سبق آموز کا اب دور نہیں رہا۔ ہوتا تھا کسی زمانے میں ہمارے استاد ہمیں کہانیاں سنایا کرتے تھے، کتابوں میں بھی ایسی کہانیاں موجود ہوتی تھی جس سے ہمیں سبق ملتا تھا اور نیک کام کرنے اور نیکی کرنے کا شوق پیدا ہوتا تھا۔ اچھے دن تھے نا اتنی بے حیائی تھی اور نا ہی اتنی بے ادبی تھی۔ بچے بڑوں کا اخترام کرتے تھے اور بڑے بھی بچوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے تھے۔ اساتذہ کا مرتبہ والدین سے بھی افضل تھا۔لیکن کیا ہوا اس زمانے کے بچوں کو، نا عزت کرنا آتی ہے اور نا ہی اخترام سے پیش آتے ہیں۔ بزرگوں کو تو بے کار سمجھا جانے لگا ہے۔ شاہد اس کی وجہ یہی ہے کہ کہانیوں اور ڈراموں نے اپنا راستہ بدل لیا ہے پہلے ان کا اختتام سبق آموز ہوا کرتا تھا لیکن اب تو ڈرامہ ہو یا کہانی، حقیقت ہو یا افسانہ، بے حیائی ہی بے حیائی ہے۔ اور اوپر سے ریٹنگ کے چکر میں کچھ ایسا دیکھانے یا پڑھانے کا رجحان بن چکا ہے کہ اب سبق آموز کی جگہ لذت آموز ہی  چیزیں نظر آتی ہے۔ اشتہارات ہوں یا کہانیاں ڈرامے ہوں یا حقیقت ہر جگہ میں ایسا کچھ دیکھایا جا رہا ہے کہ جیسا کچھ نہیں دیکھانا چاہے۔ لڑکیاں آزادی کے چکر میں قید ہوتی جا رہی ہیں جس کا اندازہ ان کو بعد میں لگے گا۔ لڑکے اپنے آپ کو پتہ نہیں کیا افلاطوں سمجھنے لگے ہیں کہ ویڈیو بنا نا کر محبت کا اظہار کرتے ہیں اور اظہار بھی ایسا واحیات کے بس

مجھے تو لگتا ہےمنٹو کی سوچ تو نہیں اجاگر ہوئی لیکن منٹو کی تحریر اجاگر ہو گئی ہے