آج دال بھی چلےگی پنجابی کا لطیفہ

میرا ایک دوست پٹھان تھا میں اس کو اکثر پٹھانوں کے لطیفے سنایا کرتا تھا میرے سامنے تو وہ ہنسا کرتا تھا لیکن جب ہم دونوں دور ہو گے تو ایک دن اس کا ایس ایم ایس آیا اس نے ایس ایم ایس میں لکھا خرم بھائی میں آپ کو بہت یاد کرتا ہوں آپ بہت اچھے انسان ہیں لیکن مجھے آپ کی ایک بعد اچھی نہیں لگتی تھی وہ یہ کہ جب آپ مجھے پٹھانوں کے لطیفے سناتے تھے تو مجھے اچھا نہیں لگتا تھا۔ اس وقت مجھے بہت افسوس ہوا اس کی یاد میں ایک پنجابی کا لطیفہ آپ سب کو سنا رہا ہوں یاد رہے کہ میں خود پنجابی ہوں

ایک پنجابی روز گھر میں دال کھایا کرتا تھا ایک دن وہ ایک ہوٹل میں چلا گیا اور ہوٹل میں پوچھا کیا کیا پکا ہے پنجابی کو بتایا گیا۔ چکن کڑائی، چکن فرائی، قیمہ، آلو مٹر وغیرہ وغیرہ اور آخر میں بتایا گیا کہ دال بھی پکی ہے اس پر پنجابی نے سوچ کر کہا ہممممممممم چلو آج” دال بھی” چلے گی۔
یہ لطیفہ مجھے ایک پھٹان نے ہی سنایا ہے