محفوظات برائے جنوری، ۲۰۰۸
اب بھی ایسے لوگ ہیں ؟
خرم ابنِ شبیر نے منگل، ۲۲ جنوری ۲۰۰۸ کو شائع کیا.

میں روز کی طرح آفس سے نکل کر گھر واپس جا رہا تھا راستے میں مجھے پہلے تو راجہ بازار تک  سزوکی پر اور اس کے باد چینگ چی پر بیٹھ کر جانا پڑتا ہے راستے میں میں اکثر اکیلا نہیں‌ ہوتا مطلب میں‌ کچھ نا کچھ سوچتا رہتا ہوں‌اپنے ماضی اور مستقبل کے بارے [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

ٹیگز

دوستوں کے درمیاں (میرے دوستوں کی باتیں) ۔۔
خرم ابنِ شبیر نے سوموار، ۲۱ جنوری ۲۰۰۸ کو شائع کیا.

میں سمجھتا ہوں دنیا میں سب سے غریب وہ انسان ہے جس کا کوئی دوست نہیں اللہ تعالٰ جان جی کا کرم ہے مجھے پر جس کے بہت اچھے اور پیارے دوست ہیں ویسے تو میرے دوست بہت سارے ہیں جو نیٹ پر بھی ہیں اور عام زندگی میں بھی لیکن میں یہاں صرف ان دوستوں [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

ٹیگز

یہ ہے میرا پاکستان
خرم ابنِ شبیر نے جمعہ، ۱۸ جنوری ۲۰۰۸ کو شائع کیا.

کچھ سال پہلے میں‌نے یہ نغمہ سنا تو مجھےبہت اچھا لگا “ہے ہے میرا پاکستان ” کیسا پیارا ہے اس کے لوگ کتنے پیارے ہیں سب پیار کرنے والے ہیں لیکن آج کل جب مین یہ نغمہ سنو تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ نغمہ ہی مجھ سے عجیب انداز میں پوچھ رہا ہو [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

ٹیگز

فقط پہلی ہی فرصت میں
خرم ابنِ شبیر نے بدھ، ۱۶ جنوری ۲۰۰۸ کو شائع کیا.

فقط پہلی ہی فرصت میں یقین جانو یہی ایک کام کرنا ہے محبت زندگی اور دل تمہارے نام کرنا ہے فقط پہلی ہی فرصت میں

مکمل تحریر پڑھیے »

ٹیگز

اسے کہنا
خرم ابنِ شبیر نے بدھ، ۱۶ جنوری ۲۰۰۸ کو شائع کیا.

اسے کہنا اسے ہم یاد کرتے ہیں دیے جب شام کی دہلیس پر جلنے کو آتے ہیں ستارے آسماں پر ٹم ٹماتے ہیں اور پچھلے پہر چاندنی پھولوں پہ شبنم اترتی ہے بہت ہی خوب لگتی ہے ہم اس دم اپنی آنکھوں میں تمہیں آباد کرتے ہیں اسے کہنا اسے ہم یاد کرتے ہیں اندھری [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

ٹیگز

ڈلی ہے شام تو سورج اتر گیا ہو گا
خرم ابنِ شبیر نے بدھ، ۱۶ جنوری ۲۰۰۸ کو شائع کیا.

ڈلی ہے شام تو سورج اتر گیا ہو گا تمہارے یاد میں کوئی بکھر گیا ہو گا ہمارے بعد ہماری تلاش کیا کرنا  بس اتنا سوچ مسافر گزر گیا ہو گا خرم شہزاد خرم 

مکمل تحریر پڑھیے »

ٹیگز

اثر کرتا نہیں شکوہ شکایت بھی پرانی ہے
خرم ابنِ شبیر نے بدھ، ۱۶ جنوری ۲۰۰۸ کو شائع کیا.

اثر کرتا نہیں شکوہ شکایت بھی پرانی ہے مجھے احساس ہے اس کی یہ عادت بھی پرانی ہے کوئی رستہ نہیں اس بن جو مجھ کو زندگی دے دے بہت ہی دور ہے منزل مسافت بھی پرانی ہے اسے دیکھے بنا آنکھیں برستی ہیں نہ ہنستی ہیں جدائی بھی نہیں کٹتی اذیت بھی پرانی ہے [...]

مکمل تحریر پڑھیے »

ٹیگز


جملہ حقوق بحق ”دیا جلائے رکھنا ہے“ محفوظ ہیں.
ورڈ پریس ” سبز اردو تھیم “ منجانب ایم بلال