تعارف
نام۔ راجا محمد امین
قلمی نام۔ ایم اے راجا
تعلیم۔ ایم اے ( اردو) ایل۔ایل۔بی۔

مقام پیدائش۔ ڈھورونارو۔

میرا نام محمد امین ہے، قلمی نام ایم اے راجا ہے، پہلے ساگر تخلص کیا کرتا تھا مگر بعد میں تبدیل کر کے راجا کردیا۔ میرے آبا کا تعلق راولپنڈی کی تحصیل گو جرخان سے، لیکن میرے دادا محترم محمد ابراہیم مرحوم بسلسلہ ملازمت ( پولیس) سندھ میں آئے اور اس حسین، پر محبت اور پرخلوص وادی کے ہی ہو کر رہ گئے، انکی آخری پوسٹنگ ضلع میرپورخاص ( موجودہ ضلع عمرکوٹ) کے ایک قصبہ ڈھورونارو میں ہوئی اور یہاں ہی پر ریٹائرڈ ہونے کے بعد مقیم ہوگئےاور زمین خرید کر زمینداری شروع کی نہایت ایماندار، سیدھے اور اللہ والے بندے تھے، میرے والد محترم راجا محمد اسحاق بھی یہاں ہی پر پیدا ہوئے، اکلوتے بیٹے تھے والد کی وفات کے بعد والد صاحب بھی یہاں ہی مقیم رہے، ہم چار بھائی اور ایک بہن ( اسکے علاوہ تین بھائی بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے) یہاں ہی پیدا ہوئے، میرے والد صاحب کی شادی چونکہ گوجر خان سے ہوئی تھی سو وہاں سے رشتہ قائم رہا، بعد میں میرے بڑے بھائی راجا عبدالحئی صاحب کی شادی بھی گوجرخان میں ہوئی اور وہ وہاں مقیم ہو گئے اور آجکل اپنی زمین وغیرہ سنبھالتے ہیں۔ دو چھوٹے بھائی راج محمد جمیل اور راجا خضر حیات ہیں جو کہ ٹرانسپورٹر ہیں انکی شادیاں یہاں ہی سے کی گئیں لیکن میری شادی میری پسند ( بلکہ ضد) کی وجہ سے گوجرخان سے 23 اپریل 2003 کوہوئی، اللہ تعالٰی نے بہت جلدی ایک بیٹی نورالصباح امین، 3 بیٹوں، راجا احتشام امین، راجا ہشام امین اور راجا عاشر امین، سے نوازا۔
لکھنے کا شوق مجھے پرائمری ہی سے تھا اور الٹا سیدھا بہت کچھ لکھتا رہتا تھا جسکا کوئی پتہ نہیں کہ کیا لکھتا تھا، اور پھر غزل لکھنا شروع کی مگر بیبحر، پھر نیٹ پر ملاقات خرم شہزاد خرم سے ہوئی اور یہ ملاقات مضبوط دوستی میں بدل گئی اور انکی وجہ سے میں اردو محفل میں پہنچا جہاں میری ملاقات محترم وارث صاحب اور استادِ محترم اعجاز عبید صاحب ( الف عین) سے ہوئی اور انکی سر پرستی میں میں نے بحر میں غزل کہنا سیکھی اور سیکھنے کا عمل ابھی تک جاری ہے کیوں کہ ابھی تو میں طفلِ مکتب ہوں۔
کوئی کتاب ابھی تک نہیں آئی کہ ابھی اس قابل ہی نہیں ہوں، ہاں ایک انتخاب تیاری کے مراحل میں ہے، جو کہ انشاءاللہ بہت جلد شائع ہو گا۔ اپنی ذاتی مصروفیات کے باعث ادبی سرگرمیوں کے لیئے وقت نکالنا نہایت مشکل رہتا ہے، ایک ادبی رسالے کانوائے سحر ملتان  کا سرپرست ہوں، کچھ کالم اور کہانیاں بھی لکھیں جوکہ سب شائع نہ کروا سکا کچھ برقی دنیا میں شائع ہوئیں اور وہ کہاں کہاں ہیں مجھے کچھ یاد بھی نہیں، غزل میری پسندیدہ صنف ہے جس سے بہت لگاؤ ہے ، باقی میری اپنی شاعری اس قابل تو نہیں جو کہ تو جہی سے پڑھی جائے اور پسند کی جائے، لیکن پھر بھی اگر نوائے ادب والوں کی مہربانی شاملِ حال رہی تو آپ ضرور اسے یہاں پڑھ سکیں گے۔
علامہ اقبال، پروین شاکر اور فراز سے متاثر ہوں، حالانکہ ان جیسا تو کیا ان کی نقل میں بھی ابتک کچھ نہیں کہہ سکا۔
میں یہاں اپنے استادِ محترم الف عین صاحب اور رفیقِ کار ( کیونکہ وہ استاد کہلوانا پسند نہیں کرتے حالانکہ میں انھیں استاد ہی مانتا ہوں) وارث صاحب کا شکر گذار ہو نکہ وہ مجھے اپنا سمجھ کر مجھ پر نظرِ خاص رکھتے ہیں، اسکے علاوہ میں خرم شہزاد خرم کا شکر گذار ہوں کیونکہ اگر وہ میرے ساتھ نہ ہوتے تو میں آج یہاں نہ ہوتا، اللہ ان سب کو اجرِ عظیم دے۔ آمین۔ اسکے علاوہ میں اپنے دوست عاشق حسین چانگ جو کہ سندھی کے ایک اچھے شاعر ہیں اور اس بھی زیادہ اچھے آدمی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے میری حوصل افزائی کی اور کرتے رہتے ہیں، اسکے علاوہ میں نوید صادق کا بھی بہت شکر گذار ہوں کہ وہ بھی میری شاعری کی پر خار راہ میں مدد کرتے رہتے ہیں۔
میں اپنے بھائیوں کا بھی بیحد ممنوں ہو جنکی حوصلہ افزائی شاملِ حال رہتی ہے۔
میں اپنی زوجہ محترمہ کا بھی بیحد شکر گذار ہوں جو میری حوصلہ افزائی بھی کرتی ہیں اور ایسا ماحول بھی پیدا کرتی ہیں کہ میں کچھ کہہ سکوں۔
میں اپنے سسر محترم صغیر احمد صاحب ( انڈیٹر انچیف ، ہفت روزہ وقائع نگار، گوجر خان، راولپنڈی )کا بھی شکر گذار ہوں جو میری حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں۔
میں آخر میں اس علمی شخصیت کاخصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے پہلی دفعہ میری شاعری کو پڑھ کر مجھے بتایا کہ علمِ عروض کیا ہے اور اسے سیکھو، وہ شخصیت ہیں ڈاکٹر راشد حمید صاحب، ڈائریکٹر اکادمی ادبیات اسلام آباد، ایک نہایت شفیق اور آئیڈیل شخصیت، جو کہ میرے رشتیدار بھی ہیں،  اور مجھے فخر بھی ہیکہ انکی بھانجی میرے عقد میں ہیں۔