خرم ابنِ شبیر نے جمعرات، ۴ مارچ ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
اردو محفل پر م م مغل صاحب کے ایک سوال کے جواب پر محمد وارث صاحب یہ جواب دیا تھا امید ہے اس سے بہت سارے دوستوں کو رکن مفاعلاتن کے بارے میں پتہ چل سکے گا مفاعلاتن، اول تو کوئی رکن ہے ہی نہیں سو اس سے کوئی بحر بھی نہیں بنتی۔ اراکین یہ [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے جمعرات، ۲۵ فروری ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
اردو محفل پر ایک جگہ ایم اے راجا بھائی نے آزاد نظم کے حوالے سے ایک سوال کیا تھا سوال کچھ یوں ہیں۔ “کیا آزاد نظم کسی بھی بحر میں لکھی جاسکتی ہے؟ کیا ایک مصرع میں ایک ارکان اور دوسرے میں کئی ارکان بھی باندھ سکتے ہیں؟ کیا ہر مصرع الگ بحر و وزن [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے اتوار، ۷ فروری ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
نہ سرا ملا ہے کوئی، نہ سراغ زندگی کا یہ ہے میری کوئی ہستی، کہ ہے داغ زندگی کا یہی وصل کی حقیقت، یہی ہجر کی حقیقت کوئی موت کی ہے پروا، نہ دماغ زندگی کا یہ بھی خوب ہے تماشا، یہ بہار یہ خزاں کا یہی موت کا ٹھکانہ، یہی باغ زندگی کا یہ [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے اتوار، ۷ فروری ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے دنیائے بے نمو میں پھرایا گیا مجھے میں آنکھ سے گرا تو زمیں کے صدف میں تھا بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے سازش میں کون کون تھا، مجھ کو نہیں ہے علم مُصحَف میں اک ہی نام بتایا گیا مجھے بخشی گئی بہشت مجھے کس حساب میں؟ [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے منگل، ۵ جنوری ۲۰۱۰ کو شائع کیا.
دنیا کا پہلا فلسفی – تھےلیز آف مائیلیٹس (Thales of Miletus) بھری گرمیوں کا دن تھا، دو متحارب بادشاہوں کی فوجیں آپس میں برسرِ پیکار تھیں، اس دن سینکڑوں لاشیں گر چکیں تھیں۔ یہ دونوں فوجیں پچھلے پندرہ سالوں سے آپس میں خون کی ندیاں بہا رہی تھیں کبھی جنگ رک جاتی تھی اور کبھی [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے منگل، ۸ دسمبر ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
http://muhammad-waris.blogspot.com/ مجھے جب کبھی کسی غزل میں مشکل ہوتی ہے جب تقطع درست نہیں ہوتی یا پھر کوئی بحر سمجھ نہیں آتی تو میں فوراََ ‘صریرِ خامۂ وارث’ کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ مجھے امید ہوتی ہے کہ ادبی لحاظ سے میری تقرباََ ہر مشکل کا حل صریرِ خامۂ وارث’ میں موجود ہوگا اس لیے [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے سوموار، ۷ دسمبر ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
خاکسار کی تعلیم کاروبار کے متعلق ہے اور پیشہ “پرائی بیگار” یعنی پرائیوٹ نوکری لیکن عشق شعر و شاعری و علم و ادب و تحریر و تصنیف و مطالعہ و موسیقی سے ہے، اور ‘اسد’ تخلص رکھ، ‘شہیدوں’ میں نام بھی لکھوا رکھا ہے، اس لیے زندگی بٹی ہوئی ہے لیکن میں شکرگزار ہوں اپنی [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے سوموار، ۲ نومبر ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
ایم اے راجا بھائی نے محفل پر علامہ اقبال صاحب کا ایک شعر کی تقطیع کی درخواست کی تھی کچھ اس طرح۔ ایم اے راجا براہِ کرم اقبال کے اس شعر کی تقطیع کر دیں اور بحر کے بارے میں بتا دیں۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے سوموار، ۲ نومبر ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
محفل پر ایک دفعہ الف نظامی صاحب نے وارث صاحب سے سوال کیا تھاکہ سوال۔ محمد وارث صاحب ایک اور سوال یہ تفاعیل کیا چیز ہے۔ اس پر وارث صاحب نے بہت خوبصورت انداز سے جواب دیا تھا آپ کی خدمت میں بھی پیش کر رہا ہوں امید ہے بہت ساروں کو اس سے فائدہ [...]
مکمل تحریر پڑھیے »