محفوظات برائے ”خرم ابنِ شبیر کی شاعری“ زمرہ
سپاہی ہو تو کیسا ہو
خرم ابن شبیر نے Saturday، 29 August 2015 کو شائع کیا.

سپاہی مقبول کے بارے میں سنا تھا لیکن تفصیل کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ آج ہی [USER=5581]حسیب نذیر گِل[/USER] بھائی کا تھریڈ “آئیے ایسے غازیوں کو سلام کرتے ہیں” آنکھوں سے آنسوں نکل آئے اور سوچا میں بھی کچھ لکھوں۔ لیکن پہلے ہی میرے منہ سے یہ مصرعہ نکلا کہ ” مرے الفاظ کیا دیں […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
اپنی اوقات میں رکھا ہوا ہوں
خرم ابن شبیر نے Monday، 12 May 2014 کو شائع کیا.

کلام کچھ اپنا   اپنی اوقات میں رکھا ہوا ہوں چاند ہوں رات میں رکھا ہوا ہوں ہوں میں  شکوہ جو گفتگو کے لیے تیری ہر بات میں رکھا ہوا ہوں  

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
خزاں آ کر ہی رہتی ہے
خرم ابن شبیر نے Tuesday، 29 January 2013 کو شائع کیا.

معافی چاہتا ہوں مجھے اس نظم پر کسی کی اصلاح نہیں چاہے۔ جو کچھ میں نے لکھ دیا ہے اس کو ہی حرفِ آخر سمجھوں گا خزاں آ کر ہی رہتی ہے   درختوں کاذرا بھی کب خزاں پر زور چلتا ہے خزاں جب آنےلگتی ہے خزاں آ کر ہی رہتی ہے زمیں زرخیز کتنی […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
ہوتے رہے اداس کنارے تمام شب از خرم ابن شبیر
خرم ابن شبیر نے Sunday، 21 October 2012 کو شائع کیا.

ہوتے رہے اداس کنارے تمام شب روٹھے رہے تمام ستارے تمام شب وعدہ کیا تھا آنے کا لیکن نہ آئے وہ روتے رہے یہ خواب ہمارے تمام سب تو کیا ہوا جو وعدہ کیا اور نہ آئے تم آتے رہے خیال تمہارے تمام شب غمگین تھی ترے بنا ہر شے جہان میں لگتے رہے اداس […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
یہ گریباں دیکھا دیا کس نے
خرم ابن شبیر نے Wednesday، 4 July 2012 کو شائع کیا.

ایک طرحی مشاعرہ کے لیے کہی گئی میری ایک غزل۔ مصرعہ تھا خواجہ میر درد صاحب کی غزل کا “سو گیا تھا جگا دیا کس نے” اسی زمین پر ہم نے بھی کوشش کی تھی آپ کی خدمت میں پیش ہے۔  یہ گریباں دیکھا دیا کس نے میرے سر کو جھکا دیا کس نے جھوٹے لوگوں […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
کچھ ایسے لفظ لکھتے ہیں
خرم ابن شبیر نے Monday، 5 March 2012 کو شائع کیا.

کچھ ایسے لفظ لکھتے ہیں کہ جن لفظوں میں موتی ہوں جو پیارے ہوں جو ہر اک کی نگاہوں کے ستارے ہوں کچھ ایسے لفظ لکھتے ہیں حقیقت جن کا حصّہ ہو محبت جن کا قصّہ ہو جو ہر اک کی زباں بولیں یہاں بولیں وہاں بولیں لہو کی بُو نا ہو جن میں غموں […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
آزاد نظم “سمندر پار تھا جب میں” “خرم ابن شبیر
خرم ابن شبیر نے Sunday، 25 December 2011 کو شائع کیا.

بہت عرصے کے بعد ایک آزاد نظم خرم کے خاموش قلم سے سمندر پار تھا جب میں مجھے اب پھر اجازت دو کہ مجھ کو پیٹ کی خاطر سمندر پار جانا ہے سمندر پار تھا جب میں تو کتنا خوش رہا تھا میں یہ سارے دوست تھے میرے جو رشتے خون کے تھے وہ بھی […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
مجھے آزاد کہتے ہیں۔
خرم ابن شبیر نے Sunday، 14 August 2011 کو شائع کیا.

مرے گھر کچھ نہیں باقی زمیں بھی اب کے بنجر ہے فلک سے ابرکو برسے زمانے بیت جاتے ہیں نااپنے لوٹ آتے ہیں میرے گھر کچھ نہیں باقی مری اولاد بوُکھی ہے میں خود برسوں سے پیاسا ہوں یہ میرے گھر  کا عالم ہے مرے گھر کچھ نہیں باقی یہی عالم مرے اپنے وطن میں […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
میں تم سے کہہ نہیں سکتا۔
خرم ابن شبیر نے Tuesday، 21 June 2011 کو شائع کیا.

ایک پُرانی نظم آپ کی خدمت میں پیش ہے میں تم سے کہہ نہیں‌سکتا جو میرے دل میں ہے کب سے وہ سب کچھ سہہ نہیں سکتا میں تم سے کہہ نہیں‌سکتا تمہاری یاد آتی ہے مجھے کتنا ستاتی ہے تمہیں آنکھیں بُلاتی ہیں تو پھر تم لوٹ آؤ نا مرے دل میں سماؤنا میں […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
لوگ کہتے ہیں بہت غم خوار رہتے تھے یہاں
خرم ابن شبیر نے Sunday، 24 April 2011 کو شائع کیا.

لوگ کہتے ہیں بہت غم خوار رہتے تھے یہاں میں یہ کہتا ہوں مرے اغیار رہتے تھے یہاں چاند سورج رات دن بارش زمیں بادل فلک اِن سے بڑھ کر بھی بہت کردار رہتے تھے یہاں اب جہاں دیکھوں نظر آتے ہیں میخانے وہاں شہر میں بس عشق کے بیمار رہتے تھے یہاں۔۔۔ کچھ تو […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
یوں نہ بولو بیچ میں بے کار خرم چپ رہو
خرم ابن شبیر نے Friday، 6 August 2010 کو شائع کیا.

اپنی یہ غزل پہلے بھی ارسال کر چکا ہوں آج پھر دل کر رہا تھا اس لیے پھر ارسال کر رہا ہوں یوں نہ بولو بیچ میں بے کار خرم چپ رہو چل نہ جائے تم پہ بھی تلوار خرم چپ رہو سچ کو سچ کہنا نہیں ، ہربار خرم چپ رہو بین کر دے […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
اک کنارا میں نے پکڑا اک کنارا چھوڑ کر
خرم ابن شبیر نے Wednesday، 16 June 2010 کو شائع کیا.

ایک غزل آپ کی نذر کرتا ہوں امید ہے برداشت کے قابل ہوگی چار شعر تو پاس ہو چکے ہیں لیکن آخر شعر کے بارے میں حکم ہے کہ تبدیل کیا جائے لیکن ابھی تک کچھ سمجھ نہیں آیا اس لیے تبدیل نہیں ہو سکا آپ کا مشورہ اور اصلاح میری عزت افزائی ہوگی اک […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
اثر کرتا نہیں شکوہ شکایت بھی پرانی ہے
خرم ابن شبیر نے Wednesday، 2 June 2010 کو شائع کیا.

ایک پُرانی غزل آپ کی نذر امید ہے پسند نا بھی آئی تو برداشت تو کر ہی لیں گے 😀 اثر کرتا نہیں شکوہ شکایت بھی پرانی ہے مجھے احساس ہے اس کی یہ عادت بھی پرانی ہے کوئی رستہ نہیں اس بن جو مجھ کو زندگی دے دے بہت ہی دور ہے منزل مسافت […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
دو شعر
خرم ابن شبیر نے Wednesday، 28 April 2010 کو شائع کیا.

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
لب پہ جس کے ہر گھڑی انکار تھا
خرم ابن شبیر نے Monday، 15 March 2010 کو شائع کیا.

السلام علیکم اپنی ایک پُرانی غزل آپ کی نذر کرتا ہوں امید ہے پسند آئے گی لب پہ جس کے ہر گھڑی انکار تھا وہ مرا محبوب تھا دلدار تھا آج اس کی قدر سب کرنے لگے جو کبھی تیرے لیے بے کار تھا میں اکیلا اور کوئی تھا نہیں گھات میں کوئ پسِ دیوار […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
لوگ کہتے ہیں بہت غم خوار رہتے تھے یہاں
خرم ابن شبیر نے Sunday، 14 March 2010 کو شائع کیا.

میری ایک غزل جس پر مجھے اعجاز عبید صاحب سے بڑا ص ملا ہے اور ص ملنے کا کیا مطلب ہے یہ آپ محمد وارث صاحب کی زبانی پڑھ لیں اور پھر میری غزل “خرم صاحب آپ شاید سمجھے نہیں، ‘ص’ ملنا تو بہت اچھی بات ہے اساتذہ سے۔ دراصل اساتذہ کے پاس جب کوئی […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
کچھ ایسے لفظ لکھتے ہیں
خرم ابن شبیر نے Wednesday، 10 February 2010 کو شائع کیا.

کچھ ایسے لفظ لکھتے ہیں کچھ ایسے لفظ لکھتے ہیں کہ جن لفظوں میں موتی ہوں جو پیارے ہوں جو ہر اک کی نگاہوں کے ستارے ہوں کچھ ایسے لفظ لکھتے ہیں حقیقت جن کا حصّہ ہو محبت جن کا قصّہ ہو جو ہر اک کی زباں بولیں یہاں بولیں وہاں بولیں لہو کی بُو […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
ہر طرف ہیں موت کی پرچھائیاں
خرم ابن شبیر نے Wednesday، 10 February 2010 کو شائع کیا.

اپنی ایک غزل آپ کی نذر ہر طرف ہیں موت کی پرچھائیاں زندگی لے کس طرح انگڑائیاں اک طرف ماتم تھا پورے شہر میں اک گلی بجتی رہیں شہنائیاں خوف ہی بس خوف ہے پھیلا ہوا اب کہاں پہلی سی وہ رعنائیاں اس قدر مخلوق ہے لیکن مجھے آ رہی ہیں نظر بس تنہائیاں بات […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
اسے ہم یاد کرتے ہیں
خرم ابن شبیر نے Monday، 18 January 2010 کو شائع کیا.

یہ میری پہلی نظم ہے جو میں نے پہلی دفعہ مشاعرے میں پڑھی تھی اور یہ بہت پسند کی گی تھی اس نظم کے بعد میرا شاعری کا شوق اور مضبوط ہوگیا اور میں جنون کے ساتھ شاعری کرنے لگا نظم میں نے یکم اکتوبر دوہزار پانچ کو نسٹ یونی ورسٹی کے مشاعرے میں پڑھی […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
بیان کرتی ہیں سب کچھ یہ حالتیں اپنی
خرم ابن شبیر نے Friday، 16 October 2009 کو شائع کیا.

بیان کرتی ہیں سب کچھ یہ حالتیں اپنی چھپا کے رکھوں کہاں اب محبتیں اپنی خدا کا خوف نہیں ہے، نہ ذوق سجدہ ہے کہاں یہ دیں گی سکوں اب عبادتیں اپنی کہاں ہے عدل عدالت کے کارخانوں میں کہاں بیان کروں میں وضاحتیں اپنی جدا جدا ہوئے رستے، جدا ہوئی منزل لو ہم ہی […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
free counters