اپنی گم گشتہ آواز کی کھوج کا مسافر۔ ۔ ۔ حافظ مظفر محسن
ناصر ملک (چوک اعظم)

کئی ماہ پیشتر گلبرگ کے مصنوعی سبزہ زاروں میں گھرے ہوئے سوشل سکیورٹیز کے سرکاری جاہ و حشم والے دفتر میں حافظ مظفر محسن کی میزبانی سے لطف برآ ہونے کے بعد نذیر انبالوی اور شعیب مرزا جیسے صاحبِ طرز ادیبوں کی محفل میں حافظ صاحب نے اپنے طرزِ مخصوص کے ساتھ کاغذوں کا ایک پلندہ میز پر بکھیر دیا۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ اس پلندے میں اُن کی آنے کوبے تاب کتاب کے لیے مختلف مصوروں سے بنوائے گئے سرورق تھے جن میں سے صاحب موصوف کے اصرار پر ایک اسکیچ منتخب کرنا تھا۔ بھلا ہوا کہ اُس محفلِ یاراں میں کوئی زیرک سیاست دان ورود پذیر نہیں تھا وگرنہ دفتر اسمبلی کا نقشہ کھینچتا اور شرکاء کرسیاں۔ چاروں جُڑے ہوئے عرق ریز سروں پر حافظ صاحب کا ہر اسکیچ کے پسِ منظر اور کاوشِ اظہار پربیان تب تک چکراتا رہا جب تک ہم حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ گئے۔ یہ مرحلہ ’’نیا دور۔ ۔ ۔ جدید ہتھیار‘‘ جیسی نابغہ روزگار فکاہیہ کتاب کیلئے ایک باتفسیر سرورق کے حتمی انتخاب پر مختتم ہوا اور کتاب کی اشاعت موضوعِ گفت گو ٹھہر گئی۔ ٹائٹل پر مصنف بذاتِ خود دائیں پائوں کا جوتااُتار کر کسی نادیدہ وجود پر تانے اِک شانِ استغراق سے جلوہ افروز ہیں۔ یوں کہہ لیجئے کہ حافظ صاحب نے زیرو زیرو سیون کے اندازِ کار میں ہزارہا جوتے معاشرے میں کسی تلاش و بسیار پر مامور کرکے روانہ کر دیے ہیں۔
ادارہ فکر و دانش لاہور کے اشاعتی پلیٹ فارم سے طلوع ہونے والی اِس خوبصورت کتاب ’’نیا دور۔ ۔ ۔ جدید ہتھیار‘‘ کا انتساب دنیائے مزاح کے روح و رواں عطاء الحق قاسمی اور ماہنامہ ’’چاند‘‘ اور ’’آداب عرض‘‘ کے چیف ایڈیٹر و معروف شاعر خالد بن حامد کے نام ہے۔ کتاب کے تنقیدی جائزے نے بجا طور پر آشکار کیا ہے کہ مصنف نے خوبصورت اور بذلہ سنج فکاہیہ طرزِ تحریر کی بدولت ادب کی لمحہ لمحہ گم ہوتی فکاہیہ صنف میں نئی اور جاندار توانائی اتارنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ماضی میں اِس صنف کے دلدادگان ادباء نے جو کردار ادا کیا تھا وہ بے مثال تھا اور یقینی طور پر حافظ مظفر محسن نے اپنے پیش روئوں کی روایات کو بخوبی نبھایا ہے ۔ چونکہ حافظ مظفر محسن پختہ تحریر کار، صاحبِ دسترس نثرنگار اور ’’کچھ کچھ‘‘ شاعر بھی ہیں، اِس لیے اُن کی تحریر کا یہ خاصہ ہے کہ قاری کو پوری طرح اپنے حصار میں جکڑے رکھتی ہے۔ وہ ملاقات میں جیسا دکھائی دیتا ہے، اپنی تحریر میں بھی بالکل وہی ملتا ہے اور یہ وصف معدودے چند لکھنے والوں کے ہاں دیکھنے میں آتا ہے کہ اُن میں سادگی، تصنع سے مبرا اسلوب اور محبت آمیز رویے کوٹ کوٹ کر بھرے ہوتے ہیں۔ اُس کے چہرے پر ہر وقت رقص کناں شگفتگی، گفتگو میں نمایاں چلبلا پن اور بڑی سے بڑی بات کو عام سے پیرائے میں بیان کرنے کے تمام تر فطری اوصاف حافظ مظفر محسن کی عملی زندگی سے نچڑ کر اُس کی شگفتہ بیانیوں میں آن سمٹتے ہیں اور لفظ لفظ گدگدا کر مسکرانے پر مجبور کردیتا ہے۔
مسکراہٹیں بکھیرتی ہوئی کتاب کا سرورق دیکھ کر پہلا گمان تو یہ گزرتا ہے کہ کہیں حافظ مظفر جوتے کے زور پر کھلکھلا کر ہنسنے پر مجبور تو نہیں کررہا مگر کتاب میں دیے گئے فکاہیہ مضامین پڑھ کر اپنی رائے بدلنا پڑتی ہے۔ کتاب کی خوبصورتیوں کو سمیٹنے کی ضرورت چنداں محسوس نہیں ہوتی کیوں کہ یہاں بدصورتیوں کا تناسب بہت کمزور واقع ہوا ہے۔ مصنف بلاشبہ طنز، مزاح، تنقید، دل آزاری اور بحث برائے بحث کے جملہ اصول و قوافی سے آگاہ ہے۔ اُس نے کہیں بھی وہ مہین سی سرحد پار نہیں کی جس کے پار مزاح دل دکھانے کا سبب ثابت ہوتا ہے اور مسکرانے کے بجائے منہ بسورنا پڑتا ہے۔ یہی حدود و قیود کسی بھی مزاح نگار کی قامت کا تعین کرتی ہیں۔
’’نیادور۔ ۔ ۔ جدید ہتھیار‘‘ میں شامل جملہ مضامین کے انفرادی خلاصے ایک بھرپور پنسل اسکیچ کے ساتھ جابہ جا نظر آتے ہیں اور پہلو کو گدگدا جاتے ہیں۔ قاری کا بارہا ایسے فقروںاور برجستہ جملوں سے واسطہ پڑتا ہے کہ وہ ٹھٹک جاتا ہے اور سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مثلاً ’’شاید بندر ہی وہ جانور ہے جو ایک طے شدہ معاشرتی نظام کے تابع رہ کر زندگی گزارتا ہے‘‘ (ص:۱۳)۔ ۔ ۔ ’’اب محتاط ہونے کا کوئی فائدہ نہیں کہ اب شاہدہ منی سے لے کر علی ظفر تک سب خود ہی گانے لکھتے ہیں‘‘ (ص:۴۳) ۔ ۔ ۔ ’’آج لوڈ شیڈنگ نہیں ہوئی، کسی کو اس بات کی خوشی نہ ہوئی نہ ہی کسی نے لوڈ شیڈنگ نہ ہونے پر واپڈا کی شان میں قصیدے پڑھے۔‘‘ (ص:۶۴)۔ ۔ ۔ ’’کالی رات سے ڈر لگتا ہے، شہر سوات سے ڈر لگتا ہے گویا فرات سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ (ص:۹۰) ۔ ۔ ۔ ’’میرے نہایت نفیس دوست شعیب مرزا مجھ سے ناراض ہونے کی پوری پوری تیاری کر رہے ہیں۔‘‘ (ص:۱۴۲) ۔ ۔ ۔ ’’فلاں سیاستدان کے ہوتے ہوئے کسی بھوت کی ضرورت ہے اور فلاں اداکارہ کے ہوتے ہوئے کسی پری کی کیا ضرورت ہے بشرطیکہ وہ منہ نہ دھو لیں۔‘‘ (ص:۱۴۴) ۔ ۔ ۔ ’’اگر اسامہ بن لادن کی دستیابی نہ ہوتو منتظر زیدی کو ہی محفل کی رونق دوبالا کرنے کا کام سونپا جائے۔‘‘ (ص:۱۵۱) اور ’’جوتے جو پیار سے مارے گئے۔‘‘ (ص:۱۵۲) وغیرہ ۔ ۔ ۔ حافظ مظفر محسن نے نہ صرف فکاہیت اور رنگِ مزاح پر پوری توجہ دی ہے بلکہ اُس نے کہیں بھی بلاغ و بیان کی ندرت کو گہنایا نہیں ہے۔
مضامین کی نوعیت ہلکی پھلکی کہانیوں کی سی ہے۔ کردار بھی معاشرے کی رگوں سے کشید کیے گئے ہیں جنہیں ہر قاری کتاب کے صفحات پر ملاحظہ فرماتے ہوئے اپنی چشمِ تصور کے زور پر گلی کوچوں میں چلتا پھرتا اور اینڈتا دیکھ لیتا ہے جس سے مصنف کے تراشے ہوئے استعاروں کی افادیت دو چند ہو جاتی ہے۔ شفیق اعوان، محمد حسین تھانہ محرر، ایکسپائرڈ جنرل پرویز مشرف، وزیر آباد سے آیا ہوا فال نکالنے والا، ماسٹر کمر کمانی، چھوٹی لومڑی، صنوبر خان نسوار والا، عاشق حسین ثاقب اور کئی معاشرتی کردار مظفر محسن کی بلاغت اوراسلوب پر دلیل لاتے ہیں اور قاری کو اطراف میں دکھائی دیتے ہیں۔ کہانی بننے کے عمل میں مہارت بھی کہیں کہیں اپنا آپ منواتی ہے اور مزاح کی عمدگی مکالموں کے سہارے مہمیز ہوتی ہے۔ اِسی پیرہن میں حافظ مظفر نے کئی لطیفے بھی اپنی تحریر کی زینت بنائے ہیں جیسے صفحہ نمبر ۱۰۳ پر درج ایک لطیفہ ملاحظہ ہو۔
ماں (منے سے): بیٹا! ذرا ساتھ والی خالہ جان سے چمچ مانگ کر لائو۔
بیٹا: ماں! انہوں نے دینے سے انکار کر دیا ہے۔
ماں: یہ لوگ بھی دن بہ دن کنجوس ہوگئے ہیں۔ جائو الماری سے اپنا چمچ نکال لائو۔
’’نیادور۔ ۔ ۔ جدید ہتھیار‘‘ محض وقتی لطف کشیدگی کا سامان نہیں کرتی بلکہ جاوداں پیغامات کو بھی شگفتگی کی ردا اوڑھا کر نشر کرتی ہے۔ معاشرے میں جا بہ جا پھیلی ہوئی انارکی، عدم تحفظ اور انصافیوں کا احوال پوری سنگینی اور ذمہ داری سے عیاں کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ایسے شاندار قطعاتِ تحریر اِس کتاب کی زینت ہیں جن کی عہدِ نو میں تجدید اور آبیاری نہایت ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ایک نثر پارہ ملاحظہ ہو ۔ ۔ ۔ ’’دو قومی نظریہ کی بنیاد اسی وقت برصغیر میں رکھ دی گئی تھی جب ہندو نے واضح کردیا تھا کہ برصغیر میں فارسی (جو اس وقت رائج تھی) کی جگہ ہندی قومی زبان ہوگی۔ ہندو راج کے لئے کوششیں شروع ہوگئیں اور سرسید احمد خان نے ہمیں انگریزی سکھا کر دنیا میں اقوام عالم کے ساتھ کھڑا ہونے کا درس دیا۔‘‘(ص:۷۴)۔ اِس سے اگلے صفحہ پر مصنف نے اپنے مضمون کے متن کو تقویت دینے کے لیے علامہ اقبال کے اشعار کو بھی زینتِ اشاعت بنایا ہے جس پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ محض ہنسنے اور مسکرانے کا محرک رکھنے والی کتاب نہیں بلکہ نسلِ نو کی ذہنی بلوغت اور قوتِ ارتکاز کی تعین کاری کا جذبہ بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ یقینا یہ وصف حافظ مظفر محسن کو اپنے ہم عصرمزاح نگاروں سے الگ اور ممتاز کرتا ہے۔
بلاشبہ ’’نیا دور۔ ۔ ۔ جدید ہتھیار‘‘ مزاحیہ و فکاہیہ ادب میں شاندار اضافے کے طور پر حلقۂ ادب میں نہ صرف قبول کی جائے گی بلکہ یہ اربابِ سخن کی پسندیدگی کی معراج کو بھی چھونے میں کامیاب رہے گی۔ سچی شگفتہ بیانیاں اور میٹھی کھٹی تحریروں کے خالق، اچھی اور شستہ و رواں گفت گو کے پیکر حافظ مظفر محسن کے ادبی سفر کے لیے ڈھیروں دعائیں دل سے نکلتی ہیں۔

[L:4 R:232][L:4 R:232][L:4 R:232]