جب اعتبار اٹھ جائے تو
ابراہم لنکن نے کہا تھا کہ “ہر کسی پر اعتبار کرنا خطرناک ہوتا ہے لیکن کسی پر بھی اعتبار نہ کرنا سب سے خطرناک ہوتا ہے”۔ لیکن میں یو سوچ رہا ہوں اعتبار قائم رکھنا کتنا مشکل ہے۔ کبھی کبھی تو انسان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کوئی اس پر کتنا اعتبار کرتا ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا اور جب اعتبار اٹھ گیا تو پھر مجھے پتہ چلا کہ میں بھی اعتبار کے قابل تھا۔ کچھ رشتے خون کے اور کچھ خلوص کے رشتے ہوتے ہیں۔ اور خلوص کے رشتوں کی بنیاد ہی اعتبار پر ہوتی ہے۔ جیسے محبت کے رشتے، جیسے دوستی کے رشتے اور جیسے بے نام رشتے۔ میں تو رشتوں کی قدر بھی نہیں کر سکتا نا سمجھ سکتا ہوں اسی لیے اعتبار کرنے والوں کا اعتبار جلد ہی اٹھ جاتا ہے۔ اور جب اعتبار اٹھ جائے تو ایسا لگتا ہے ایک کمرے میں بہت سا سامان موجود ہیں لیکن اس کے باوجود وہ خالی ہے۔ اعتبار کرنے والوں کا شکریہ اور اعتبار قائم نا رکھنے پر تو میں معافی بھی نہیں مانگ سکتا کہ اب اعتبار جو نہیں رہا۔




معلوم نہیں یہ خیال ہے یا آپ بیتی جو بھی ہے اچھا ہے!
اس تبصرے کا جواب دیں
خاص کر یہ جملہ
اور جب اعتبار اٹھ جائے تو ایسا لگتا ہے ایک کمرے میں بہت سا سامان موجود ہیں لیکن اس کے باوجود وہ خالی ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
لگتاہے میرے بھائی جان کی کسی روم میٹ وغیرہ سے تو تو میں میںہوگئی ہے
جو یہاں ہوتی ہی رہتی ہے
دل پہ مت لے یار۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
مشوق سے پھڈا ہو گیا ہو گا
اس تبصرے کا جواب دیں
ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے روم میٹ تو میرا ہے ہی نہیں ہے میں اکیلا کمرے میں رہتا ہوں یا آپ لوگ ہوتے ہیں باقی میں اور میری تنہائی ہی ہوتی ہے
اور ڈفر بھائی مشوق والا کوئی چکر نہیں ہاں ایک عدد منگیتر ضرور ہے لیکن اس سے کبھی ایسا پھڈا نہیں ہوا انشاءاللہ ستمبر کے بعد وہ بھی یہاں ہی ہوا کرے گی مطلب اس کو بھی بلاگ بنا کر دوں گا اچھی لکھاڑی ہے بس ٹائپنگ نہیں آتی دو تین ماہ میں سب کچھ سیکھا کر آؤں گا انشاءاللہ
عبداللہ بھائی آپ بیتی کہیں تو بہتر ہو گا کیوں کہ یہ سچ ہی ہے یا مجھے ایسا ہی لگ رہا ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
خرم ،انجانے میں اپنے بے اعتبار ہوجانے کا اتنا غم،
جو دل سے کسی پر اعتبار کرتے ہیں ان کے بھروسے اتنی جلدی نہیں ٹوٹتے،یہ تمھارا وہم بھی ہو سکتا ہے ،اور اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو معذرت اس کا بہترین حل ہے،کیونکہ مجھے یقین ہے کہ جو بھی ہوا ہے جان بوجھ کر نہیں ہوا ہوگا سو وضاحت سامنے والے کا دل ضرور صاف کردے گی کیونکہ سچائی کی اپنی ایک طاقت ہوتی ہے!:)
اس تبصرے کا جواب دیں
لگتا ہے خرم کو بھی میرے والا دھوکہ ہوا ہے ، جس کو اعتبار کا نام دیا جا رہا ہے کیوں خرم ٹھیک ہے نا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
عبداللہ بھائی بہت شکریہ آپ کا کوشش کروں گا
لگتا ہے ہم دونوں بہن بھائی اسی قابل ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
کیا ہو گیا خرم بھائی
اس تبصرے کا جواب دیں
اکرام بھائی
ہونے کو تو اس شہر میں کیا کیا نہیں ہوتا
اس تبصرے کا جواب دیں
خوش قسمت انسان وہ ہوتا ہے جس کو مخلص دوست ملے اور وہ ان کی قدر کرے ۔ اور بدقسمت وہ جس کو مخلص دوست ملے اور وہ ان کی قدر نا کرے ۔
اللہ ہم کو صحیح اور غلط کے فرق کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمایے ۔
اور کسی کے خلوص پر شک کرنے سے بچایے ۔
آمین
اس تبصرے کا جواب دیں
آمین اور اللہ تعالیٰ ہر کسی کو ہر کسی کے خلوص پر شک کرنے سے بچائے
شکریہ سحر آپی
اس تبصرے کا جواب دیں