کل مسجد میں اعلان ہوا

“ایک بچہ مہندی رنگ کے کپڑے پہنے ہیں، سرخ رنگ کی ٹوپی پہنی ہے اور اپنا نام ۔۔۔۔۔ بتاتا ہے جس کا ہو وہ مسجد سے آ کر لے جائے”

میں اکیڈمی میں ہی تھا ۔  بچے کا نام سنا تو یاد آیا یہ تو میرے دوست کے بچے کا بھی نام ہے۔ میں احتیاطاََ مسجد کی طرف چلا گیا کہ ہو سکتا ہے میرے دوست کا ہی بیٹا ہو۔ جب میں وہاں پہنچا تو میرے دوست کا ہی بیٹا تھا۔ لیکن انہوں نے مجھے دینے سے انکار کر دیا کہتے ہیں کوئی سگا رشتہ دار آئے گا تو دیں گے۔ میں نے دوست کو فون کیا تو اس نے فون رسیو نہیں کیا۔ خیر کافی دیر کوشش کرتا رہا لیکن فون نہیں ملا۔ کچھ دیر بعد دوست کی بیگم اور بہن مسجد تک پہنچ گئی پھر انہوں نے بچہ دیا۔ میں نے دونوں کو ڈانٹا کہ اس طرح خیال رکھتے ہیں۔ اتنے میں بھابھی کی آنکھوں سے آنسوں آتے رہے اور وہ کچھ دیر تک بولنے کے قابل نہیں رہی۔ خیر انہوں نے اپنے بچے کو لاڈ پیار کیا اور گھر کی طرف چل پڑی۔

لیکن میں یہ سوچتا رہا کچھ گھنٹوں کے لیے ایک ماں اپنے بچے سے دور ہوئی تو کیا کیا گزر گیا اس پر اور جس ماں کے بچے سانحہ پیشاور میں شہید ہوئے ان کا کیا حال ہوا ہو گا