پاک و ہند امن مذاکرات
پاک و ہند کے مذاکرات کا معاملہ بہت پُرانا ہو چکا ہے۔ پاکستان نے بہت دفعہ امن کے لیے کوشش کی لیکن بھارت پیچھے ہٹتا رہا لیکن آج کل پھر یہ خبریں گرم ہے کہ بھارت نے پھر اچانک امن مذاکرات کے لیے تیار ہوگیا ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس بار امن قائم ہو ہی جائے ہم اپنی طرف سے مکمل تیار ہیں میں خود ذاتی طور پر چاہتا ہوں کے پاک و ہند کے درمیان امن مذاکرات ہونے چاہے اور پاک و ہند کے درمیان جو کشیدگی پائی جاتی ہے وہ جلد ختم ہو جائے آمین
ٹیگز




سیاست میری دلچسپی کا مرکز کبھی نہیں رہا اس لئے کوئی مصدقہ بات کہنے سے قاصر ہوں۔ پھر بھی مجھے آپ کی بات میں حد درجہ جانبداری نظر آتی ہے۔ کچھ تاثرات جو آپ کا مضمون پڑھ کر میرے ذہن پر مرتب ہوئے۔
– پاکستان بحیثیت ملک ہمیشہ امن کی کوشش کرتا رہا لیکن ہندوستان بحیثیت ملک اس سے دامن بچاتا رہا۔ غالباً عدم امن ہندوستان کو انتہائی مرغوب اور مفید ہو۔
– اللہ جانے کن نا معلوم وجوہات کی بنا پر ہندوستان ایک بار پھر امن مذاکرات پر بمشکل ایک بار پھر راضٰی ہوا ہے۔ ممکن ہے کوئی عالمی سیاسی دباؤ ہو۔
– پاکستانی بحثیت قوم اور صاحب مضمون بحٰیثیت پاکستانی امن کے حصول کے لئے پوری طرح تیار ہیں لیکن ہندوستانیوں سے بحثیت قوم اس کی توقع نہیں رکھتے اسی لئے عاجز و دعا گو ہیں۔
خرم بھائی ہمیں آپ کے خلوص و نیک نیتی پر واللہ قطعی کوئی شبہہ نہیں۔ لیکن اتنا ضرور پوچھنا چاہوں گا کہ کیا واقعی ماضی کی امن مذاکرات نے آپ کے دماغ پر اس قدر یک طرفہ اثر چھوڑا ہے؟
اس تبصرے کا جواب دیں
السلام علیکم سعود بھائی سیاست سے میرا بھی کوئی لینا دینا نہیں ہے اور شاہد آپ جانتے ہونگے کہ میں ہندوستانی حکومت اور عوام میں فرق کرتا ہوں امن قائم ناہونے کی وجہ عوام نہیں بلکے حکومتیں ہیں۔ آپ نے کہا” پاکستان بحیثیت قوم اور صاحبِ مضمون بحیثیت پاکستانی امن کے حصول کے لئے پوری طرح تیار ہیں لیکن ہندوستانیوں سے (یہاں اگر آپ ہندوستانی حکمران لکھتے تو بہترتھا) بحثیت قوم اس کی توقع نہیں رکھتے”
سعود بھائی آپ نے شاہد اردو محفل پر میرا شروع کیا ہوا دھاگہ پڑھا ہو کہ جس میں میں نے پوچھنے کی کوشش کی تھی کہ ہمارا اصلی دشمن کون ہے کیا ہندوستان ہمارا دشمن ہے تو اس میں میں نے اور بہت سے پاکستانوں نے ہندوستانی عوام کو دشمن نہین کہا تھا۔ لیکن ماضی کے بہت سے حالات ظاہر کرتے ہیں کہ ہندوستانی حکومت اس طرف دھیان نہیں دیتی۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کے شاہ رخ نے کون سی ایسی بات کہہ دی ہے کہ کچھ سیاسی لوگ اس کی جان کے دشمن ہو گے۔ ہم تو دعا ہی کر سکتے ہیں اگر میری کسی بات سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو اس کے لیے مین معافی چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ پاکستان اور ہندوستان کی عوام کی طرح حکومتوں کو بھی امن قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
اس تبصرے کا جواب دیں
پاک و ہند مذاکرات کسی خوشگوار موڑ پر پہنچ جائیں، یہ تو اب محضخواب سا لگتا ہے۔ اللہ کرے کہ یہ کامیاب ہو جائیں لیکن حقیقت پسندی کی عینک سے دیکھا جائے تو اسکی امید کم ہی نظر آتی ہے۔ میں عوام کی بات نہیں کرتی کیونکہ عوام تو بیچاری بڑی بے بس سی مخلوق ہوتی ہے۔ انکا عمل دخل نہ تو وہاں نظر آتا ہے نہ یہاں۔ بس سیاستدان انہیں جہاں لگادیں یہ وہیں لگ جاتے ہیں۔
بہرحال بحیثیت پاکستانی میری دعا ہے کہ یہ مذاکرات کسی مثبت نتیجے تک پہنچ جائیں اور مسائل کا حل تلاش کر لیا جائے، تاکہ دونوں ممالک کے عوام سکون کا سانس لے سکیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
میں نہیں سمجھتا ہند نے امن مذاکرات کے لیے ہاتھ بڑھایا ہے تو اس میں اس کی اپنی کوئی چال نہ ہو۔ اگر ہند پاکستان سے اتنا ہی مخلص ہو تو پاکستان کے دریائوں پر بند بنانا ہی روک دے، کشمیر میں پرامن اور شفاف انتخابات ہی کرا دے۔ ہند ان مذاکرات کی آڑ میں کچھ اور مقصد رکھتا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ام طلحہ آپی انشاءاللہ سب بہتر ہو گا اللہ تعالیٰ پاک و ہند کے درمیان امن قائم کرے آمین
یاسر بھائی اچھے کی امید رکھنی چاہے انشاءاللہ اللہ بہتر کرے گا پہلے امن قائم ہو جائے تو پھر انشاءاللہ کشمیر اور دریاؤں کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا انشاءاللہ
اس تبصرے کا جواب دیں
اللہ آپکی زبان مبارک کرے خرم بھائی!!
امید پر دنیا قائم ہے۔ مسئلوں کا حل شروع ہو تو سب ٹھیک ہوتا چلا جائے گا۔ انشاللہ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
میں 1948ء سے یعنی گیارہ سال کی عمر سے ان نام نہاد مذاکرات کے اعلانات اور مذاکرات کے ڈرامے بغور دیکھتا آ رہا ہوں ۔ مسائل کی ابتداء بھارت کے حکمرانوں نے 1947ء میں ہی کر دی تھی جب منظور شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوے مشترکہ اثاثاجات میں سے پاکستان کے حصہ کی ایک کوڑی بھی پاکستان کو نہ دی اور جموں کشمیر اور حیدرآباد پر فوج کشی کر کے ان ریاستوں پر ناجائز قبضہ کر لیا ۔ بھارت اور پاکستان پر حکومت کرنے والے اپنی کرسیاں قائم رکھنے کیلئے یہ مسائل قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ امن کی صورت صرف ایک ہے کہ بھارت اقوام عالم کے سامنے کئے گئے وعدہ کے مطابق جموں کشمیر کے لوگوں کو حق خود ارادی دے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب بھارت جموں کشمیر سے اپنی فوجیں اور 15 اگست 1947ء کے بعد بھارت سے لا کر آباد کئے گئے غیرمسلموں کو جموں کشمیر سے نکال لے
اس تبصرے کا جواب دیں
میں پہلے مراسلے میں بھی کہہ چکا ہوں خرم بھائی کہ مجھے آپ کے خلوص میں کوئی شک نہیں۔ بس آپ کا مراسلہ قدرے یک طرفہ اور بایاسڈ لگا تو کچھ لکھ دیا۔ ورنہ نہ تو مجھے دونوں ملکوں کی عوام سے کوئی گلہ ہے اور نہ ہی دونوں ملکوں کے سیات دانوں سے کوی ہمدردی۔
اس تبصرے کا جواب دیں
کبھی کسی نے اپنی سلطنت کسی کے صرف مانگنے پر اسے دی ہے بھلا جو آپ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے ایسی توقع رکھتے ہیں؟ جو ہاتھ بڑھا کر اٹھا لے ساغر اسی کا ہے میرے بھائی ہمیشہ سے۔
اس تبصرے کا جواب دیں