یوں تو بہت سے لوگ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں لیکن ان کی کامیاب زندگی کے پیچھے سالوں کی محنت ہے لیکن کچھ لوگ راتوں رات کامیاب ہوتے ہیں اور کچھ لوگ ہر روز کامیاب ہوتے ہیں۔ ہر روز کامیاب ہونے والوں میں سے ایک کامیاب شخص کی کہانی سناتا ہوں۔ ابوظہبی آنے سے پہلے جہاں میں کام کرتا تھا وہاں جو ہمارے بوس تھے سسُپرِنٹنڈینٹ  صاحب ان کا تقریر کرنے میں مہارت حاصل تھی ان کی کچھ تقریریں پیش کرتا ہوں جو ان کو روز کامیاب ناتی تھیں آج بھی وہ روز کامیاب ہی ہوتے ہیں گے ہم ان کو میٹھی چھڑی کہا کرتے تھے۔ 

ایک دن ان کے پاس ایک شخص آیا وہ پی پی پی کا بندہ تھا بلدیاتی الیکشن لڑا کرتا تھا ان سے گفتگو کے دوران ان کی تقریر کچھ یوں ہوتی تھی۔ 

” سیاست دان تھا تو بھٹو، کیا کمال کا سیاست دان تھا۔ بے نظیر بھی اس کے ہی نقشِ قدم پر چل رہی ہے میں تو کہتا ہوں مشرف کی حکومت کو بے نظیر ہی الٹ سکتی ہے وہ جب بھی پاکستان آئے گی تو مشرف کی چھٹی ہو جائے گی یہ شریف برادر تو کچھ نہیں کر سکتے بس باتیں ہی کر سکتے ہیں۔ مجھے تو پی پی پی کی پر پورا یقین ہے اگر پاکستان میں انقلاب آیا تو پی پی پی ہی لائے گی ” جناب بہت خوشی سے سنتے رہے اور اپنے کارنامے سناتے رہے اور یہ جناب بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے” 

یہ ایک محتصر سی تقریر تھی اس کے بعد ایک دن دعوتِ اسلامی کا کوئی رکن یونیورسٹی میں آگیا تو جناب کی تقریر کچھ یوں تھی 

” جب تک ہم اسلامی نظام نہیں لاتے تب تک ہم کچھ نہیں کر سکتے مسلم لیکن اور پیپل پارٹی بے شک بڑی جماعتیں ہیں لیکن جو کام جماعتِ اسلامی کر سکتی ہے وہ کام ان دونوں میں سے کوئی نہیں کر سکتا  اب دیکھو نا بےنظیر کو تو اردو میں بات کرنی ہی نہیں آتی اور نواز شریف کیا بولے گا وہ تو پنجاب کے پیچھے ہی پڑھا ہوا ہے جماعتِ اسلامی تو اب پورے پاکستان میں موجود ہے اب تو اقتدار جماعت اسلامی کے ہاتھ ہی آن چاہے” 

سیاسی تقریروں کے علاوہ جناب مذہبی تقریریں بھی کرتے تھے کچھ اس طرح۔ 

عید میلادالنبی سے ایک دن پہلے ہمارے کرنل صاحب جو ڈی ڈی ایڈم تھے نے ایک دن کہہ دیا یار یہ لوگ بھی کیا ڈرامے کرتے ہیں۔ تو جناب کی تقریر شروع ہو گی۔ 

سر ان لوگوں نے کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے ربی الاول کے میہنے میں تو یہ بہت پیسے کماتے ہیں۔ ایک محفل میں نعت پڑھے کے 30، 30 ، 40 ، 40 ہزار لیتے ہیں ساونڈ والوں کی تو الگ سے عید ہوتی ہے   ربی الاول میں یہ اور محرم میں شعیہٰ حضرات چین نہیں لینے دیتے۔ 

13 ربی الاول کو ہمارے آفس کے ایک سینئیر رکن  نے 12 ربی الاول کو میلاد کی محفل کروائی تھی تو صبح چاول سب کے کھانے کے لیے لیے آئے تو جناب نے پہلے پوچھا یہ کس بات کے ہیں ان کو بتایا گیا کہ یہ میلاد کے جاول ہیں تو پھر جناب کی تقریر شروع ہو گئی۔ 

یہی تو ایک وسیلہ ہے ہمارے پاس اگر ہم ان کی پیدائش کا دن عید کی طرح نہیں منائے گے تو اور کس طرح منانے گے اور اس کے ساتھ ہی چاول کھانے شروع کر دیے 

اس کی باتیں چار سال تک میں سنتا رہا میں کیا آفس کے سب لوگ جب بھی وہ کوئی تقریر کرتے تو مجھے ایک واقعہ یاد آ جاتا۔ 

“ایک دن بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ باغ کی سیر کر رہا ہوتا ہے کہ بادشاہ کی نظر باغ میں لگے ہوئے بیگن کے پودوں پر پڑتی ہے بیگن کے پودے جب چھوٹے ہوتے ہیں اور ان پر پھول لگ رہے ہوتے ہیں تو بہت خوبصورت نظر آتے ہیں۔ یہ دیکھ کر بادشاہ نے کہا کتنے خوبصورت پودے ہیں۔ تو اس پر وزیر بولتا ہے کہ حضور ہمیں معلوم ہے آپ کو کیا چیز پسند ہے اور کیا نا پسند اس لیے ہم نے باغ میں آپ کے لیے یہ پودے لگوائیں ہیں آپ ان کو دیکھ کر خوش ہوئے ہمارے دل کو تسلی ہوگئی۔ 

پھر کچھ عرصے بعد پھر بادشاہ اور وزیر باغ سے گزرے تو بیگن کے پودوں پر بینگن لگ چکے تھے جب بینگن کے پودے پر بینگن لگتے ہیں تو اس وقت پودوں سے بدبو آتی ہے اور کیڑے وغیرہ بھی ہوتے ہیں بادشاہ نے یہ دیکھا تو وزیر کو کہا یہ کیا چیز ہے کتنی بدبو آ رہی ہے اور یہ کیڑے پودوں کے اوپر گوم رہے ہیں کتنا بُرا لگ رہا ہے۔ تو وزیر نے کہا  حضور مجھے پتہ تھا یہ آپ کو اچھے نہیں لگے گے اس لیے میں نے پہلے ہی مالی کو کہا تھا کہ ان کو کل تک اتار دے لیکن اس نے ابھی تک نہیں اتارے میں اس کو سیدھا کرتا ہوں۔ باد شاہ کو یاد آیا کہ کچھ عرصہ پہلے یہ انہیں پودوں کی تعریف کر رہا تھا تو باد شاہ نے وزیر سے کہا تم تو پہلے ان پودوں کی تعریف کر رہے تھے اور اب ان کی بُرای کر رہے ہو تو وزیر نے جواب دیا 

حضور ہم وزیر آپ کے ہیں ان پودوں کے نہیں