میرے اس کے ساتھ نجائز تعلقات تھے۔ لیکن پہل اس کی طرف سے تھی وہ خوبصورت تھی اور مجھے خود اپنی طرف مائل کر رہی تھی اس لیے میں اس کی طرف مائل ہو گیا۔

“کیا وجہ تھی وہ تمہارے ساتھ نجائز تعلق کیوں رکھنا چاہتی تھی”

“یہ ایک لمبی کہانی ہے ”

“اور یہ لمبی کہانی میں سننا چاہتا ہوں کیونکہ اس کہانی نے میرے ایک قریبی دوست کو بھی لپٹ میں لے لیا ہے اور وہ تمہاری وجہ سے ہوا ہے مجھے کہانی سناؤ تاکہ میں اپنے دوست کے لیے کوئی درمیانہ راستہ نکالوں”

“جی ہاں آپ کا دوست بھی میری وجہ سے ہی اس میں شامل ہو گیا ہے، اس کی کوئی غلطی نہیں ہے لیکن میں کسی کو بتا نہیں سکتا تھا کہ یہ کام میں نے کیا ہے”

“چلو ٹھیک ہے اب تو پوری بات بتا سکتے ہو نا چلو پھر سناو کیا ہوا تھا”

میری نظر میں وہ بہت شریف لڑکی تھی، کسی کے ساتھ کسی بھی طرح کی کوئی فضول بات نہیں کرتی تھی اپنے کام سے کام رکھتی اور چلی جاتی۔ وہ مجھ سے بات تو عام روٹین کی کرتی تھی لیکن اس کی آنکھیں کچھ اور ہی کہتی تھی۔ جو میں نا سمجھ سکا تھا اور نا سمجھنا چاہتا تھا، کیونکہ اس نے کبھی مجھ سے اس طرح کی بات نہیں کی تھی۔ لیکن ایک دن جب ہم دونوں ابھی اکیلے ہی تھی باقی لڑکیاں اور لڑکے نہیں آئے ہوئے تھے تو مجھے اس کی نظروں سے ایسا لگا کہ جیسے وہ مجھے اپنے قریب آنے کی دعوت دے رہی ہو۔اس وقت وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا تو میں نے اپنے اندازے کو چیک کرنے کے لیے باتوں باتوں میں اس کو کہا کہ “آج تو تم بہت ہاٹ لگ رہی ہو” اور ساتھ ہی اس کے گال کھینچے۔

مجھے اس کے ری ایکشن کا انتظار ہی نہیں کرنا پڑا اس نے فوراََ ہی جواب دیا کہ “تم بھی کچھ کم نہیں ہو” اور وہی حرکت کی جو میں نے اس کے گالوں کے ساتھ کی تھی۔ بس پھر کیا تھا مجھے اس کی طرف سے گرین سگنل مل گیا اور میں نے پھر اس کے ساتھ اس کے مطابق چلنا شروع کر دیا اور پھر وہی سب کچھ ہونے لگا جو تنہائی میں کیا جاتا ہے۔

پھر ایک دن اس نے مجھے بتایا “جس کے ساتھ اس کی شادی ہوئی ہے وہ اس کا رشتہ دار نہیں ہے اور ہماری شادی کوٹ میں ہوئی تھی۔ وہ لڑکا بہت امیر ہے اس نے گھر والوں سے چھپ کر شادی کی ہے۔ میری ساری فیملی کو یہ بات پتہ ہے لیکن اس کی فیملی کو یہ بات نہیں پتہ ہے۔ میں چاہتی ہوں اس کے گھر والوں کو کوئی بتا دے کیا تم میری مدد کرو گے۔” میں نے کہا “کس طرح کی مدد”

تو کہنے لگی ” میں تمہیں اس کے ابو کا نمبر دوں گی تم اس کے ابو کو کال کر کے بتا دینا ” میں نے پوچھا” تم ایسا کیوں کرنا چاہتی ہو” تو اس نے ایک اور بات سنا دی کہنے لگی” میں ایک اور لڑکے کو پسند کرتی ہوں اور میں اس سے طلاق لینا چاہتی ہوں لیکن اگر میں خود طلاق لوں گی تو پھر وہ مجھے کچھ نہیں دے گا میں چاہتی ہوں اس کے باپ کو پتہ چل جائے اور میرا نام بھی نا آئے پھر اس کا باپ یا تو مجھے اس کے ساتھ رہنے دے گا یا پھر اپنے بیٹے کو کہہ گا کہ مجھے طلاق دے دے تو پھر میں پیسوں کی ڈمانڈ کروں گی اور اس کو چھوڑ کر چلی جاؤں گی”

تو میں نے کہا ” مجھے کیا ملے گا” تو کہنے لگی تمہیں میں اپنے جسم پر پورا حق دے دوں گی تم جو مرضی کرنا”

میں اس کے لیے تیار ہو گیا مجھے پتہ تھا یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے اس لیے میں نے تمہارے دوست کے نمبر سے اس کے باپ کو کال کر دی۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ لڑکا نمبر ٹریس کر لیے گا اور تمہارے دوست کا نام بھی آ جائے گا۔

“مجھے تمہاری باتیں سن کر بہت افسوس ہو رہا ہے او بے وقوف جو لڑکی اپنے شوہر کو دولت کی خاطر چھوڑ سکتی ہے وہ تمہیں نہیں چھوڑ سکتی کیا”