دوسرا دیباچہ
متعلق بہ ضمیمہ
1303ھ
حدیثِ درد دل آویز داستانے ہست
کہ ذوق بیش دہد چوں دراز تر گردد
مسدس مد و جزرِ اسلام اول ہی اول 1296ھ میں چھپ کر شائع ہوا تھا۔ اگرچہ اس نظم کی اشاعت سے شاید کوئی متعدد بہ فائدہ سوسائٹی کو نہیں پہنچا مگر چھ برس میں جس قدر قبولیت و شہرت اس نظم کو اطرافِ ہندوستان میں ہوئی وہ فی الواقع تعجب انگیز ہے۔ نظم بالکل غیر مانوس تھی اور مضمون اکثر طعن و ملامت پر مشتمل تھے۔ قوم کی برائیاں چن چن کر ظاہر کی گئی تھیں اور زبان سے تیغ و سناں کا کام لیا گیا تھا۔ ناظم کی نسبت قوم کے اکثر ابرار و اخیار مذہبی سُوءظن رکھتے تھے، تعصب عموماً کلمۂ حق سننے سے مانع تھا۔ بایں ہمہ اس تھوڑی سی مدت میں یہ نظم ملک کے اطراف و جوانب میں پھیل گئی۔ ہندوستان کے مختلف اضلاع میں اسکے سات آٹھ ایڈیشن اب سے پہلے شائع ہو چکے ہیں۔ بعض قومی مدرسوں میں اسکا انتخاب بچوں کو پڑھایا جاتا ہے۔ مولود شریف کی مجلسوں میں جا بجا اسکے بند پڑھے جاتے ہیں۔ اکثر لوگ اسکو پڑھ کر بے اختیار روتے اور آنسو بہاتے ہیں۔ اسکے بہت سے بند ہمارے واعظوں کی زبان پر جاری ہیں۔ کہیں کہیں قومی ناٹک میں اس کے مضامین ایکٹ کئے جاتے ہیں۔ بہت سے مسدس اسکی روشنی میں اسی بحر میں ترتیب دئے گئے۔ اکثر اخباروں میں موافق و مخالف ریویو اس پر لکھے گئے ہیں۔ شمال مغربی اضلاع کے سرکاری مدارس میں عام قبولیت کی وجہ سے اسکو تعلیم میں داخل کر دیا گیا ہے۔ یہ اور اسی قسم کی اور بہت سی باتیں ایسی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم نے اسکی طرف کافی توجہ کی ہے مگر اس پر مصنف کو کچھ فخر کرنے کا محل نہیں ہے، اگر قوم کے دل میں متاثر ہونے کا مادہ نہ ہوتا تو یہ اور ایسی ایسی ہزار نظمیں بیکار تھیں، پس مصنف کو اگر فخر ہے تو صرف اس بات پر ہے کہ اس نے زمینِ شور میں تخم ریزی نہیں کی اور پتھر میں جونک لگانی نہیں چاہی، اس نے ایک ایسی جماعت کو مخاطب گردانا ہے جو بے راہ ہے پر گمراہ نہیں ہے، وہ رستے سے بھٹکے ہوئے ہیں مگر رستے کی تلاش میں چپ و راست نگراں ہیں، انکے ہنر مفقود ہو گئے ہیں مگر قابلیت موجود ہے، انکی صورت بدل گئی ہے مگر ہیولٰی باقی ہے، انکے قویٰ مضمحل ہو گئے مگر زائل نہیں ہوئے، انکے جوہر مٹ گئے ہیں مگر جلا سے پھر نمودار ہو سکتے ہیں، انکے عیبوں میں خوبیاں بھی ہیں مگر چھپی ہوئی، انکے خاکستر میں چنگاریاں بھی ہیں مگر دبی ہوئی۔
یہ نظم جس میں قوم کی گزشتہ اور موجودہ حالت کا صحیح صحیح نقشہ کھینچنا مدِ نظر تھا اگرچہ مشرق کی عام نظموں کی بہ نسبت مبالغہ سے خالی تھی لیکن فروگزاشت سے خالی نہ تھی۔ دوست کی نگاہ نکتہ چینی در خوردہ گیری میں وہی کام کرتی ہے جو دشمن کی نگاہ کرتی ہے، دونوں یکساں عیبوں پر خوردہ گیری اور چشم پوشی کرتے ہیں مگر دشمن اس غرض سے کہ عیب ظاہر ہوں اور خوبیاں مخفی رہیں اور دوست اس خوف سے کہ مبادا خوبیوں کا غرور عیبوں کی اصلاح سے باز رکھے۔ مصنف بھی جو کہ دوستی کا دم بھرتا ہے شاید محبت اور دلسوزی ہی سے قوم کی عیب جوئی پر مجبور ہوا اور ہنر گستری سے معذور رہا مگر یہ اسلوب جس قدر غیرت دلانے والا تھا اسی قدر مایوس کرنے والا بھی تھا۔ مصنف کے دل کی آگ بھڑک بھڑک کر بجھ گئی تھی اور اسکی افسردگی الفاظ میں سرایت کر گئی تھی۔ نظم کا خاتمہ ایسے دل شکن اشعار پر ہوا جن سے تمام امیدیں منقطع ہو گئیں اور تمام کوششیں رائیگاں نظر آنے لگیں۔ شاید اس خرابی کا تدارک کچھ نہ ہو سکتا اگر قوم کی توجہ مصنف کے دل میں ایک نئی تحریک پیدا نہ کرتی اور قوم کو ایک نئے خطاب کا مستحق نہ ٹھہراتی۔ گو قوم نہیں بدلی لیکن اس کے تیور بدلتے جاتے ہیں، پس اگر تحسین کا وقت نہیں آیا تو نفرین ضرور کم ہونی چاہیئے۔ بعض احباب کی تحریک نے ان خیالات کی تائید کی اور ایک ضمیمہ مقتضائے حال کے موافق اصل مسدس کے آخر میں لاحق کیا گیا۔ ضمیمہ کو طول دینا مصنف کا مقصود نہ تھا لیکن اس مضمون کو چھیڑ کر طول سے بچنا ایسا ہی مشکل تھا جیسے سمندر میں کود کر ہاتھ پاؤں نہ مارنا۔
قدیم مسدس میں جستہ جستہ تصرف کیا گیا ہے، شاید بعض تصرفات کو ناظرین اس وجہ سے کہ قدیم اسلوب مانوس ہو گیا تھا پسند نہ کریں مگر مصنف کا فرض تھا کہ دوستوں کی ضیافت میں کوئی ایسی چیز پیش نہ کرے جو خود اس کے مذاق میں ناگوار معلوم ہو۔ نظم نہ پہلے پسند کے قابل تھی اور نہ اب ہے مگر الحمدللہ کہ درد اور سچ پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے، امید ہے کہ درد پھیلے گا اور سچ چمکے گا۔
ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔
(جاری ہے)