ابراہم لنکن نے کہا تھا کہ “ہر کسی پر اعتبار کرنا خطرناک ہوتا ہے لیکن کسی پر بھی اعتبار نہ کرنا سب سے خطرناک ہوتا ہے”۔  لیکن میں یو سوچ رہا ہوں اعتبار قائم رکھنا کتنا مشکل ہے۔ کبھی کبھی تو انسان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کوئی اس پر کتنا اعتبار کرتا ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا اور جب اعتبار اٹھ گیا تو پھر مجھے پتہ چلا کہ میں بھی اعتبار کے قابل تھا۔ کچھ رشتے خون کے اور کچھ خلوص کے رشتے ہوتے ہیں۔ اور خلوص کے رشتوں کی بنیاد ہی اعتبار پر ہوتی ہے۔ جیسے محبت کے رشتے، جیسے دوستی کے رشتے اور جیسے بے نام رشتے۔ میں تو رشتوں کی قدر بھی نہیں کر سکتا نا سمجھ سکتا ہوں اسی لیے اعتبار کرنے والوں کا اعتبار جلد ہی اٹھ جاتا ہے۔ اور جب اعتبار اٹھ جائے تو ایسا لگتا ہے ایک کمرے میں بہت سا سامان موجود ہیں لیکن اس کے باوجود وہ خالی ہے۔ اعتبار کرنے والوں کا شکریہ اور اعتبار قائم نا رکھنے پر تو میں معافی بھی نہیں مانگ سکتا کہ اب اعتبار جو نہیں رہا۔