ادبی فرقہ بندی
مجھے جب نیا نیا شاعری کا شوق پیدا ہوا تو میں نے پہلے کسی کو نہیں بتایا شرم کی وجہ سے ایک دفعہ اپنی ایک نظم جو والدین پر لکھی تھی ایک اخبار کو ارسال کی تو وہ شائع ہو گئی اور میں نے وہ اخبار بہت سے لوگوں کو دیکھائی۔ گھر والوں نے تو مانا ہی نہیں بھائیوں نے کہا “یار بس کر کسی دی چوری کیتی ہوسی آ” (بھائی بس کر کسی کی چوری کی ہو گئی) اسی طرح ہر کسی نے کوئی نا کوئی بات کی لیکن ایک شخص جن کا نام نذیر تھا انھوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی اور انھوں نے مجھے ایک ریسٹورنٹ بتایا جہاں ہر اتوار کو کچھ شاعر بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن میں وہاں نہیں جا سکا۔ پھر ایک دفعہ کالجوں میں غزلوں کا مقابلہ ہوا اور مجھ سے کسی نے کہا میں مقابلے کے لیے غزل لکھ کردوں وہ اپنے نام سے پڑھے گا میں نے لکھ دی اور بعد میں پتہ چلا وہ غزل تیسرے نمبر پر آئی ہے۔ اس وقت مجھے وزن کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتہ تھا اس کے بعد مجھے احساس ہوا کسی سے اس کی تعلیم لی جائے اس سلسلے میں ایک شاعر کے پاس گیا ان کی گفتگو کچھ یوں تھی
” بیٹا آپ کا کلام بے وزن ہے کچھ غزلوں پر اگر محنت کی جائے تو ان کو وزن میں لایا جاسکتا ہے آپ اچھے شاعروں کا کلام پڑھا کریں بہت کچھ سیکھیں گے اور ہاں علمِ عروض پر بھی کچھ نظر ڈال لیا کرو صرف اتنا کہ کم از کم تم اپنی غزل بحر میں کر سکو”
اس وقت مجھے علمِ عروض وغیرہ کا کچھ پتہ نہیں تھا میں غزل کو گا کر لکھتا تھا۔ خیر ان کی بات اس وقت تو مجھے سمجھ نہیں آئی اسی طرح پھر ایک محفل میں ایک اور صاحب سے ملاقات ہوئی انھوں نے کچھ یوں کہا
” تم اس طرح کرنا اپنا کلام جو تم سمجھتے ہو اچھا ہے میرے پاس لیے آؤ میں تم کو اس کی اصلاح کر دوں گا”
میں اپنی کچھ غزلیں ان کے پاس لے گیا اور انھوں نےکچھ اصلاح کر دی کچھ الفاظ نکال دیے اور کچھ تبدیل کر دیے کہیں کہیں تو پورا شعر ہی بدل دیا اور کہیں تو پوری کی پوری غزل تبدیل کر دی یعنی میں نے سوچا اور کہا کچھ تھا لیکن اس اصلاح کےبعد کچھ سے کچھ ہو گیا ان کا کام ختم
پھر ایک صاحب سے اور ملاقات ہوئی کیا فرماتےہیں
” بیٹا تم کن چکروں میں پڑ گے ہو یہ علمِ عروض وغیرہ کچھ نہیں ہوتا شاعری تو دل کی آواز ہوتی ہے یہ خدا کی طرف سے عطا ہوتی ہے اب دیکھو نا جو کچھ تم تخلیق کرتے ہو کیا وہ سب بحر پر پورا نا اترنے کے بعد تم اس کو ختم کر دو گے بھول جاو گے میری مانوں تم لکھو اور جو تم بہتر سمھتے ہو وہ کروں یہ علمِ عروض کے چکر میں نا پڑو”
پھر اسی طرح مختلف حضرات سے ملاقات ہوتی رہی پھر ایک ڈرامے سے بھی ملاقات ہوئی ڈرامہ کچھ یوں تھا۔ ان دنوں مجھے ذوالفقار علی زلفی صاحب مل گے تھے جنوں نے میری بہت رہنمائی کی۔ اور اپنے ساتھ ساتھ مجھے ادبی حلقوں میں لے گے اختر رضا سلیمی صاحب اور اختر عثمان صاحب جیسے ادبی حضرات سے ملاقات کروائی جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اب آتا ہوں ڈرامے کی طرف۔
” ایک حضرت ملے جو دور، دور سے اور غلطی سے ہمارے رشتے دار ہی لگتے ہیں۔ ان کو پتہ چلا کہ میں بھی شاعری کرتا ہوں (جناب بھی اچھے شاعر ہیں اور ادبی حلقوں میں ان کا نام بھی ہے۔) تو راولپنڈی آنے پر مجھے اپنے گھر بُلایا اور کہا کچھ سناؤ ایک غزل جس کی اصلاح زلفی صاحب نے کی تھی وہ سنا دی پسند کی گئی اور پوچھنے لگے ادبی حلقوں میں بھی جاتے ہو کہ نہیں۔ میں نے بتا دیا جی زلفی صاحب کی مدد سے ان ان حضرات سے ملاقات ہے اور ہفتے میں ایک دن تنقیدی نشست بھی لگتی ہے وہاں بھی جاتا ہوں۔ جناب نے جواب دیا یہ تم کن لوگوں کے پاس جا رہے ہو یہ سب عروضی ہیں اپنے علاوہ کسی کےکلام کو پسند نہیں کرتے بس تنقید ہی کرتے رہتے ہیں کیوں اپنے آپ کو خراب کر رہے ہو اور ہاں کل اگر تم مشہور ہو گے تو یہ سب کہیں گے کل تک تو ہم سے سیکھتا تھا۔ میں نے کہا تو جناب اس میں کیا ہے سیکھ تو رہا ہوں ان سے۔ اگر ایسا کہیں گے تو ٹھیک ہی کہیں گے۔ اس پر جناب کا کچھ رنگ بدل گیا خیر پھر اس کے بعد جب بھی وہ راولپنڈی آئیں تو ملاقات ضرور ہوتی تھی۔”
اسی طرح بہت سے حضرات ملے کوئی عروضی، کوئی بے وزن، کوئی انگلوں پر گن کر شاعری کرتا، کوئی گا کر شاعری کرتا، کوئی کسی کی تنقید اور اصلاح قبول نا کرتا اور کوئی کسی کی اصلاح ہی نا کرتا ہر کوئی اپنے اپنے حلقے بنا کر بیٹھے رہے اور ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ تو اللہ کا شکر ہے مجھے زلفی صاحب ملے جنوں نے مجے بنیادی چیزیں بتائیں اور ان کے بعد اردو محفل پر محمد وارث صاحب اور اعجاز صاحب مل گئے
ایک فرقہ تو ایسا بھی ملا جو کہتا تھا جو دل میں آئے لکھو اور لکھتے جاؤ کسی کی پروا نا کرو کوئی جو کچھ مرضی کہے




آخری فقرہ میرے حساب سے درست ہے کیونکہ میں نہ شاعر ہوں نہ ادیب مگر جب بھی محفل جمائی خوب جمی
اس تبصرے کا جواب دیں
میں تو بس یہی کہوں گی کہ خرم آپ بہت خوش نصیب ہو کہ اتنے لوگوں نے آپ کو مشورہ دیا ۔ ورنہ تو لوگ مشورہ کیا صرف کوئی سایڈ بھی بتا دیں تو بار بار احسان جیتایا جاتا ہے ۔ میں بھی افتخار جی سے متفق ہوں
اس تبصرے کا جواب دیں
ھم تانیہ رحمان اور افتخار صاحب سے متفق نہیں۔ اگر محنت کرنی ہے تو پھر ڈھنگ سے کی جائے اور جو بھی کام کرنا ہو وہ قوائد و ضوابط میں رہ کیا جائے تو تبھی بات بنتی ہے۔ اگر علم عروض کے بغیر شعر کہنے کی طرح ڈال دی جاتی تو آج دنیا میں سارے شاعر ہی ہوتے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
میرا پاکستان کے خیالات سے مجھے بھی اتفاق ہے۔
وقتیہ شاعری اور بات ہے اور میر غالب یا دورِ حاضر کے فیض، ابن انشاء یا پروین شاکر بننا ایک الگ بات ہے۔ اور میدانِ ادب کی ہر صنف اس کے معروف قلمکاروں سے پہچانی جاتی ہے نا کہ گلی محلے کے لکھنے والوں سے۔
معروف لکھنے والے بھی بےشک گلی محلے ہی سے اٹھتے ہیں مگر ۔۔۔۔۔ مگر خونِ جگر جلا کر اٹھتے ہیں۔ صرف دل کی بات کہی جائے تو وہ ہرچند کہ موثر لگے گی مگر ایک مخصوص حلقے تک ہی محدود بھی رہے گی۔ ہر فن میں عالمی معیار تک پہنچنے کے لئے اس فن کے اصول و ضوابط کی پاسداری لازم ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
خرم، آپکی یہ پوسٹ مجھے بے حد پسند آئ۔ خاص طور پہ اسکی روانی پہ۔ میں نے اسے پورا پڑحا اور دلچسپی سے پڑھا۔ اور مجھے لگا کہ آپکے قلم میں دن بہ دن پختگی آتی جارہی ہے۔
شاعری میرا میدان نہیں۔ لیکن اتنا ضرور کہونگی کہ اگر اس میں ایسا خروج نہ ہو جو کسی اور کے قلب پہ نزول بن جائے تو پھر عروض ہی عروض رہ جاتا ہے۔ شاعری میں گدازیت یا تاثر ہونا ضروری ہے۔ نہیں معلوم کہ بلھے شاہ یا شاہ لطیف کو عروض آتی تھی یا نہیں۔ لیکن انکی شاعری اج بھی زندہ ہے۔ اور ہاں فرقہ بندی کہاں نہیں ہوتی۔ اگر انسانی فطرت میں صرف سیڑھیاں ہوتیں اور سانپ نہ ہوتے تو اب تک تو نسل انسانی کائنات کو مسخر کر کے فارغ بیٹھی ہوتی۔
اس تبصرے کا جواب دیں
افتخار اجمل بھوپال صاحب، تانیہ آپی، میرا پاکستان صاحب، حیدر آبادی صاحب اور عنیقہ آپی آپ سب کا بہت شکریہ
میں خود میرا پاکستان صاحب اور حیدر آبادی صاحب کی بات سے متفیق ہوں
عنیقہ آپی پنجابی کے کلام کے لیے بھی علمِ عروض کی طرح کا ہی کوئی نظام ہے علمِ عروض عربی، فارسی اور اردو شاعری کے لیے ہے اور اسی طرح ہندی شاعری کے لیے بھی نظام ہے اور ہر کام اگر ترتیب سے ہو تو بہت خوبصورت لگتا ہے
اگر دسترخان پر عام سا کھانا ہو لیکن ایک ترتیب اور سلیکے سے رکھا ہو تو بہت پیارا لگا ہے اور کھانے کو دل بھی کرتا ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
نہ تو میں شاعر ہوں اور نہ ہی ادیب ، پی ایچ ڈی پروفیسروں سے لے کر ان پڑھ گنوار دہاتیوں تک محفلیں جما چکا ہوں خداداد صلاحیتیں ہر جگہ پائی جاتی ہیں حالات اور تفکر انسان میں جستجو شوق پیدا کرتے ہیں ۔ علم عروض پڑھنے سے کوئی شاعر نہیں کہلا سکتا ۔ آپ ہی کی بات کو آگے بڑھاتا ہوں کہ ابتدا میں ساری غزل تک بھی بدل دی گئی ۔ شعر تو وہ بہر وزن میں آ گئے مگر کیا اس احساس کا اظہار کرتے ہیں جو آپ کے تخیل سے نکلا ہے ۔ یہ بنیادی طور پر سوچ اور تخیل کی طرح دو الگ صنف ہیں ۔ دنیا میں سب سے آسان کام تنقید ہے دو جملوں سے پوری کتاب کا تیا پانچہ کر سکتے ہیں مگر ایک پیرا گراف شاہکار ادب تخلیق کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ اب رہ گئی بات مشہور ہونے کی جو کہ آج کے دور میں کیش کروانے کی ایک سوچ کی عکاس ہے ۔ یا معتبری اور ناموری حاصل کرنے کی ایک کوشش ۔ ایسی ایسی شاعری کی کتابیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں کہ صرف غیر شادی شدہ نوجوان نسل کے لئے کشش رکھتی ہیں ۔ بہر و وزن میں بھی وہ پوری اترتی ہیں ۔
اس تبصرے کا جواب دیں