میری ایک غزل جس پر مجھے اعجاز عبید صاحب سے بڑا ص ملا ہے اور ص ملنے کا کیا مطلب ہے یہ آپ محمد وارث صاحب کی زبانی پڑھ لیں اور پھر میری غزل

خرم صاحب آپ شاید سمجھے نہیں، ‘ص’ ملنا تو بہت اچھی بات ہے اساتذہ سے۔

دراصل اساتذہ کے پاس جب کوئی غزل اصلاح کیلیئے آتی ہے تو جو شعر صحیح ہوتے ہیں یا ان کو پسند آتے ہیں تو ان کے اوپر ‘ص’ بنا دیتے ہیں کہ یہ شعر ‘صحیح’ ہے اور جس شعر میں ترمیم وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے وہ کر دیتے ہیں۔

داغ دہلوی مرحوم، کہ جن کی تلامذہ کی تعداد ہزاروں میں تھی اور لوگ دور دور سے خطوط کے ذریعے غزلیں اصلاح کیلیئے بھیجا کرتے تھے اور ان میں علامہ اقبال بھی شامل رہے ہیں، کی عادت تھی کہ ان کو جو شعر بہت پسند آتا تھا اسکے اوپر دو دفع ‘ص ص’ بنا کر داد دیا کرتے تھے۔ 

لوگ کہتے ہیں بہت غم خوار رہتے تھے یہاں
میں یہ کہتا ہوں مرے اغیار رہتے تھے یہاں

چاند سورج رات دن بارش زمیں بادل فلک
اِن سے بڑھ کر بھی بہت کردار رہتے تھے یہاں

اب جہاں دیکھوں نظر آتے ہیں میخانے وہاں
شہر میں بس عشق کے بیمار رہتے تھے یہاں۔۔۔

کچھ تو ایسے جن کی کوئی مثل بھی ملتی نہ تھی
کچھ مرے جیسے بہت بے کار رہتے تھے یہاں

کس گلی میں اب ہیں جانے ان کی جلوہ ریزیاں
میں کہاں تھا جب مرے سرکار رہتے تھے یہاں

کاغزی کشتی سمندر کے کنارے دیکھ کر
یوں لگا خرم کہ میرے یار رہتے تھے یہاں