سپاہی مقبول کے بارے میں سنا تھا لیکن تفصیل کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ آج ہی [USER=5581]حسیب نذیر گِل[/USER] بھائی کا تھریڈ “آئیے ایسے غازیوں کو سلام کرتے ہیں”

آنکھوں سے آنسوں نکل آئے اور سوچا میں بھی کچھ لکھوں۔ لیکن پہلے ہی میرے منہ سے یہ مصرعہ نکلا کہ ” مرے الفاظ کیا دیں گے” کہ اتنی عظیم ہستی کے لیے میرے یہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ کیا تحفہ ہوں گے لیکن جو لکھا وہ عطائی ہے اپنے پاس سے کچھ نہیں لکھا قبول ہو۔

 

مرے الفاظ کیا دیں گے۔

مری اوقات کتنی ہے

میں کیسے کچھ لکھوں تجھ پر

میں کیسے کچھ کہوں تجھ پر

ترا تو نام اونچا ہے

ترا ہر کام اونچا ہے

جہاں تک آنکھ جاتی ہے

جہاں تک کان سنتے ہیں

ترا چہرہ دیکھائی دے

تری ہی بات سنتے ہیں

مرا پرجم فلک تک ہے

مرا نغمہ فضاؤں تک

میں پاکستان خوش قسمت

مرا مقبول زندہ ہے

سپاہی ہو تو کیسا ہو

مرے مقبول جیسا ہو