نشہ چاہے جس طرح کا بھی ہو انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔ یہی کوئی حالات ہم دوستوں کی بھی ہے۔ہوا کچھ یوں کہ وہ تینوں بہت بے چینی سے میرا انتظار کر رہے تھے۔ میں نے ان کو دس منٹ کا ٹائم دیا ہوا تھا ۔جلدی جلدی کام ختم کرنے کی کوشش  کی لیکن کیا کرتا کام ختم ہی نہیں ہو رہا تھا۔ خیر مجھے بار بار فون کالز آ رہی تھی۔ میں فون سنتا اور پھر 5 منٹ کا کہہ کر فون بند کر دیتا اور اپنی کوشش کرتا کہ کام جلدی ختم کروں اور کسی طرح اڑ کر ان کے پاس پہنچ جاؤں۔ میرے دوست میرے لیے بہت بے چین ہو رہے تھے۔ میں نے سوچا اگر اب کال آئی تو میں اپنا کام نامکمل چھوڑ کے چلا جاؤں گا۔ پھر ہوا بھی ایسے کہ مجھے ایک بار پھر کال آئی اور میں نے کال پر دوستوں کو بتایا کہ بس میں یہاں سے نکل آیا ہوں۔

میں نے موٹر سائیکل سٹارٹ کیا اور اپنی طرف سے بہت تیاز رفتار میں چلاتا ہوا دوستوں کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں رش کی وجہ سے تھوڑی مشکل ہو رہی تھی لیکن میں نے شاٹ کٹ لیا اور جلد سے جلد دوستوں کے پاس پہنچنے کی کوشش کرنے لگا۔ راستے میں بھی مجھے فون کالز آ رہی تھی لیکن میں نے فون کی طرف توجہ نا دی اور موٹر سائکل کو اور تیز کرنے لگا کچھ دیر کے بعد موبائل پر کال آنا بند ہوگی۔ میں سمجھا دوستوں کو یقین ہو گیا ہے کہ میں موٹر سائیکل چلا رہا ہوں اس لیے وہ فون نہیں کر ہے کیونکہ میں موٹر سائیکل پر سوار ہو کر فون نہیں سنتا۔ اب کچھ مجھے بھی تحمل  ہو چکا تھا اس لیے میں اب محتاظ طریقے سے بائیک چلا رہا تھا۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ وہ تینوں میرا انتطار کر رہے ہونگے میرے وہاں پہنچتے ہی ایک ہنگاما سا شروع ہو جائے گا اور ہم خوب انجوائے کریں گے۔ میں نے بائیک روکا اور موبائل نکال کر مس کالز دیکھی تو سکوں ہوا کہ اس کے بعد کوئی کال نہیں تھی۔ میں نے بائیک کو لاک لگایا اور دروازے سے اندر  داخل ہوتے ہی خوشی سے بولا میں آ گیا ہوں دوستوں۔ لیکن دوستوں کی طرف سے کسی طرح کا کوئی ردِ عمل نہیں تھا۔

کیونکہ مجھ سے پہلا ہی ایک دوست آ چکا تھا۔ ان کی چوسر پوری ہو چکی تھی اور وہ مزے سے تاش کھیل رہے تھے

از خرم ابن شبیر