پُرانے کاغذ
پُرانے کاغذ
میرے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دنیا کا کون سا شوق ہے جو اس نالائق کو نا ہو۔ یعنی ہر دور میں کوئی نا کوئی شوق پیدا ہوتا رہا ہے۔ اسی لیے تو کچھ بھی مکمل نہیں بن سکا۔ میرے شوق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک دفعہ گھر میں سب بہن بھائی کزن وغیرہ جمع تھے اور کسوٹی کھیلی جا رہی تھی۔ ایک گروپ نے میرا نام سوچا ہم خاندان کے لوگوں پر ہی کسوٹی کھیل رہے تھے ہمارا خاندان ماشاءاللہ سے بہت بڑا ہے۔ خیر کسوٹی میں چوتھا سوال یہ پوچھا گیا کہ اس کے مشاغل کیا ہیں۔ تو جواب دیا گیا بہت سارے ہیں تو دوسرے گروپ نے گیم ختم کی اور کہا یہ خرم صاحب ہیں۔ خیر بات کرتے ہیں پُرانے کاغذ کی۔ ایک دور میں مجھے مصوری کا بھی بہت شوق تھا۔ جس کو ختم کرنے میں میری والدہ جانی کا بہت ہاتھ ہے۔ مجھے جس چیز ک بھی شوق پیدا ہوا اس کے لیے راستے بھی آسان ہوتے گے۔ پہلے پنسل سکیچ سیکھے پھر اس کے بعد گراف بنا کر تصویر بنانا اور اس میں رنگ بھرنا سیکھا اور آخر کار اتنا کامیاب ہو گیا کہ 75 فیصد تصویر گراف کی مدد سے بنا سکتا تھا۔ میں نے اپنے گھر والوں کی تصویریں بنا کر اپنے بستر کی ایک طرف رکھی ہوئی تھیں جو بھی آتا تھا اس کو دیکھاتا تھا اور جب وہ تعریف کرتا تھا تو مجھے بہت خوشی ہوتی تھی۔ لیکن گھر والے نہیں مانتے تھے ایک دفعہ ایک دوست میرے گھر آیا اور میں نے اس کو تصویریں دیکھائی تو وہ تصویریں دیکھ کر نام لینے لگا، کہ یہ خرم کی تصویر ہے یہ عمر کی یہ ثاقب کی اور یہ عامر بھائی کی۔ میں بہت خوش ہوا اور اپنے بھائیوں کو بتایا دیکھو تم لوگ کہتے ہو تصویریں ٹھیک نہیں بنتی اسد نے تو تصویریں دیکھ کر پہچھان لیا کہ کس کس کی تصویریں ہیں۔ لیکن اسد نے کہا نہیں یار میں نے تصویریں دیکھ کر نہیں پہچھانا بلکے تصویروں کے نیچے نام لکھے ہوئے ہیں۔ ہی ہی خیر بات پھر آگے نکل گی۔ ایک دن میں گھر واپس آیا تو میرا بستر بلکل صاف شفاف پڑا ہوا تھا ساری چیزیں ترتیب سے تھیں لیکن وہاں وہ تصویریں نہیں تھیں جو میں نے بڑی محنت سے بنائیں تھی۔ بے شمار تصویریں تھیں۔ پودوں کی درختوں کی، جنگل ک، جانوروں کی اور گھر والوں کی تلاش کرنے پر جب نہیں ملیں تو میں نے اپنی ماں جی سے پوچھا میرے بستر کی صفائی کس نے کی۔ تو ماں جی بہت پیار سے بولیں میں نے کی ہے میں نے سوچا سب کچھ بکھرا پڑا ہے کیوں نا صاف کر دوں تو میں نے کر دی۔ پھر میں نے پوچھا اس کے اوپر جو تصویریں تھیں وہ کہاں گئی۔ تو ماں جی نے جواب دیا وہ سب دو پُرانے کاغذ تھے میں نے ردی میں بیچ دیں ہیں۔
میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیااور میری قسمت میرا چھوٹا بھائی یہ باتیں سن رہا تھا پھر کیا یہ تو آپ سب جانتے ہی ہونگے




بہت خوب جناب
آپ واقعی کمال ہیں لیکن آپ کی امی جان نے تو کمال ہی کر دیا۔
بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن کبھی آپ نے سوچا اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
کیوں آپ کی امی جان کی نظر میں یہ صرف پرانے کاغذ تھے؟
اس تبصرے کا جواب دیں
ميری امي کا حال آپکی امی سے الٹا تھا کئی دن تک ميں ردی کاغذ بيڈ کے نيچے پھينکوں روز واپس آؤں تو دوبارہ ميز پر پڑے مليں تو سخت غصہ آئے ايک دن پوچھ ليا کہ يہ کيا چکر ہے تو امی کہنے لگيں ميں ہر روز سارے کاغذ اسليے صحيع کر کے رکھ ديتی ہوں اور پھينکتی نہيں کہ پتہ نہيں کون کون سے ضروری کاغذ ہيں اور غلطی سے نيچے پڑے ہيں لہذا سلوٹيں دور کر کے رکھ ديتی ہوں آج بھی ميرے گھر کا چکر لگايا جائے جو ميں نے گزشتہ چھ سال سے نہيں لگايا تو ميری ساری کتابيں حتی کے نوٹس اور ردی بھی امی نے ويسی ہی سنبھال رکھی ہوں گی مجھے سو فيصدی يقين ہے ماواں ٹھنڈياں چھاواں
اس تبصرے کا جواب دیں
راجہ بھائی بہت شکریہ آپ ہمارے غریب خانہ پر تشریف لائے اور رائے سے نوازا
اسماء آپی یہ کام میری امی جی کا اکیلے نہیں ہوگا یہ میرے بہن بھائیوں کی شرارت ضرور ہوگی وہ ہمیشہ میرے خلاف کچھ نا کچھ کرتے رہتے تھے ایک اور واقعہ یاد آ گیا ہے جو میرے بہن بھائیوں نے اور بھابھی جی نے میرے خلاف تیار کیا تھا اور وہ کامیاب بھی ہو گے تھے وقت ملنے پر لکھوں گا انشاءاللہ
اس تبصرے کا جواب دیں
[...] جو ایک ہی دفعہ والدہ محترمہ کی مہربانی سے ختم ہو گیا پُرانے کاغذ کے نام سے ایک تحریر میں ذکر بھی کیا تھا اور لکھنے کا شوق [...]