6 مئی 2016 کے بعد

بلاگ کے حوالے سے جب بھی مجھ سے کچھ پوچھتا ہے تو میں آنکھیں بند کرکے ایم بلال  بھائی کے حوالے کر دیتا ہوں۔ کیونکہ  یہی وہ ہستی ہے جس نے میری بلاگ کے حوالے سے بہت مدد کی بلکہ میرا بلاگ صرف اور صرف اسی ہستی کی وجہ سے ہی قائم  دائم ہے۔ مشکور ہونے کے بعد بہت سی غلطیاں  کوتاہیاں ہوئی  اقبالِ جرم کرتا ہوں۔ بعد اس تفصیل کے 6 مئی 2016 کے بعد حاصرِ خدمت ہوں۔ انتہا قسم کی مصروفیات اور کچھ مسائل کی وجہ سے ادھر کا رخ ہی کرنا نصیب نہیں ہوا۔ لکھنے لکھانے کا سلسلہ تقریباََ بند ہی ہو چکا تھا اور اپنی طرف سے بلاگ کو خدا حافظ بھی کہہ چکا تھا۔لیکن پھر وہی بات ایم بلال بھائی کی مہربانی سے بلاگ تو ابھی تک چل ہی رہا تھا لیکن اس پر کچھ نیا نہیں لکھا جا سکا تھا۔ کچھ حالات کی وجہ سے اور کچھ اپنی کوتاہی کی وجہ سے بلکل منظر سے غائب ہو جانے کے بعد کچھ کچھ فیس بک پر نظر آتا رہا ہوں۔ صورتِ حال یہ ہے کہ کچھ پیارے سٹوڈنٹ کی محبت اور چاہت کی وجہ سے پھر سے منظرِ عام پر آنے کا ارادہ کیا ہے اور اب یہ ارادہ کہاں تک ثابت قدم رہتا ہے اس کا اندازہ نہیں۔ اس وقت میں صرف اور صرف دو بڑے بڑے شکرئے ادا کرنے کے لیے حاضر ہوں اور اس کے بعد انشاءاللہ جیسا بھی لکھتا ہوں لکھنے کا سلسلہ پھر سے شروع کر رہا ہوں۔ پہلا شکریہ تو محترم ایم بلال ایم صاحب کا جن کی بدولت میں ابھی تک برقی افق  پر موجود ہوں اب انشاءاللہ چمکنا بھی شروع کر دوں گا۔ اور دوسرا شکریہ میرے ان سٹوڈنٹ بچوں کا ہے جنوں نے بہت محبت کے ساتھ میرے اس شوق کو پھر سے جلا بخشی ۔ فیس بک پر میرے حوالے سے ایک گروپ ” We Love Sir Khurram” بنا کر اس گروپ میں میری تصویریں، شاعری اور ویڈیو وغیرہ بھی شائع کی ہیں۔ اس پر میں اپنے تمام  سٹوڈنٹ کا بہت شکر گزار ہوں۔ اسامہ ستی، سجاد قاشقاری، حافظ اسرار، عاقب راجہ، حسین الرحمان، ہریرہ،  شاہین، ندا، نبا نور، اور ان کے علاوہ شعیب بھائی اور جن کے نام رہ گے ہیں ان سے معذرت کے ساتھ آپ سب کا بہت بہت شکریہ جس طرح آپ سب نے مجھے عزت بخشی ہے اللہ تعالیٰ آپ کو بھی عزت عطا فرمائے آمین