پیسے کا کھیل
جب ہم چھوٹے تھے تو بہت سے کھیل کھیلا کرتے تھے۔ باندر کلہ، گُلی ڈنڈا، ہاکی، بنٹے(جسے بلور اور کنچے بھی کہتے ہیں)، پکرن پکڑائی، کوکلے مکوکلے، آنکھ مچولی، گند بلا اور اس طرح کے بہت سے کھیل کھیلا کرتے تھے۔ جس سے یہ ہوتا تھا کہ ہم صحت مند رہتے تھے، نیند اچھی آ جاتی تھی، ایک طرح کا سکون ہوتا تھا۔ اگر کسی سے شکایت بھی ہوتی تو ایک دو دن میں سب کچھ بُھول کرپھر ویسے ہی ہو جاتے تھے۔ اس وقت ہمارے کھیل میں محدود قسم کے قوانین ہوتے تھے۔ مثلا یہاں سے آگے نہیں جانا، اگر وہاں گیند گی تو کھلنے والا خود لے کر آئے گا، وغیرہ، وغیرہ، جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے گے ہمارے کھیل بھی تبدیل ہوتے گے۔ پہلے ہم پٹی (پتلی لکڑی) سے بلے کا کام لیتے تھے اور اون کے گولے سے گیند بناتے تھے۔ پھر آہستہ، آہستہ ربڑی کی گیند اور پھر کاک کی گنید۔ موسم، زمانے اور حالات بدلتے گے اور ہم بڑے ہوتے گے۔ اور پھر بڑے ہوتے ہوتے ایک ایسا وقت بھی آیا جہاں ہم سارے کھیل چھوڑ کر صرف اور صرف ایک کھیل کھیلنے لگے۔ اور وہ کھیل ہے ”پیسے کا کھیل“ جب سے ہم نے عملی زندگی میں قدم رکھا ہے تب سے یہ کھیل کھیلنے اور دیکھنے کو مل رہا ہے۔ زندگی کے مختلف ادوار میں عمل زندگی کا دور مجھے بہت مشکل لگتا ہے۔ جہاں تک نظر جاتی ہے وہاں تک پیسے کا ہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ کوئی محنت کر کے پیسے کماتا ہے، تو کوئی چوری کر کے، کوئی ایک ایک روپے کے پیچھے خون پسینہ ایک کر دیتا ہے تو کوئی پیسوں سے پیسیہ صاف کرتا ہے۔ کوئی کماتا ہے تو کوئی چھینتا ہے۔ کوئی محنت کرتا ہے۔ کوئی مانگتا ہے اور کوئی چھین لیتا ہے۔ طریقے مختلف ہیں لیکن کھیل ایک ہی ہے لیکن اس کھیل میں کوئی اصول نہیں ہے۔ بس پیسہ ہی سب سے بڑا اصول ہے۔ اور اس کھیل میں مانگنے والا سب سے زیادہ کمال کا کھیلاڑی ہوتا ہے۔ کوئی اپنے بچوں کو سامنے کر کے مانگتا ہے تو کوئی خود کو عاجز بنا کر مانگتا ہے کوئی ایک وقت کی روٹی اور پانی مانگتا ہے تو کوئی سب کچھ مانگتا ہے۔ چھوٹے بڑوں سے مانگتے ہیں۔ بڑے ان سے بھی بڑوں سے اور ان سے بڑے ان سے بھی بڑوں سے طریقہ کوئی بھی ہو لیکن کھیل پیسے کا ہی ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس کھیل میں قوانین پر عمل کر کے کھیلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ورنہ تو اس کھیل میں دوست، دوست کے اور بھائی، بھائی کے خون کا پیاسا ہوتا ہے




پیسے کا کھیل بہت خطرناک ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
کیا کریں اس کھیل کے علاوہ کوئی کھیل بچا بھی تو نہیں ہمارے لیے
اس تبصرے کا جواب دیں
صحيح کہا خُرّم آپ نے
ذرا يہ بھی ديکھنا کُچھ ايسے ہی خيالات کا اِظہار کيا ہے
http://www.bbc.co.uk/urdu/interactivity/blog/story/2005/02/printable/050220_mypage_shahida_ms.shtml
اس تبصرے کا جواب دیں
اپنا تو تجربہ ہے کہ پیسے کے کھیل میںجیتتا وہ ہے جو یہ کھیل نہیں کھیلتا
اس تبصرے کا جواب دیں
ماشاءاللہ بھائی جان آپ تو آہستہ آہستہ دانشوری کی سیڑھیاں چڑھتے جارہے ہیں۔۔۔
ڈفر کا نکتہ قابل غور ہے!!!
اس تبصرے کا جواب دیں
شکریہ شاہدہ آپی
ڈفر بھائی آپ نے بلکل ٹھیک فرمایا لیکن میرا نہیں خیال کے آج کے دور میں کوئی ایسا کھیلاڑی بھی ہو جو پیسے کا کھیل نا کھیلتا ہوں
جعفر بھائی بہت شکریہ دانشوری کی سیڑھیاں ہم سے برسوں دور ہیں ہم تو ابھی جہالت سے بھی نہیں نکلے
اس تبصرے کا جواب دیں
موضوع اچھا ہے، پر اسپر کمنٹس کرنے والے خود اس کھیل کے غلام ہیں!
اس تبصرے کا جواب دیں