خرم ابنِ شبیر نے جمعہ، ۶ اگست ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
اپنی یہ غزل پہلے بھی ارسال کر چکا ہوں آج پھر دل کر رہا تھا اس لیے پھر ارسال کر رہا ہوں یوں نہ بولو بیچ میں بے کار خرم چپ رہو چل نہ جائے تم پہ بھی تلوار خرم چپ رہو سچ کو سچ کہنا نہیں ، ہربار خرم چپ رہو بین کر دے [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے بدھ، ۱۶ جون ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
ایک غزل آپ کی نذر کرتا ہوں امید ہے برداشت کے قابل ہوگی چار شعر تو پاس ہو چکے ہیں لیکن آخر شعر کے بارے میں حکم ہے کہ تبدیل کیا جائے لیکن ابھی تک کچھ سمجھ نہیں آیا اس لیے تبدیل نہیں ہو سکا آپ کا مشورہ اور اصلاح میری عزت افزائی ہوگی اک [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے بدھ، ۲ جون ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
ایک پُرانی غزل آپ کی نذر امید ہے پسند نا بھی آئی تو برداشت تو کر ہی لیں گے اثر کرتا نہیں شکوہ شکایت بھی پرانی ہے مجھے احساس ہے اس کی یہ عادت بھی پرانی ہے کوئی رستہ نہیں اس بن جو مجھ کو زندگی دے دے بہت ہی دور ہے منزل مسافت بھی [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے سوموار، ۱۵ مارچ ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
السلام علیکم اپنی ایک پُرانی غزل آپ کی نذر کرتا ہوں امید ہے پسند آئے گی لب پہ جس کے ہر گھڑی انکار تھا وہ مرا محبوب تھا دلدار تھا آج اس کی قدر سب کرنے لگے جو کبھی تیرے لیے بے کار تھا میں اکیلا اور کوئی تھا نہیں گھات میں کوئ پسِ دیوار [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے اتوار، ۱۴ مارچ ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
میری ایک غزل جس پر مجھے اعجاز عبید صاحب سے بڑا ص ملا ہے اور ص ملنے کا کیا مطلب ہے یہ آپ محمد وارث صاحب کی زبانی پڑھ لیں اور پھر میری غزل “خرم صاحب آپ شاید سمجھے نہیں، ‘ص’ ملنا تو بہت اچھی بات ہے اساتذہ سے۔ دراصل اساتذہ کے پاس جب کوئی [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے بدھ، ۱۰ فروری ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
کچھ ایسے لفظ لکھتے ہیں کچھ ایسے لفظ لکھتے ہیں کہ جن لفظوں میں موتی ہوں جو پیارے ہوں جو ہر اک کی نگاہوں کے ستارے ہوں کچھ ایسے لفظ لکھتے ہیں حقیقت جن کا حصّہ ہو محبت جن کا قصّہ ہو جو ہر اک کی زباں بولیں یہاں بولیں وہاں بولیں لہو کی بُو [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے بدھ، ۱۰ فروری ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
اپنی ایک غزل آپ کی نذر ہر طرف ہیں موت کی پرچھائیاں زندگی لے کس طرح انگڑائیاں اک طرف ماتم تھا پورے شہر میں اک گلی بجتی رہیں شہنائیاں خوف ہی بس خوف ہے پھیلا ہوا اب کہاں پہلی سی وہ رعنائیاں اس قدر مخلوق ہے لیکن مجھے آ رہی ہیں نظر بس تنہائیاں بات [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے سوموار، ۱۸ جنوری ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
یہ میری پہلی نظم ہے جو میں نے پہلی دفعہ مشاعرے میں پڑھی تھی اور یہ بہت پسند کی گی تھی اس نظم کے بعد میرا شاعری کا شوق اور مضبوط ہوگیا اور میں جنون کے ساتھ شاعری کرنے لگا نظم میں نے یکم اکتوبر دوہزار پانچ کو نسٹ یونی ورسٹی کے مشاعرے میں پڑھی [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے جمعہ، ۱۶ اکتوبر ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
بیان کرتی ہیں سب کچھ یہ حالتیں اپنی چھپا کے رکھوں کہاں اب محبتیں اپنی خدا کا خوف نہیں ہے، نہ ذوق سجدہ ہے کہاں یہ دیں گی سکوں اب عبادتیں اپنی کہاں ہے عدل عدالت کے کارخانوں میں کہاں بیان کروں میں وضاحتیں اپنی جدا جدا ہوئے رستے، جدا ہوئی منزل لو ہم ہی [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے جمعہ، ۱۴ اگست ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
مجھے کوئی پاکستانکہے کوئی ایک پل تو خوشی کا ہو جسے میں گزاروں سکون سے کوئی ایک پل کوئی ایک پل ملے ایک پل میری آرزو کا نشان ہو میرے دیس کی جو پہچان ہو کوئی ایک پل تو خوشی کا ہو کوئی ایک پل تو خوشی کا ہو جو میر ے وطن کی [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے اتوار، ۹ اگست ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
ایک قصہ اک کہانی رات دن یاد کرتے ہیں جوانی رات دن زندگی میں خشک سالی ہے مگر آنکھ میں رہتا ہے پانی رات دن جانتے ہیں چاند سورچ سب مجھے جاگنا عادت پُرانی رات دن ہے حقیقت سب کو ہے اس کی خبر زندگی فانی ہے فانی رات دن ہم فقیروں کو تو کچھ [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے ہفتہ، ۴ جولائی ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
یوں نہ بولو بیچ میں بے کار خرم چپ رہو چل نہ جائے تم پہ بھی تلوار خرم چپ رہو سچ کو سچ کہنا نہیں ، ہربار خرم چپ رہو بین کر دے گی تمہیں سرکار خرم چپ رہو قتل ہوتا دیکھ کر اس کو تماشا جان لو بیٹھ کے چپکے سے تم اس پار [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے ہفتہ، ۴ جولائی ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
اپنے اندر بہت کمی دیکھی کتنی ناکام زندگی دیکھی جان و دل کچھ بھی اپنے بس میں نہیں کس قدر ہم نے بے بسی دیکھی آنکھ صحرا سی ہوگئی لیکن کشتِ غم گو ہری بھری دیکھی اس مسافر کے زرد چہرے پر گردِ صحرا جمی ہوئی دیکھی چاند اپنی ہی رات میں گم ہے دن [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے ہفتہ، ۴ جولائی ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
ایک مشکل سی ہے کسانوں پر برف پگلی نہیں چٹانوں پر اک نیا فلسفہ لکھا جائے عشق کے ان گنت فسانوں پر لوگ سامان چھوڑ کر بھاگے کس کا سایہ ہے ان مکانوں پر امن کی فاختہ ہے اُڑنے کو تیر سجنے لگے کمانوں پر مانگتے ہیں خدا سے سب خرم ایک ہی نام ہے [...]
مکمل تحریر پڑھیے »