خرم ابنِ شبیر نے جمعرات، ۱۲ اگست ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
تھی جس کی جستو وہ حقیقت نہیں ملی ان بستیوں میں ہم کو، رفاقت نہیں ملی ابتک میں اس گُماں میں کہ ہم بھی ہیں دہر میں اس وہم سے نجات کی ، صورت نہیں ملی رہنا تھا اس کے ساتھ بہت دیر تک مگر ان روز و شب میں مجھ کو یہ فرصت نہیں [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے جمعہ، ۴ جون ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
وعدے کے مطابق رانا سعید دوشی صاحب کی ایک اور غزل آپ کی نذر دوشی صاحب کا بہت کم کلام نیٹ پر موجود ہے بلکے نا ہونے کے برابر ہے اب کی بار پاکستان جاؤں گا تو انشاءاللہ وہ اچھے اچھے شاعر جو خوب لکھتے ہیں لیکن نیٹ پر ان کلام نہیں ملتا وہاں یہاں [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے جمعہ، ۴ جون ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا یہ شعر میں نے پہلے ہی سن رکھا تھا اور یہ شعر مجھے بے حد پسند آیا اس غزل کی تلاش میں نکلا تو غزل نہیں ملی ایک دن زلفی صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے یہ شعر [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے بدھ، ۲ جون ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
پتھر کُوٹنے والوں کو بھی شیشے جیسی سانس مِلے! یہ غزل کون سے محسن صاحب کی ہے یہ مجھے پتہ نہیں اس غزل کا میں نےصرف ایک ہی شعر پڑھا تھا پتھر کُوٹنے والوں کو بھی شیشے جیسی سانس مِلے! محسنؔ روز دُعائیں مانگیں زخمی ہاتوں والے لوگ یہ والا شعر مجھے بہت پسند آیا [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے ہفتہ، ۲۹ مئی ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
اختر رضا سلیمی نوجوان شعراء میں ایک مقام رکھتے ہیں۔ یہ ایسے شاعر ہیں جنوں نے بہت کم وقت میں اپنا نام پیدا کیا ان کی بہت سی غزلیں ہیں جو مجھے بہت پسند ہیں جن میں سے ایک “دل و نگاہ پہ طاری رہے فسوں اس کا۔” بھی شامل ہے پہلی بار یہ غزل [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے ہفتہ، ۲۹ مئی ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
ایک بزرگ دوست کے لئے مجھے معلوم تھا میری باتیں تمھیں سن رسیدہ لگیں گی مجھ پہ اکثر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ میں کم سنی میں، بڑی عمر کی گفتگو کر رہا ہوں اور کئی لوگ تو اس کو شہرت کمانے پہ محمول کرتے رہے ہیں انہیں کیا خبر؟ میں نے ان چند [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے سوموار، ۱۰ مئی ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
زند گی سےڈرتےہو؟ زندگی توتم بھی ہو،زندگی توہم بھی ہيں آدمی سےڈرتےہو آدمی توتم بھی ہو، آدمی توہم بھی ہيں آدمی زباں بھی ہے، آدمی یياں بھی یے اس سےتم نہيں ڈرتے ان کہی سےڈرتےہو جوابھی نہیں آئی اس گھڑی سے ڈرتے ہو اس گھڑی کی آمد کی آگہی ساڈرتے ہو پہلے بھی تو گزرے [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے سوموار، ۲۶ اپریل ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مرجاتے ہیں ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا ہم تیرے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اٹھ [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے ہفتہ، ۳ اپریل ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
“شہر کے دوکاندارو’ کاروبارِ الفت میں ‘ سود کیا زیاں کیا ہے ؟ تم نہ جان پاؤ گے دل کے دام کتنے ہیں ؟ خواب کتنے مہنگے ہیں ؟ اور نقدِ جاں کیا ہے ؟ تم نہ جان پاؤ گے۔۔۔۔۔۔ کوئی کیسے ملتا ہے ؟ پھول کیسے کھلتا ہے ؟ آنکھ کیسے [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے اتوار، ۲۸ مارچ ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بُو پر چمن اور بھی، آشیاں اور بھی ہیں اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے اتوار، ۷ مارچ ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
مُسدّس (گزشتہ سے پیوستہ) نہ واقف تھے انساں قضا اور جزا سے نہ آگاہ تھے مبدا و منتہا سے لگائی تھی ایک اِک نے لو ماسوا سے پڑے تھے بہت دور بندے خدا سے یہ سنتے ہی تھرّا گیا گلّہ سارا یہ راعی نے للکار کر جب پکارا کہ ہے ذاتِ واحد عبادت کے لائق [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے اتوار، ۷ مارچ ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
مُسدّس (گزشتہ سے پیوستہ) یکایک ہوئی غیرتِ حق کو حرکت بڑھا جانبِ بو قبیس ابرِ رحمت ادا خاکِ بطحا نے کی وہ ودیعت چلے آتے تھے جس کی دیتے شہادت ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہویدا دعائے خلیل اور نویدِ مسیحا ہوئے محو عالم سے آثارِ ظلمت کہ طالع ہوا ماہِ بُرجِ سعادت نہ چھٹکی مگر [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے اتوار، ۷ مارچ ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
مُسدّس (گزشتہ سے پیوستہ) عَرَب جس کا چرچا ہے یہ کچھ وہ کیا تھا جہاں سے الگ اِک جزیرہ نما تھا زمانہ سے پیوند جس کا جدا تھا نہ کشورستاں تھا، نہ کشور کشا تھا تمدّن کا اُس پر پڑا تھا نہ سایا ترّقی کا تھا واں قدم تک نہ آیا نہ آب و ہوا [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے اتوار، ۷ مارچ ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
مُسدّس کسی نے یہ بقراط سے جا کے پوچھا مرَض تیرے نزدیک مہلک ہیں کیا کیا کہا دکھ جہاں میں نہیں کوئی ایسا کہ جس کی دوا حق نے کی ہو نہ پیدا مگر وہ مَرَض جس کو آسان سمجھیں کہے جو طبیب اس کو ہذیان سمجھیں سبب یا علامت گر ان کو سُجھائیں تو [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے اتوار، ۷ مارچ ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
رُباعی پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے اسلام کا گِر کر نہ ابھرنا دیکھے مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے
مکمل تحریر پڑھیے »