کچھ کہنے کے لیے کچھ سننا پڑتا ہے اور کچھ دیکھانے کے لیے کچھ دیکھنا پڑتا ہے۔ میں نے بھی کوٹلی کے حوالے سے بہت باتیں سن رکھی تھیں۔ کوٹلی آزاد کشمیر بہت خوبصورت شہر ہے۔ عرصہ ہوا یہ بات سنی ہوئی تھی لیکن کبھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ بس ایک بہانہ بنا کوٹلی جانے کا اور میں نے فوراََ سے تیاری پکڑ لی۔‏ابو نور سحر‏ کی تصویر

کوٹلی آزاد کشمیر کا ایک شہر ہے جو کہ میرپور سے دو سڑکوں کے ذریعے جڑا ہوا ہے۔ راولپنڈی سے کوٹلی کا فاصلہ 141 کلومیٹر ہے اور یہ کم سے کم چار سے پانچ گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ اس کا زیادہ تر علاقہ پہاڑی ہے اور یہی اس کی خوبصورتی بھی ہے۔ موسم تقریبن سرد ہی رہتا ہے لیکن تھوڑی سی گرمی بھی پڑتی ہے۔

کوٹلی پہنچ کر میں نے اپنے کزن عامر کو کہا کہ میں نے کوٹلی کی سیر کرنی ہے تو مجھے ساتھ لیے جانا۔ مہران ‏ابو نور سحر‏ کی تصویربھی ساتھ تیار ہو گیا اور ہم تینوں بائیک پر کوٹلی کی سیر کو نکل پڑے۔ کیا شاندار نظارہ تھا مختلف مقام  پر پہنچ کر ہم نے تصویریں بنائی اور ساتھ ساتھ انجوائے بھی کرتے رہے۔ اتنے میں مجھے خیال آیا کہ نکیال سیکٹرچلتے ہیں باڈر بھی دیکھ لیں گے۔ تو عامر نے بائیک کا روخ نکیال کی طرف کر دیا۔ شام کے 4 ہو رہے تھے اور مہران نے کہا بھائی آپ شام تک واپس آ جائے گے کیا تو اس پر عامر نے کہا چلو کسی سے پوچھلیتے ہیں کہ کتنا صرف رہ گیا ہے۔ ایک لڑکا وہاں فون پر بات کر رہا تھا ہم نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا بس 10 منٹ کا راستہ ہے آگے۔ ہم نے سوچا پھر تو آرام سے واپس آ جائے گے۔ ہم باتیں کرتے کرتے آگے کی طرف چلتے رہے تقریباََ 30 منٹ کے سفر کے بعد مہران نے کہا یہاں کسی اور سے بھی پوچھ لیں ایسا نا ہو اس لڑکے کو پتہ نا ہو ساتھ ہی ایک بزرگ جا رہے تھے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا بس دس منٹ کا راستہ ہو گا۔ پھر ہم آگے چلتے رہے چلتے چلتے پھر ہمیں 20 منٹ ہو گے تھے وہاں مدرسے کے بچے گزر رہے تھے میں نے بائیک روکنے کا کہا اور بچوں سے پوچھنے لگا کہ بیٹا نیکیال سیکٹر کتنی دور ہے تو انہوں نے کہا یہ جو سامنے آپ کو آبادی نظر آ رہی ہے یہ نکیال ہے وہاں سے آپ کسی سے پوچھ لیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا۔ سامنے نظر آنے والی آبادی میں پہنچتے پہنچتے ہمیں مغرب ہوگئی وہاں ہم ایک ہوٹل میں کھانہ کھایا کیونکہ پورا دن ہم نے کھان‏ابو نور سحر‏ کی تصویرا نہیں کھایا تھا۔اور ہوٹل والے سے پوچھا محترم یہ نکیال سیکٹر کتنے دور ہے یہاں سے تو انہوں نے کہا بیٹا بس 10 منٹ کی مسافت پر ہے۔ ہم تینوں کی ہنسی نکل گئی۔ نجانے یہ دس منٹ کب ختم ہونگے ہم نے وہی سے اپنا ارادہ بدلہ اور اس کے بعد واپسی کا راستہ لیا اور تقریبان   7 بجے کے قریب گھر پہنچے۔ مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ وہ کون سی گھڑی ہے جس کے 10 منٹ ختم ہی نہیں ہوتے

خرم ابن شبیر