ائیر بلو اور میں
جب پاکستان سے میں آیا تو اس وقت بھی ائیر بلو پر ہی آیا تھا۔ لیک اس وقت تو مجھے کوئی پرشانی نہیں ہوئی سٹاف بہت اچھے طریقے سے پیش آیا جہازنے وقت پر پرواز کی اور وقت پر ہی ابوظہبی پہنچا جہان کے عملے نے بھی اچھا برتاو کیا لیکن اس دفعہ ناجانے کیا وجہ ہے جو اتنی پرشانی اٹھانا پڑی
میں نے دو ماہ پہلے ہی ٹیکٹ لیے لیا تھا اس وجہ سے کہ آخری دنوں میں ایک تو قیمت زیادہ ہوگی اور دوسرا سیٹ پتہ نہیں ملے گی یا نہیں
لیکن دو ماہ پہلے سیٹ کروانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
دو بجے کی فلائیٹ تھی 11 بجے میں پہنچ گیا تھا مجھے باس، بابر بھائی اور میرے دوست چھوڑنے آئے تھے جب بتایا گیا جہاز دیر سے آئے گا تو میں نے باس اور دوستوں کو واپس جانے کا کہہ دیا دو بجے تک جب جہاز نا آیا تو اس وقت یہ کہا گیا کہ آپ لوگ انتطار کرو ہم کچھ کرتے ہیں
ریسپشن والوں سے پوچھا تو انھوں نے کہا ائیر بلو کا سٹاف آئے گا وہ آپ کو آ کر وجہ بتائے گا اور آپ کی آئندہ کی فلائیٹ کا بھی بتائے گا تین بجے کے قریب سٹاف آیا اور صرف فیملی والوں کو لیے کر دبئی چلے گے اور ان کو فلائیٹ مل گئی لیکن فیملی کے بغیر جتنے بھی بندے تھے ان کو کہا اپنا اپنا بندوبست کر لیں کچھ کو کہا کہ شارجہ چلے جائیں اور کچھ کو کہا دبئی لیکن جمعہ اور ہفتے کے دن
اس دوران میں خاموش ہی رہا کسی سے بات نا کی بس جو کچھ لوگوں کو پتہ چلتا مجھے ان سے پتہ چل جاتا میں ے باس کو فون کر کے بتا دیا فلائیٹ کنسل ہوگئی ہے وہ مجھے لینے کے لیے نکل پڑے میں نے سٹاف والوں سے بہت ادب سے بات کی تو انوں نے مجھے اپنے منیجر کا فون نمبر دے دیا کہ ان سے بات کریں میں نے ان کو فون کیا وہ شاہد سو کر اٹھے تھے ان کو اس صورتِ حال کا پتہ ہی نہیں تھا میرے بتانے پر ان کو پتہ چلا تو انھوں نے کہا آپ سٹاف سے بات کریں پھر میں ے ان کو سٹاف کے بارے میں بتایا کہ وہ ہمارے ساتھ کس طرح پیش آ رہے ہیں تو انھوں نے کہا آپ مجھے صبح فون کریں مجھے غسہ آ گیا میں نے کہا آپ کوفون صبح کروں تو اس وقت کیا کروں کہاں جاؤں پھر انھوں نے کہا میں کیا کر سکتا ہوں میں نے کہا شاباش جی سٹاف کہتا ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے اور آپ کہتے ہیں آپ کچھ نہیں کر سکتے بہت اچھی ائیر لائن ہے اس پر ان کو بھی غصہ آ گیا اور غصے میں اتنا کہا کہ صبح فون کر کے رابطہ کرو اور فون بند کر دیا میں نے صبح آٹھ بجے پھر فون کیا میرے سلام کے فورا بعد رات والی بات کی معافی مانگی اور پھر مجھ سے ٹیکٹ پر لکھا ایک نمبر مانگا اور کہا آپ کے پاس تین آپشن ہیں ایک جمعہ والے دن صبح دبئی سے فلاٹ ہے ایک ہفتے والے دن شارجہ سے اور تیسرا اگر آپ پیسے لینا چاہتے ہیں تو وہ واپس لے لیں میں نے کہا جمعہ والے دن کی سیٹ کنفرم کر دیں تو پھر انوھں نے کہا میں دو گھنٹو بعد فون کر کےبتا تا ہوں
دو گھنتوں بعد فون آیا لیکن انھوں نے کہا ابھی تک کنفرم نہیں ہے جب کنفرم ہوگی تو آپ کو بتا دیں گے لیکن جب ایک گھنٹے دک فون نہیں ایا تو پھر میں نے فون کیا تو جناب کا فون ہی بند تھا پھر فورا باس نے اپنے بھائی سے کہہ کر دوسری ائیر لائن کا ٹیکٹ کنفرم کردیا ہے اب انشاءاللہ اسی وقت پر صبح گھر کے لیے روانگی ہے اللہ بہتر کرے آمین



