غزل

تعلق توڑتا ہوں تو مکمل توڑ دیتا ہوں
میں جس کو چھوڑ دیتا ہوں، مکمل چھوڑ دیتا ہوں

محبت ہو کہ نفرت ہو، بھرا رہتا ہوں شّدت سے
جدھر سے آئے یہ دریا وہیں کو موڑ دیتا ہوں

یقیں رکھتا نہیں ہوں میں کسی کچے تعلق پر
جو دھاگہ ٹوٹنے والا ہو، اس کو توڑ دیتا ہوں

میرے دیکھے ہوئے سپنے، کہیں لہریں نہ لے جائیں
گھروندے ریت کے تعمیر کرکے چھوڑ دیتا ہوں