آج بہت دنوں کے بعد امام عالم اور عبدالاحد سے فون پر بات ہوئی بہت دیر تک بات ہوئی بڑا مزا آیا دل مطمین ہوگیا ہے دونوں باری باری بات کر رہے تھے جو بات ایک کرتا تھا وہی بات دوسرا بھی کرتا تھا پہلے امام سے بات ہوئی اور پھر عبدالاحد سے۔ کیا بات ہوئی آپ بھی پڑھیں۔
چاچو کہاں ہیں آپ
بیٹا میں کام پر ہوں آپ کہاں ہو
چاچو میں گھرمیں ہوں آپ پاپا کو فون کریں اور ان کو کہیں کے وہ مجھے فون کریں ان کو کہیں کے وہ جلدی آجائیں
بیٹا میں نے پاپا کو فون کیا تھا وہ جلدی آ جائیں گے
اچھا آپ کب آئیں گے
میں بھی جلدی آؤں گا
چاچو آپ جلدی آئیں میں نے آپ کی شادی کے لیے کپڑے خریدنے ہیں جوتے بھی لینے ہیں آپ آؤ گے تو پھر لوں گا نا آپ جلدی آ جائیں
عبدالاحد چاچو میں نے بھی آپ کی شادی کے لیے کپڑے لینے ہیں جوتے بھی لینے ہیں آپ جلدی آئیں
جی بیٹا مین جلدی آ جا
امام
چاچو آپ جب آؤ گے تو میرے لیے بلا اور گیند بھی لائے گا اور وہ کھیلنے والے کپڑے بھی جیسے آپ کے تھے اور وہ شوز بھی پھر میں کھیلوں گا آپ بال کروانا اور میں چھکا لگاؤن گا آپ ہار جائین گے اور میں جیت جاؤں گا
یہی بات عبدالاحد کچھ اس طرح کرتا ہے۔
چاچو آپ جب واپس آئیں گے نا تو پھر آپ میرے لیے، امام بھائی آپ نے کیا کہا تھا۔ پھر امام سے پوچھ کر وہی بات ساری دوبارہ میرے ساتھ کرتا ہے
پھر دونوں ایک دوسرے سے ہوشیار بتانا چاہتے ہیں
امام میں سکول بھی جاتا ہوں، مسجد بھی جاتا ہوں اور ماما کی بات بھی مانتا ہوں
عبدالاحد میں سکول بھی نہیں جاؤں گا مسجد بھی نہیں جاؤں گا چاچو کی طرح کام پر جاؤں گا۔
میں نے کہا کاکا میں تو گندا بچا ہوں اس لیے کام پر جاتا ہوں جو اچھے بچے ہوتے ہیں وہ کام پرن ہیں جاتے وہ سکول اور مسجد جاتے ہیں۔
چاچو میں بھی گندا بچا بن جاؤں گا نا
میں نے کہا پھر امام اچھا بچہ بن جائے گا اور وہ آپ سے آگے نکل جائے گا (جب ان دونوں کا مقابلہ کروایا جائے تو فوراَ بعد مان جاتے ہیں) میں بھی سکول جاؤں گا مسجد بھی جاؤں گا ماما کی بات بھی مانوں گا۔
دونوں ایک دوسرے سے بڑکر خود کو بتانے کی کوشش کر رہے تھے کبھی کچھ کہتے کبھی کچھ کسی بات کی کوئی فکر نہیں کیا ہو رہا ہے ہم کیا کر رہے ہیں ہماری باتوں سے کون ہنس رہا ہے کون سوچ رہا ہے کسی بھی بات کی کوئی فکر نہیں بس اپنی مستی میں مست زندگی گزار رہے ہیں بے فکری زندگی جس میں کوئی غم نہیں کوئی پرشانی نہیں یااللہ امام عالم، عبدالاحد اور تمام دنیا کے بچوں کی زندگی میں کبھی کوئی غم نا آئے آمین