کوئی شعر میری نظر سے گزرا ہو، ناصر علی کا شعر دیکھیے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">میں اپنے باپ سے ناصر علی بڑا خوش ہوں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یہ میرا باپ نہیں چار سو محبت ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اور یہ چار سو محبت خود ناصر علی کا روپ دھار لیتی ہے جب وہ خود بحیثیت شوہر اور باپ کے کہتا ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">مرا نو سال کا بیٹا ہے ناصر</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">میں بیٹے کی حضورت میں ہوا خوش</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">میری بیوی مرے بستر پہ سنورتی ہوئی رات</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">میرا بیٹا، مرے ہاتھوں میں ہمکتا ہوا دن</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اپنے گرتے ہوئے بالوں میں کہاں دیکھتا ہوں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">زندگی میں تجھے بچوں میں رواں دیکھتا ہوں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اور ایسان انسان دوست اور جہان دوست انسان جب اپنے اردگرد ہمہ گیر مذہبی منافرت اور منافقت پھیلی ہوئی دیکھتا ہے تو بے اختیار چلا اٹھتا ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ڈرا رہے ہو بہت آتشِ جہنم سے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">تمھارے دین کی لگتا ہے لاج آگ سے ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ارے یہ کوئی طریقہ ہے بات کرنے کا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">وہاں کا ذکر کروں اور یہاں کو رد کر دوں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اور ایسا انسان اپنے معاشرے سے اور اس میں آکٹوپس کی طرح پھیلے ہوئے غلط اور بیمار ذہنیت کے مظہر رویوں سے، اور معاشرے کے معاشی، معاشرتی اور سیاسی معاملات سے کیسے لاتعلق رہ سکتا ہے سو ببانگِ دہل اظہار کرتا ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">کبھی خیرات کے بل اور کبھی صدقات کے بل</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">پیر مشہور ہوا ایسی کرامات کے بل</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">عجب فسانۂ ھل من مزید سنتا ہوں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ذرا خدا نے جو دوزخ میں لات کی اور بس</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">کل شب سر میں درد تھا میرے، اور ہمسایے میں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اللہ ھُو، اللہ ھُو، اللہ ھُو نے تنگ کیا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">آسماں نامِ خدا لگ گئے ہیں سات کے سات</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اور زمیں نامِ زمیندار لگا دی گئی ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">جدھر بھی جاؤں میں ناصر علی، تباہی ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">وطن فسانۂ عاد و ثمود لگتا ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">بتا رہی ہے لگی آگ شہر شہر مجھے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">کہ بادشاہ سلامت کا تاج آگ سے ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ناصر علی اس شاہ کی ہم لوگ رعایا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">جس شاہ کی تعظیم گرانی سے بھری ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">[COLOR="blue"]خرد افروزی &#8211; جزا یا سزا[/COLOR]</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ایک الہامی کتاب میں ہے کہ آدم و حوا کو جنت سے اس لیے نکالا گیا کہ انہوں نے &#8220;نیک و بد&#8221; کی پہچان والے درخت کا پھل کھا لیا تھا سو وہ خدا کی مانند نیک و بد کی پہچان کرنے والے بن گئے سو بطورِ سزا جنت سے نکال دیے گئے۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">جی، نیک و بد کی پہچان یعنی عقل مندی اور خرد افروزی گناہ ہے اور سزا بھی رکھتی ہے۔ اور یہ صرف ایک مذہب کا حال نہیں ہے، تمام مذاہبِ عالم &#8220;عقل&#8221; کے خلاف ہی رہے ہیں۔ جب ابنِ رُشد نے کہا تھا کہ سچائیاں دو ہیں، ایک مذہب کی اور دوسری فلسفے کی تو ساری اسلامی علمی دنیا امام غزالی کی قیادت میں اسکے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور اسلامی دنیا میں ابنِ رشد کے اس خیال کی مکمل بیخ کنی کر دی گئی لیکن اسپین اور فرانس کے کچھ علما اور طلبا کے اذہان میں یہ خیال جڑ پکڑ گیا اور پھر باقاعدہ ایک تحریک بنی، اور فلسفے کی تاریخ میں یہ تحریک &#8220;ابنِ رشدیت&#8221; کے نام سے جانی گئی جس نے فلسفے اور سائنس کو کلیسا کی قید سے آزاد کروانے کی بنیاد رکھی۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یہ معروضہ یوں ذہن میں آ گیا کہ کتاب کے مطالعے کے دوران مجھ پر یہ بھی انکشاف ہوا کہ ناصر علی کے شعروں میں کچھ سائنسی اور فلسفیانہ نظریات بھی آ گئے ہیں، نہ جانے کیسے۔ مجھے نہیں علم کہ ناصر علی نے خالص سائنس کا مطالعہ کس حد تک کیا ہے لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ شاعروں کے الہام پر سائنسدان عش عش کر اٹھتے ہونگے۔ مثلاً یہ اشعار دیکھیے جن میں ناصر علی انہی باتوں کا اظہار کیا ہے۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">خوش ہو رہا ہوں، دانشِ انساں نے لے لیا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">رستہ میانِ شمس و قمر اپنے ہاتھ میں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">سائنس حواسِ خمسہ سے باہر کسی چیز کو نہیں مانتی۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">شعاعِ شوق کہے، آنچ کا بنا ہوا ہوں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">مگر حواس کہیں، پانچ کا بنا ہوا ہوں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اس کائنات کا وجود ہی توازن پر ہے، توازن نہ ہو تو یہ کائنات پلک جھپکنے میں تباہ و برباد و فنا ہو جائے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">مرے بدن کا توازن بتا رہا ہے مجھے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">کہ میں ضرور کڑی جانچ کا بنا ہوا ہوں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">&#8212;&#8212;&#8211;</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">زمیں سے تا بہ خلا مستقل تحرّک ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">سو طے ہوا ہے کہ ہیجان میں خدا ملے گا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">مادہ کی سب سے چھوٹی اکائی کسی زمانے میں ایٹم تھی، پھر ایٹم بھی ٹوٹا اور اسکے اندر مزید چھوٹے ذرات دریافت ہو گئے، الیکڑون،پروٹان، نیوٹران، یہ بھی ٹوٹے مزید چھوٹے ذرے دریافت ہوئے۔ بات یہیں رکی نہیں، کوانٹم تھیوری نے ثابت کیا کہ مادہ ٹھوس حالت میں ہے ہی نہیں، بلکہ مادہ بھی متحرک لہروں یا ویوز سے بنا ہے، اب یہ ناصر علی کا الہام ہی ہے جو اوپر والا شعر ہوا۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">&#8212;&#8212;</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اے رہِ عمرِ رواں، کیا ابتدا، کیا انتہا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اک تسلسل ہے یہاں، کیا ابتدا، کیا انتہا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">یہ شعر سٹیڈی اسٹیٹ تھیوری ہے کہ کائنات ازل سے یونہی ہے اور ابد تک یونہی رہے گی۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">&#8212;&#8212;-</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">میں اک ایسا خط ہوں ناصر جس کو کھینچنے والا</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">جتنا سیدھا کھینچ لے اس میں خم رہ جاتا ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اس شعر میں مجھے لگتا ہے کہ ناصر علی نے انسانی خمیر میں جو روایتی ٹیڑھ ہے اسکا ذکر کیا ہے، اگر ایہام گوئی کا دور ہوتا تو میں کہتا کہ یہ قریب کے معنی ہیں، دُور کے معنی کچھ اور ہیں اور وہی شاعر کے پیشِ نظر ہیں کہ کسی زمانے میں دو متوازی اور سیدھی لائنوں کی تعریف یہ کی جاتی تھی کہ وہ کبھی بھی آپس میں نہیں ملتیں اور انفینٹی یا لامحدودیت تک ایسے ہی سیدھی اور متوازی رہیں گی۔ آئن سٹائن کے تھیوری آف ریلیٹی وٹی نے ثابت کیا ہے اس کائنات میں نامحسوس سا خم ہے، سو دو متوازی اور سیدھی لائنیں بھی کسی نہ کسی مقام پر آپس میں جا ملیں گی۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">[COLOR="blue"]روایتی شاعری سے متنفر ناصر علی[/COLOR]</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">ذاتی طور پر مجھے عشق و محبت اور گل و بلبل کی حکایات سے پرخاش نہیں ہے، میں اسے بھی شاعری کا عظیم جزو مانتا ہوں بشرطیکہ وارداتِ قلبی شاعر کی اپنی ہو، احساسات اسکے اپنے ہوں، اندازِ بیاں اسکا اپنا ہو، خیال آفرینی کی طرف اسکی توجہ ہو اور اس سے ہم انکار بھی نہیں کر سکتے کیونکہ جتنے انسان ہیں اتنے ہی سب کے اپنے اپنے منفرد احساسات ہیں سو ان کو سننے میں کچھ حرج نہیں۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">لیکن صرف شعر برائے شعر کہنا اور وہ بھی کسے سچے جذبے کے بغیر واقعتاً جگالی ہی ہے، ناصر علی اس حقیقت کا مکمل ادراک رکھتے ہیں اور اسکا اظہار بھی کرتے ہیں۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">چھوڑو ابہام کی باتیں فقط اتنا سوچو</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">شاعروں نے بھی یہاں شعر گھڑے کیا ہونگے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اے کسی حسنِ تغزّل کو ترستی ہوئی آنکھ</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">شعر بنتا ہے مری جان کسی بات کے بل</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">تمھارے شعر کے پچّیس تیس مضموں ہیں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">جگالتے ہو مسلسل انھی خیالوں کو</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">سمجھ پڑے جو یہاں نوجواں دماغوں کو</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">تمھارے شعر میں ایسی زبان ہے کہ نہیں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">غزل میں عشق و محبت کی بات کی اور بس</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">خراب ایک حسینہ کی ذات کی اور بس</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">مت یوں ہی لفظ ڈھال شعروں میں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">بات دل سے نکال شعروں میں</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">غزل غزل وہی مضمون باندھتے ہیں ہم</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">غزل غزل وہی طرزِ کہن چلی ہوئی ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">بات کو زلفِ گرہ گیر سے باندھا ہوا ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">شعر کو حسن کی تفسیر سے باندھا ہوا ہے</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">اور آخر میں ناصر علی کی کتاب میں موجود غزلوں کی زمینوں اور ردیفوں کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہونگا کہ کتاب پڑھتے ہوئے یہ خوشگوار احساس بھی قاری کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے کہ جو شاعر دوسروں کو جگالی کرنے سے منع کر رہا ہے وہ خود بھی اس &#8220;گناہ&#8221; سے پاک ہے۔ ناصر علی کی زمینیں منفرد اور انکی اپنی ہیں، ردیفیں جو بقول مولانا شبلی نعمانی اردو فارسی شاعری میں سم و تال کا سا کام دیتی ہیں وہ انتہائی خوبصورت ہیں، میں چاہ رہا تھا کہ ان ردیفوں کی نشاندہی کر دوں لیکن مضمون کی طوالت کے خوف سے قلم زد کرتا ہوں کہ جو احباب کتاب دیکھ چکے ہیں وہ جانتے ہی ہیں اور جو دیکھیں گے وہ جان جائیں گے۔</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">محمد وارث</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">سیالکوٹ</div>
<div id="_mcePaste" style="text-align: right;">20.02.2011</div>
<p style="text-align: right;">یہ مضمون کچھ دن قبل فیس بُک پر ایک ادبی گروپ میں منعقدہ جناب ناصر علی کی کتاب &#8220;اور&#8221; کی تقریبِ رونمائی کیلیے لکھا گیا تھا، یہاں بھی دوستوں کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔<br />
&#8212;&#8212;<br />
بات کو ایک وضاحت سے شروع کرنے کے سوا میرے پاس کوئی چارہ نہیں ہے اور وہ یہ کہ خاکسار نہ تو کوئی نقاد ہے اور نہ ہی اس کا کتابوں پر مضمون لکھنے کا کوئی تجربہ ہے بلکہ کسی بھی کتاب پر مضمون لکھنے کا یہ پہلا تجربہ ہے۔، بلکہ پہلا تجربہ کیا مجھے تو کوئی کتاب بھی اس طرح زندگی میں پہلی بار ملی ہے، اس سے پہلے ایک دو ادبی جریدے ملے تھے لیکن کتاب کا ملنا ایک بالکل ہی نیا تجربہ تھا اور اس پر مستزاد مضمون لکھنا سو اس مضمون میں روایتی اور سکہ بند ادبی مضمونوں والی یقیناً کوئی بات نہیں ہوگی بلکہ کتاب پڑھ کر جو بھی میں نے محسوس کیا صاف صاف اور سیدھے سیدھے لفظوں میں لکھ دیا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے ناصر علی صاحب کی کتاب کو تختۂ مشق بنایا ہے، اور اس کا آپ کو پورا حق ہے، لیکن یہ بات کہنے کا مجھے بھی حق ہے کہ ناصر علی صاحب نے خود اپنی کتاب کو میرے ہاتھوں سے تختۂ مشق بنوایا ہے سو اس مضمون کے پردے سے جو کچھ بھی نکلے گا اس کی ساری ذمہ داری ناصر علی صاحب پر ہے۔<br />
کوئی دو ہفتے ادھر کی بات ہے، شام کو تھکا ہارا اپنے کمرے میں بیٹھا تھا، حسبِ معمول سوچ رہا تھا کہ کیا پڑھوں، آزاد کی دربارِ اکبری شروع کر رکھی تھی لیکن اس کو پڑھنے کو دل نہیں کر رہا تھا، آزاد کی انشا پردازی اپنی جگہ لیکن کچھ معرکوں کو اتنی طوالت دی ہے کہ جی اوب جاتا ہے اور میں کتاب کے کسی ایسے ہی مقام پر تھا، ابھی انہی سوچوں میں تھا کہ آج کی رات کس کے ساتھ بسر کی جائے کہ فون کی گھنٹی بجی فون کسی اجنبی نمبر سے تھا، خیر سنا، آواز آئی۔ &#8220;ایک لاوارث، محمد وارث کو ڈھونڈ رہا ہے۔&#8221; یقین مانیے یہ شگفتہ جملہ سن کر ساری تھکاوٹ اور کلفت ہوا ہو گئی اور کچھ دیر تک خوب مزے کی گپ شپ ہوئی اور اگلی گفتگو کیلیے یہ بات تمہید ہو گئی۔ یہ تھا میرا ناصر علی صاحب سے تعارف، گو فیس بُک پر ان سے &#8220;آشنائی&#8221; تھی لیکن فیس بُک کی آشنائی کسی کالج یا یونیورسٹی کے مختلف جماعتوں کے طالب علموں کی آپس میں آشنائی جیسی ہی ہوتی ہے۔ اس پہلی گفگتو میں ناصر علی صاحب نے مجھے دو کتابیں بھیجنے کا مژدہ سنایا، ایک رفیع رضا صاحب کی اور ایک انکی اپنی &#8220;اور&#8221; جس کی تقریب کے سلسلے میں ہم سب موجود ہیں۔<br />
خیر، ایک دو دن بعد دونوں کتابیں ملیں، اور جیسا کہ بہت سے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ ایک دم ہی سے کتاب ابتدا سے شروع نہیں کرتے، میں نے بھی کتاب کی ورق گردانی شروع کی جیسے جیسے اشعار نظر سے گزرتے گئے، میں سرشار ہوتا گیا اور غالب کا مصرع &#8220;میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے&#8221; بار بار دماغ میں تازہ ہوتا رہا۔ ناصر صاحب سے پھر بات ہوئی نے ان کا حکم تھا کہ اس پر کچھ لکھوں بھی۔<br />
لکھنے کا ذہن میں آیا تو سب سے پہلے جو لفظ میرے ذہن میں آیا وہ &#8220;وشوامتر&#8221; تھا، یہ ہزاروں سال قبل کے ایک رشی کا نام، ہے جس کا لفظی فارسی ترجمہ علامہ اقبال نے &#8220;جاوید نامہ&#8221; میں &#8220;جہان دوست&#8221; کے نام سے کیا ہے۔ اور ناصر علی کی ذات اور کتاب پر مضمون کیلیے مجھے یہ نام انتہائی موزوں لگا کیونکہ ناصر علی جہان دوست ہیں۔ کچھ عرض کر دوں۔<br />
علم دوست ایک اصطلاح ہے جو بہت مشہور ہے اور بہت فخر کے ساتھ استعمال کی جاتی ہے لیکن یہ علم دوست اصطلاح بہت گمراہ کن ہے، خالی خولی علم دوستی کسی کام کی نہیں ہے، کیونکہ صرف علم سے محبت ضروری نہیں کہ آدمی کو انسان بنا دے، علم آدمی کو وحشی درندہ بھی بنا سکتا ہے اور اس نے بنایا ہے، تاریخِ عالم اس بات پر گواہ ہے اور اسی لیے مولانا رُومی نے کہا تھا<br />
علم را بر تن زنی مارے بُوَدعلم را بر دل زنی یارے بُوَد<br />
علم دوستی کے ساتھ اگر انسان دوستی نہیں ہوگی تو وہ علم سانپ ہی بنے گا، اور اگر علم دوستی کے ساتھ انسان دوستی بھی شامل ہو جائے تو وہ جہان دوستی ہو جائے گی اور مجھے کہنے دیجیئے کہ ناصر علی کہ شاعری میں علم دوستی کے ساتھ انسان دوستی ہے اور وہ خود جہان دوست ہیں یعنی کہ وشوامتر۔ اور جو جہان دوست ہے وہ سب سے پیار کرے گا، اس جہان سے بھی جو &#8220;فتنہ و فساد&#8221; کی آماجگاہ ہے، دیکھیے گا کیا کہتے ہیں ناصر علی<br />
جہانِ خوبصورت میں ہوا خوشمیں اس مٹی کی مورت میں ہوا خوش<br />
میں لامکاں کے لیے کیوں مکاں کو رد کر دوںزمیں اماں ہے میں کیسے اماں کو رد کر دوں<br />
ایسا انسان دل کا صاف ہوگا<br />
ناصر علی میں نے دلِ زندہ میں بہت کچھرکھا ہے مگر میل ملا کر نہیں رکھا[IMG]http://3.bp.blogspot.com/-Gw-XYv6YPDk/TWfUGMfZn_I/AAAAAAAAAu4/96LgKybKPFk/s1600/Aur%2B-%2BNasir%2BAli.jpg[/IMG]<br />
ایسا انسان دینِ محبت کا ماننے والا اور کیشِ انسانیت پر چلنے والا ہے<br />
ہمارا دین تو ناصر علی محبت ہےاسی طرح کے مسلمان میں خدا ملے گا<br />
سامنے اس کے کھڑے ہو کے کھڑے کیا ہونگےیار ہم لوگ محبت سے بڑے کیا ہونگے<br />
زباں پہ لفظ، بدن میں لہو محبت ہےتجھے خبر ہی نہیں ہے کہ تو محبت ہے<br />
آدم زادو، سب کا اس میں فائدہ ہوگاانسانیت تو سب کے مطلب کا حق ہے<br />
ایسا انسان وسیع المشرب صوفی ہوگا، جو پکار پکار کر کہے گا کہ اے خدا کے بندو اگر کسی منزل کی تلاش ہی میں ہو تو اپنی نظر منزل پر رکھو، راہ اور راستے کے جھگڑوں میں کیوں پڑتے ہو، پیار محبت کے ساتھ بھی تو یہ راستے کاٹے جا سکتے ہیں<br />
اس دنیا کے خالق کے گھر جانے والےجتنے ہم ہیں اتنے رستے ہو سکتے ہیں<br />
بجھاؤ پیاس مگر پیار کی سبیل کے ساتھبٹھاؤ لکشمی دیوی کو میکَئیل کے ساتھ<br />
کچھ ایسا نقشۂ انسانیت بناؤ تمکہ دیوتاؤں کا جھگڑا نہ ہو خلیل کے ساتھ<br />
ایسا انسان دلوں کی خلیج کو پاٹے گا نہ کے رشتۂ الفت کو کاٹے گا، کہتے ہیں کسی نے بابا فرید کی خدمت میں ایک قینچی پیش کی، آپ نے کہا مجھے قینچی مت دو جو کاٹتی ہے بلکہ سوئی دو جو سیتی ہے، میں نے ناصر علی کو صوفی کہا تو غلط نہیں کہا<br />
لگے جو ہاتھ قلندر ترا سوئی تاگادلوں کے بیچ پروتا رہوں دھمالوں کو<br />
جہان دوست اور انسان دوست، حضرتِ انسان کی عظمت کے گن گائے گا، اس کا دل انسان کے لیے دھڑکے گا اور اس کا دماغ انسان کی فلاح اور امن کیلیے ہی سوچے گا، فقط انسان کیلیے<br />
نہ خوف کھاؤ کہ اسلام کا ہے یہ قلعہبناؤ اپنا کلیسا اسی فصیل کے ساتھ<br />
خدا کرے کہ مرے گیت ہوں فلسطینیخدا کرے کہ انہیں گاؤں اسرَئیل کے ساتھ<br />
ہمارے چشمۂ زم زم کو بھی خوشی ہوگیاگر تجھے ترے اشنان میں خدا ملے گا<br />
اور یہ بھی بتائے گا کہ اپنی اور انسان کی معرفت ہی خدا کی معرفت ہے<br />
اسی تڑپ، اسی میلان میں خدا ملے گاقریب آ، تجھے انسان میں خدا ملے گا<br />
پکار حضرتِ انسان کے لیے لبیکتجھے اسی رہِ آسان میں خد املے گا<br />
اٹھائے پھرتا ہوں تسبیح بھی صلیب کے ساتھمجھے اسی سر و سامان میں خدا ملے گا<br />
اور ایسا انسان اپنی ذاتی زندگی اور روزمرہ کی زندگی میں بھی انہی رویوں کا مالک ہوگا۔ اردو شاعری میں ماں کی عظمت اور ماں کی محبت پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، باپ کی عظمت پر شاید ہی کوئی شعر میری نظر سے گزرا ہو، ناصر علی کا شعر دیکھیے<br />
میں اپنے باپ سے ناصر علی بڑا خوش ہوںیہ میرا باپ نہیں چار سو محبت ہے<br />
اور یہ چار سو محبت خود ناصر علی کا روپ دھار لیتی ہے جب وہ خود بحیثیت شوہر اور باپ کے کہتا ہے<br />
مرا نو سال کا بیٹا ہے ناصرمیں بیٹے کی حضورت میں ہوا خوش<br />
میری بیوی مرے بستر پہ سنورتی ہوئی راتمیرا بیٹا، مرے ہاتھوں میں ہمکتا ہوا دن<br />
اپنے گرتے ہوئے بالوں میں کہاں دیکھتا ہوںزندگی میں تجھے بچوں میں رواں دیکھتا ہوں<br />
اور ایسان انسان دوست اور جہان دوست انسان جب اپنے اردگرد ہمہ گیر مذہبی منافرت اور منافقت پھیلی ہوئی دیکھتا ہے تو بے اختیار چلا اٹھتا ہے<br />
ڈرا رہے ہو بہت آتشِ جہنم سےتمھارے دین کی لگتا ہے لاج آگ سے ہے<br />
ارے یہ کوئی طریقہ ہے بات کرنے کاوہاں کا ذکر کروں اور یہاں کو رد کر دوں<br />
اور ایسا انسان اپنے معاشرے سے اور اس میں آکٹوپس کی طرح پھیلے ہوئے غلط اور بیمار ذہنیت کے مظہر رویوں سے، اور معاشرے کے معاشی، معاشرتی اور سیاسی معاملات سے کیسے لاتعلق رہ سکتا ہے سو ببانگِ دہل اظہار کرتا ہے<br />
کبھی خیرات کے بل اور کبھی صدقات کے بلپیر مشہور ہوا ایسی کرامات کے بل<br />
عجب فسانۂ ھل من مزید سنتا ہوںذرا خدا نے جو دوزخ میں لات کی اور بس<br />
کل شب سر میں درد تھا میرے، اور ہمسایے میںاللہ ھُو، اللہ ھُو، اللہ ھُو نے تنگ کیا<br />
آسماں نامِ خدا لگ گئے ہیں سات کے ساتاور زمیں نامِ زمیندار لگا دی گئی ہے<br />
جدھر بھی جاؤں میں ناصر علی، تباہی ہےوطن فسانۂ عاد و ثمود لگتا ہے<br />
بتا رہی ہے لگی آگ شہر شہر مجھےکہ بادشاہ سلامت کا تاج آگ سے ہے<br />
ناصر علی اس شاہ کی ہم لوگ رعایاجس شاہ کی تعظیم گرانی سے بھری ہے</p>
<p>[COLOR="blue"]خرد افروزی &#8211; جزا یا سزا[/COLOR]<br />
ایک الہامی کتاب میں ہے کہ آدم و حوا کو جنت سے اس لیے نکالا گیا کہ انہوں نے &#8220;نیک و بد&#8221; کی پہچان والے درخت کا پھل کھا لیا تھا سو وہ خدا کی مانند نیک و بد کی پہچان کرنے والے بن گئے سو بطورِ سزا جنت سے نکال دیے گئے۔<br />
جی، نیک و بد کی پہچان یعنی عقل مندی اور خرد افروزی گناہ ہے اور سزا بھی رکھتی ہے۔ اور یہ صرف ایک مذہب کا حال نہیں ہے، تمام مذاہبِ عالم &#8220;عقل&#8221; کے خلاف ہی رہے ہیں۔ جب ابنِ رُشد نے کہا تھا کہ سچائیاں دو ہیں، ایک مذہب کی اور دوسری فلسفے کی تو ساری اسلامی علمی دنیا امام غزالی کی قیادت میں اسکے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور اسلامی دنیا میں ابنِ رشد کے اس خیال کی مکمل بیخ کنی کر دی گئی لیکن اسپین اور فرانس کے کچھ علما اور طلبا کے اذہان میں یہ خیال جڑ پکڑ گیا اور پھر باقاعدہ ایک تحریک بنی، اور فلسفے کی تاریخ میں یہ تحریک &#8220;ابنِ رشدیت&#8221; کے نام سے جانی گئی جس نے فلسفے اور سائنس کو کلیسا کی قید سے آزاد کروانے کی بنیاد رکھی۔<br />
یہ معروضہ یوں ذہن میں آ گیا کہ کتاب کے مطالعے کے دوران مجھ پر یہ بھی انکشاف ہوا کہ ناصر علی کے شعروں میں کچھ سائنسی اور فلسفیانہ نظریات بھی آ گئے ہیں، نہ جانے کیسے۔ مجھے نہیں علم کہ ناصر علی نے خالص سائنس کا مطالعہ کس حد تک کیا ہے لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ شاعروں کے الہام پر سائنسدان عش عش کر اٹھتے ہونگے۔ مثلاً یہ اشعار دیکھیے جن میں ناصر علی انہی باتوں کا اظہار کیا ہے۔<br />
خوش ہو رہا ہوں، دانشِ انساں نے لے لیارستہ میانِ شمس و قمر اپنے ہاتھ میں<br />
سائنس حواسِ خمسہ سے باہر کسی چیز کو نہیں مانتی۔<br />
شعاعِ شوق کہے، آنچ کا بنا ہوا ہوںمگر حواس کہیں، پانچ کا بنا ہوا ہوں<br />
اس کائنات کا وجود ہی توازن پر ہے، توازن نہ ہو تو یہ کائنات پلک جھپکنے میں تباہ و برباد و فنا ہو جائے<br />
مرے بدن کا توازن بتا رہا ہے مجھےکہ میں ضرور کڑی جانچ کا بنا ہوا ہوں<br />
&#8212;&#8212;&#8211;زمیں سے تا بہ خلا مستقل تحرّک ہےسو طے ہوا ہے کہ ہیجان میں خدا ملے گا<br />
مادہ کی سب سے چھوٹی اکائی کسی زمانے میں ایٹم تھی، پھر ایٹم بھی ٹوٹا اور اسکے اندر مزید چھوٹے ذرات دریافت ہو گئے، الیکڑون،پروٹان، نیوٹران، یہ بھی ٹوٹے مزید چھوٹے ذرے دریافت ہوئے۔ بات یہیں رکی نہیں، کوانٹم تھیوری نے ثابت کیا کہ مادہ ٹھوس حالت میں ہے ہی نہیں، بلکہ مادہ بھی متحرک لہروں یا ویوز سے بنا ہے، اب یہ ناصر علی کا الہام ہی ہے جو اوپر والا شعر ہوا۔<br />
&#8212;&#8212;اے رہِ عمرِ رواں، کیا ابتدا، کیا انتہااک تسلسل ہے یہاں، کیا ابتدا، کیا انتہا<br />
یہ شعر سٹیڈی اسٹیٹ تھیوری ہے کہ کائنات ازل سے یونہی ہے اور ابد تک یونہی رہے گی۔<br />
&#8212;&#8212;-میں اک ایسا خط ہوں ناصر جس کو کھینچنے والاجتنا سیدھا کھینچ لے اس میں خم رہ جاتا ہے<br />
اس شعر میں مجھے لگتا ہے کہ ناصر علی نے انسانی خمیر میں جو روایتی ٹیڑھ ہے اسکا ذکر کیا ہے، اگر ایہام گوئی کا دور ہوتا تو میں کہتا کہ یہ قریب کے معنی ہیں، دُور کے معنی کچھ اور ہیں اور وہی شاعر کے پیشِ نظر ہیں کہ کسی زمانے میں دو متوازی اور سیدھی لائنوں کی تعریف یہ کی جاتی تھی کہ وہ کبھی بھی آپس میں نہیں ملتیں اور انفینٹی یا لامحدودیت تک ایسے ہی سیدھی اور متوازی رہیں گی۔ آئن سٹائن کے تھیوری آف ریلیٹی وٹی نے ثابت کیا ہے اس کائنات میں نامحسوس سا خم ہے، سو دو متوازی اور سیدھی لائنیں بھی کسی نہ کسی مقام پر آپس میں جا ملیں گی۔[IMG]http://4.bp.blogspot.com/&#8211;JRlCoWdr4w/TWfVwV8p2OI/AAAAAAAAAvI/Yqb1nblWRTY/s1600/Aur%2B-%2BNasir%2BAli_1.jpg[/IMG]<br />
[COLOR="blue"]روایتی شاعری سے متنفر ناصر علی[/COLOR]<br />
ذاتی طور پر مجھے عشق و محبت اور گل و بلبل کی حکایات سے پرخاش نہیں ہے، میں اسے بھی شاعری کا عظیم جزو مانتا ہوں بشرطیکہ وارداتِ قلبی شاعر کی اپنی ہو، احساسات اسکے اپنے ہوں، اندازِ بیاں اسکا اپنا ہو، خیال آفرینی کی طرف اسکی توجہ ہو اور اس سے ہم انکار بھی نہیں کر سکتے کیونکہ جتنے انسان ہیں اتنے ہی سب کے اپنے اپنے منفرد احساسات ہیں سو ان کو سننے میں کچھ حرج نہیں۔<br />
لیکن صرف شعر برائے شعر کہنا اور وہ بھی کسے سچے جذبے کے بغیر واقعتاً جگالی ہی ہے، ناصر علی اس حقیقت کا مکمل ادراک رکھتے ہیں اور اسکا اظہار بھی کرتے ہیں۔<br />
چھوڑو ابہام کی باتیں فقط اتنا سوچوشاعروں نے بھی یہاں شعر گھڑے کیا ہونگے<br />
اے کسی حسنِ تغزّل کو ترستی ہوئی آنکھشعر بنتا ہے مری جان کسی بات کے بل<br />
تمھارے شعر کے پچّیس تیس مضموں ہیںجگالتے ہو مسلسل انھی خیالوں کو<br />
سمجھ پڑے جو یہاں نوجواں دماغوں کوتمھارے شعر میں ایسی زبان ہے کہ نہیں<br />
غزل میں عشق و محبت کی بات کی اور بسخراب ایک حسینہ کی ذات کی اور بس<br />
مت یوں ہی لفظ ڈھال شعروں میںبات دل سے نکال شعروں میں<br />
غزل غزل وہی مضمون باندھتے ہیں ہمغزل غزل وہی طرزِ کہن چلی ہوئی ہے<br />
بات کو زلفِ گرہ گیر سے باندھا ہوا ہےشعر کو حسن کی تفسیر سے باندھا ہوا ہے<br />
اور آخر میں ناصر علی کی کتاب میں موجود غزلوں کی زمینوں اور ردیفوں کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہونگا کہ کتاب پڑھتے ہوئے یہ خوشگوار احساس بھی قاری کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے کہ جو شاعر دوسروں کو جگالی کرنے سے منع کر رہا ہے وہ خود بھی اس &#8220;گناہ&#8221; سے پاک ہے۔ ناصر علی کی زمینیں منفرد اور انکی اپنی ہیں، ردیفیں جو بقول مولانا شبلی نعمانی اردو فارسی شاعری میں سم و تال کا سا کام دیتی ہیں وہ انتہائی خوبصورت ہیں، میں چاہ رہا تھا کہ ان ردیفوں کی نشاندہی کر دوں لیکن مضمون کی طوالت کے خوف سے قلم زد کرتا ہوں کہ جو احباب کتاب دیکھ چکے ہیں وہ جانتے ہی ہیں اور جو دیکھیں گے وہ جان جائیں گے۔<br />
محمد وارثسیالکوٹ20.02.2011</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://nawaiadab.com/%d9%88%d8%b4%d9%88%d8%a7%d9%85%d8%aa%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%b5%d8%b1-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%b6%d9%85%d9%88%d9%86-%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%88%d8%a7%d8%b1%d8%ab/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>زاہد مسعود کی غزل ۔۔۔ نوید صادق</title>
		<link>http://nawaiadab.com/%d8%b2%d8%a7%db%81%d8%af-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%ba%d8%b2%d9%84-%db%94%db%94%db%94-%d9%86%d9%88%db%8c%d8%af-%d8%b5%d8%a7%d8%af%d9%82/</link>
		<comments>http://nawaiadab.com/%d8%b2%d8%a7%db%81%d8%af-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%ba%d8%b2%d9%84-%db%94%db%94%db%94-%d9%86%d9%88%db%8c%d8%af-%d8%b5%d8%a7%d8%af%d9%82/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 11 Apr 2011 07:37:01 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضمون]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://nawaiadab.com/?p=1731</guid>
		<description><![CDATA[ایک آشنا پر لکھنا بیک وقتِ آسان بھی ہوتا ہے اور دشوار بھی۔ آسان اس لیے کہ آپ اس کے نظریات، اس کے رہن سہن سے آگاہ ہوتے ہیں، جو چیزیں آپ کو پہلے سے معلوم ہوتی ہیں ، آپ بآسانی اس کی شاعری سے نکال کر سامنے رکھ دیتے ہیں۔دشوار اس لیے کہ بعض [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">ایک آشنا پر لکھنا بیک وقتِ آسان بھی ہوتا ہے اور دشوار بھی۔ آسان اس لیے کہ آپ اس کے نظریات، اس کے رہن سہن سے آگاہ ہوتے ہیں، جو چیزیں آپ کو پہلے سے معلوم ہوتی ہیں ، آپ بآسانی اس کی شاعری سے نکال کر سامنے رکھ دیتے ہیں۔دشوار اس لیے کہ بعض اوقات آپ بعض ایسی چیزیں درآمد کر بیٹھتے ہیں، جن کی تشہیر آپ کے صاحبِ تخلیق سے کشیدگی کا باعث بن جاتی ہیں۔ حالانکہ وہ درست ہوتی ہیں۔شاید اسی کارن ہمارے ہاں نقاد کسی ادیب پر لکھنے کے لیے اس کی رحلت کا انتظار کرتے ہیں۔یقین نہ آئے تو وہ مضامین اٹھا کر دیکھ لیجئے،جو تخلیق کاروں کی حیات میں ان پر لکھے گئے، ان میں جگہ جگہ مصلحت اندیشی لہریں لیتی دکھائی دے گی۔ایسا کیوں ہے؟؟ اس کا جواب نہ آپ دینا پسند فرمائیں گے اور نہ میں اس پر بات کرنا؟ یہاں ایک اور ”کیوں“ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔تو دوستو! بات کچھ یوں ہے کہ یہ بات آپ سے یا مجھ سے کچھ ایسی ڈھکی چھپی بھی نہیں کہ اس پر باقاعدہ بحث کی جائے۔ اب اس تصویر کا دوسرارُخ دیکھتے ہیں۔ یعنی کسی نا آشنا پر لکھنا۔یہ بذاتِ خود ایک تخلیقی کاروائی کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ آشنائی کی زیادہ سے زیادہ سے زیادہ صورت یہ ہو کہ محترم نجیب احمد نے آپ کو یہ بتا دیا ہو کہ وہ سامنے جو شخص بیٹھاہے، ”زاہد مسعود“ کہلاتا ہے۔ کہانی میں مزید لطف پیدا ہو جاتا ہے جب آپ کے شاعر پرپہلے کچھ لکھا ہی نہ گیا ہو۔ گویا آپ کو اپنے بل بوتے پر آگے بڑھنا ہے۔ اور گزشتہ کچھ دنوں سے طبیعت کی ناسازی نے مطلوبہ محنت کا موقع نہیں دیا۔پھر بھی مقدور بھر جائزہ پیشِ خدمت ہے۔ کبھی کبھی ذہن میں سوال اٹھتے ہیں کہ شاعر کی ذمہ داری کیا ہے؟ کیا وہ معاشرے میں محض ایک عضوِ معطل کی حیثیت رکھتا ہے؟ اپنی ذاتی ناکامیوں ، ذاتی بے بسی کا رونا رونا ہی اس کا کام ہے؟ نیپال میں شاہ نے وہاں کے ایک شاعر کی دونوں ٹانگیں کیوں کٹوا دیں؟ شاہ فرخ سیر نے جعفر زٹلی کی گردن کیوں اُڑوا دی؟ فیض احمد فیض کی ”زنداں نامہ“ کیا ہے؟ حبیب جالب بار بار جیل یاترا پر کیوں جاتے رہے؟یہ وہ سوالات ہیں جو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ بیانِ داستانِ محبت اور قصہ ہائے غم کے بیان کے علاوہ بھی شاعر کی کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں۔ اور انہی ذمہ داریوں کو نبھانے کی پاداش میں معاشرہ اور ریاست اسے مختلف سزاوءں کا حق دار ٹھہراتے ہیں۔ زاہد مسعود ایک حساس انسان ہیں۔اپنے گرد و پیش کا جائزہ لینے والے انسان۔اپنے ماحول پر کڑھنے والے انسان۔اپنے مشاہدات رقم کرتے ہیں۔ماحول پر جاری و ساری بے حسی اور بے کلی کا سبب جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک بات واضح کرتا چلوں کہ زاہد مسعود نئے شاعروں کی اس قبیل سے ہیں جنہوں نے روایت کو رد کر کے نیا لب و لہجہ بنانے کی کوشش کی۔ اور اسی باعث ان کے ہاں کہیں کہیں نامانوسیت اور اجنبیت کا احساس ہوتا ہے۔ خیر بات ہو رہی تھی ہمارے گرد و پیش کی۔ ہم ایک عرصہ سے جس ماحول میں سانس لے رہے ہیں۔ اس میں انسان کی حیثیت کیا رہ گئی ہے۔ بات سیاست کی ہو یا معاشیات یا معاشرت کی، ایک روز افزوں تنزلی ہمارا مقدر بنتی دکھائی دیتی ہے۔دکھ کی بات تو یہ ہے کہ یہ حالات تمام اقوامِ عالم کے لئے یکساں ہوتے جا رہے ہیں۔اختیارات چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گئے ہیں۔اور عام آدمی کو حقیقت کا ادراک تک نہیں ہونے پاتا۔ شاید اسے ان حالات تک پہنچنے ہی نہیں دیا جاتا کہ وہ روٹی کپڑا اور مکان سے آگے کی بات سوچ سکے۔زندگی ایک مصنوعی پن کا شکار ہوتی چلی جا رہی ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے اربابِ اختیار کو عوام سے قطعی کوئی غرض نہیں۔ان کی پسند نا پسند سے انہیں کچھ لینا دینا نہیں۔  وقت کی آنکھ شبنمی سی ہے لمحے لمحے میں بے کلی سی ہے ساری بستی پہ خوف طاری ہے سارے جنگل میں خامشی سی ہے  سجا کے عکس نئے کانچ کی فصیلوں پر ہم آئنوں کی نمائش میں معتبر ٹھہرے  نصیبوں میں سفر رکھے گئے ہیں مگر بے بال و پر رکھے گئے ہیں برابر چل رہے ہیں ، راستوں میں مسلسل بے خبر رکھے گئے ہیں کھڑی ہے دھوپ کی دیوار جس پر دکھاوے کے شجر رکھے گئے ہیں ہماری داستاں کے حاشیے میں حوالے منتشر رکھے گئے ہیں  عکس کی پہنائیاں بے عکس ہیں آئینے اظہار تک محدود ہیں  نئے موسم چمن میں اہتمامِ رنگ و بو کرتے نہیں ہیں درختوں سے پرندے احتجاجاً گفتگو کرتے نہیں ہیں  زاہد مسعود کے ہاں مجھے ”میں “ کی پکار کہیں سنائی نہیں دی۔ ان کے ہاں ”ہم“ کا غلبہ ہے۔ وہ ”جزو “کی بجائے” کل“ کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔ان کے ذاتی مسائل ان کے لیے کچھ خاص اہمیت نہیں رکھتے۔ معاشرہ، ریاست بلکہ ساری دنیا کی بہتری ان کا مطمحِ نظر ہے۔اور ان کا مشاہدہ بھی ایک اکیلے فرد کا مشاہدہ نہیں ہے۔ وہ وہی دیکھتے اورمحسوس کرتے ہیں جو ان کے ساتھ کے دوسرے لوگ۔لیکن پورا معاشرہ شاعر نہیں ہوتا ۔اور یوں اس کرب کا بیان ان کے ذمہ آ پڑتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ” ایک شخص کی رائے کچے دھاگے کی مانند ہے جس کو توڑا جا سکتا ہے،جبکہ بہت سے اشخاص کی رائے اس پکے دھاگے کی مانند ہے جسے توڑا نہیں جا سکتا“۔ قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ” اور یہ لوگ زمین پر گھوم پھر کر نہیں دیکھتے۔ تو کیا ان کی موت آ گئی ہے“ ارشادِ باری تعالیٰ کی روشنی میں دیکھا جائے تو ہمارے بیشتر مسائل کی بنیادی وجہ جستجو، خواہش اور تلاش کا نہ ہونا ہے۔ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ جو ہو رہا ہے، ہم اسے تبدیل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ سو دریا کے بہاوء کے ساتھ تنکوں کی طرح بہنا گوارا کر لیتے ہیں۔ہم اپنے گرد و پیش کو تبدیل کرنے کی جگہ روٹی روزی کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔یاسیت ہمارا مقدر ٹھہرتی ہے ۔اور جو اکا دکا آوازیں بطور احتجاج بلند ہوتی ہیں ، انہیں صلیب کا سزاوار ٹھہرا دیا جاتا ہے۔  تمام شہر نے چوما زوال کا پتھر ترے عروج کے سب خواب منتشر ٹھہرے  ہم ایسے اپنی شبیہوں کی چھب گنوا بیٹھے کہ جیسے تیز شعاوءں سے آئینے ٹوٹیں  ہم اپنے خواب لیے بستیوں سے دور ہوئے ہمارا رزق اسی شہرِ بے ہنر میں ہے  افق اپنے سمٹ کر رہ گئے ہیں چار دیواروں کے اندر قدم دہلیز سے باہر سفر کی جستجو کرتے نہیں ہیں  گر ہے تو فقط بے سر و سامانیء عالم ترکش میں کوئی تیر نہ تلوار سلامت  رت بدلنے کی گواہی کون دے حوصلے آثار تک محدود ہیں  بے صدا لفظ ہونٹ پر ابھریں اور تشہیر ڈھونڈتے رہ جائیں  وہ لوگ جو شب کی سلطنت میں ہتھیلیوں پہ چراغ لائے صلیب بردوش آبلہ پا صعوبتوں کے حصار میں ہیں  ایسے میں ایک شاعر اپنے طور پر کوشش کرتا ہے۔ معاشرے کو ایک سوچ دینے کی کوشش کرتا ہے۔تبدیلی کا خواہاں ہوتا ہے۔بقولِ احمد مشتاق  بدلتے موسمو! غافل نہیں ہم ہم اپنا کام کرتے جا رہے ہیں  زاہد مسعود بھی اسی ” اپنے کام“ میں مشغول ہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ وہ جعفر زٹلی کی طرح حاکمِ وقت کو مٹر کے دانے پر ریاست کا سکہ چھاپنے کا مشورہ نہیں دیتے۔فیض کی طرح غاصب کو نہیں للکارتے۔جالب کی طرح ”بیس گھرانے ہیں آباد“ کا نعرہ بلند نہیں کرتے۔وہ اپنے منفرد انداز میں غاصب کو ملفوف انداز میں ہدفِ تنقید بناتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔  گئے دنوں کی طویل بارش تمام تعویذ دھو گئی ہے وہ عہد نامے جو مٹ چکے ہیں، میں ان کی تجدید لکھ رہا ہوں  رگوں میں بہنے لگی ہے طویل دن کی تھکن کوئی الاوء جلے، کوئی داستان کھلے  یہ اور بات کہ ہم تیرے معترف ٹھہرے عجب نہیں جو کبھی اختلاف کر جائیں مرے وجود کے سب زاویے سلامت ہیں خطوط کیسے ترا اعتراف کر جائیں ہوا تو شہر کے اندر ہی معرکہ ہو گا غنیم مورچوں میں اعتکاف کر جائیں  نئی رتوں میں نئے انکشاف کر جائیں شجر سے لپٹی ہوئی بیل صاف کر جائیں  امیرِ قافلہ محوِ سفارت ہے مگر پسپا سپاہی نیامیں توڑتے ہیں اور پرچم کو رفو کرتے نہیں ہیں  لیکن جلد ہی شاعر کو احساس ہوتا ہے کہ وہ خود یہ کام سرانجام نہیں دے سکتا۔وہ ایک عام انسان سے ذرا سا منفرد محض اس طرح ہے کہ محسوس کرے، تجزیہ کرے اور بات کھول کر سب کے سامنے رکھ دے۔اس کام کے لیے ایک ایسی شخصیت کی ضرورت ہے جس کو مرکزِ نگاہ و عمل بنایا جا سکے۔اب ہم یہ تو واضح طور پر بیان نہیں کر سکتے ان کی نگہ میں کون ہے، لیکن کوئی ہے ضرور۔۔۔ کوئی شخصیت ، کوئی عقیدہ یا کوئی نظریہ۔ جس کی راہنمائی میں ماحول میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ اور تمام خوش گمانوں یعنی شاعروں کی طرح اسے اس تبدیلی کے آثار دکھائی دینا شروع ہو جاتے ہیں۔ماحول کا حبس ختم ہوتا نظر پڑتا ہے۔  عجب سکوت شبِ عدل خیمہ گاہ میں تھا بس اک چراغ سا ہر شخص کی نگاہ میں تھا  یہ کس نگاہ پہ جم سی گئی چراغ کی لو یہ کس پکار پہ سوئے ہوئے مکان کھلے  بکھر چکا ہے لبوں سے دعا کا سناٹا ذرا سی دیر میں شاید کوئی زبان کھلے  گھروں کی کھڑکیاں کھلنے لگی ہیں کبوتر اڑ رہے ہیں آنگنوں میں  ریزہ ریزہ ہے چاند پانی میں گویا لہروں میں زندگی سی ہے  گماں بھٹکنے لگے تھے پسِ نگاہ مگر چراغ دور سے جلتے ہوئے نظر آئے  میں نے شروع میں کہا تھا کہ زاہد مسعود ایک نئے شاعر ہیں، حقیقی معنوں میں نئے شاعر۔ روایت کو رد کر دینے والے شاعر۔انہیں ادب اور زندگی میں سکہ بند اصولوں پر چلنا ہرگز ہرگز گوارا نہیں۔مغرب میں اس تحریک کا آغاز 1910ءمیں ہوا۔ہمارے ہاں اس سلسلہ میں مختلف ادوار میں مختلف تحاریک برپا ہوئیں اور انجام پذیر ہوتی چلی گئیں۔ان تحاریک کے فوائد اور نقصانات ، ادب اور زندگی پر اثرات اپنی جگہ لیکن ایک بات کا اعلان بہت ضروری محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا شاعر زاہد مسعود” روایت “سے لاکھ جتنوں کے بعد بھی جان نہیں چھڑا پایا۔ خاص طور پر جب وہ معاملاتِ محبت کے بیان پر آتے ہیں۔واضح کرتا چلوں کی یگانہ کی طرح ”محبت“ ان کے ہاں بھی ذاتی تجربے کی حیثیت اختیار نہیں کر پائی۔  وہ شہر جس میں کبھی بت تراش رہتے تھے زمیں سے نکلا تو اپنے ہی گاوءں جیسا تھا  اپنی تہذیب کے کھنڈر پہ ہم طرزِ تعمیر ڈھونڈتے رہ جائیں  نئے موسم پرانے زائچوں سے عین ممکن ہے گریزاں ہوں پرندو! درمیانی مرحلے میں گھونسلے تعمیر کر لینا  اس سے پہلے کہ رت بدل جائے اپنے سارے گلاب لے جانا  تعلقات کی تجدید پھر بھی ہو نہ سکی کبوتروں کے پرے تو سفارتوں میں رہے  سفر نصیب ترے آس پاس رہتے ہیں کہ اب قیام اسی کنجِ دربدر میں ہے  جو بچھڑ گیا وہ محبتوں کا سہاگ تھا جو پلٹ گیا وہ معاملہ تھا خیال کا پسِ چشم تھی کوئی یاد شامِ ملال کی سرِ آئنہ وہی عکس صبحِ وصال کا  انبوہِ خال و خد سے گزرتے چلے گئے جو تھے اسیرِ خواب ترے ماہ و سال تک  کیا شورِ تمنا ہے سرِ دامنِ صد چاک اب دار سلامت ہے نہ بازار سلامت  ہمیں عزیز بہت ہیں تمہارے وصل کے خواب مگر یہ خواب خیالوں میں زہر گھولتے ہیں   اور یہی جدید انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (نوید صادق)</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://nawaiadab.com/%d8%b2%d8%a7%db%81%d8%af-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%ba%d8%b2%d9%84-%db%94%db%94%db%94-%d9%86%d9%88%db%8c%d8%af-%d8%b5%d8%a7%d8%af%d9%82/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کرتہ!!!!!1947  از رانا راشد ادریس</title>
		<link>http://nawaiadab.com/%da%a9%d8%b1%d8%aa%db%811947-%d8%a7%d8%b2-%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%b1%d8%a7%d8%b4%d8%af-%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3/</link>
		<comments>http://nawaiadab.com/%da%a9%d8%b1%d8%aa%db%811947-%d8%a7%d8%b2-%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%b1%d8%a7%d8%b4%d8%af-%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 03 Apr 2011 19:18:54 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>
		<category><![CDATA[مضمون]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://nawaiadab.com/?p=1727</guid>
		<description><![CDATA[یہ ان دنوں کی بات ہے جب ابھی پاکستان بھارت آزاد نہیں ہوئے تھے۔ بلکہ شاید یہ اس سے بھی پہلے کی بات تھی۔ میرے والد صاحب ان دنوں پڑھنے کے لیئے گاوں سے دہلی شہر گئے ہوئے تھے، تب ابھی تک آزادی اور علیحدگی کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا، باتیں ہی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>یہ ان دنوں کی بات ہے جب ابھی پاکستان بھارت آزاد نہیں ہوئے تھے۔ بلکہ شاید یہ اس سے بھی پہلے کی بات تھی۔ میرے والد صاحب ان دنوں پڑھنے کے لیئے گاوں سے دہلی شہر گئے ہوئے تھے، تب ابھی تک آزادی اور علیحدگی کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا، باتیں ہی باتیں تھیں۔ ہر عید پر جب وہ گھر کے لئے روانہ ہوتے تو ان کی روانگی سے پہلے ہی ماں جی (یعنی میری دادی) ان کے لیئے عیدکے کپڑے یعنی عید کا کرتہ سیتی تھیں، بہت چاو سے مان سے پیار سے ماں جی کے ہاتھوں کا بنا ہوا کرتہ پہن کر وہ نماز عید ادا کرتے۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا پھر انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی تو محکمہ ڈاک میں نوکری مل گئی۔ گھر میں سے کوئی بھی اس بات پر راضی نا تھا کہ وہ سرکار کی ملازمت کریں، اور ملازمت بھی وہ جس میں جگہ کا کوئی پتا نا ہو کہ کب کہاں جا کر ڈیوٹی انجام دینی پڑے۔   لیکن اس وقت میں دس جماعت پاس کرنا ہی اعلٰی تعلیم ہوا کرتی تھی، اور پھر ایسی تعلیم کا کیا فائدہ اگر ملازمت ہی نا کرنی ہو۔ بہر کیف قصہ مختصر کہ محکمہ ڈاک کی ملازمت اور زندگی کا سفر اور ایک ایسا سفر جو آگے جا کر ایک لمبی جدائی بن گیا۔   ان کا پہلا تبادلہ ہی پشاور میں ہوا، کیوں اس وقت میں واحد مواصلاتی نظام ہی ڈاک تھا، اور پشاور ابھی ترقی اور جدت سے بہت دور تھا، سو حاکم وقت کو وہ ایک ایسا بندہ درکار تھا جو وہاں کے اکلوتے ڈاک خانے اور نظام ڈاک کو بہتر ڈھب سے چلا سکے۔ سو وہ وہاں جا بسے اور اپنے فرائض کو بخوبی انجام دینے لگے۔ وقت کا پہیہ چلتا رہا اور پھر وہ گھڑی آئی جس نے گھروں کے گھر، کنبے کے کنبے اور خاندانوں کے خاندان جدا کردیئے۔   سنہ 1947ایک بہت ہی اداس شام تھی جب اچانک اطلاع ملی کہ تحریک آزادی نے اپنا رنگ دکھایا ہے اور لہو کی داستان لکھنے کا وقت آن پہنچاہے۔ انہوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح وہ اپنے گھر پہنچ جائیں لیکن کامیاب نا ہو سکے، نوکری تو بہت دور رہ گئی بس ایک ہی دھن سوار تھی کہ کسی طرح اپنوں کے پاس پہنچ جاوں۔   لیکن کاتب تقدیر کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ کراچی تک پہنچ گیئے لیکن حالات نے ایسا موقع ہی نہیں دیا کہ اس سے آگے جا سکتے۔ پھر بہت عرصہ تک یونہی ادھر ادھر گھوم پھر کر کام کی تلاش کرتے رہے اور آخر کار کچھ پڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے اور کچھ اتنا عرصہ محکمہ ڈاک میں ملازمت کی وجہ سے دوبارہ نئے سسٹم میں نوکری مل ہی گئی، ساتھ ہی ساتھ کچھ کاروبار کی کوشش میں لگ گئے، جلد یا بدیر جانے کی کوشش تو کرنی ہی تھی لیکن فوری طور پر ممکن نا تھا کیوں کہ بلوے، ھنگامےاور مارا دھاڑی کا بہت زورتھا، بس فائدہ تھا تو اتنا کہ کسی نا کسی طور گھر والوں کو یہ خبر پہنچا دی کہ میں زندہ ہو ٹھیک ہوں اور فلاں جگہ کام کر رہا ہوں۔   ان کے خاندان کنبے کے ساتھ ویسا ہی ہوا جیسا کہ بہت سے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ ہوا، جب بلوے اور ہنگامے شروع ہوئے ، آزادی کے نعرے بلند ہوئے تو ان کو یہ پراپیگنڈہ پڑھایا گیا کہ یہ تو صرف ایک بغاوت ہے اور اس میں سچائی نہیں، کچھ عرصہ بعد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اور کوئی بھی ادھر ادھر نہیں جائے گا۔ نا پاکستان بنے گا نا ہی کوئی آزاد ہو گا، سو ان کے دل ودماغ پر یہی خوف تھا کہ گھر بار زمین جائیداد سب کچھ چھوڑ کر کدھر جائیں گے، پاکستان کدھر ہے کونسی سمت ہے کونسا راستہ ہے کچھ معلوم نہیں تھا۔ پہلے تو کسی میں اتنی جرات ہی نا ہوئی آزادی کی بات کرئے اور اگر کسی کے دل میں خیال آیا بھی تو وہ یہ سوچ کر چپ ہوگیا کے ابھی حالات خراب ہیں جب ٹھیک ہو جائیں گے تو چلے جائیں گے کونسا کوئی روکے گا۔  لیکن افسوس ایسے بہت سے لوگوں کااور خاندانوں کا خواب ادھورا ہی رہ گیا۔ جو نا آسکے وہ نا آسکتے تھا نا ہی پھر کبھی آئے۔  اس جگہ ایک اہم بات کی طرف اشارہ کرتا چلوں کہ تقسیم ہند کے وقت جیسا ہر مسئلہ میں ناانصافی ہوئی ویسی ہی لوگوں کی ہجرت میں بھی بہت ظلم اور زیادتیاں ہوئیں، پنجاب میں بسنے والوں نے اپنا خون پانی کی طرح بہایا اور سرحد پار کرگئے کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ ان کا خون بہے گا بھی تو سرحد پار جا کر ہی جذب ہوگا انہیں مار کر قتل کر کے روکنا ممکن ہی نہیں تھا وہ تو بس ایک ہی بات پر ڈٹے ہوئے تھے کہ بن کے رہے گا پاکستان لے کے رہے گے پاکستان، کتنے پہنچے کتنے شہید ہوئے کتنی عزتیں پامال ہوئیں کتنے بچے یتیم ہوئے کتنی سہاگنوں کے سہاگ اجڑے اگر وہ لکھنے بیٹھیں تو شاید پوری عمر لگ جائے، کیوں کہ ہر وہ شخص جس نے ہجرت کی اس سے وابستہ ایک پوری داستان ہے۔ لیکن میں یہاں ان لوگوں کا ذکر کروں گا جو ہندومت کے ناپاک ہتھ کنڈوں میں گھرے بیٹھے تھے۔ جن کا خود جانا توبہت دور کی بات اگر فوج بھی ہوتی تو بہت مشکل تھا کیوں کہ یہ لوگ ہندوستان کے ان علاقوں میں آباد تھے جہاں سے سرحد تک رسائی مشکل ہی نہیں نا ممکن تھی، جن لوگوں نے کوشش کی بھی وہ شاید ماضی کا ایک ایسا مدفن باب بن گئے جو کبھی نہیں کھلنے والا۔   خیر گھر والوں کو اپنے زندہ ہونے کا پتا دیا اور ان کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کے سب ٹھیک ہیں، سب کو تسلی دی کے بے فکر ہو جائیں جیسے ہی حالات ٹھیک ہوں گے میں ضرور آوں گا، لیکن کہتے ہیں کہ ہر انسان کچھ نا کچھ خود غرض ہوتا ہے۔ سو کام کام اور صرف کام کی لگن اور کچھ کرنے کی آگے بڑھنے کی تگ و دو نے ایسا کر دیا کہ برس ہا برس گزر گئے، شادی ہو گئی اور بچے بھی لیکن نا تو حالات ایسے ہوئے اور اگر حالات اچھے ملے تو وقت نا ملا، بس گھر سے رابطے میں بھی وقت کی دیوار تھوڑی اونچی ہوتی گئی۔ لیکن کہیں اندر ہی اندر ایک کسک ایک جنون ایک شوق ایک محبت ایک شعلہ تھا جو کبھی ختم نہیں ہو سکتا تھا۔اور وہ اکثر بڑی اولاد ہونے کے ناطے مجھے ان سارے حالات اور اپنی ادھوری خواہشات کے بارے میں بتاتے رہتے تھے۔   پھر یوں ہوا کہ میں بھی پڑھ لکھ کر سمجھدار ہو گیا، ابا ریٹائر ہو چکے تھے اور مجھے روزگار مل چکا تھا، روزگار بھی کچھ ایسا تھا میں بہت سے ممالک کی سیر کرتا رہتا تھا،چھوٹی بھائی بھی اب سمجھدار تھے ایک تعلیم مکمل کر کے برسر روزگار تھا دوسرا تقریباََ مکمل کرنے والاتھا۔ پھر اچانک ایک دن مجھے محسوس ہوا کہ ابا کی زندگی کی کمی کو اور ابا کے دل میں دبی ہوئی چنگاری کی ہوا دیکر ایک شعلہ کیوں نا بناوں، اگر ابا نہیں جا سکتے تو میں تو جاسکتاہوں اور ویسے بھی میرے پاسپورٹ پر لگنے والے لاتعداد بدیشی ویزاجات میری بھارت یاترا کو جانے میں مددگار ہو سکتے تھے، میں دیکھ کرتو آووں کہ یہ جدائی کی اتنی لمبی لکیر جو شاید تقدیر میں ہی تھی کہاں سے شروع ہوئی ہے اور کہاں تک جائے گی۔   میں نے ابا سے سب کچھ معلوم کیا، ویزا لگوانے میں اپنے وسائل کو استعمال کیااور سرحد پار اپنے ان رشتہ داروں کو جنہیں میں جانتا بھی نہیں تھا ان سے رابطہ کرکے جانے کی تیاری پکڑی، میں براستہ جہاز نیو دھلی ایر پورٹ پہنچا، جہاں سے مجھے ٹرین پکڑ کر اگے جانا تھا۔ خیر اس سفر کی داستان بھی بہت مزے دار تھی، ہندو ذہینیت کو جتنا شاطر اور خباثت بھرا ہم سمجھتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں جتنی وہ درحقیقت ہے۔ ہندوستان میں داخل ہوتے وقت ایک بات کا یقین کر لیں کہ کچھ ہو نا ہو بس آپ کا پاکستانی اور ہرے پاسپورٹ والا ہونا ہی کافی ہے۔   بہت سی دماغی کوفتوں اور سفری مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے آخر کار میں اپنے پھوپھو زاد بھائی سے ملا، جس نے مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ وہ شہر میں ہی آباد ہے سو پہلے کہ کچھ دن وہاں پر ہی گزارے، اور پھر ایک لاری کے ذریعے اپنے آبائی گاوں کا راستہ پکڑا۔ گاوں میں داخل ہوتے ہی مجھے ایک عجیب سا احساس ہوا، ایک ایسی ہوا میری روح کو معطر کر گئی جو مجھے بتا رہی تھی کہ ہاں یہی وہ جگہ ہے جہاں کی مٹی سے اگے ہوئے پودے کا میں ایک پھل ہوں اور میری جڑیں اسی مٹی میں ابھی بھی کہیں نا کہیں موجود ہیں۔ گو کہ سالوں کے فاصلے نے ان جڑوں اور شاخوں کے ملاپ میں بہت سی مٹی بھر دی ہے لیکن کیا ہوا! ہیں تو دونوں ایک ہی مٹی سے وابستہ۔   گھر میں داخل ہونے کے بعد ایک بہت ہی ضعیف اور جھریوں بھرے چہرے نے میرا استقبال کیا معلوم ہوا کہ وہ میری دادی جان ہیں، صبر کے سارے بندھن ٹوٹ گئے، نا جانے کیسے ان سالوں سے خشک آنکھوں میں وہ پیارکی ندیاں ایک سیلاب لیکر امڈ آئیں، مجھےبے انتہا چوما بے انتہا پیار کیااور اپنے پاس بٹھایا، آنکھوں کی بینائی نا ہونے کے برابر تھی لیکن جس چاو سےوہ اپنی سالوں سے پیاسی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہیں تھیں اور مجھ میں اپنے اس بیٹے کو دیکھ رہی تھیں جو ناجانے کتنے برس بیت گئے ان سے نہیں ملا تھا۔ جو وقت کی قید میں ناجانے زندہ ہوتے ہوئے بھی دفن ہو گیا تھا۔ بے شمار سوال بے شمار باتیں برسوں کی پیاسی ماں اپنے پوتے میں اپنے بیٹے کو تلاش کر رہی تھی، جو ناجانے کب اس دنیا سے جانے والی تھی لیکن ایک امید ایک انتظار ایک خواہش اسے زندہ رکھے ہوئے تھی۔ بہت وقت دادی کے ساتھ گزارا انے پاس بیٹھا رہا پھر شام کا وقت ہوا تو میرے پھوپھو زاد بھائی کہا کہ کل صبح تڑکے اٹھ جانا کیوں کہ ساتھ والے گاوں جانا ہے کچھ کام ہے۔ میں تھوڑا سا پریشان ہوا کہ مجھ سے کونسا کام ہے اور وہ بھی ساتھ والے گاوں، لیکن پھر سوچا شاید کوئ بات ہو۔  رات کے وقت دادی جان نے کسی کو کہا کہ وہ ٹرنک اٹھا کر لے آیا یہ اچھا خاصا بڑا جستی ٹرنک تھا جس کو تالے سے بند کیا گیا تھا، دادی جان نے خود اپنے کانپتے ہاتھوں سے وہ ٹرنک کھولااور اس کے بعد جو اس میں سے برآمد ہوا اس نے مجھے اور میری روح تک کو سکتے میں مبتلا کر دیا۔ دادی جان روتی جا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ کپڑے نکال نکال کر باہر رکھ رہیں تھیں۔   یہ وہ کرتے تھے جو وہ ہرسال اپنے بیٹے کے لیے عید کے دن کے لئے بناتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  کہ شاید وہ آجائےہر سال اس امید پر کہ وہ آجائے گااور آکر کرتا پہنے گا عید کرے گا وہ کرتا بناتیں اور اسوقت تک انتظار کرتی رہتیں جب تک کہ امید کی ساری کرنیں غروب ہوتے سورج کے ساتھ ہی غروب نا ہو جاتیں، وہ ماں حسرت سے اس کرتے کو ٹرنک میں رکھ دیتی اور دوبارہ انتظار کرتی اگلے سال وہ خود سے اندازہ لگاتی کہ ابھی میرا بیٹا اتنا بڑا ہو گیا ہو گا، اتنا صحت مند ہو گیا ہو گا سو وہ اسی ناپ کا کرتہ بناتی اور رکھ دیتی۔  سالوں سے بنے وہ کرتے آج بھی ویسے کہ ویسے موجود تھے جو ایک ماں نے اس آس پر کے اس کابیٹا ضرور آئے گابنا بنا کر رکھے ہوئے تھے۔   اگلے دن انہوں نے وہ زیورات دیکھائے جو انہوں نے اپنی بہو کے لیے بنائے تھے کہ جب بھی بیٹا آئے گا اور اس کی شادی ہو گی تو اپنی بہو کو زیور پہنائیں گیئں۔ لیکن انہیں نہیں معلوم تھا کہ اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔اور شاید جب وہ آئے تب تک وہ خود اپنی آس اپنی حسرت اپنی ادھوری خواہش کو لیکر اس دار فانی سے کوچ کر چکی ہوں گی۔۔۔۔۔   اگلے دن ہم ساتھ والے گاوں گیئے تو مجھے اندازہ ہوا کہ ہم لوگ کس جنت میں رہتے ہیں اور پھر بھی ناشکرے ہیں، ساتھ والے گاوں میں ایک عدد تھانہ تھا جس میں مجھے جا کر حاضری دینی تھی اور امیگریشن کا پورا پراسس دوبارہ دہرانا تھا کہ میں کون ہوں کہاں سے آیا ہوں کہاں کہاں جانا چاہتا ہوں، کب تک رہوں گا وغیرہ وغیرہ۔ معلوم یہ پڑا کہ جس جگہ کے وزٹ کا میں نے لکھ کر دیا ہے میں صرف ادھر ہی جاسکتا ہوں اور اگر میں کوئی ہینکی پھینکی کروں گا تو بلا کسی تردد کے وہ مجھے گرفتار کر کے کہاں لیکر جائیں گے اور کیا کریں گے یہ کوئی نہیں جانتا۔  زندگی کا دائرہ وہاںپر رہنے والے مسلمانوں کہ لیئے ویسے تو تنگ ہے ہی پر اگر کوئی رشتہ دار پاکستان سے ان کے پاس آجائے تو ادھر کا ہندو ذہنیت کا حامل تنگ نظر تنگ دل سسٹم فوری طور پر پیچھے پڑ جاتا ہے۔ اس کے بارے میں لکھوں گا تو بہت کچھ لکھنے کو ہے۔ پر قصہ مختصر کے میں کچھ دن رہنے کے بعد اپنوں کا بہت سا پیار سمیٹ کر واپس پاکستان آ گیا۔   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>از رانا راشد ادریس</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://nawaiadab.com/%da%a9%d8%b1%d8%aa%db%811947-%d8%a7%d8%b2-%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%b1%d8%a7%d8%b4%d8%af-%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جہالت اور برَبریت از رانا راشید</title>
		<link>http://nawaiadab.com/%d8%ac%db%81%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%b1%d9%8e%d8%a8%d8%b1%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d8%b2-%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%b1%d8%a7%d8%b4%db%8c%d8%af/</link>
		<comments>http://nawaiadab.com/%d8%ac%db%81%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%b1%d9%8e%d8%a8%d8%b1%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d8%b2-%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%b1%d8%a7%d8%b4%db%8c%d8%af/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 11 Feb 2011 08:57:13 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضمون]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://nawaiadab.com/?p=1721</guid>
		<description><![CDATA[جہالت اور برَبریت جہالت اور برَبریت میں صرف وہ لوگ شامل نہیں جنہوں نے کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا، بلکہ بہت پڑھا لکھا طبقہ بھی اس میں پوری طرح شامل ہے، صرف فرق ہے طریقہ کار کا، پڑھےلکھے لوگوں نے اس کو ایک فیشن بنا لیا ہے، ایک رسم کے طور پر جرم ، [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;"><strong>جہالت اور برَبریت</strong></p>
<p style="text-align: right;">
<p style="text-align: right;">جہالت اور برَبریت میں صرف وہ لوگ شامل نہیں جنہوں نے کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا، بلکہ بہت پڑھا لکھا طبقہ بھی اس میں پوری طرح شامل ہے، صرف فرق ہے طریقہ کار کا، پڑھےلکھے لوگوں نے اس کو ایک فیشن بنا لیا ہے، ایک رسم کے طور پر جرم ، برائی یا زیادتی کی جاتی ہے، اور پھر اس پر فخر بھی کیا جاتا ہے،اس چرچا کیا جاتاہے اور احباب کو بہت فخر سے بتایا جاتا ہے۔ دنیا میں جرائم کے تناظر میں اگر سروے کیا جائے، تو مجھے عین یقین ہے کہ پڑھے لکھے معزز لوگوں کی شرح جرم ان پڑھ لوگوں سے کہیں زیادہ ہے، ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو جرائم کو ایک فیشن سمجھ کر اپناتاہے، پھر عادت ثانیہ، اور پھر خصلت!!!!!!!!!!!</p>
<p style="text-align: right;">جس کا انجام بلا آخر معاشرتی بد حالی، بے راہ روی اور بد ترین واقعات کی شکل میں سامنے آتا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">
<p style="text-align: right;"><strong>برائی کیا ہے؟</strong></p>
<p style="text-align: right;">
<p style="text-align: right;">میں خود سے سوال کرتا ہوں کہ برائی کیا ہے، کسی سیانے کا کہنا ہے کہ <strong>“برائی یہ نہیں کہ ہمارے گھر کے دروازے پر گندگی پڑی ہے بلکہ برائی یہ ہے کہ ہمیں وہ گندگی نظر نہیں آتی”</strong></p>
<p style="text-align: right;">جب ہم میں سے برائی کا احساس ختم ہو جاتا ہےتو ہم فطری طور پر مر چکے ہوتے ہیں ہمارے اندر سے انسانیت ختم ہو چکی ہوتی ہے، پھر نا رشتے خون کے رہتے ہیں نا بھائی چارے کے، نا اپنے کی تمیز نا پرائے کی، نا اخلاقیات نا خاندانی اقدار۔</p>
<p style="text-align: right;">
<p style="text-align: right;">چلو سب مل کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی ہمارے احساس کو زندہ کردے، ہمارے دلوں پر جو گناہ اور جہالت کے قفل ہیں، برائیوں کے سیاہ داغوں نے ہمیں ہمارے راستے سے بھٹکا دیا ہے، اللہ تعالٰی ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے،</p>
<p style="text-align: right;">آمین ثم آمین!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!</p>
<p style="text-align: right;">
<p style="text-align: right;"><strong>طالب دعا رانا راشد</strong></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://nawaiadab.com/%d8%ac%db%81%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%b1%d9%8e%d8%a8%d8%b1%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d8%b2-%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%b1%d8%a7%d8%b4%db%8c%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر</title>
		<link>http://nawaiadab.com/%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d8%ac%d9%84-%da%af%db%8c%d8%a7-%d9%86%db%81%d8%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%a8%d9%90-%d8%b1%d8%ae%d9%90-%db%8c%d8%a7%d8%b1-%d8%af%db%8c%da%a9%da%be-%da%a9%d8%b1/</link>
		<comments>http://nawaiadab.com/%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d8%ac%d9%84-%da%af%db%8c%d8%a7-%d9%86%db%81%d8%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%a8%d9%90-%d8%b1%d8%ae%d9%90-%db%8c%d8%a7%d8%b1-%d8%af%db%8c%da%a9%da%be-%da%a9%d8%b1/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 28 Jul 2010 12:59:33 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[شاعری --- غالب]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://nawaiadab.com/?p=589</guid>
		<description><![CDATA[]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://nawaiadab.com/%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d8%ac%d9%84-%da%af%db%8c%d8%a7-%d9%86%db%81%d8%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%a8%d9%90-%d8%b1%d8%ae%d9%90-%db%8c%d8%a7%d8%b1-%d8%af%db%8c%da%a9%da%be-%da%a9%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
