لوگ ہمیں بے وقوف اور سادہ سمجھتے ہیں۔ یہ ان کی غلط فہمی ہے کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں چلتا۔ ہمیں سب پتہ ہے ہم سب دیکھ رہے ہیں لیکن ہم نے خود کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جاہل کی سزا یہی ہے کہ اسے جاہل رہنے دیا جائے۔
اور ہم بھی ایسا ہی کر رہے ہیں جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت عقل مند ہیں اور ہم ان کو اسی غلط فہمی میں رہنے دینا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان کو سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں اس لیے کہ وہ بہت عقل مند ہیں۔
جو اپنے آپ کو بہت زیادہ عقل مند سمجھتے ہیں اور دوسروں کو بے وقوف تو ان کا حال کیسا ہوتا ہے یہ انہیں کچھ دنوں بعد ہی پتہ چل جائے گا

نجانے کیوں لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ دوسرے لوگوں کے پاس بھی دماغ ہے۔ اب ایسا نہیں ہے کہ ہر کسی کو بتانا پڑے کہ ہمارے پاس دماغ ہے اور ہم بہت عقل مند ہیں۔ ہر کوئی اپنا ہی الو سیدھا کرنے میں لگا رہتا ہے۔ تو لگے رہو منا بھائی لگے رہو ہم نے بھی آج سے یہ فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک تو ہم ایسے ہی بے وقوف رہنے گے تاکہ ہماری تبدیلی کاکسی کوپتہ نا چلے اور دوسرا ہم نے آج کے بعد وہی سب کچھ اسی ہی انداز سے کرنا ہے جیسے ہمارے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ اور بعد میں پھر وہی سادے اور بے وقوف بن جائیں گے جیسے ہمیں تو پتہ ہی نہیں کہ ایسا کرنے سے ایسا ہو جائے گا۔

اب ہم ایسے ہی بے وقوف رہنا چاہتے ہیں۔ کر لو سب اپنا اپنا الو سیدھا۔ اور کہیں اس چکرمیں الو الٹا ہوگیا تو اس میں ہماری کوئی غلطی نا ہوگی۔ کیونکہ ہم تو بے وقوف اور سادے ہیں