خرم ابنِ شبیر نے سوموار، ۳۰ نومبر ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
آج کرشن چندر کے افسانوں کو پڑھ رہا تھا کہ مامتا افسانہ پسند آیا سوچا آپ کے لیے بھی لکھ دوں آپ بھی پڑھیں مامتا یہ کوئی دو بجے کا وقت تھا، بادلوں کا ایک ہلکا سا غلاف چاند کو چھپائے ہوئے تھے۔ یکا یک میری آنکھ کھل گئی۔ کیا دیکھتا وہں کہ ساتھ والی [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے بدھ، ۲۵ نومبر ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
آپ سب یہ تو جانتے ہی تھے کہ میری دادی جان بیمار تھیں اور ہسپتال میں داخل تھیں۔ دادی جان اسی بیماری کی حالت میں اس دنیاِ فانی سے رخصت فرما گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ دادی جان کی مغفرت فرمائے اور دادی جان کو جنت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے آمین آپ سب سے درخواست [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے جمعہ، ۲۰ نومبر ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
پاک نیٹ پر میرے بھائی جیسے دوست طاہر بھائی نے ایک غزل لگائی مجھے بہت پسند آئی میں نے سوچا آپ کو بھی پڑھائی جائے امید ہے آپ کو بھی پسند آئے گی مرے خلوص کی گہرائی سے نہیں ملتے یہ جھوٹے لوگ ہیں سچائی سے نہیں ملتے وہ سب سے ملتے ہوئے ہم سے [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے بدھ، ۱۸ نومبر ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
جب ہم چھوٹے تھے تو بہت سے کھیل کھیلا کرتے تھے۔ باندر کلہ، گُلی ڈنڈا، ہاکی، بنٹے(جسے بلور اور کنچے بھی کہتے ہیں)، پکرن پکڑائی، کوکلے مکوکلے، آنکھ مچولی، گند بلا اور اس طرح کے بہت سے کھیل کھیلا کرتے تھے۔ جس سے یہ ہوتا تھا کہ ہم صحت مند رہتے تھے، نیند اچھی آ [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے منگل، ۱۷ نومبر ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
عنوان سے تو بہت سے لوگ حیران ہو گے ہونگے کہ یہ ادیب کون سا کھیل کھلتے ہیں۔ لیکن یہ ادیب ہیں کون پہلے یہ جان لیا جائے تو بہتر ہو گا۔ میں شاعری کرتا ہوں اور کبھی، کبھی میری شاعری اخبار اور میگزین پر آ جاتی تھی اس لیے میں خود کو شاعر ہی سمجھتا تھا۔ [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے منگل، ۱۷ نومبر ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
یو ٹیوب گردی کرتے ہوئے مشتاق احمد یوسفی صاحب نظر آ گے سنا بہت مزہ آیا سوچا آپ کو بھی سنا دوں۔ آپ کی خدمت میں پیش ہیں مشتاق احمد یوسفی صاحب مشتاق احمد یوسفی
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے سوموار، ۱۶ نومبر ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
اردو محفل پر عارف کریم بھائی نے فلم 2012 پر تبصرے کے لیے ایک دھاگہ بنایا ہے۔ اس دھاگے کو دیکھ کر مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آ گیا سوچا یہاں بھی شئیر کر دوں مجھے تو فلمیں دیکھنے کا شوق ہی نہیں ہے۔ اس لیے “2012″ پر تو کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔ کیونکہ [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے بدھ، ۱۱ نومبر ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ سرخیان امن کی تلقین میں مصروف رہیں حروف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ جس کی چوٹی پہ بسایا تھا [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے سوموار، ۲ نومبر ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
ایم اے راجا بھائی نے محفل پر علامہ اقبال صاحب کا ایک شعر کی تقطیع کی درخواست کی تھی کچھ اس طرح۔ ایم اے راجا براہِ کرم اقبال کے اس شعر کی تقطیع کر دیں اور بحر کے بارے میں بتا دیں۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے سوموار، ۲ نومبر ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
میری شاعری پر اصلاح غزل اس قدر بے بسی سے ملتا ہے وہ بہت کم کسی سے ملتا ہے دل میں لازم ہے نور کا ہونا راستہ روشنی سے ملتا ہے اس کی دیکھی ہے میں نے جب صورت وہ تو ہر آدمی سے ملتا ہے اس میں تھی سادگی بہت پہلے اب [...]
مکمل تحریر پڑھیے »
خرم ابنِ شبیر نے سوموار، ۲ نومبر ۲۰۰۹ کو شائع کیا.
محفل پر ایک دفعہ الف نظامی صاحب نے وارث صاحب سے سوال کیا تھاکہ سوال۔ محمد وارث صاحب ایک اور سوال یہ تفاعیل کیا چیز ہے۔ اس پر وارث صاحب نے بہت خوبصورت انداز سے جواب دیا تھا آپ کی خدمت میں بھی پیش کر رہا ہوں امید ہے بہت ساروں کو اس سے فائدہ [...]
مکمل تحریر پڑھیے »