میں اکثر سوچتی ہوں اور پھر خود ہی ہنس پڑتی ہوں ۔ کیا میں ابھی اس قابل ہوں ۔کہ ا پنا تعارف دے سکوں ۔ میرے خیال سے اپنے بارے میں کچھ کہنا سب سے مشکل کام ہے ۔ اور پھر ایسے وقت جب کچھ خاص کیا نا ہو ، ۔ اور بہت کچھ کرنے کی تمنا دل میں موجود ہو تو کیسے میں اپنے بارے میں بتا سکتی ہوں ۔ ، یہی وجہ ہے کہ میں بہت ہی پیار اور احترام سے یہ کہہ دیتی ہوں کیا لکھوں ، کیا کہوں ۔ لیکن پھر بھی کہنا پڑتا ہے ۔ اور یہ اچھا بھی لگتا ہے ۔ یہاں میں دو ہسیتوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتی ہوں ،محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم جو کے خود بہت اچھی افسانہ نگار اور دو کتابوں ÷ گردباد حیات اور مٹی کا سفرکی خالق ہیں میری بہت رہنمائی فرمائی ۔ اور نہ صرف میری رہنائی فرمائی۔ بلکہ مجھے ایک بہت ہی خوبصورت ہستی سے ملوایا ، بہت سی کتابوں کی خالق ۔ محترمہ انجم انصار صاحبہ ہیں ، جھنوں نے نا صرف مجھے پاکیزہ میں جگہ دی بلکہ قدم قدم پر مجھے یہ یقین دلایا ۔ کہ تانیہ میری تحریر اور میری ہر طرح کی مدد آپ کے ساتھ ہے ۔ وہ خود اپنے اندر ایک مدرسہ ہیں ۔ لیکن ان سے بات کرنے کے بعد پتا چلتا ہے وہ کتنی عاجز انسان ہیں انکے اس پیار اور خلوص کی میں مقروض ہوں ۔۔ یہاں میں ایک اور ہستی کا ذکر کرنا ضروری سمجھتی ہوں ۔ورنہ یہ تعارف ادھورا لگے گا ۔ محترم سید محسن علی۔ ایک ڈرامہ نگار اور کمال کے افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ بہت مہربان انسان ، اللہ پاک سب کو خوش رکھےآمین تانیہ رحمان جائے پیدائش پشاور ۔ 10 دسمبر کی صبح دنیا میں انکھ کھولی ۔ خوش قسمت ہوں اپنے بہن بھائیوں میں سب کی لاڈلی ہوں ، لیکن اللہ کا بڑا کرم رہا کہ پیار پانے کے باوجود مجھ میں کوئی خودسری یا بتمیزی نہیں پائی جاتی ۔ بڑوں کا احترام اور بچوں سے پیار میری کمزوری ہے بچپن کو اگر یاد کرتی ہوں تو بہت ہی شہزادیوں والا گزارہ ۔ ہر فرمائش پوری ہوئی ۔ بعض دفعہ مجھے یہ محسوس ہوتا تھا کہ میں باقی بچوں سے بالکل الگ ہوں ۔ اتنا خیال رکھا گیا ۔ ماں کو اللہ پاک جنت دے اور والد صاحب کو زندگی عطا کرئے ، جنھوں نے مجھے اتنا پیار دیا ۔ لیکن انکی زندگی میں وہ سب کچھ نا کر سکی جس کے وہ حقدار ہیں ۔ اسکول کے زمانے میں ایک اچھی کھلاڑی تھی ۔ بہت سارے انعامات حاصل کیے ۔ زیادہ لائق نہیں تھی ۔ یہ سلسلہ کالج تک جاری رہا ۔ وہاں بھی ایکاچھی کھلاڑی اپنے کالج ٹیم کی کپتان ۔ ہاکی کرکٹ بیڈمنٹن کی چیمپن رہ چکی ہوں ۔ لیکن لکھنے کا شوق اندر کہیں چھپا بیٹھا تھا جانتی نہیں تھی ۔ کہ لکھ کر کرنا کیا ہوتا ہے ۔ ہاں اپنے تیکے کے نیچے رکھ لیتی تھی کسی کو پتا نا چل جائے ۔ اور ڈر بھی لگتا تھا کہ والد یا والدہ صاحبہ کے ہاتھ لگ گیا تو کیا ہو گا ۔ آج جب یاد کرتی ہوں تو بہت اچھا لگتا ہے ۔ اور تھوڑا افسوس ہوتا کہ اگر اس وقت کچھ لکھا ہوتا تو آج کم آز کم کچھ تو لکھا ہوتا ۔ بی اے فانیل میں شادی ہو گئی ۔ اس دوران کمپیوٹر کورس کیے جو آج کام آ رہے ہیں ۔ گھر اور بچوں میں مصروف ہونے کی وجہ سے یہ سلسلہ تقریبا ختم ہو چکا تھا ۔ یا پھر میرا دھیان ہی نہیں رہا ۔یا پھر وقت اور ملکوں ملکوں میاں جی کی جاب کے سلسلے میں سوچا نہیں ۔ ابھی کچھ سال پہلے مزاق مذاق میں لکھنے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا ۔جس میں سب سے پہلے جو افسانہ لکھا تھا وہ اپنی ماں کے مرنے کے بعد جب میں فلائٹ مس ہونے کی وجہ سے بروقت نا پہچ پائی اچند فسانوںکے نام ۔ فلائٹ جا چکی ۔ ویراں ہیں دل کی گلیاں ۔ یہ کیسی محبت تھی ۔ پھولوں والی قبر تیری ہی باز گشت ہوں میں ۔ افسانوں کے ساتھ ساتھ کالم مضامیں بھی لکھے ، جو نوائے وقت اسلام آباد ۔ آج پشاور ۔ اور یوکے سے شائع ہونے والا اخبار ٓاواز شامل ہے ۔ آواز انٹرنیشنل کی شعبہ خواتین کی انچارج اور منچسٹر کی نمائندہ ہوں۔ زندگی کا مقصد یہ ہے کہ دوسروں کے کام آ سکوں ۔ جو مجھ سے بن پڑے میں کروں ۔ اور لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے جو لکھوں وہ منافقیت سے پاک ہو ۔ حق اور سچائی میرئے قلم کی نوک پر رہے ۔ اگر اللہ پاک نے مجھے لکھنے کی توفیق دی ہے ۔ تو میں وہی کچھ لکھوں جس سے میرا رب َ راضی رہے ۔ پیغام یہ دینا چاہوں گی کہ دوسروں کا خیال رکھیں اگر سکون چاہتے ہیں دشمنی اور حسد سے اپنے آپ کو دور رکھو منزل خودبخود آپکے سامنے ہو گئی ، اللہ پاک نے جو مجھے دیا ہے وہ مجھ سے کوئی چھین نہیں سکتا ۔ اور دوسروں سے میں ۔ اگر کسی کے لیے کچھ کیا ہے تو بار بار یہ احسان نا جیتا و ورنہ اپنی قدر ختم ہو جاتی ہے ۔ اللہ پاک نے ہر انسان کو دوسرے کا وسیلہ بنا کر بجھا ہے ۔ اس لیے دوسروںکی خوشی میں خوش ہونا سیکھو ۔راستوں میں پھول ہی پھول پاو گے۔