شیخ رشید پر فائرنگ، گارڈ ہلاک اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کے علاقے خیابان سرسید میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد بھی شامل ہیں۔ تاہم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کا کہنا ہے کہ شیخ رشید گولی لگنے سے نہیں بلکہ گرنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ ریجنل پولیس افسر راولپنڈی اسلم ترین نے بی بی سی کو بتایا کہ شیخ رشید احمد جو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے پچپن میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، پیر کے روز خیابان سرسید میں واقع اپنے انتخابی دفتر کا دورہ کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں سوار ہو رہے تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اُن کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دو افرد موقع پر ہی ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں محمد انور اور شاہد محمود شامل ہیں۔آر پی او کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے والوں میں دو افراد کی حالت تشویش ناک بیان کی جاتی ہے۔ پولیس نے جائے حادثہ پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کردی ہے۔ شیخ رشید احمد کے بھتیجے اور راول ٹاون کے سابق ناظم راشد شفیق کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں چار افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد شیخ رشید کے حامیوں نے ٹائر جلا کر سڑک بلاک کردی جس کے نتیجے میں ٹریفک میں شدید خلل پڑا تاہم پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرکے ٹریفک بحال کروادی۔ قومی اسمبلی کے حلقے این اے پچپن میں ضمنی انتخابات چوبیس فروری کو ہو رہے ہیں یہ نشست پاکستان مسلم لیگ کے رکن حاجی پرویز کے مستعفی ہونے سے خالی ہوئی تھی۔ اٹھارہ فروری سنہ دوہزار آٹھ میں ہونے والے عام انتخابات میں یہ نشست پاکستان مسلم لیگ نون کے سنئیر رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے شیخ رشید کو شکست دی تھی۔