بلاگر ہونے کے ناطے ہمیں اپنی تحریریں اپنے بلاگ پر لکھنی چاہے اور فیس بک پر صرف اس کی تشہیر کرنی چاہے

 

محترم مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں دوسرے کے منہ پر اس کو غلط کہہ سکوں اگر وہ غلط ہے تو اور اتنی ہمت بھی ہے کہ میں اپنی غلطی تسلیم کر سکوں۔ مجھے بلاگ لکھتے ہوئے سات سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ بے شک میں کوئی اتنا معیاری نہیں لکھتا، بے شک میری تحریروں میں جان نہیں ہوتی لیکن ایک بات ہے کہ یہ میری ہی تحریریں ہوتی ہیں اور جس چیز کو میں منتخب کرتا ہوں تو اس کے ساتھ اتنخاب لکھتا ہوں۔

 

ہمارے بہت سے بلاگر دوست ایسے ہیں جو دل سے مخلص ہیں اور میری جتنوں سے بات یا ملاقات ہوئی ہے وہ سب کے سب ہی ویسے ہی ہیں جیسی وہ تحریریں لکھتے ہیں۔ لوگوں کو شاہد ایسا لگتا ہے کہ میں بہت ذیادہ بے وقوف ہوں جس طرف لگایا جاؤں گا اس طرف لگ جاؤں گا۔ سادہ ضرور ہوں لیکن بے وقوف نہیں ہوں۔ جو لوگ مجھے استعمال کر لیتے ہیں یا جن کے لیے میں استعمال ہو جاتا ہوں ، وہ صرف اور صرف ان کی محبت کی وجہ سے اور ان کو میں جانتا ہوں اس لیے ان کی کہنے پر دن کو دن اور رات کو رات کہتا ہوں۔ جو لوگ انتشار پھیلانے والے ہیں، جو لوگ شکوک پیدا کرنے والے ہیں یا جو لوگ ورغلانے والے ہیں وہ اپنے ذہن میں یہ بات ڈال لیں کے بلاگرز ایک فیملی کی طرح ہیں اور فیملی میں چھوٹے موٹے مسائل ہو جاتے ہیں لیکن ان کو حل کر لیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو کبھی بھی آپ کے بُرے مقصد میں کامیاب نہیں کرے گا۔ محترم بلاگرز ہماری صفوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ ہم اتفاق سے رہیں۔ کبھی یہ خبر آتی ہے کہ بلاگر ز کو خرید لیا گیا ہے، یا خریدہ جا سکتا ہے، یہ باتیں کرنے کے بعد جب بھی کوئی بڑا کام ہوتا ہے جیسے لاہور کی کانفرنس ہوئی اور جیسے کراچی کی کانفرنس ہوئی ان دونوں بڑے کاموں کے بعد کچھ لوگوں نے اختلاف کیا۔ جن لوگوں نے اختلاف کیا میں ان کو سلام کرتا ہوں کہ انہوں نے جو کچھ کہا منہ پر کہا اور اپنے اصلی آئی ڈیز سے کہا لیکن کچھ لوگوں نے غلط فہمی ڈالنے کی کوشش کی جو کے ابھی تک ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام بلاگرز کو ان کی نیت کے مطابق کامیاب کرے آمین۔ آخر میں ایک بات کہوں گا کہ میرا خیال ہے کہ بلاگرز کی یونین بنا ہی لینی چاہے ورنہ اس طرح کے مسائل سامنے آتے رہیں گے۔