دیاجلائے رکھنا ہے ۔ ایک امید ہے ایک مہم ہے ایک جذبہ ہے جسکا مقصد ہے بجھتے ہوئے چراغوں کو گل ھونے سے بچانا۔ یہ ایک پیغام ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کے چراغ گل ھونے سے پہلے نئے چراغ جلانے ہیں دوسروں کی زندگیوں میں روشنی بھرنی ہے ۔ چار دن کی زندگی پھر اندھیری رات ہے لہذا زندگی کے چار دن تو روشن گزار سکیں وہ لوگ جنکی زندگی میں اندھیروں کے سوا کچھ نہیں ۔ انکی زندگیوں میں روشنی لانا ہے۔

یک طرف تو نمرودی لشکر آگ دہکا رہے تھے اور دوسری طرف ایک چڑیا اس آلاؤ کے اوپر سے پرواز کرتی چکر لگارہی تھی، اس نے نار نمرود کے اوپر کئی چکر لگائے تو کسی صاحب حال نے اس سے سوال کیا کہ” اے ننھی چڑیا تو یہاں کیسے آئی ہے، اور کیا کرنے چلی جاتی ہے؟چڑیا نے زبان حال سے جواب دیا، کہ میں جب بھی آتی ہوں تو میری چونچ میں پانی کا قطرہ ہوتا ہے… وہ قطرہ میں نار نمرود پرڈال کر دوبارہ پانی اپنی چونچ میں بھرنے کیلئے چلی جاتی ہوں اورپھرواپس آکر نمرودی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتی ہوں… چڑیا سے سوال کرنے والے نے اس سے مخاطب ہو کر کہا کہ” اے چڑیا تو بھی کیسی سادہ اور بھلی مانس ہے جس آگ نے میلوں علاقے کو جہنم زار بنا رکھا ہے… جس آگ کے شعلے آسمانوں سے باتیں کر رہے ہیں، جس آگ کو دہکانے اور بھڑکانے کیلئے نمرود نے اپنے سارے لشکر وقف کر رکھے ہیں تو اپنی ننھی سی جان سے اس آگ کو کیسے بجھا سکتی ہے…؟ جاچلی جا اپنے بچوں کیلئے دانا دنکا اکٹھا کر یہ نہ ہو کہ آگ کہیں تیرے پروں کو جلا کر ہی خاکستر نہ کر دے… صاحب دل بزرگ کی یہ باتیں سن کر چڑیا بولی گو کہ میں بہت نحیف اور کمزور ہوں اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ میری چونچ میں لایاگیا یہ قطرہ قطرہ پانی اس بھڑکتی آگ کو نہیں بجھا سکتا، مگر یہ میرا عمل قیامت تک آنے والی نسلوں کیلئے سبق آموز بن جائے گا کہ جب نمرود کے لشکروں کے لشکر اور نمرودی سلطنت کا ہر ہرفرد اس آگ کوبھڑکا نے میں مصروف تھا تو ایک ننھی سی چڑیا آگ بجھانے کی کوششیں کرتی رہی… سو میں خود کوآگ بھڑکانے والوں میں نہیں بلکہ آگ بجھانے والوں میں شامل رکھنا چاہتی ہوں”

ہم اس چڑیا کے کا سا جذبہ لے کر نکلے ہیں ہم جانتے ہیں کہ ہم سب کی مدد تو نہیں کرسکتے لیکن کسی ایک کی زندگی میں تو تبدیلی لاسکتے ہیں