مُسدّس (گزشتہ سے پیوستہ)
پہلا دیباچہ
1296ھ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حامداً و مصلّیاً
بلبل کی چمن میں ہمزبانی چھوڑی
بزمِ شعرا میں شعر خوانی چھوڑی
جب سے دلِ زندہ تو نے ہم کو چھوڑا
ہم نے بھی تری رام کہانی چھوڑی
بچپن کا زمانہ جو کہ حقیقت میں دنیا کی بادشاہت کا زمانہ ہے۔ ایک ایسے دلچسپ اور پر فضا میدان میں گزرا جو کلفت کے گرد و غبار سے بالکل پاک تھا، نہ وہاں ریت کے ٹیلے تھے نہ خار دار جھاڑیاں تھیں، نہ آندھیوں کے طوفان تھے نہ بادِ سموم کی لپٹ تھی۔
جب اس میدان میں کھیلتے کودتے آگے بڑھے تو ایک اور صحرا اس سے بھی زیادہ دلفریب نظر آیا، جسکے دیکھتے ہی ہزاروں ولولے اور لاکھوں امنگیں دل میں پیدا ہو گئیں مگر یہ صحرا جس قدر نشاط انگیز تھا اسی قدر وحشت خیز تھا۔ اسکی سر سبز جھاڑیوں میں ہولناک درندے چھپے ہوئے تھے اور اسکے خوشنما پودوں پر سانپ اور بچھو لپٹے ہوئے تھے، جونہی اس کی حد میں قدم رکھا ہر گوشہ سے شیر و پلنگ اور مارکژدم نکل آئے۔ باغِ جوانی کی بہار اگرچہ قابلِ دید تھی مگر دنیا کی مکروہات سے دم لینے کی فرصت نہ ملی، نہ خود آرائی کا خیال آیا نہ عشق و جوانی کی ہوا لگی، نہ وصل کی لذت اٹھائی نہ فراق کا مزہ چکھا۔
پنہاں تھا دامِ سخت قریب آشیانے کے
اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
البتہ شاعری کی بدولت چند روز جھوٹا عاشق بننا پڑا۔ ایک خیالی معشوق کی چاہ میں برسوں دشتِ جنوں کی وہ خاک اڑائی کہ قیس و فرہاد کو گرد کر دیا۔ کبھی نالۂ نیم شبی سے ربع مسکوں کو ہلا ڈالا۔ کبھی چشمِ دریا بار سے تمام عالم کو ڈبو دیا۔ آہ و فغاں کے شور سے کروبیوں کے کان بہرے ہو گئے۔ شکایتوں کی بوچھاڑ سے زمانہ چیخ اٹھا۔ طعنوں کی بھر مار سے آسمان چھلنی ہو گیا۔ جب رشک کا طلاطم ہوا تو ساری خدائی کو رقیب سمجھا، یہاں تک کہ آپ اپنے سے بد گمان ہو گئے۔ جب شوق کا دریا امڈا تو کششِ دل سے جذبِ مقناطیسی اور قوتِ کہربائی کا کام لیا۔ بار ہا تیغِ ابرو سے شہید ہوئے اور بار ہا ایک ٹھوکر سے جی اٹھے گویا زندگی ایک پیراہن تھا کہ جب چاہا اتار دیا اور جب چاہا پہن لیا۔ میدانِ قیامت میں اکثر گزر ہوا، بہشت و دوزخ کی اکثر سیر کی۔ بادہ نوشی پر آئے تو خم کے خم لنڈھا دیئے اور پھر بھی سیر نہ ہوئے۔ کبھی خانۂ خمار کی چوکھٹ پر جبہ سائی کی، کبھی مے فروش کے در پر گدائی کی۔ کفر سے مانوس رہے ایمان سے بیزار رہے۔ پیرِ مغاں کے ہاتھ پر بیت کی۔ برہمنوں کے چیلے بنے، بت پوچے، زنار باندھا، قشقہ لگایا، زاہدوں پر پھبتیاں کہیں، واعظوں کا خاکہ اڑایا، دیر اور بت خانہ کی تعظیم کی، کعبہ اور مسجد کی توہین کی، خدا سے شوخیاں کیں، نبیوں سے گستاخیاں کیں، اعجازِ مسیحی کو ایک کھیل جانا، حسنِ یوسفی کو ایک تماشا سمجھا۔ غزل کہی تو خاص شہدوں کی بولیاں بولیں، قصیدہ لکھا تو بھاٹ اور بھاؤ خانوں کے منہ پھیر دیے۔ ہر مشتِ خاک میں اکسیرِ اعظم کے خواص بتلائے۔ ہر چوبِ خشک میں عصائے موسوی کے کرشمے دکھائے۔ ہر نمرودِ وقت کو ابراہیم خلیل سے جا ملایا۔ ہر فرعونِ بے سامان کو قادرِ مطلق سے جا بھڑایا۔ جس کے مداح بنے اسے ایسا بانس پر چڑھایا کہ خود ممدوح کو اپنی تعریف میں کچھ مزا نہ آیا۔ غرض نامۂ اعمال ایسا سیاہ کیا کہ سفیدی باقی نہ چھوڑی۔
چو پُرسشِ گنہم روزِ حشر خواہد بود
تمسّکاتِ گناہانِ خلق پارہ کنند
بیس برس کی عمر سے چالیسویں سال تک تیلی کے بیل کی طرح اس ایک چکر میں پھرتے رہے اور اپنے نزدیک سارا جہان طے کر چکے۔ جب آنکھیں کھلیں تو معلوم ہوا کہ جہاں سے چلے تھے اب تک وہیں ہیں۔
شکستِ رنگِ شباب و ہنوز رعنائی
در آں دیار کہ زادی ہنوز آنجائی
نگاہ اٹھا کر دیکھا تو دائیں بائیں آگے پیچھے ایک میدان وسیع نظر آیا جس میں بے شمار راہیں چاروں طرف کھلی ہوئی تھیں اور خیال کے لئے کہیں عرصہ تنگ نہ تھا، جی میں آیا کہ قدم آگے بڑھائیں اور اس میدان کی سیر کریں مگر جو قدم بیس برس تک ایک چال سے دوسری چال نہ چلے ہوں اور جن کی دوڑ گز دو گز زمین میں محدود رہی ہو ان سے اس وسیع میدان میں کام لینا آسان نہ تھا۔ اسکے سوا بیس برس کی بیکار اور نکمی گردش میں ہاتھ پاؤں چور ہو گئے تھے اور طاقتِ رفتار جواب دے چکی تھی، لیکن پاؤں میں چکر نہ تھا اسلیئے نچلا بیٹھنا بھی دشوار تھا۔ چند روز اسی تردد میں یہ حال رہا کہ ایک قدم آگے پڑتا تھا، دوسرا پیچھے ہٹتا تھا۔ ناگاہ دیکھا کہ ایک خدا کا بندہ جو اس میدان کا مرد ہے ایک دشوار گزار راستے میں رہ نورد ہے۔ بہت سے لوگ جو اسکے ساتھ چلے تھے تھک کر پیچھے رہ گئے ہیں، بہت سے ابھی اسکے ساتھ افتاں و خیزاں چلے جاتے ہیں مگر ہونٹوں پر پپڑیاں جمی ہیں۔ پیروں میں چھالے پڑے ہیں، دم چڑھ رہے ہیں، چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں لیکن وہ اولوالعزم آدمی جو ان سب کا رہنما ہے اسی طرح تازہ دم ہے، نہ اسے رستے کی تکان ہے نہ ساتھیوں کے چھوٹ جانے کی پرواہ ہے، نہ منزل کی دوری سے کچھ ہراس ہے۔ اسکی چتون میں غضب کا جادو بھرا ہے کہ جسکی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا ہے وہ آنکھیں بند کر کے اسکے ساتھ ہو لیتا ہے۔ اسکی ایک نگاہ اِدھر بھی پڑی اور اپنا کام کر گئی۔ بیس برس کے تھکے ہارے خستہ و کوفتہ اسی دشوار گزار راستے پر پڑ گئے۔ نہ یہ خبر ہے کہاں جاتے ہیں نہ یہ معلوم ہے کہ کیوں جاتے ہیں، نہ طلبِ ذوق ہے نہ قدمِ راسخ ہے، نہ عزم ہے نہ استقلال نہ صدق ہے نہ اخلاص ہے مگر ایک زبردست ہاتھ ہے کہ کھینچے لئے چلا جاتا ہے۔
آں دل کہ رم نمودے از خوبرو جواناں
دیرینہ سال پیرے بردش بیک نگاہے
زمانہ کا نیا ٹھاٹھ دیکھ کر پرانی شاعری سے دل سیر ہو گیا تھا اور جھوٹے ڈھکوسلے باندھنے سے شرم آنے لگی تھی۔ نہ یاروں کے ابھاروں سے دل بڑھتا تھا نہ ساتھیوں کی ریس سے کچھ جوش آتا تھا۔ مگر یہ ایک ناسور کا منہ بند کرنا تھا جو کسی نہ کسی راہ سے تراوش کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس لئے بخاراتِ درونی جن کے رکنے سے دم گھٹا جاتا تھا دل و دماغ میں طلاطم کر رہے تھے اور کوئی رخنہ ڈھونڈتے تھے۔ قوم کے ایک سچے خیر خواہ نے (جو اپنی قوم کے سوا تمام ملک میں اسی نام سے پکارا جاتا ہے اور جسطرح خود اپنے پُر زور ہاتھ اور قوی بازو سے بھائیوں کی خدمت کر رہا ہے اسی طرح ہر اپاہج اور نکمے کو اسی کام میں لگانا چاہتا ہے) آ کر ملامت کی اور غیرت دلائی کہ حیوانِ ناطق ہونے کا دعوٰی کرنا اور خدا کی دی ہوئی زبان سے کچھ کام نہ لینا بڑے شرم کی بات ہے۔
رو چو انساں لب بجنباں در دہن
در جمادی لاف انسانی مزن
قوم کی حالت تباہ ہے، عزیز ذلیل ہو گئے ہیں، شریف خاک میں مل گئے ہیں، علم کا خاتمہ ہو چکا ہے، دین کا صرف نام باقی ہے، افلاس کی گھر گھر پکار ہے، پیٹ کی چاروں طرف دہائی ہے، اخلاق بگڑ گئے ہیں اور بگڑتے جاتے ہیں، تعصب کی گھنگھور گھٹا تمام قوم پر چھائی ہوئی ہے، رسم و رواج کی بیڑی ایک ایک کے پاؤں میں پڑی ہے، جہالت اور تقلید سب کی گردن پر سوار ہے۔ امراء جو قوم کو بہت کچھ فائدہ پہنچا سکتے ہیں غافل اور بے پرواہ ہیں۔ علماء جن کو قوم کی اصلاح میں بہت بڑا دخل ہے زمانہ کی ضرورتوں اور مصلحتوں سے نا واقف ہیں۔ ایسے میں جس سے جو کچھ بن آئے سو بہتر ہے ورنہ ہم سب ایک ہی ناؤ میں سوار ہیں اور ساری ناؤ کی سلامتی میں ہماری سلامتی ہے۔ ہر چند لوگ بہت کچھ لکھ چکے ہیں اور لکھ رہے ہیں مگر نظم، جو کہ بالطبع سب کو مرغوب ہے اور خاص کر عرب کا ترکہ اور مسلمانوں کا موروثی حصہ ہے، قوم کے بیدار کرنے کے لئے اب تک کسی نے نہیں لکھی۔ اگرچہ ظاہر ہے کہ اور تدبیروں سے کیا ہوا جو اس تدبیر سے ہوگا مگر ایسی تنگ حالتوں میں انسان کے دل پر ہمیشہ دو طرح کے خیال گزرتے ہیں، ایک یہ کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے دوسرے یہ کہ ہم کو کچھ کرنا چاہیئے۔ پہلے خیال کا نتیجہ ہوا کہ کچھ نہ ہوا اور دوسرے خیال سے دنیا میں بڑے بڑے عجائبات ظاہر ہوئے۔
درِ فیض است منشیں از کشائش نا امید ایں جا
برنگِ دانہ از ہر قفل می روید کلید ایں جا
آیت (ترجمہ)۔ اور وہ ایسا خدا ہے کہ جب لوگ ناامید ہو جاتے ہیں تو مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے۔
ہر چند اس حکم کی بجا آواری مشکل تھی اور خدمت کا بوجھ اٹھانا دشوار تھا مگر ناصح کی جادو بھری تقریر جی میں گھر کر گئی۔ دل ہی سے نکلی تھی دل میں جا کر ٹھہری۔ برسوں کی بجھی ہوئی طبیعت میں ایک ولولہ پیدا ہوا اور باسی کڑھی میں ایک ابال آیا۔ افسردہ دل، بوسیدہ دماغ جو امراض کے متواتر حملوں سے کسی کام کے نہ رہے تھے انھیں سے کام لینا شروع کیا اور ایک مسدس کی بنیاد ڈالی۔ دنیا کے مکروہات سے فرصت بہت کم ملی اور بیماریوں کے ہجوم سے اطمینان کبھی نصیب نہ ہوا مگر ہر حال میں یہ دھن لگی رہی۔ بارے الحمدللہ کہ بہت سی دقتوں کے بعد ایک ٹوٹی پھوٹی نظم اس عاجز بندہ کی بساط کے موافق تیار ہو گئی اور ناصح مشفق سے شرمندہ نہ ہونا پڑا۔ صرف ایک امید کے سہارے پر یہ راہِ دور و دراز طے کی گئی ہے ورنہ منزل کا نشان نہ اب تک ملا ہے اور نہ آئندہ ملنے کی توقع ہے۔
خبرم نیست کہ منزل گہِ مقصود کجا است
ایں قدر ہست کہ بانگِ جرسے می آید
اس مسدس کے آغاز میں پان سات بند تمہید کے لکھ کر اول عرب کی اس ابتر حالت کا خاکہ کھینچا ہے جو ظہورِ اسلام سے پہلے تھی اور جس کا نام اسلام کی زبان میں جاہلیت رکھا گیا ہے۔ پھر کوکبِ اسلام کا طلوع ہونا اور نبی اُمی (ص) کی تعلیم سے اس ریگستان کا دفعتاً سر سبز و شاداب ہو جانا اور اس ابرِ رحمت کا امت کی کھیتی کو رحلت کے وقت ہرا بھرا چھوڑ جانا اور مسلمانوں کا دینی و دنیوی ترقیات میں تمام عالم پر سبقت لے جانا بیان کیا ہے۔ اسکے بعد انکے تنزل کا حال لکھا ہے اور قوم کے لئے اپنے بے ہنر ہاتھوں سے ایک آئینہ خانہ بنا دیا ہے جس میں آ کر وہ اپنے خط و خال دیکھ سکتے ہیں کہ ہم کون تھے اور کیا ہو گئے۔ اگرچہ اس جانکاہ نظم میں، جس کی دشواریاں لکھنے والے کا دل اور دماغ ہی خوب جانتا ہے، بیان کا حق نہ مجھ سے ادا ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے مگر شکر ہے کہ جس قدر ہو گیا اتنی بھی امید نہ تھی۔ ہمارے ملک کے اہلِ مذاق ظاہرا اس روکھی پھیکی سیدھی سادھی نظم کو پسند نہ کریں گے کیونکہ اس میں تاریخی واقعات ہیں یا چند آیتوں اور حدیثوں کا ترجمہ ہے یا جو آج کل قوم کی حالت ہے اس کا صحیح صحیح نقشہ کھینچا گیا ہے۔ نہ کہیں نازک خیالی ہے نہ رنگیں بیانی، نہ مبالغہ کی چاٹ ہے نہ تکلف کی چاشنی، غرض کوئی بات ایسی نہیں ہے جس سے اہل وطن کے کان مانوس اور مذاق آشنا ہوں اور کوئی کرشمہ ایسا نہیں (ترجمہ۔ نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، نہ کسی بشر کے دل میں گزرا)۔
گویا اہلِ دہلی و لکھنؤ کی دعوت میں ایک ایسا دستر خوان چنا گیا ہے جس میں ابالی کھچڑی اور بے مرچ سالن کے سوا کچھ نہیں مگر اس نظم کی ترتیب مزے لینے اور واہ واہ سننے کے لئے نہیں کی گئی بلکہ عزیزوں دوستوں کو غیرت اور شرم دلانے کے لئے کی گئی ہے۔ اگر دیکھیں اور پڑھیں اور سمجھیں تو ان کا احسان ہے ورنہ کچھ شکایت نہیں۔
حافظ وظیفۂ تو دعا گفتن است و بس
در بندِ آں مباش کہ نشنید یا شنید
(جاری ہے)
ٹیگز




خرم پہلا حصہ دو بار چھپ گیا ہے !
اس تبصرے کا جواب دیں
جی عبداللہ بھائی شکریہ درست کر دیا ہے
اس تبصرے کا جواب دیں