سنتے آئے ہیں کہ بیٹیاں والدین میں سے والد کے ساتھ زیادہ محبت کرتی ہیں۔اور یہ سب کچھ دیکھا بھی ہے لیکن محسوس کرنا اب شروع کیا ہے۔ جب میں گھر پہنچتا ہوں تو میری بڑی بیٹی نورِ سحر مجھے گلے لگا کر پیار دیتی ہے۔ اسی حوالے سے ایک بات جو کل پیش آئی اس پر تو مجھے نورِ سحر پر اتنا پیار آیا کہ بس دل کرے اللہ تعالیٰ مجھے اتنی طاقت دے میں نورِ سحر کے لیے اس کی خوشی کے لیے ہر وہ چیز لا دوں جس کی وہ خواہش کرے۔

کل میں نورِ سحر کو موٹر سائیکل پر گرونڈ لے گیا۔ کل اتوار تھا اس لیے بہت سے بچے بڑے کرکٹ کھل رہے تھے۔ میں نے نورِ سحر کو آگے بیٹھایا ہوا تھا اوربہت احتیاط سے موٹر سائیکل چلا رہا تھا کہ کہیں سے کوئی گیند آ کر نورِ سحر کو نا لگ جائے۔ جب ہم واپس آنے لگے تو ایک گیند پیچھے سے میری کمر پر آ کر لگی۔ گیند اتنی زور کی لگی تھی کہ میرے منہ سے آئی کی آواز نکل گئی۔ تو نورِ سحر نے فوراََ پوچھا بابا جی کیا ہوا ہے۔ تو میں نے کہا بیٹا گیند لگئی ہے۔ تو اپنے دونوں ہاتھ میری کمر پر رکھ کے بولی ” بابا جی میں نے اب آپ کو پکڑ لیا ہے میرے بابا اب آپ کو نہیں لگے گئی، ہیں نا۔ اب میں نے ہاتھ رکھ لیے ہیں۔

اس کے یہ الفاظ سننے تھے بس میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں نے موٹر سائیکل روک کر اپنی بیٹی کو گلے لگایا اور بہت دیر تک پیار کرتا رہا۔ اللہ تعالیٰ میری بیٹی کو دین اور دنیا کی کامیابیاں عطا فرمائے آمین