ہر جگہ میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ اچھے بھی بُرے بھی، صبر والے بھی، بے صبرے بھی، ہمیت والے بھی ، کم ہمیت والے بھی، غرز یہ کہ ہر جگہ میں ہر طرح کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ لیکن اس بات کی گرنٹی ہے کہ اس وقت دنیا میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کو مکمل کہا جائے۔ ایک شخص کسی ایک قبیلے یا ملک کا ہیرو ہو گا تو وہی شخص کسی دوسرے ملک یا قبیلے کا دشمن ہو گا۔ ایک عادت مجھے اگر پسند ہے تو ممکن ہے کہ وہی عادت آپ کو بہت بُری لگتی ہو۔ خیر مختصر یہ کہ کوئی بھی شخص مکمل نہیں ہے۔ ہم خود بھی مکمل نہیں ہیں لیکن ہم دوسروں کو مکمل دیکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یوں کہیں کہ ہم دوسروں کو اپنی مرضی کا دیکھنا چاہتے ہیں۔ کہ “تم اگر ایسے ہو جاؤ نا” تو تم جیسا کوئی نا ہومیرا تو خیال یہی ہے کہ اس دور میں کوئی بھی کسی جیسا نہیں ہے۔ ہر شیخص اپنی جگہ میں اہم ہیں۔ جیسے درزی کے کپڑے سیتا ہے، کسان کاشتکاری کرتا ہے۔ موجی جوتا بناتا ہے اسی طرح ہر شخص اپنی اپنی ذمہ داری نباتا ہے۔ تو پھر کیوں ہم لوگوں کو اپنی عینک سے دیکھنا چاہتے ہیں میرے بھائی یہ دینا ہے دینا۔ اس دنیا میں وہی کچھ ہو گا جو دنیا میں ہونا چاہتا ہے اپنی مرضی کرنی ہے تو اچھے اعمال کرو اچھی نیتوں کے ساتھ اور جنت میں چلے جاؤ وہاں جیسا چاہو گے ویسا ہو گا۔ لیکن یہ سب دنیا میں ممکن نہیں

خرم ابن شبیر