خود اعتمادی، ہمت اور یقین
بائیک چلاتے ہوئے میری نظر ایک سفید چھڑی والے صاحب پر پڑی جو بڑے اطمنان کے ساتھ سٹاپ پر کھڑے تھے۔ میں اپنی مستی میں جا رہا تھا اور صاحب کو دیکھ کر سوچ رہا تھاکہ سفید چھڑی تو نابینا حضرت کے پاس ہوتی ہے اور یہ نابینا ہی ہونگے۔ اس دوران میرے ذہن میں خیال آتا ہے شاہد یہ صاحب سڑک پار کرنا چاہتے ہو ۔ میرے دماغ میں ایک چھوٹی سی فلم چلتی ہے کہ یہ نابینا حضرات کیسے زندگی گزارتے ہونگے۔ پتہ نہیں یہ کتنی دیر تک یہاں کھڑے رہے گے کون ان کو سڑک پار کروائے گا۔ پتہ نہیں کیا ہوتا ہے اچانک میں موٹرسائیکل کو روکتا ہوں واپس آتا ہوں اور آ کر نابینا صاحب سے سلام کرتا ہوں اور پوچھتا ہوں ” سر آپ نے کہاں جانا ہے” تو وہ بتاتے ہیں 21″ نمبر گاڑی کا انتظار کر رہا ہوں” میں سڑک کے دوسری طرف دیکھتا ہوں تو 21 نمبر گاڑی بھی سٹاپ پر ابھی ابھی رکھی ہوتی ہے اور سواری اتار کر چلنے والی ہوتی ہے کہ میں اس کو اشارہ دیتا ہوں اور پھر نابینا صاحب اس پر سوار ہوتے ہیں اور چل پڑتے ہیں۔ (خدا کے کام خدا ہی جانے)میں سارے راستے پھر یہی سوچتا رہتا ہوں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے کیسا سبب کیا کہ وہ صاحب اپنی منزل کی طرف روانا ہوگے ہیں۔ اس طرح کے بے شمار نابینا حضرات روز گھروں سے نکلتے ہونگے۔ کام پر جاتے ہونگے یا کسی اور مقصد کے لیے نکلتے ہونگے اور روز گھر واپس بھی پہنچتے ہونگے۔ ان کی ہمت ان کی جرت اور ان کی حد اعتمادی اور اللہ پر یقین ہی ہے جو ان کو روز منزل ِ مقصود پر پہنچا دیتا ہے۔ اس سارے واقعہ کو ذہن میں رکھا جائے تو یہ باتیں سمجھ آتی ہیں کہ دنیا میں کوئی کام ناممکن نہیں ہے مشکل ضرور ہے لیکن ہمت اور لگن سے ہر کام کیا جا سکتا ہے۔ ہم کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اکثر یہ سوچتے ہیں کہ یہ بہت مشکل ہے، یہ مجھ سے نہیں ہو گا، اس کے لیے پیسے کہاں سے آئے گے، فلاں فلاں ۔ لیکن جب بندہ ایک فیصلہ کر لیے اور اس پر قائم رہے اور اس پر اپنی توجہ مرکوز کرے اور لگن کے ساتھ کام کرے تو میرے خیال میں دنیا کا کوئی کام نہیں جو انسان کے لیے مشکل ہو۔ جب ایک نابینا جو دنیا کو دیکھ نہیں سکتا لیکن اس کے باوجود دنیا کے نظام کے ساتھ چل رہا ہے تو پھر ہم آنکھوں والوں کے لیے کیا مشکل ہے۔