پڑھے لکھے ان پڑھ

 

ایسے پڑھے  لکھوں سے میں ان پڑھ ہی بہتر۔

سکول میں  اور سکول کے بعد میری ملاقات  ایسے  بہت سے لوگوں سے ہوئی ۔ جن کے پاس ڈگری تو تھی۔ لیکن وہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ ان پڑھ تھے ، ان پڑھ کی جگہ اگر جاہل کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا ، کیونکہ ان پڑھ پھر بھی کچھ عقل رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے  جاہل اور ان پڑھ میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اسی لیے میں بھی کہتا ہوں ڈگری لے لینے سے بندہ پڑھا لکھا نہیں ہو جاتا ۔ اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا ۔

” ایک دیہاتی اپنے بیٹے کو استاد کے پاس لے گیا۔ اور کہا استاد جی اس کو اتنا پڑھا دیں  ، کہ یہ  خط پڑھ کر سنا سکے اور اس کا جواب بھی لکھ سکے “۔  پورے ایک مہینے کے بعد  استاد نے بچے کے والد صاحب کو کہا ۔ آپ اس کو لے جائیں ۔ یہ اب خط لکھ بھی سکتا ہے اور پڑھ بھی سکتا ہے۔ دیہاتی بہت خوش ہوا اور اپنے بیٹے کو لے کر چل پڑا ۔ کچھ دنوں کے بعد دیہاتی کے بھائی کا ایک خط آیا ۔ دیہاتی نے اس خط کو اپنے بیٹے کو دیا اور کہا بیٹا یہ پڑھ کر سناو۔ تو بیٹے نے جواب دیا ۔ بابا جی مجھے تو صرف وہ خط پڑھنا آتا ہے جو استاد جی نے سیکھایا ہے۔

میرے نزدیک  یہ ڈگری والی تعلیم ہے۔ اور ایسی تعلیم ان اساتذہ سے ہی ملتی ہے جو خود ڈگری حاصل کر چکے ہوتے ہیں۔ اب میرا کہنے کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ جس کے پاس ڈگری ہے وہ پڑھا لکھا نہیں۔ سب ایسے نہیں ہوتے۔ لیکن میں کہتا ہوں تعلیم ایسی ہو ، جو آپ کو انسان بنا دے۔ اس لیے سیکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرو۔ اور جہاں سے جو کچھ سیکھنے کو ملے اس کو حاصل کرو۔ صرف اپنے کورس کی کتابوں سے ہی تعلیم نہیں ملتی۔ اور یہ بھی نہیں ہے کہ جس نے کورس کی کتابیں نہیں پڑھی ہیں یعنی جس کے پاس ڈگر نہیں ہے اس کو پڑھنا نہیں آتا  یا وہ تعلیم  نہیں دے سکتا

خرم شہزاد خرم