عبدالاحد ، امام عالم اور میں

 

 

یومِ بچپن کے سلسلہ میں میں اپنا تو کوئی واقعہ  پیش نہیں کر سکتا ۔ لیکن میرے تو بھتیجے ہیں ان کی کچھ باتیں پیش کرتا ہوں۔ میں جب سے ابوظہبی آیا ہوں تب سے میں ہر دوسرے دن فون کر کے اپنے بتیجھوں سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ میرا زیادہ لگاو تو  عبدالاحد کے ساتھ ہے لیکن امام سے بھی بہت محبت ہے۔ پہلے عبدالاحد کی کچھ باتیں کیونکہ وہ چھوٹا ہے اور بہت شرارتی ۔

عبدالاحد سے فون پر باتیں۔

السلام علیکم بیٹا کیا حال ہے

چاچو آپ کہاں ہیں۔

بیٹا پہلے سلام کرتے ہیں

اچھا چاچو آپ کہاں ہیں

بیٹا میں کام پر ہوں

چاچو کام پر کہاں

بیٹا میں یہاں ہوں آپ کہاں ہیں

میں بھی یہاں ہوں۔ چاچو آپ کب واپس آئیں گے۔

بیٹا میں جلد واپس آوں گا ۔

چاچو آپ کہاں ہو۔

بیٹا یہاں ہی ہوں نا

اچھا چاچو آپ کا موٹر سائیکل کہاں ہے۔(گھر میں ایک ہی موٹر سائیکل ہے چاروں بھائی بار بار اس کو چلاتے ہیں۔ میں عبدالاحد کو ساتھ لیے کر جاتا تھا اس لیے وہ کہتا تھا چاچو یہ آپ کا موٹر سائیکل ہے نا )

بیٹا آپ کے لیے چھوڑ کر آیا تھا نا

نہیں چاچو وہ اب ثاقب چاچو نے لیے لیا ہے۔

یعنی مجھے شکایت لگا رہا تھا کہ مجھے کوئی موٹر سائیکل پر نہیں لے کر جاتا۔

اب کچھ باتیں امام عالم کی

السلام علیکم کیا حال ہے بیتا

چاچو میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں آپ ٹھیک ہے نا

جی بیٹا میں ٹھیک ہوں

چاچو آپ کیا کام کرتے ہیں اتنے دور جا کر

بیٹا کمپیوٹر کا کام کرتا ہوں۔ آپ کو بھی ایک کمپیوٹر دوں

نہیں چاچو مجھے کمپیوٹر نہیں مجھے  جہاز چاہے

وہ کیوں بیٹا جہاز کو کیا کرو گے

چاچو جہاز کو اڑا کر آپ کے پاس آ جاوں گا

 

مجھے اپنے بیٹے بہت یاد آتے ہیں